پنجاب پولیس کبھی ہیرو تو کبھی زیرو

پنجاب پولیس کے جوان جو کہ کبھی ہیرو بنتے ہیں تو کبھی زیرو بنتے ہیں۔
چند روز قبل گوجرانوالہ کے قیبی قصبہ تتلے عالی میں ایک شخص جس کی کریانہ کی دکان پر دو شخص آئے انہوں نے اس سے ادھار مانگا ، ادھار سودا نہ ملنے پر انہوں نے اس شخص کو زدو کوب کیا۔اور چلے گئے جس کے خلاف وہ پولیس کے پاس گیا جہاں اسے پولیس نے انصاف تو نہ دیا لیکن اسے الٹا وہاں ہی لٹا لیا اور اسے شدید زدو کوب کیا۔ اور اس واقعہ کے خلاف اسے عدلیہ کا دروازہ کھٹکٹانہ پڑا۔جس کی درخواست یہاں لگائی گئی ہے۔



ابھی کچھ دن اس اندہناک واقعہ کو گزرے تھے کہ اب پولیس نے انتہائی مطلوب اشتہاری مجرموں کو مقابلے میں پار کرنے کے بعد ان کی نعشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے انہیں نشان عبرت بنانے کے لئے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ ان کی نعشوں کی بارات نکالی جس میں دلہا کے فرائض ایک پولیس افسر نے انجام دئیے۔ جو کہ آپ اس ویڈیو سے اندازہ کر سکتے ہین۔
یہ مرنے والے اشتہاری مجرموں کی دہشت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں۔ کہ ان کو مارنے کے لئے پولیس کی ٹیموں نے جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے تھے لیکن کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی۔ ان مفروروں نے تو ڈی آئی جی گوجرانوالہ کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہوا تھا۔ جبکہ ڈی آئی جی صاھب ان دنوں ملائیشیا میں جائے پناہ بنائے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ایسا واقعہ کوئی دو سال قبل پیش آیا تھا جب پولیس نے ننھو گورائیہ کو پولیس مقابلے میں مارنے کے بعد اس کی نعش کو پورے شہر میں گھمایا تھا۔

پنجاب بھر میں صنعتکار سول اور فوجی افسران کو تاوان کی غرض سے اغواء کر کے قتل کرنے اور پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے انتہائی خطرناک مجرم آصف وڈو کی خانیوال کے علاقہ جہانیاں چک نمبر 152میں پولیس مقابلے کے دوران خطرناک ساتھی مجرم ہاشم عرف کالا گجر کی ہلاکت بعد گوجرانوالہ پولیس نے ریجن بھر میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھے جانے والے آصف وڈو کی نعش کو پولیس گاڑی میں رکھ کر کامونکی سے گوجرانوالہ تک جی ٹی روڈ پر پھیرایا ۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے جی ٹی روڈ پر جمع ہو کر ہو کر پولیس پارٹی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ہار پہنائے یاد رہے کہ کامونکی کا رہائشی آصف وڈو جو کہ صوبے کے مختلف اضلاع کی پولیس کو بے شمار شہریوں ، صنعتکاروں ، سول و فوجی افسران کو تاوان کے لیے اغواء کر کے بھتہ وصولی کے باوجود 3حساس اداروں کے اعلیٰ افسران اور 16شہریوں کو قتل کر کے کروڑوں روپے بھتہ وصول کرنے اور چھ سے زائد پولیس ملازمین کو شہید کرنے کے مقدمات میں مطلوب تھا جس کے سر کی قیمت صوبائی حکومت نے 20لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی گذشتہ ر وز جہانیاں کے علاقہ چک152میں پولیس مقابلے کے دوران آصف وڈو اور 10لاکھ سر کی قیمت والے انتہائی مطلوب ہاشم عرف کالے گجر کی ہلاکت کے بعد گوجرانوالہ پولیس نے ان کی نعشوں کو پولیس کی گاڑی میں رکھ کر شہر بھر کا چکر لگوایا ۔ لوگوں نے خطرناک اشتہاری آصف وڈو اور اسکے ساتھی کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد سکھ کا سانس لیتے ہوئے مقابلے میں حصہ لینے پولیس ملازمین پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پولیس کی یہ حرکت خلاف قانون ہے۔ پولیس کا کام تو صرف مجرموں کو پکڑ انہیں عدالتوں سے عبرت ناک سزا دلوانا ہے نا کہ ان کی نعشوں کو سڑکوں پر گھمکا کر انہیں نشان عبرت بنانا۔کچھ لوگوں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پولیس کی اس کاروائی سے معصوم لوگوں اور وہاں سے گزرنے والے معصوم سکول کے بچوں کےپر عجیب قسم کی دہشت کی فضا بنا دی ہے۔

