Archive for » ۲۰۰۸ «
السلام علیکم
مجھے اردو ماسٹر کا برادرنعمان نے بتایا ۔میں نےاردو بلاگنگ کے حوالے سے ان سے سوال کیا تھا ۔ مجھے خوشی ہورہی ہے میرے سوالوں کے جوابات یہاں موجود ہیں ۔ اسباق کے زمرے میں مزید اسباق ذرا جلدی سے پوسٹ کردیجے تاکہ بقیہ سوالات کے جوابات بھی مل جإئیں ۔یعنی یہ کہ بلاگ کو مینج(منظم ومرتب)کس طرح کریں گے۔
اللہ تعالی آپ کی کاوشوں کو کامیاب فرمائے ۔ اٰمین۔
السلام علیکم
مجھے اردو ماسٹر کا برادرنعمان نے بتایا ۔میں نےاردو بلاگنگ کے حوالے سے ان سے سوال کیا تھا ۔ مجھے خوشی ہورہی ہے میرے سوالوں کے جوابات یہاں موجود ہیں ۔ اسباق کے زمرے میں مزید اسباق ذرا جلدی سے پوسٹ کردیجے تاکہ بقیہ سوالات کے جوابات بھی مل جإئیں ۔یعنی یہ کہ بلاگ کو مینج(منظم ومرتب)کس طرح کریں گے۔
اللہ تعالی آپ کی کاوشوں کو کامیاب فرمائے ۔ اٰمین۔
یوں تو ورڈپریس روز اول سے ہی زبردست پذیرائی لیے آج تک موجود تھا لیکن اس درمیانے عرصے میں اگر ورڈپریس 2.7 کو اس مشہور بلاگنگ سافٹ وئیر کے شاندار دور کا نقطہءِ عروج کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ میری طرح سے دوسرے عام صارفین مشکل اصطلاحات والے، اندورنی قسم کے فیچرز کی بجائے سافٹ وئیرز کو رنگ ڈھنگ، استعمال میں آسانی جیسی ظاہری خوبیوں کے نقطہ نگاہ سے جانچتے ہیں اور اس نئے جاری کردہ نسخے کی سب سے بڑی خوبی انہی چیزوں کی بہترین پیشکش ہے۔
ورڈپریس 2.7 کا اجراء دسمبر کی 12 تاریخ کو ہوا، گو پہلے ورڈپریس ٹیم کا ارادہ نومبر میں جاری کرنے کا تھا۔ ورڈپریس کے یہ نیا نسخہ 150 ماہرین کی شبانہ روز محنت کا ثمر ہے۔ اس نئے نسخے کو امریکی موسیقار John Coltrane کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
بات خوبیوں کی ہے تو جیسے میں نے ذکر کیا کہ ظاہر وضع قطع میں زیادہ اور خوشگوار تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تبدیلیاں آپکے قارئین کو نہیں بلکہ صرف آپکو یعنی صرف ڈیش بورڈ میں نظر آئینگی۔ قارئین کیلیے ایک فیچر کمنٹس تھریڈنگ کا ہے جس کا ہم آگے چل کر ذکر کرینگے۔
فیچرز کا ذکر شروع کرتے ہیں ورڈپریس کے نئے سادہ مگر انتہائی خوبصورت مواجے(Interface) سے۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کچھ ہی دن بعد ورڈپریس والے خود مواجے کو اس درجے کا خوبصورت بنا دینگے تو میں کبھی ایسی تحریر نہ لکھتا۔
۔

