Archive for » ۲۰۰۹ «
انٹرنیٹ گیمنگ انڈسٹری کےماہرین کا کہنا ہے کہ ورچوئل مصنوعات کی صنعت دن دوگنی ترقی کر رہی ہے اور ایسی کمپنیاں جو چند سال پہلے بالکل معمولی حیثیت کی حامل تھیں اب کروڑوں روپے کی مالیت حاصل کر چکی ہیں۔
کھیل کے شائقین خصوصاً بچے بڑی تعداد میں ایسی سوشل گیم ویب سائٹوں کے ممبر بنتے ہیں جہاں انہیں کھیلنے کی مختلف اشیاء خریدنی ہوتی ہیں جس کے لیے انہیں ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ ان اشیا میں ورچوئل گھر میں رہنے کےلیے ضروری سازوسامان سے لیکر ڈجیٹل ہتھیار، مہنگی شراب شیمپئن کی بوتلیں بھی شامل ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایشیاء میں ورچوئل مصنوعات کی صنعت کا حجم پہلے ہی پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
’پلے فش‘ نامی سوشل گیمنگ کپمنی صرف دو سال پہلے شروع ہوئی تھی اور اس وقت اس کی گیارہ آئن لائن گیمز ہیں اور اکسٹھ ملین لوگ یہ گیم کھیلتے ہیں۔

پلے فش کو یقین ہے کہ مستقبل قریب میں ورچوئل مصنوعات کی صنعت لوگوں کو امیر بناتی رہے گی۔
ایما کوکس ایک ایسی ہی سوشل گیمر ہیں جو ہر ماہ ورچوئل مصنوعات خریدتی ہیں۔ ایما کوکس کہتی ہیں کہ روایتی گیمز نہیں کھیلتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سینکڑوں ڈالر خرچ کر کے گیم کنسول خریدتے ہیں اور پھر نئی گیمز خریدتے ہیں جن کی قیمتیں چالیس ڈالر تک ہوتی ہے۔
ایما کوکس کہتی ہیں کہ وہ انٹرنیٹ سوشل گیم کے ذریعے اپنے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں اور کئی دفعہ اپنے دوستوں کے لیے ورچوئل تحفے بھی خریدتی ہیں۔ اسی طرح وہ ان سوشل نیٹ ورک پر لوگ اپنے دوستوں کے لیے ورچوئل برتھ ڈے کارڈ اور پھول بھی خریدتے ہیں۔
بیوی:
آپ کو میری خوب صورتی اچھی لگتی ہے یا عقل مندی
میاں:
تمہاری یہ مذاق کرنے کی عادت اچھی لگتی ہے۔
————————————————————
شوہر:
ملنگ بابا میں اپنی بیوی سے بہت تنگ ہوں کوئی حل بتاو
ملنگ:
کوئی حل ہوتا تو میں کیوں ملنگ ہوتا
———————————————————
ایک صاحب دوسرے صاحب سے یہ خوشیاں کیا ہوتی ہیں۔
دوسرا صاحب مجھے کیا معلوم میری تو کم عمر میں ہی شادی ہو گئی تھی۔
———————————————————————-
اگر شادی سے پہلے مرد نے عورت کے ہاتھ تھامے ہوں تو وہ ہوتا ہے
پیار
اگر شادی کے بعد مرد نے عورت کے ہاتھ تھامے ہوں تو وہ ہوتا ہے
حفاظتی انتظام
میں اور میری امی