دنیا نیوز کی جانب سے جاری کی گئی خبر کی تفصیل:

کرومیم انداز تحریر
اسلام علیکم
کرومیم انداز تحریر Chromic Text effect with Photoshop CS4 ME
صرف مختلف لئیر اسٹائل کی مدد سے دیا گیا خوبصورت لون زار انداز تحریر
استعمال کردہ سافٹ وئیر :- فوٹو شاپ سی ایس میڈل ایسٹ ( لیکن انشااللہ کسی دوسرے ورژن میں بھی بنانا ممکن ہوگا)
استعمال کردہ فونٹ (با جزاک اللہ شاکر القادری صاحب) :- القلم شامل فونٹ

طریقہ کار اس لنک پر
http://urdunama.org/forum/viewtopic.php?f=65&t=2393
ووٹ کمپیئن

السلام علیکم

اسما ، کہاں ہیں آپ ، کچھ اپڈیٹ کر سکیں اگر ووٹنگ کے بارے میں ؟ ابھی تو کافی دن ہیں اور بلاگ دنیا میں بہت سے نام ہیں بہت سے ووٹ مل سکتے ہیں ۔ ایک مشکل یہ ہے کہ ووٹ دینے کے بعد نہیں پتہ چلتا کہ ووٹ ہو گیا یا نہیں ۔ یہ فرانسیسیوں کو انگریزی ورژن بھی دینا چاہیے تھا ۔