نئے مواجے میں جاوا سکرپٹ کی مشہور لائبریریز جے کیوری(jQuery) اور پروٹوٹائپ(Prototype) کو استعمال میں لاتے ہوئے نہ صرف خوبصورت بلکہ استعمال میں انتہائی سہل ڈیش بورڈ کی تشکیل کی گئی ہے۔ ڈیش بورڈ کے وہ غیر ضروری عناصر جن سے آپ تنگ ہو یا وقتی طور پر انہیں یہاں موجود نہ دیکھنا چاہتے ہو، کو آپ باآسانی اوپر دائیں طرف موجود سکرین آپشنز کے ذریعے غائب(اور دوبارہ حاضر) کر سکتے ہیں(دیکھیے نمبر1)۔ ہیڈر میں ہمہ وقت ایک ڈراپ ڈاؤن مینو موجود رہتا ہے جس سے با آسانی آپ اپنے ڈیش بورڈ کے زیادہ استعمال ہونے والے حصوں یعنی نئی تحریر، نیا صفحہ، ڈرافٹس، اپلوڈز اور تبصروں کے صفحات تک ایک کلک سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں(دیکھیے نمبر 2)۔ ایک کلک کی بات چل نکلی تو میں بتاتا چلوں کہ ڈیش بورڈ کا پرانا عمودی بار جسمیں صرف ایک صفحے تک جانے کے لیے آپکو کئی کلک کرنے پڑتے تھے، آپ ہر صفحے تک ایک کلک کے ذریعے رسائی کے ساتھ عمودی حالت میں بائیں جانب کر دیا گیا ہے۔ بائیں جانب آنے سے صفحے کے درمیانی عناصر کا دم اگر آپ کو گھٹتا نظر آئے تو سائیڈ بار میں موجود دو سلائیڈرز کے ذریعے اسے چھوٹا کر کے مزید جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ اگر آپ صفحہ پر موجود عناصر (ٹیکسٹ ایڈیٹر کو چھوڑ کے) غائب کرنے کی بجائے صرف minimize کرنا چاہتے ہیں تو یہ مزے بھی آپکو ورڈپرس کے نئے نسخے میں ملیں گے۔ ڈیش بورڈ کی صفحه اول پر بلاگ کے اعداد و شمار کو زیادہ بہتر طریقے سے پیش کیا گیا(دیکھیے نمبر3)۔ Quick Press جو پہلے ایک ویجیٹ کی صورت میں آتا تھا، اب ڈیش بورڈ کا باقاعده حصه ہے(دیکھیے نمبر4)۔ اس کے ذریعے آپ تحریر لکھنے والے صفحہ پر گئے بغیر سرعت سے تحریر لکھ اور شائع کر سکتے ہیں۔
مواجے کے بعد آتے ہیں کچھ اور اندرونی فیچرز کیطرف۔ ورڈپریس استعمال کنندگان کیلیے ایک بڑی جھنجھٹ ہر تھوڑے عرصے بعد نئے نسخے یا بگ فکس کی ریلیز کے ساتھ اپنے ہاں نصب شدہ نسخے کو اپ ڈیٹ کرنا تھا۔ گو ورڈپریس آٹو میٹک اپگریڈ پلگ ان کے ذریعے یہ کام ایف ٹی پی کی جھنجھٹ کے بغیر بھی کیا جا سکتا تھا لیکن مذکورہ پلگ ان کے آفیشل نہ ہونے کیوجہ سے ہر نئے نسخے کیساتھ اسکے پنگے چلتے رہتے تھے۔ ورڈپریس کے اس نئے نسخے میں اپگریڈ کی جھنجھٹ کا بھی بغیر ایف ٹی وغیرہ کے علاج کیا گیا ہے۔ اب ہر نئے نسخے کی ریلیز کے ساتھ آپکو اپنے ڈیش بورڈ میں اس کی دستیابی کی اطلاع ملے گی اور اگر آپکو اعتراض نہ ہو تو ایک کلک سے اسے اپگریڈ کر سکتے ہیں۔
پلگ انز کی تنصیب مزید آسان کر دی گئی ہے، آپ ڈیش بورڈ کے اندر رہتے ہوئے نئے پلگ ان تلاش اور نصب کر سکتے ہیں۔ اب اس کام کیلیے بھی آپکو ایف ٹی پی اور نہ ہی اضافی پلگ انز کی ضرورت ہے۔ ہاں اگر کوئی پلگ ان ورڈپریس پلگ ان ڈائریکٹری میں نہیں موجود تو اسے آپ اپنے پاس ڈاؤنلوڈ کرکے بغیر ایف ٹی پی کے صرف براؤز اور منتخب کرے نصب کر سکتے ہیں۔