صبح صبح ایک دم پراٹھوں کی خوشبو سارے گھر میں پھیل گئی ۔ناشتہ بن رہا ہے ،اٹھنے میں کاہلی ہے ، رات بھر جاگنے سے صبح اٹھنے کو من نہیں کر رہا ،پھر پراٹھوں کی خوشبو کے ساتھ ایک ملائم سی آواز پورے گھر میں پھیل رہی ہے ،امی کی آواز ،ناشتہ کرلو ۔۔ایک انگڑائی سارے بستروں پر نمودار ہوئی ،۔واش روم کے دروازے کھلنے بند ہونے کی آوازیں ،پھر باورچی خانے میں کوئی پہلے اور کوئی بعد میں ،مگر امی چولہے کے آگے تنی کھڑی ہیں ، پراٹھے پر پراٹھا ،کسی کے لئے آملیٹ انڈا ،کسی کے لئے فرائی ۔۔کسی نے اچار سے کھانا ہے ۔۔اور مجھے ابھی بھوک نہیں۔ ہنگامہ جاری ہے ،اس کے بعد سب چلے گئے ہیں۔۔باورچی خانہ ایک دم خالی ہوگیا ہے، کوئی کالج ،کوئی سکول اور کوئی جاب پر ۔۔امی وہیں کھڑی ہیں ،کام والی کو برتن دھونے کا سلیقہ بتا رہی ہیں ۔۔۔ہم سب پراٹھوں کی خوشبو سے بہت دور جاتے جارہے ہیں ۔دور بہت دور ۔۔باہر ٹریفک کی کثافت ہے ،آلودگی ہے ،،ہم سب کدھر گم ہوگئے ،میری بہنیں ،بھائی اور میں سب ماحول کی آلودگی کا حصہ بنتے جارہے ہیں ،امی وہیں کھڑی ہیں باورچی خانے میں اور ہم پراٹھوں کے خالص پن سے زمانے کی کثافت میں تخلیل ہوچکے ہیں ۔حالا نکہ ان کثافتوں سے دور رکھنے کے لئے ہی سخت گرمی میں گھر میں خالص مکھن سے پراٹھے بنائے جارہے ہیں ۔
میں کچن میں کھڑی ہوں ،پراٹھے بنانے کی کوشش میں چولہے کے آگے تنی ہوئی ہوں ، امی جیسے پراٹھے بناتے بناتے کئی دفعہ ہاتھ جل گئے ہیں ، گھر میں پراٹھوں کی خوشبو نہیں پھیل رہی ، بچوں کو آوزیں دے رہی ہوں ،اٹھو آجاؤ ۔۔ناشتہ تیار ہے ۔۔مگر اپنی آواز مجھے خود سنائی نہیں دے رہی میرے کان میری آواز نہیں سن رہے اور میرا ناک خوشبو سونگنے سے قاصر ہے ۔۔ کیونکہ میں چولہے کے اوپر تنی کھڑی ہوں ، میری بیٹی آنکھیں ملتی آتی ہے ۔۔،کیا خوشبو ہے مگرابھی بھوک نہیں ، بیٹا کہتا ہے آملیٹ ،دوسرا بیٹا کہتا ہے فرائی انڈا ۔اور میں امی کی طرح سب کی خواہشوں کو پورا کرتے کرتے بار بار ہاتھ جلاتی جاتی ہوں ۔میری پلیٹ خالی ہے ، سب کھا کر چلے گئے ہیں ۔۔میں برتن ڈش واشر میں لگا رہی ہوں ۔کچن خالی ہے اور میں اب بھی کچن میں ہی تنی پھر رہی ہوں ۔۔پھر ایک دفعہ رکتی ہوں اپنا جلا ہوا ہاتھ دیکھتی ہوں ۔۔خود ہی اسے سہلا لیتی ہوں ، کیونکہ اس وقت میں امی ہوں اور میری امی میرے پاس نہیں ۔۔ مجھے ان سے رخصت ہوئے بارہ سال ہوگئے ہیں ۔۔پراٹھوں کی خوشبو اور امی کی آواز اب میرے گھر کا حصہ نہیں ہیں ۔۔۔۔آج خیال آیا میری ماں کا بھی ہاتھ جلتا ہوگا ۔۔ آج جاکر ان ہاتھوں پر اپنے ہونٹ رکھنا چاہتی ہوں ،، آج پتہ چلا ماؤں کے ہاتھ چپکے چپکے جلتے رہتے ہیں ۔۔
صحن سے کھیلتے کھیلتے ایک دم سب اکھٹے ہوگئے ہیں ، امی پیلے پیلے خربوزے کاٹتی جارہی ہیں ایک ایک کو پکڑا رہی ہیں ، ہم سب کھا رہے ہیں ، میٹھے میٹھے خربوزے ،گرمی کے موسم میں اتنے مذیدار پھل میں بدل چکے ہیں کہ جس کا مقابلہ دو جہانوں میں نہیں ،امی کے ہاتھ سے پکڑتے جاتے ہیں اورکھاتے جاتے ہیں ۔امی اپنے منہ میں ایک پھانک بھی نہیں ڈالتیں ،سب ہمارے لئے ہے ،ہماری صحت اس تاریخ کا مسئلہ ہے اور ہمیں خبر ہی نہیں ۔۔