Fab-Fi اور Wi-Fiنیٹورک کا فرق
افغانستان میں استعمال ہونے والا نیٹورک

مزید معلومات
http://www.gizmodo.com.au/2010/03/ja...o+Australia%29
عورت

کچھ سالوں سے دنیا دو حصوں میں بٹ گئی ہے ۔ ایک دنیا کے رہنے والے ہر بات کو مذہب پر پرکھتے ہیں اور کئی دفعہ وہ مذہب اور ثقافت کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں اور دوسری دنیا کے رہنے والے مذہب اور ثقافت سے نک کر انسان کی بات کرتے ہیں ، اور وہاں وہ انسان کو کسی مذہب یا ثقافت کے جنگلے میں نہیں ،آذادی کے آسمان پر اڑاتے ہیں ۔ دنیا کی اس تقسیم نے بحث مباحثوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسہ چھیڑ دیا ہے ۔ اور وہ بحث اس وقت ذیادہ زور پکڑتی ہے جس وقت دونوں دنیاؤں کے لوگ اپنے اپنے دائرے سے باہر آنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ حا لانکہ اگر وہ اس سے باہر آکر دیکھیں تو انہیں پتہ چلے کہ ان دو انتہاؤں کے درمیاں جو ایک تیسر ی دنیا آباد ہے وہ کیسی پرامن اور معتدل مزاج ہے ۔
اگر ہم مذاہب میں انسانیت کو رکھ کر دیکھیں تو یہ کوئی اچھوتی بات نہیں ۔ مگر یہ دونوں ایک جگہ انہیں نظر آئیں گے جو مذہب کے دائرے سے نکل کر اس درمیانی دنیا کی سیر کریں گے ۔ کون سا ایسا مذہب ہے جس کا پیغمبر انسان کی بات نہیں کرتا ۔ ؟انسانیت کی بات نہیں سکھاتا ۔ مذاہب میں جب رواداری ، معافی ، رحم دلی اور صبر کی تلقین ہوتی ہے تو وہ اسی دنیا کی بات ہے جو تیسری ہے اور جس کو جانتے تو سب ہیں مگر پہچاننا نہیں چاہتے ۔ دوسری طرف انسانیت میں مذاہب کو رکھ کر دیکھیں تو بات وہی نکلتی ہے ۔
مذاہب کو پیغمبروں کے کردار میں ڈھال کر دیکھیں تو ہم کسی انسان پر نہ ظلم کر سکتے ہیں نہ ذیادتی ۔ شفیق ،رحم دل ، صابر ، محنتی ، ایماندار ، منصف ،سخی اور احسان کرنے والے ۔۔کیا سب پیغمبر ایسے نہیں تھے ؟ کون سا پیغمبر ہے جو جابر ،ظالم ،سخت گیر ، جھوٹا ،بد دیانت ، منافق ،ناانصاف ،کنجوس اور کاہل تھا ؟ ہر مذہب کی پرکھ اس کا پیغمبر ہے ۔ تو وہ سب تو اسی دنیا میں کھڑے ہیں جہاں انسان کو مذہب میں انسانیت اور انسانیت میں مذہب ملتا ہے ۔ شدت اور تکبر ۔خود غرضی اور مکاری ۔۔ ذاتی مفاد اور نفرتیں ۔۔ حسد اور دشمنیاں ۔۔یہ سب سیاست دانوں کی سیاست ہے ۔ اور سیاست میں مولوی کے کردار سے کسے انکار ہے ؟ مولوی فرقے بنانے کے لئے نفاق کی بات لاتے ہیں ،لوگوں کو لڑواتے ہیں ،اس طرح مذاہب تو بدنام ہوتے ہیں مگر ان کی دال روٹی خوب چلتی ہے ۔
ہر دوسرے انسان کی طرح عورت بھی اسی مذہب ، ثقافت اور انسانیت کے نعروں کی درمیاں حیران و پریشان کھڑی ہے ۔ کہیں اسے آزادی کے نام پر مادر پدر آزادی کی صدا سنائی دیتی ہے اور کہیں اسے مذہب کے نام پر ونی ہونے ، خاوند کے ساتھ جلائے جانے اور قرانِ پاک کے ساتھ شادی کی آوازیں آتی ہیں ۔ حالانکہ ہر دوسرے معاملے کی طرح یہاں بھی ہر مذہب کی تعلیم تقریبا ایک سی ہے ۔اور ا سمیں عورت کے لئے گھٹن نہیں ،فکری آزادی اور اپنے تشخص کی پہچان ہے ۔اور یہ پہچان اسی دنیا میں ملتی ہے جہاں انسانیت میں مذہب ذندہ ہے اور مذہب کو انسانیت سے جدا نہیں کیا گیا ۔ کسی بھی ملک کی سیاست اس کی ثقافت بن جاتی ہے اور پھر تقریریں کرنے والے لیڈر حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی دنیا تو محلوں میں ہے مگر عام آدمی اور عورت کو وہ زندگی گذارنے کا کونسا سلیقہ سکھا رہے ہیں ؟ وقتی فائدوں کے لئے بنائی گئی تقریریں لوگوں کی ذندگیاں برباد کر دیتی ہیں ۔
مذاہب کا کسی ملک کے قانون سے متصادم ہونا خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے تو دوسری طرف اگر ممالک کے قوانین بھی لوگوں کے مذاہب سے متسادم ہونے لگیں تو سکون وہاں بھی نہیں رہ سکتا ۔ یہ سب انتشار کی باتیں ہیں ۔ فرانس میں خواتین کے پردہ کرنے پر پابندی اور دوسری طرف انڈیا بھی ایا ہی کوئی قانون پاس کرنے والا ہے ۔ تو یہاں سوال ایسے اٹھیں گے ، مذاہب کو تو پرے رکھئے کیونکہ ہر مذہب عورت کے پردے کی بات کرتا ہے اسمیں صرف اسلام کا نام نہیں ہے ۔ہندؤں کی کتاب رگودانمبر ۸،۳۳ میں عورت کو کہا گیا ہے
