کچھ سالوں سے دنیا دو حصوں میں بٹ گئی ہے ۔ ایک دنیا کے رہنے والے ہر بات کو مذہب پر پرکھتے ہیں اور کئی دفعہ وہ مذہب اور ثقافت کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں اور دوسری دنیا کے رہنے والے مذہب اور ثقافت سے نک کر انسان کی بات کرتے ہیں ، اور وہاں وہ انسان کو کسی مذہب یا ثقافت کے جنگلے میں نہیں ،آذادی کے آسمان پر اڑاتے ہیں ۔ دنیا کی اس تقسیم نے بحث مباحثوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسہ چھیڑ دیا ہے ۔ اور وہ بحث اس وقت ذیادہ زور پکڑتی ہے جس وقت دونوں دنیاؤں کے لوگ اپنے اپنے دائرے سے باہر آنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ حا لانکہ اگر وہ اس سے باہر آکر دیکھیں تو انہیں پتہ چلے کہ ان دو انتہاؤں کے درمیاں جو ایک تیسر ی دنیا آباد ہے وہ کیسی پرامن اور معتدل مزاج ہے ۔
اگر ہم مذاہب میں انسانیت کو رکھ کر دیکھیں تو یہ کوئی اچھوتی بات نہیں ۔ مگر یہ دونوں ایک جگہ انہیں نظر آئیں گے جو مذہب کے دائرے سے نکل کر اس درمیانی دنیا کی سیر کریں گے ۔ کون سا ایسا مذہب ہے جس کا پیغمبر انسان کی بات نہیں کرتا ۔ ؟انسانیت کی بات نہیں سکھاتا ۔ مذاہب میں جب رواداری ، معافی ، رحم دلی اور صبر کی تلقین ہوتی ہے تو وہ اسی دنیا کی بات ہے جو تیسری ہے اور جس کو جانتے تو سب ہیں مگر پہچاننا نہیں چاہتے ۔ دوسری طرف انسانیت میں مذاہب کو رکھ کر دیکھیں تو بات وہی نکلتی ہے ۔
مذاہب کو پیغمبروں کے کردار میں ڈھال کر دیکھیں تو ہم کسی انسان پر نہ ظلم کر سکتے ہیں نہ ذیادتی ۔ شفیق ،رحم دل ، صابر ، محنتی ، ایماندار ، منصف ،سخی اور احسان کرنے والے ۔۔کیا سب پیغمبر ایسے نہیں تھے ؟ کون سا پیغمبر ہے جو جابر ،ظالم ،سخت گیر ، جھوٹا ،بد دیانت ، منافق ،ناانصاف ،کنجوس اور کاہل تھا ؟ ہر مذہب کی پرکھ اس کا پیغمبر ہے ۔ تو وہ سب تو اسی دنیا میں کھڑے ہیں جہاں انسان کو مذہب میں انسانیت اور انسانیت میں مذہب ملتا ہے ۔ شدت اور تکبر ۔خود غرضی اور مکاری ۔۔ ذاتی مفاد اور نفرتیں ۔۔ حسد اور دشمنیاں ۔۔یہ سب سیاست دانوں کی سیاست ہے ۔ اور سیاست میں مولوی کے کردار سے کسے انکار ہے ؟ مولوی فرقے بنانے کے لئے نفاق کی بات لاتے ہیں ،لوگوں کو لڑواتے ہیں ،اس طرح مذاہب تو بدنام ہوتے ہیں مگر ان کی دال روٹی خوب چلتی ہے ۔
