Pak Galaxy | Information and Telecom News

↑ Grab this Headline Animator

 
Tum meri Koi Nahi_Socha Na Tha.mp4
گوگل کا ترجیحی ان بکس ﴿Priority inbox﴾
ای میل اوور لوڈ سے نمٹنے کے لیے گوگل ایک نئی سہولت جی میل میں شروع کرنےجارہا ہے۔


Priority inbox کے ذریعے جی میل کے ان بکس کو تین حصوں میں تقسیم کیاجائےگا ۔
ۛۛImportant and unread 1
Starred 2
Everything else 3
اس سسٹم کو اپلائی کرنے سے جی میل خود کار طریقے سے آپ کی ای میلز کی امپورٹنس کی جانچ کرئے گا،مثلا امپورٹنٹ ای میلز پہچان کے لیے جی میل یہ چیک کرتا ہے کہ کس کی طرف سے آپ کو زیادہ ای میلز موصول ہورہی ہیں، اور کن ای میلز کے آپ زیادہ جواب ارسال کررہےہو۔
اس سسٹم کی بہتری کا انحصار صارف کے جی میل استعمال کرنے پر ہوگا،یعنی جس طرح یوزر ای میلز کو امپورٹنس دیتا ہے جی امیل کا ترجیحی ان بکس ان کو امپورٹنس سگنل کے طور پر محفوظ کرتا رہے گا۔ اور اسی اعتبار سے اوپر دی گئی تین کیٹاگری میں انکو ڈالتا رہے گا۔
گوگل کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے جی میل کی طرف سے "New! Priority Inbox" کا لنک جی میل اکاونٹ کے میں جلد ہی مہیا کیا جائےگا۔


سورسز۔
http://gmailblog.blogspot.com/
http://www.neowin.net/news/google-in...-inbox-feature
aye ISHAQ

گوجرانوالہ شہر کے اعزازات

گوجرانوالہ شہر جو کہ صوبہ پنجاب کا ایک اہم زرعی اور صنعتی ضلع اور ڈویژن ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس کی دھرتی نے چند ایسے نام پیدا کئے ہیں۔ جن کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا اندازہ آپ ان کے ناموں سے ہی لگا سکتے ہیں۔
اس ڈویژن کے نامی گرامی شاعر جناب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں۔ جنہیں شاعر مشرق کہا جاتا ہے۔جن کا تعلق گوجرانوالہ ڈویژن کے ضلع سیالکوٹ سے ہے۔
یہاں میں چند عصر حاضر کے نامور لوگوں کے بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں۔ جنہوں نے حال ہی میں 14 اگست 2010 کو حکومت پاکستان کے صدر تمغہ امتیاز (پرائڈ آف پرفارمنس ( حاصل کیا ہے۔

ان میں سب سے پہلے نمبر پر جناب سہیل احمد کا نام ہے۔ اس کے علاوہ جناب ذوالفقار احمد چیمہ صاحب کا نام ہے۔ اور گوجرانوالہ کی اصلی شان و شوکت والے جناب شاہد پہلوان آٹے والے ہیں۔

سہیل احمد

Sohail Ahmad
سہیل احمد کا نام اس دنیا ، لیکن کم از کم اردو لکھنے اور بولنے والے تو ضرور جانتے ہیں۔ سہیل احمد صاحب کی پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے بے شمار ڈراموں میں اداکاری ، اس کے علاوہ لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں سٹیج ڈراموں میں بے مثال خدمت کی وجہ سے مشہور ہے۔

موصوف آج کل ایک نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ٹی وی کے ایک پروگرام حسب حال میں عزیزی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جہاں سے انہوں نے اپنے صحافتی کیریر کا بھی آغاز کیا ہے۔ موصوف کی اس پروگرام میں بھی تجزیے اور مخبریاں اور اس کے ساتھ طنزو مزاح نے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی ہے۔
موصوف کی انہی گراں قدر خدمات کی بدولت انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا ہے۔

جناب زوالفقار احمد چیمہ آر پی او

زوالفقار احمد چیمہ پنجاب پولیس کی طرف سے گوجرانوالہ ڈویژن میں آر پی او تعینات کئے گئے۔جنہوں نے 2 سال کے قلیل عرصہ میں گوجرانوالہ ڈویژن میں پولیس اہلکاروں کو مومن بنانے کی کوشش کی ، اس سلسلے میں مختلف تھانوں میں عوام اور پولیس اہلکاروں سے رشوت نہ دینے اور نہ لینے کے حلف لئے گئے۔
Zulfiqar Ahmad Cheema
اس کے علاوہ موصوف نے اپنی تعیناتی کے دوران کے بہت سے اغوا برائے تاوان کے ملزمان کو گرفتار کیا۔ اور پھر انہیں نشان عبرت بنانے کے لئے مبینہ پولیس مقابلوں میں پار کر دیا گیا۔موصوف نے گوجرانوالہ میں دہشت گردی کی علامت بننے والے چند بدمعاشوں کو بھی پولیس کے ہاتھوں قتل کروا کر انہیں اس زمین میں دفن کر دیا۔ جن میں عالمی شہرت یافتہ ننھو گورائیہ اور آصف وڈو قابل زکر ہیں۔ موصوف نے شہر کو خوبصورت بنانے کے لئے جبری طور پر جی ٹی روڈ کے دائیں باتئیں واقع کاروباری لوگوں کو اپنے فرنٹ پہ موجود سرکاری زمین پر پودے اور گھاس لگانے کا حکم بھی صادر فرمایا۔
ان کی تعیناتی کے دوران موصوف کا ایک نجی ٹی وی چینل کے صحافی کے ساتھ بھی ٹھیک ٹھاک ٹھنتی رہی لیکن بعد میں بات صلح صفائی تک پہنچ کر ختم ہو گئی۔
حالیہ ضمنی الیکشن کے بعد موصوف کو حکومت کی طرف سے پرائد آف پرفارمنس مل گیا۔اور انہیں گوجرانوالہ ڈویژن سے ٹرانسفر کر کے آر پی او ویلفئیر پنجاب پولیس تعینات کر دیا گیا ہے۔