جب تمھیں عورت بنایا گیا ہے تو تم اپنی نظر نیچی رکھو ، دونوں پاؤں کو جوڑے رکھو اور جو چیزیں کپڑے چھپاتے ہیں انہیں عیاں نہ کرؤ ۔۔
اسی طرح بائبیل میں مختلف مقامات پر عورت کو اپنے آپ کو سادہ اور چھپا کر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
مغربی ممالک اور پردے کا جھگڑا منہ کو مکمل طور پر ڈھانپنے پرشروع ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنا اور ہر شناختی کارڈ پر چہرے والی تصویر کا ہونا ضروری ہے ۔ اس بات پر کسی بھی سمجھ والے انسان کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ یہ مذہب نہیں ضد ہے ۔
اور دوسری طرف اگر آزاد ریاستیں ، آزادی کی بات کرنے والے ممالک عورتوں سے قانون کے نام پرسرکو حجاب میں لپیٹنے کا حق چھیننے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بنیاد پرست ملا عورت کوشریعت کے نام پر منہ ڈھانپنے کے لئے مجبور کرے ۔ ان دونوں میں فرق کچھ بھی نہیں رہ جائے گا ۔بولنے پر پابندی بھی ویسی ہی حرکت ہے جیسے کسی کو خاموش نہ رہنے دیا جائے ۔ جمہوری ریاستوں میں ، آزاد ممالک میں ، انسانی حقوق کی وادیوں میں ، لوگ جو کہنا چاہیں کہہ دیں اور اگر خاموش رہنا چاہیں تو ان کا یہ حق بھی اسی طرح ہی ملنا چاہیئے ۔
کم کپڑے پہننے کی آزادی ہے تو پورے کپڑوں سے جسم کو ڈھانپنے کی بھی آزادی ہونی چاہیئے ۔آزاد سوچ ہوتی ہے جسم نہیں ۔ سوچ میں آزادی ایک عمل ہے جسے ہر سطح پرہونا چاہیئے ۔
عورت کی آزادی اس کے شعوری تربیت ہے ۔ اور عورت پر پابندی بھی اس کی شعوری تربیت ہی ہے ۔ عورت کو جب چھوٹے بڑے فیصلے میں پہلے شامل کیا جائے اور پھر کچھ فیصلے اس سے خود مختاری میں کروائے جائیں تو پردہ کرنا یا نہ کرنا ایک ایسا فیصلہ ہوگا جسے وہ اپنی مرضی سے کرسکتی ہے ۔ اس میں نہ کوئی خاندان ،نہ دوست احباب ،نہ مذہبی رہنما اور نہ ہی کوئی ریاست مداخلت کرے ۔ رہنماؤں کا کام رہنمائی ہے ، دھونس اور زبردستی نہیں ، ممالک کا اکم وہ قوانین بنانا ہے جو کسی بھی ایک فرد کی سوچ میں ہتھکڑی نہ لگائے ۔ عورت کو اعلی تعلیم دے کر اپنے فیصلے کرنے میں آزادی ہونی چاہیئے ۔ جب اس کی شعوری تربیت ہوجائے گی ۔اچھے برے کا فرق سمجھ میں آجائے گا اس دن یقین مانئے اس چیز سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ پردہ کرتی ہے یا نہیں۔ چہرہ چھپاتی ہے یا نہیں ۔تعلیم اور اعتماد ۔۔۔بس ۔اتنی ہی آج کی عورت کی ضرورت ہے ۔ جب اسے معاشی طور پر بے بس کر کے اپنے اوپر بوجھ بنا لیا جاتا ہے تو وہ اس انحصاری کے لئے ساری عمر اپنے فیصلے کرنے میں غلام رہتی ہے ۔ کس سے ملنا ہے کس سے نہیں ؟ کیا پہننا ہے کیا نہیں ؟ کیا بات کرنی ہے کیا نہیں ؟ کہاں پیسہ خرچ کرنا ہے کہاں نہیں ؟ کس سے منگنی ،شادی کرنی ہے کس سے نہیں ؟ منگنی شادی چل سکتی ہے یا نہیں ۔؟ یہ سب فیصلے عورت کو کرنے میں آزادی ہونی چاہیئے ،اور آزادی دینے سے پہلے اسے تعلیم و تربیت کے زریعے شعور یوں دینا چاہیئے کہ اسے اس میں گھٹن نہیں بلکہ روشنی ملے ۔
عورت کی آزادی اسے کپڑوں سے آزاد کرنے میں نہیں ہے بلکہ اس کے اعتماد کی بحالی میں ہے اور عورت کے حجاب کی مخالفت کر کہ اسے پابندی سے نجات نہیں بلکہ اس کے اوپر ایک طرح کا ایک اور تالا ہے ۔آزادی دینے اور پابندی لگانے والے ،ہر ہاتھ مین اپنی طرح کا ایک تالا ہے ۔ ہر کوئی اپنا اپنا تالا کھولے تو ہی قلعے میں بند عورت آزاد ہوگی ۔ تب ہی مذہب اور انسانی حقوق کے درمیان جھولتی عورت اپنا آپ خود پہچانے گی ۔ اسے اپنے ہر فیصلے میںآزاد چھوڑ دیجئے ۔۔۔اور یہی آزادی ہے ۔ آزادی سوچ میں ہے ،اس کا جسموں سے کوئی تعلق نہیں ۔ عورت کو جسم نہیں ایک سوچ سمجھ کر ٹریٹ کریں ۔ اس سے نہ صرف وہ بلکہ اس سے وابستہ لوگ وحشتوں سے باہر آجائیں گے ۔ اور عورت اس خوف یا اس خوش فہمی سے نکلے گی کہ وہ عورت ہے تو کمزور ہے یا دوسری انتہا پروہ عورت ہے تو بہت طاقتور ہے ۔ عورت کو بھی اسی تیسی دنیا میں لا کر دیکھیں جہاں پر ایک ایسی دنیا آباد ہے جس میں مذہب اور انسانیت کا سنگم اسی فطری انداز میں ہے جیسا کہ رب نے حکم دے کر بھیجا تھا ۔