اس نئے ورڈپریس کی آخری خوبی جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا، کمنٹس تھریڈنگ ہے(دیکھیے نمبر5)۔ کمنٹس تھریڈنگ کے ذریعے آپکے بلاگ پر ہونے والے تبصروں کو مزید دلچسپ بنایا گیا ہے۔ یاد کریں کہ اگر آپکو کسی مخصوص تبصرہ ناگار کو جواب دینا ہوتا تو باقاعدہ مخاطب کا نام لیکر اسے جواب دینا ہوتا تھا۔ کمنٹس تھریڈنگ تبصروں کے نظام کو کسی فورم کے تبصرے کیطرح دھاگے(thread) کی شکل دیتا ہے۔ واضح رہے کہ کمنٹس تھریڈ ورڈپریس صارفین پہلے بھی ایک پلگ ان کے ذریعے استعمال میں لا سکتے تھے۔
یہ تھا ورڈپریس 2.7 کا ایک تعارف۔ ہمیں بتائیے کہ آپ نے نئے نسخے کو کیسے پایا؟ اور ہاں اگر آپ نے ابھی تک پرانا نسخہ اپگریڈ نہیں گیا تو فوراً سے پیشتر کر لیں۔
ہمیں وقتا فوقتا مختلف تحاریر پر آراء کے ذریعے ورڈپریس پر آپکو درپیش مسائل کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ وقتی طور پر ہم بھی آراء ہی کے ذریعے اسکا حل بتا دیتے ہیں، لیکن طویل المدتی پالیسی میں یہ کچھ مددگار چیز نہیں۔ چونکہ آراء تحریروں کے مقابلے میں کم نمایاں ہوتی ہیں، اسلئے عین ممکن ہے کہ کل کوئی اور قاری عین وہی یا ملتا جلتا سوال کسی اور تحریر کے آراء میں پوچھتا رہے۔ دوسرے سرچ انجز بھی آراء کی بجائے تحاریر کو زیادہ لفٹ کراتے ہیں۔ اس کا حل ہم نے یہ سوچا ہے(بلکہ شروع سی یہی خیال تھا) کہ ان منتشر سوالات جوابات کو اکٹھا کر کے “مسائل کے حل” نامی زمرہ کے تحت شائع کیا جائے۔ اسی سلسلے کی پہلی کڑی آج حاضر ہے۔ تحریر کا فارمیٹ آراء سے ہی لیا گیا ہے اس لئے ہم سوال پوچھنے والے قاری کو نام اور سوال چھاپیں گے، اور ساتھ میں تحریر سے مطابقت کیلیے تھوڑی بہت تدوین کرینگے۔ ہمیں امید ہے قارئین اس معاملے پر ہمیں جسٹس ڈوگر کورٹ نہیں لے جائینگے۔
سوالات کے معاملے میں ڈفر میاں کافی فعال رہے۔ علوی نستعلیق جب ریلیز ہوا تو مختلف بلاگز پر علوی نستعلیق کی خوبصورتی دیکھ کر انکا دل بقول انکے بہار بہار ہوگیا اور اپنے بلاگ پر لگانے کی سوجھی(آخر اطلاعات تک عمل نہیں کیا)۔ علوی نستعلیق یا کسی بھی فانٹ کا لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنافانٹ کا نام جاننا۔ فانٹ کا نام معلوم کریں اور میری بتائی گئی ان ہدایات پر عمل کریں:
اگر آپ اپنی تھیم کی سی ایس ایس دیکھیں تو وہاںکسی بھی font-family کے ٹیگ میں ترتیب سے فانٹس لکھے ہوتے ہیں۔ کچھ اس شکل میں:
font-family: “Alvi Nastaleeq v1.0.0″,”Urdu Naskh Asiatype”,Nafees Web Naskh,Tahoma,Sans-serif;
اسی ترتیب کے مطابق ہر براؤزر دیکھتا ہے کہ کونسا فونٹصارف کے سسٹم پر موجود ہے۔ یعنی اگر فونٹ نمبر1(علوی نستعلیق) اگر ہے تو اسی میں سائٹ دکھا دیگا، اگر وہ نہ ہو تو اردو نسخ، وہ نہ ہو تو نفیس ویب نسخ۔۔۔۔اسیطرح سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ فونٹ ٹیگ کے آخری فونٹس Serif یا Sans-serif رکھے جاتے ہیںجو کوئی بذات خود فونٹس نہیں بلکہ فونٹ کے خاندان ہیں، یعنی اگر آپ کی مقرر کردہ کوئی بھی فونٹ صارف کے سسٹم پر نہیں تو اس فیملی کے کسی فانٹ میں سے جو بھی صارف کے سسٹم پر جو ہو اسمیں سائٹ کو دکھا دو۔