میں نے ایک برتن میں تربوز کاٹے ہیں ، دوسرے میں ہنی ڈیو ( خربوزہ ) انہیں ٹی وی دیکھتے بچوں کے سامنے رکھ دیتی ہوں ، ان کی صحت آج کی تاریخ کا مسئلہ ہے ، چھوٹا بیٹا اپنے ہاتھ سے نہیں کھا رہا ، میں ا سکے منہ میں ڈالتی جاتی ہوں ،وہ کہتا ہے امی تربوز کتنا مزے کا ہے ۔اور میں تربوز کے مزے سے لاپرواہ ہوں ،آج کی تاریخ میں میری صحت مسئلہ نہیں ہے ،کیونکہ میں امی ہوں ۔۔اور اپنی امی سے دور آئے مجھے آج بارہ سال ہوگئے ہیں ۔ میرے ہاتھ پر چھوٹا سا کٹ ہے جو پھل کاٹتے کاٹتے لگ گیا ہے ، میں ہاتھ کے ا س کونے کو خود ہی منہ میں ڈال کر سہلاتی ہوں ۔۔اور اس وقت سمجھتی ہوں پھل کاٹتے کاٹتے ماؤں کے ہاتھوں بغیر کسی شور شرابے کے کٹتے رہتے ہیں ،نظروں میں آئے بغیر ،کسی کو آواز دئے بغیر ۔آج سوچا جا کر دیکھوں امی کے ہاتھ پر کتنے کٹ ہیں ۔میں اپنے کٹ کو دیکھتی ہوں اور میرے بچے ا س سے بے خبر ٹی وی دیکھتے جاتے ہیں ۔
کسی بات پر امی ابو کی زور دار بحث ہورہی ہے ، ذندگی کے مسائل ہیں ،ہماری خوراک ،لباس ،تعلیم اور آسائشوں کے لئے میری امی ابو سے حالتِ جنگ میں ہیں ۔ وہ ہمارے اچھے مستقبل کے لئے کمرے میں تنی کھڑی ہیں ، مگر وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے ہمیں چھت پر کھیلنے کا کہہ گئی ہیں ، ہمیں چھت کی کھلی ہوا میں بھیج کر وہ بند دروازے کے پیچھے کی ساری گھٹن اپنے اندر اتارنا چاہتی ہے ۔ اس گھٹن کا ایک ذرہ بھی اڑ کر ہم تک نہ پہنچے وہ اس خیال سے ہمیں چھت پر جانے کا کہہ گئی ہیں ۔۔ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ بھی توانا رہے ،وہ اپنے بچوں کی صحت مندی کے لئے ساری لڑائی اکیلے ہی لڑ رہی ہے ،ان کی پشت پر نہ میکہ ہے اور نہ انہوں نے اپنے سامنے بچوں کی ڈھال بنا رکھی ہے ۔۔بچوں کو اذیتوں سے دور ۔۔بند دروازے سے بہت دور چھت پرپہنچانا چاہتی ہیں ۔۔بچوں کے لئے ٹھنڈی اور تازہ ہوا کے بندوبست کے جنون نے انہیں کمرے میں اکیلا بند کر دیا ہے ۔وہ نہیں جانتیں کہ دروازے کے پیچھے سے تتی ہوا نکل نکل کر چھت پر نہ جانیوالے نافرمان بچوں کے دماغوں میں کھلبلی مچا رہی ہے ۔
میں اپنے میاں سے الجھی ہوئی ہوں ، بچوں کے لئے یہ چاہیئے ،وہ چاہیئے ، ایسا گھر ہو اور ایسا کھانا ہو ، انہیں وقت دو اور پیسہ بھی دو ، ان کے مستقبل کے لئے یہ بھی کرؤ اور وہ بھی کرؤ ۔۔بحث جاری ہے ، میں بچوں کو نیچے بیسمنٹ میں گیمزکاکھیلنے کہہ کر آئی ہوں ، تیسر ی منزل پر بیڈ روم کا دروازہ بند کر چکی ہوں ۔۔کوئی آواز کوئی تتی ہوا لے کر میرے بچوں کے کانوں تک نہ پہنچے ، خود میں تپتی دھوپ میں بغیر سن ہیٹ کے کھڑی ہوں ، تیز الٹرا وائرز میرے چہرے پر ناخن مار رہی ہیں ،مگر مجھے اپنے بچے جسمانی اور دماغی دونوں طور پر مضبوط چاہیئے ۔۔ میرا دماغ درد سے پھٹا جارہا ہے ۔۔