اینے میری چا وچ تعویذ گھول دیتا اے

سردار شادی کے اگلے دن بیوی کو مار رہا تھا

لوگوں نے پوچھا تو بولا

“اینے میری چا وچ تعویذ گھول دیتا اے”

بیوی روتے ہوئے غصے سے

“او تعویذ نہیں سی ، ٹی بیگ سی جی”

پڑدوں کی زینت
[




سولر ٹیوب ویل کا کامیاب تجربہ

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شمسی توانائی کے ذریعہ چلنے والے ٹیوب ویل کا انتہائی کامیاب تجربہ کیاگیا۔ضلع منڈی بہائوالدین کے نواحی گاوں سوہاوہ کے ست سراچوک میں شمسی پینلز اور بغیر بیٹریز کے ٹیوب ویل کے شاندار تجربہ کیا گیا۔ اس سولر ٹیوب ویل کو پہلے روزمسلسل 6گھنٹے اور دوسرے دن مسلسل 7گھنٹے چلایاگیا۔ اس موقع پر قومی ومقامی صحافیوں ،معززین علاقہ کی کثیر تعداد بھی موجودتھی۔ تجربہ کو ویڈیوکوریج کے علاوہ محفوظ بھی کیاگیاہے۔
Tubewell Solar
اس موقع پر گوندل سولر ٹیکنالوجی کے چیف ایگزیکٹوامتیاز احمد گوندل نے بتایاکہ سولر ٹیوب ویل کامیاب تجربہ سبز انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور نہ صرف اس سے بجلی اور ڈیزل کی بچت ہوگی بلکہ یہ ٹیکنالوجی ماحول کو آلودگی سے پاک رکھے گی اور ملک سے انرجی کے بحران کو ختم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہاکہ کمپنی اسے انتہائی کم قیمت پر زیادہ سے زیادہ کسانوں تک پہنچائے گی۔تاکہ ملک میں سبزانقلاب آئے اور کسانوں کے ساتھ ساتھ ہر گھرانہ خوشحال ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جاری توانائی کی بحران پر قابوپانے کے لئے ان کی کمپنی اپنی تحقیقات کو آگے بڑھائے گی اور سولر توانائی سے ہر گھر روشن ہوگا جس سے کثیر زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔۔

گنّا سستا اور میٹھا علاج

گنّا سستا اور میٹھا علاج

گنّا کھانے کو ہضم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کوطاقت دیتا ہے ۔ یہ جسم کوطاقت اور خون دینے کے ساتھ ساتھ موٹا بھی کرتا ہے ، خشکی دور کرتا ہے ، پیٹ کی گرمی اور جلن کودور کرتا ہے ،پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے، اس کا بیلنے سے نکلا ہوا رس دیر سے ہضم ہوتا ہے چناچہ اسے دانتوں سے چوسنا زیادہ مفید ہے ۔ اس طرح اس میں لعاب دہن شامل ہوجاتا ہے جو ہاضم ہے ۔

پوری دنیا میں شکر، گلوگوز،فروٹوز،گنّے سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کی گنڈیریاں بنا کر چوسنے سے گرمی دور کرنے، بدن سے زہریلی کثافتیں باہر نکالنے، بدنی مشنری چلانےکے لئے گرمی پیدا کرنے والی شکر بنانے اور دانتوں کی میل کچیل صاف کر کے مسوڑوں کو حرکت دے کرمضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے ۔

2 گلاس گنّے کے رس میں 2 ہلکی چپاتیوں کے برابرغذائیت ہوتی ہے ۔
جوان اور گرم مزاج رکھنے والے اگر کھانے بعد چند گنڈیریاں چوس لیں تومعدہ ہلکا، دانت صاف، اور طبعت چست اور ہشاش بشاش ہوجاتی ہے ۔

گنے کے رس کا ایک گلاس پینے سے قبض ختم اور معدے کی تیزابیت میں کمی ہوجاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ بدنی تناؤکم اورخون کا دباؤ گھٹ کر کم ہوجاتا ہے ۔
اطباء کا کہنا ہے کہ دل کی گرمی اوردھڑکن کی زیادتی کو دورکرنے لئے آدھا پاؤسے آدھا سیرتک گنڈیریاں رات کو شبنم میں رکھ کرصبح کو بطورناشتہ چوس لی جائیں تو چند ایام میں گرمی دوراور دل مضبوط ہوجاتا ہے ۔

بعض لوگ نیند کی کمی ، طبعت کے بھاری پن اور چڑچڑے مزاج کا شکار رہتے ہیں ۔ ایسے افراد بھی اگر صبح کے وقت گنڈیریاں چوسیں تو نیند کی کمی دورطبعت ہلکی پھلکی اور چڑچڑاپن جاتا رہتا ہے ۔

گلابیٹھ جائے اورآواز بھاری ہوجائے تو گنے کو پانچ ساتھ منٹ بھوبل میں دبا کر چوسنے سے آواز صاف ہوجاتی ہے ۔

گنّے کا رس بادی طبعت رکھنے والوں کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس سے قبض دور ہوجاتی ہے۔

ہرے پیلے رنگ کے قے ہوتو گنّےکا ٹھنڈا میٹھا رس بہت فائدہ دیتا ہے ۔

اس کے سنگھانے سے نکسیر بھی بند ہوجاتی ہے۔

خشک کھانسی دور ہوجاتی ہے بلغم صاف ہوتا ہے ۔

یرقان کی بیماری میں آنکھیں اور پیشاب کا رنگ ذرد ہوجاتا ہے ، بعض کا سارا بدن پیلا اور بدن میں خارش بھی ہوجاتی ہے ۔ اس کے لئے اگر تین تین گھنٹے کے بعد گنڈیریاں چوسیں اور علاج کے ساتھ ساتھ گنّے کا رس بھی پۂیں تو چند روز میں پیلاہٹ ختم اورصحت اچھی ہوجاتی ہے ۔

بدن میں جابجا گلٹیاں اورگانٹھیں نمودار ہوں تو عمر اور جسمانی طاقت کے مطابق چند روزتک صبح ہرڑ کے ساتھ گنّے کا رس پیا جائے تو بڑھے ہوئے غدودوں اورگلٹیوں کا نام ونشان مٹ جاتا ہے ۔

شہلا ہاشمی۔ مدینہ منورہ
بشکریہ: اردو ویب

sham


click tracking
Web Stat

2 visitors online now
2 guests, 0 members
Max visitors today: 4 at 04:22 am UTC
This month: 9 at 03-01-2010 11:22 am UTC
This year: 45 at 01-24-2010 08:05 pm UTC
All time: 45 at 01-24-2010 08:05 pm UTC