یاد رہے کہ پہلی ریلیز کے بعد علوی نستعلیق کا پکا نام صرف Alvi Nastaleeq ہے یعنی ہر نئے نسخے کے اجراء کے بعد آپکو اپنی سٹائل شیٹ میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
ڈفر ہی ایک اور سوال پوچھتے ہیں:
جب بھی کوئی دوسرا ہماری کسی پوسٹ کا لنک اپنی پوسٹ میں دیتا ہے تو ہماری پوسٹ پر اس نئی پوسٹ کا ذکر ایک کمنٹ کی شکل میں آ جاتا ہے۔ اسکو کیا کہتے ہیں؟ کیا اسکے لئے مجھے کچھ کرنا ہو گا؟ اگر ہاں تو میں اسکو کیسے این ایبل کروں؟
میرا جواب ملاحظہ فرمائیے:
ڈفر، مذکورہ لنک کے زمرے میں ابھی کوئی تحریر نہیں اس وجہ سے نظر نہیں آرہی۔
ایسے “تبصرے” کو پنگ بیک کہا جاتا ہے۔ اسے ان ایبل اور ڈس ایبل کرنے کیلیے ڈیش بورڈ کے آپشنز میں جائیے اور پھر ڈسکشن والے سب مینو میں وہاں Allow link notifications from other blogs (pingbacks and trackbacks.)
افتخار اجمل بھوپال نے سوال پوچھا کہ:
جناب کوئی ایسا گر بتائیے کہ اوتار ہر بلاگ پر ظاہر ہو؟
عمار کا جواب کچھ یوں تھا:
افتخار اجمل صاحب! ہر بلاگ پر تو اسی صورت میں نظر آئے گا جب ہر بلاگر اپنی تھیم میں گریویٹر کا کوڈ شامل کرے گا۔ جس جس بلاگ تھیمز میں یہ کوڈ شامل ہے، ایسے ہر بلاگ میں آپ کا اوتار ظاہر ہوگا۔
مکی اور ابوشامل کا مشترکہ سوال یہ تھا کہ گریواٹر کی نمائندہ تصویر اپنے لئے کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے؟
میرا جواب کچھ یوں تھا:
مکی اور فہد بھائی یہ اوتار ہر اس سائٹ پر جہاں اس کی سہولت ہو دکھانے کیلیے ایک سائت Gravatar.com پر آپکو اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ وہاں جس ای میل کیساتھ جو تصویر نتھی کی جائیگی، وہ ای میل کسی بھی بلاگ پر دینے سے آپکا اوتار ظاہر ہو جائیگا بشرطیکہ کہ اس بلاگ پر یہ سہولت دی گئی ہو۔
API key کیا ہوتی ہے اور کس طرح حاصل کی جاتی ہے؟
اس سوال کا جواب میرے الفاظ میں:
فرحان API یعنی Application Programming Interface پروگرامنگ کی اصطلاح میں ایسے فنکشنز، کلاسز، میتھڈز یا پروٹوکولز کا مجموعہ ہوتا ہے، جن کو ہم کسی ایک پروگرام میں رہتے ہوئے اصل پروگرام سے حاصل کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں ہم دوسرے پروگرام کے فیچر اپنے پروگرام میں بروئے کار لا سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اصل پروگرام کا مالک ان فیچرز تک آپکو رسائی دے۔ ان فیچرز تک محفوظ رسائی کیلیے API Key درکار ہوتی ہے تاکہ ہر ایرا غیرا دخل انداز نہ ہو۔ API Key پاس ورڈ کیطرح کام کرتی ہے تاکہ آپ اور اصل پروگرام کا مالک دونوں محفوظ رہیں۔ جہانتک API Key حاصل کرنے کا تعلق ہے، یہ آپکو مذکورہ پروگرام کے مالک یا کمپنی کی ویب سائٹ یا ای میل یا سیکیور لاگ ان غرض جو بھی طریقہ انہوں نے رکھا ہو، سے حاصل کر سکتے ہیں۔