شاہد پہلوان آٹے والا:

شاہد پہلوان گوجرانوالہ کا سپوت ، گوجرانوالہ کی روایات کا سپاہی پہلوان ہے اس نے متعدد مقابلوں میں فتح اپنے نام کی ۔ رستم پاکستان اور رستم ہند کے ٹائٹل اپنے نام کیئے اس کے علاوہ موصوف فن پہلوانی کے ترویج کے لئے نہایت اعلیٰ کردار ادا ادا کر رہے ہیں۔ اور کشتیوں کے مقابلوں میں منصفوں کا کام بھی کر چکے ہیں۔ انہیں بھی 14 اگست 2010 کو تمغہ امتیاز کے ساتھ نوازا گیا۔

یوں اس سال گوجرانوالہ نے اپنے تین سپوتوں کی بدولت اپنا سر فخر سے بلند کر لیا ہے۔

ریلس 3 کا اسٹیبل ریلیز منظر عام پر
بہت ساری بہترین اور نئی خصوصیات اور کئی سارے کمپونینٹس کی از سر نو تشکیل کے بعد بالآخر روبی آن ریلز کا 3.0 اسٹیبل ورژن آج جاری کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ چند ہفتے قبل روبی کے 9.2 اسٹیبل ورژن کا اجرا بھی عمل میں آیا تھا۔ اور دونوں کا کمبینیشن لاجواب ہے۔ ریلز کے اس ریلیز کے ساتھ ایک اور بڑی خبر بھی متصل ہے کہ مرب Merb نامی روبی ویب ڈیویلپمینٹ پلیٹ فارم کو ریلز کے ساتھ مرج کر دیا گیا ہے۔ کئی ساری آرکیٹیکچرل اور فلاسفیکل تبدیلیاں اس مرجر کا نتیجہ بھی ہیں۔

اس اجرا کی مزید تفصیلات روبی آن ریلز بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں۔
آشوب چشم میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور عرق گلاب مفید ہے :حکیم قاضی ایم اے خالد


لاہور:وطن عزیزکے سیلاب زدہ علاقوں کے ساتھ ساتھ لاہور سمیت دیگرشہر وں میں بھی آشوب چشم کی وبا ء پھیل گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں بچے’ بڑے’مرد اور خواتین شامل ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم اس سال تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے اس مرض کی وباء میںشدت انتہائی زیادہ ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ (بحوالہ نزہ المجا لس جزثانی)دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔یونانی میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں ‘خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوںکیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی’حبس اور بارش کے بعد آلودہ اور سیلابی پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے’رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میںفوری طور پر ہسپتال یاماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میں مندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
٭…٭…٭
http://healthnewspaper.co.cc/
news@healthlineint.co.cc
qazimakhalid@who.net

سترہ رمضان ۔۔۔۔۔۔۔ یوم الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔نزول قرآن اور غزوہ بدر کادن

سترہ رمضان المبارک تمام دنیائے انسانیت اور مسلم امہ کےلیےانتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن نزول قرآن ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالی نے اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ
BADAR
 رمضان المبارک کی سترہ ١٧ تاریخ کو غزوہ بدر کا واقعہ بھی ہوا جو تاریخ اسلام کا بہت بڑا واقعہ اور عظیم الشان معرکہ تھا۔ غزوہ بدر کےافق پر توحید کامل کا آفتاب پورے عالم پر ہمیشہ کےلیےطلوع ہوگیا اسی لیےقرآن مجید نےغزوہ بدر کا نام یوم الفرقان یعنی فیصلےکا دن رکھا ہےکہ وہ آخری فیصلہ کا دن تھا۔یہ معرکہ مشرکین کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا۔امت مسلمہ کو غزوہ بدر کےحقائق اور تاریخی پس منظر کو دیکھنا چاہیےاور اس کےمقاصد اور نصب العین کو چراغ راہ بنانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش ! مسلمان اور مسلم دنیا موجودہ حالات میں بدر کےتاریخی کردار سےسبق لےکر اپنےاندر اسلامی اتحاد و اخوت پیدا کرےاور اس تاریخی واقعہ کو بھی حرز جان بنائےکہ حقیقی نصب العین کی تکمیل چند سالوں کےبعد فتح مکہ کی شکل میں ہوئی وہ بھی رمضان المبارک کی بیس ٢٠ تاریخ تھی جس کی وجہ سےپورا جزیرہ العرب عالم گیر اسلامی برادری کا مرکز بن گیا اور عالمی سطح پر غلبہ توحید کی روشنی پھیل گئی تاکہ دنیائےانسانیت حقیقی اسلام کےغلبہ و اظہار کا مشاہدہ کرلےجو اس کےلیےاتمام حجت بنے۔

سمندرپار پاکستانیوں کیلئے


click tracking
Web Stat