غزل نمبر1 ۔ اسد اللہ غالب

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا، مگر، بہ تنگئ چشمِ حُسود تھا

آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
لیکن یہ کہ رفت گیا اور بود تھا

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں، ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسد
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

Related posts:

  1. اللہ سے صلح
  2. دل ہی تو ہے ۔ کلام غالب بزبان شفقت امانت علی خان
  3. یہ رنگینی نو بہار ۔۔۔۔۔ اللہ اللہ
  4. سکوت و خامشی اظہارِ حـالِ بے زبـانی ہے
Category: غالبیات
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. Responses are currently closed, but you can trackback from your own site.

تبصرہ جات بند ہیں


click tracking
Web Stat