گمان ہے کہ آپ ورڈپریس API Key کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے لیے آپ ورڈپریس ڈاٹ کام پر اکاؤنٹ بنائیں اور اپنے پروفائل کے صفحہ پر جا کر حاصل کر لیں۔ شکریہ
ان تمام سوالات و جوابات کے باوجود کچھ سوالات کے جوابات تشنہ ہیں، جس میں ہماری کاہلی اور کچھ لاعلمی شامل ہے۔ ساتھ ساتھ کچھ سوالات قارئین کے جانب سے وضاحت کے منتظر ہیں۔ ہم ان شاء اللہ اپنی محنت جاری رکھیں گے اور کوشش کرینگے کے ورڈپریس کے حوالے سے آپکے سوالات و مسائل سے نبٹنے میں آپکی مدد کریں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
سانچہ تو اگرچہ سرخ تھا لیکن میں نے جب اسے اپنے بلاگ کے لیے اردو قالب میں ڈھالا تو اس کا روپ رنگ بدل دیا سو اب یہ Redie-30 کے بجائے Blue-30 ہوگیا ہے۔ تاہم اس میں صرف تحریر اور تبصروں کا حصہ ہی اردو کے لیے ڈھالا گیا ہے، باقی سانچے کا فارمیٹ انگریزی حساب ہی سے ہے۔
سانچہ: بلیو۔30
ڈیزائنر: اسٹیو آرون
کالم: تین
سائڈبارز: دائیں اور بائیں
ویجٹس: تیار
اردو اوپن پیڈ: شامل
سافٹ وئیرز کے ایسٹر ایگز سے تو آپ واقف ہی ہونگے. پہلے یہ ڈیسک ٹاپ اطلاقیوں تک محدود تھے لیکن اب یہ ویب اطلاقیوں میں بھی نظر آنے لگے ہیں. آپ کا پسندیدہ بلاگنگ اطلاقیہ(Application) ورڈپریس بھی اس سے مبرا نہیں. ورڈپریس کے 2.6 اور بعد کے نسخوں میں یہ ایک ایسٹر ایگ موجود ہے، جس کا نظارہ آپ کچھ یوں کر سکتے ہیں:
1. پہلے سے شائع کی گئی یا محفوظ کی گئی تحریر کی ترمیم کریں.
2. تحریر کے صفحہ پر نیچے دہرائی(Revision) والے حصے میں آئیں، اور سب سے نئی دہرائی (جو سب سے اوپر ہوگی) کلک کریں.
3. اگلے صفحے پر نیچے آئیں اور تقابل کیلیے ایک جیسی(اوپر والی لائن) تحریر منتخب کر لیں.
اگلے صفحے پر آپ کے سامنے میٹرکس جیسا ایسٹر ایگ آجائیگا. جہاں یہ الفاظ لکھے ہونگے:
Danger !
Self-comparison detected.
Initiating infinite loop eschewal protocol.
Self destruct in… 3
2
1
Wake up, Donncha…
The Matrix has you…
Don’t let this happen again. Go Back.
اگر آپ مندرجہ بالا سردردی کے بجائے صرف اس کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ ویڈیو ملاحظہ فرمائیں:
بشکریه
بہت خوب ہم جیسے نئے لوگوںکے لیے یہ سائٹ بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے بلکہ مفید ثابت ہوچکی ہے
بہت خوب ہم جیسے نئے لوگوںکے لیے یہ سائٹ بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے بلکہ مفید ثابت ہوچکی ہے






تازہ ترین تبصرہ جات