میری امی نے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا کہ مجھ تک معاشی سماجی اور نفسیاتی جھگڑوں کی آواز نہ پہنچے ،اورآج میرے آگے سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔کیونکہ میں امی کا بند دروازہ بارہ سال پہلے چھوڑ آئی تھی ۔اور میں دوڑ دوڑ کر اپنے بچوں کے اوپر ان مصیبتوں کے دروازے بند کرتی جاتی ہوں ۔۔بھاگتے بھاگتے میرا سانس پھول جاتا ہے ۔ میرے چہرے پر تیز دھوپ کے ناخن لگے ہیں ۔۔اور آج مجھے پتہ چلا ماؤں کے چہروں پر دھوپ ہولے ہولے ناخن مارتی رہتی ہے اور ان کے سانس پھولے رہتے ہیں ۔سوچا۔آج جا کر اپنی امی کے منہ پر منہ رکھ دوں اور اپنا سارا سانس ان میں انڈیل دوں ۔
بزنس کلائنٹس کو نبٹا نا ۔ ملنے ملانے والوں کی شکائیتیں اور شکوے ۔۔لوگوں کی دعوتیں کرنا اور ان کی دعوتوں میں جانا ۔۔کسی ناراض رشتے دارکو منانا ،اور کسی خوش کے ساتھ مل کر ہنسنا ۔۔ملنے ملانے والوں کی امیدوں پر پورا اترنے کی جان توڑ کوشش ۔ان جان لوگوں کو پرکھنا اور لین دین کے معاملات۔ یہ سب کرتے کرتے میرے سر میں درد شروع ہوجاتا ہے ۔۔کیونکہ میں کھلے آسمان کے نیچے کھڑی ہوں ۔ میرے سر پر سورج بہت تیز چمک رہا ہے ۔میں ڈائیریکٹ سورج کی شعلہ بار نظروں کے سامنے کھڑی ہوں کیونکہ اس سائے سے جو میرے سر پر تنا رہتا تھا جو مجھے اپنے پیچھے دھکیل کر میرے آگے تن جاتا تھاساری تپش ،ساری گھٹن اپنے اندر اتار کر میرے تک چھنی ہوئی صاف ،ملائم ہوا آنے دیتا تھا ،اس شجر کے سائے سے نکلے بارہ سال بیت گئے ہیں ۔ اور آج مجھے پتہ چلا ماؤں کی آنکھوں میں سورج کیسے جا جا کر چھبتا ہے۔۔اور ان کے جسم تیز الٹر وائرز میں مرجھانے لگتے ہیں اور ان کے سروں میں درد رہتا ہے اور آج سوچتی ہوں گرم شعائیں پھینکتے سورج کے آگے اپنا پورا ہاتھ پھیلا دوں اور دوسرے ہاتھ سے اپنی امی کی آنکھوں کو ڈھانپ لوں اور جو بھی شعلے ان کی طرف لپکیں ان سے اپنے ہاتھ جلا لوں ۔۔اور وہاں صرف ٹھنڈی ہوائیں جائیں ۔اور شبنم اترے ۔۔دھیرے دھیرے اور بس ۔۔۔۔۔۔

http://www.av-comparatives.org/compa...ummary-reports
کراچی کو جلتے ہوئے چوبیس گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں ، کراچی ابھی بھی جل رہا ہے ۔
دوسری جانب کراچی کے ہسپتالوں میں جہاں جہاں سانحہ عاشور کے زخمیوں کو پہنچایا جا سکا ہے وہاں خون کی بہت ضرورت ہے۔ اگر آپ کی نظر سے یہ تحریر گذر رہی ہے اور آپ خون عطیہ کر سکیں یا اگر آپ خود کراچی میں موجود نہ ہوں تاہم کسی بھی ذریعہ سے خون کے عطیات کا بند و بست کر سکتے ہوں تو ضرور کریں شاید آپ چند یا کم از کم کوئی ایک ہی زندگی بچا سکیں ۔ اگر آپ کے جاننے والے کراچی میں موجود ہوں اور خون عطیہ کر سکتے ہوں اور خون عطیہ کرنا چاہیں تو کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں جا کر خون عطیہ کر سکتے ہیں ۔
شکریہ

























تازہ ترین تبصرہ جات