ہر دوسرے انسان کی طرح عورت بھی اسی مذہب ، ثقافت اور انسانیت کے نعروں کی درمیاں حیران و پریشان کھڑی ہے ۔ کہیں اسے آزادی کے نام پر مادر پدر آزادی کی صدا سنائی دیتی ہے اور کہیں اسے مذہب کے نام پر ونی ہونے ، خاوند کے ساتھ جلائے جانے اور قرانِ پاک کے ساتھ شادی کی آوازیں آتی ہیں ۔ حالانکہ ہر دوسرے معاملے کی طرح یہاں بھی ہر مذہب کی تعلیم تقریبا ایک سی ہے ۔اور ا سمیں عورت کے لئے گھٹن نہیں ،فکری آزادی اور اپنے تشخص کی پہچان ہے ۔اور یہ پہچان اسی دنیا میں ملتی ہے جہاں انسانیت میں مذہب ذندہ ہے اور مذہب کو انسانیت سے جدا نہیں کیا گیا ۔ کسی بھی ملک کی سیاست اس کی ثقافت بن جاتی ہے اور پھر تقریریں کرنے والے لیڈر حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی دنیا تو محلوں میں ہے مگر عام آدمی اور عورت کو وہ زندگی گذارنے کا کونسا سلیقہ سکھا رہے ہیں ؟ وقتی فائدوں کے لئے بنائی گئی تقریریں لوگوں کی ذندگیاں برباد کر دیتی ہیں ۔
مذاہب کا کسی ملک کے قانون سے متصادم ہونا خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے تو دوسری طرف اگر ممالک کے قوانین بھی لوگوں کے مذاہب سے متسادم ہونے لگیں تو سکون وہاں بھی نہیں رہ سکتا ۔ یہ سب انتشار کی باتیں ہیں ۔ فرانس میں خواتین کے پردہ کرنے پر پابندی اور دوسری طرف انڈیا بھی ایا ہی کوئی قانون پاس کرنے والا ہے ۔ تو یہاں سوال ایسے اٹھیں گے ، مذاہب کو تو پرے رکھئے کیونکہ ہر مذہب عورت کے پردے کی بات کرتا ہے اسمیں صرف اسلام کا نام نہیں ہے ۔ہندؤں کی کتاب رگودانمبر ۸،۳۳ میں عورت کو کہا گیا ہے
جب تمھیں عورت بنایا گیا ہے تو تم اپنی نظر نیچی رکھو ، دونوں پاؤں کو جوڑے رکھو اور جو چیزیں کپڑے چھپاتے ہیں انہیں عیاں نہ کرؤ ۔۔
اسی طرح بائبیل میں مختلف مقامات پر عورت کو اپنے آپ کو سادہ اور چھپا کر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
مغربی ممالک اور پردے کا جھگڑا منہ کو مکمل طور پر ڈھانپنے پرشروع ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنا اور ہر شناختی کارڈ پر چہرے والی تصویر کا ہونا ضروری ہے ۔ اس بات پر کسی بھی سمجھ والے انسان کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ یہ مذہب نہیں ضد ہے ۔
اور دوسری طرف اگر آزاد ریاستیں ، آزادی کی بات کرنے والے ممالک عورتوں سے قانون کے نام پرسرکو حجاب میں لپیٹنے کا حق چھیننے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بنیاد پرست ملا عورت کوشریعت کے نام پر منہ ڈھانپنے کے لئے مجبور کرے ۔ ان دونوں میں فرق کچھ بھی نہیں رہ جائے گا ۔بولنے پر پابندی بھی ویسی ہی حرکت ہے جیسے کسی کو خاموش نہ رہنے دیا جائے ۔ جمہوری ریاستوں میں ، آزاد ممالک میں ، انسانی حقوق کی وادیوں میں ، لوگ جو کہنا چاہیں کہہ دیں اور اگر خاموش رہنا چاہیں تو ان کا یہ حق بھی اسی طرح ہی ملنا چاہیئے ۔
کم کپڑے پہننے کی آزادی ہے تو پورے کپڑوں سے جسم کو ڈھانپنے کی بھی آزادی ہونی چاہیئے ۔آزاد سوچ ہوتی ہے جسم نہیں ۔ سوچ میں آزادی ایک عمل ہے جسے ہر سطح پرہونا چاہیئے ۔
عورت کی آزادی اس کے شعوری تربیت ہے ۔ اور عورت پر پابندی بھی اس کی شعوری تربیت ہی ہے ۔ عورت کو جب چھوٹے بڑے فیصلے میں پہلے شامل کیا جائے اور پھر کچھ فیصلے اس سے خود مختاری میں کروائے جائیں تو پردہ کرنا یا نہ کرنا ایک ایسا فیصلہ ہوگا جسے وہ اپنی مرضی سے کرسکتی ہے ۔ اس میں نہ کوئی خاندان ،نہ دوست احباب ،نہ مذہبی رہنما اور نہ ہی کوئی ریاست مداخلت کرے ۔ رہنماؤں کا کام رہنمائی ہے ، دھونس اور زبردستی نہیں ، ممالک کا اکم وہ قوانین بنانا ہے جو کسی بھی ایک فرد کی سوچ میں ہتھکڑی نہ لگائے ۔ عورت کو اعلی تعلیم دے کر اپنے فیصلے کرنے میں آزادی ہونی چاہیئے ۔ جب اس کی شعوری تربیت ہوجائے گی ۔اچھے برے کا فرق سمجھ میں آجائے گا اس دن یقین مانئے اس چیز سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ پردہ کرتی ہے یا نہیں۔ چہرہ چھپاتی ہے یا نہیں ۔تعلیم اور اعتماد ۔۔۔بس ۔اتنی ہی آج کی عورت کی ضرورت ہے ۔ جب اسے معاشی طور پر بے بس کر کے اپنے اوپر بوجھ بنا لیا جاتا ہے تو وہ اس انحصاری کے لئے ساری عمر اپنے فیصلے کرنے میں غلام رہتی ہے ۔ کس سے ملنا ہے کس سے نہیں ؟ کیا پہننا ہے کیا نہیں ؟ کیا بات کرنی ہے کیا نہیں ؟ کہاں پیسہ خرچ کرنا ہے کہاں نہیں ؟ کس سے منگنی ،شادی کرنی ہے کس سے نہیں ؟ منگنی شادی چل سکتی ہے یا نہیں ۔؟ یہ سب فیصلے عورت کو کرنے میں آزادی ہونی چاہیئے ،اور آزادی دینے سے پہلے اسے تعلیم و تربیت کے زریعے شعور یوں دینا چاہیئے کہ اسے اس میں گھٹن نہیں بلکہ روشنی ملے ۔
عورت کی آزادی اسے کپڑوں سے آزاد کرنے میں نہیں ہے بلکہ اس کے اعتماد کی بحالی میں ہے اور عورت کے حجاب کی مخالفت کر کہ اسے پابندی سے نجات نہیں بلکہ اس کے اوپر ایک طرح کا ایک اور تالا ہے ۔آزادی دینے اور پابندی لگانے والے ،ہر ہاتھ مین اپنی طرح کا ایک تالا ہے ۔ ہر کوئی اپنا اپنا تالا کھولے تو ہی قلعے میں بند عورت آزاد ہوگی ۔ تب ہی مذہب اور انسانی حقوق کے درمیان جھولتی عورت اپنا آپ خود پہچانے گی ۔ اسے اپنے ہر فیصلے میںآزاد چھوڑ دیجئے ۔۔۔اور یہی آزادی ہے ۔ آزادی سوچ میں ہے ،اس کا جسموں سے کوئی تعلق نہیں ۔ عورت کو جسم نہیں ایک سوچ سمجھ کر ٹریٹ کریں ۔ اس سے نہ صرف وہ بلکہ اس سے وابستہ لوگ وحشتوں سے باہر آجائیں گے ۔ اور عورت اس خوف یا اس خوش فہمی سے نکلے گی کہ وہ عورت ہے تو کمزور ہے یا دوسری انتہا پروہ عورت ہے تو بہت طاقتور ہے ۔ عورت کو بھی اسی تیسی دنیا میں لا کر دیکھیں جہاں پر ایک ایسی دنیا آباد ہے جس میں مذہب اور انسانیت کا سنگم اسی فطری انداز میں ہے جیسا کہ رب نے حکم دے کر بھیجا تھا ۔
Related posts:
You must be logged in to post a comment.




تازہ ترین تبصرہ جات