پنجاب پولیس کبھی ہیرو تو کبھی زیرو

پنجاب پولیس کے جوان جو کہ کبھی ہیرو بنتے ہیں تو کبھی زیرو بنتے ہیں۔
چند روز قبل گوجرانوالہ کے قیبی قصبہ تتلے عالی میں ایک شخص جس کی کریانہ کی دکان پر دو شخص آئے انہوں نے اس سے ادھار مانگا ، ادھار سودا نہ ملنے پر انہوں نے اس شخص کو زدو کوب کیا۔اور چلے گئے جس کے خلاف وہ پولیس کے پاس گیا جہاں اسے پولیس نے انصاف تو نہ دیا لیکن اسے الٹا وہاں ہی لٹا لیا اور اسے شدید زدو کوب کیا۔ اور اس واقعہ کے خلاف اسے عدلیہ کا دروازہ کھٹکٹانہ پڑا۔جس کی درخواست یہاں لگائی گئی ہے۔



ابھی کچھ دن اس اندہناک واقعہ کو گزرے تھے کہ اب پولیس نے انتہائی مطلوب اشتہاری مجرموں کو مقابلے میں پار کرنے کے بعد ان کی نعشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے انہیں نشان عبرت بنانے کے لئے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ ان کی نعشوں کی بارات نکالی جس میں دلہا کے فرائض ایک پولیس افسر نے انجام دئیے۔ جو کہ آپ اس ویڈیو سے اندازہ کر سکتے ہین۔
یہ مرنے والے اشتہاری مجرموں کی دہشت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں۔ کہ ان کو مارنے کے لئے پولیس کی ٹیموں نے جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے تھے لیکن کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی۔ ان مفروروں نے تو ڈی آئی جی گوجرانوالہ کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہوا تھا۔ جبکہ ڈی آئی جی صاھب ان دنوں ملائیشیا میں جائے پناہ بنائے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ایسا واقعہ کوئی دو سال قبل پیش آیا تھا جب پولیس نے ننھو گورائیہ کو پولیس مقابلے میں مارنے کے بعد اس کی نعش کو پورے شہر میں گھمایا تھا۔

پنجاب بھر میں صنعتکار سول اور فوجی افسران کو تاوان کی غرض سے اغواء کر کے قتل کرنے اور پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے انتہائی خطرناک مجرم آصف وڈو کی خانیوال کے علاقہ جہانیاں چک نمبر 152میں پولیس مقابلے کے دوران خطرناک ساتھی مجرم ہاشم عرف کالا گجر کی ہلاکت بعد گوجرانوالہ پولیس نے ریجن بھر میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھے جانے والے آصف وڈو کی نعش کو پولیس گاڑی میں رکھ کر کامونکی سے گوجرانوالہ تک جی ٹی روڈ پر پھیرایا ۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے جی ٹی روڈ پر جمع ہو کر ہو کر پولیس پارٹی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ہار پہنائے یاد رہے کہ کامونکی کا رہائشی آصف وڈو جو کہ صوبے کے مختلف اضلاع کی پولیس کو بے شمار شہریوں ، صنعتکاروں ، سول و فوجی افسران کو تاوان کے لیے اغواء کر کے بھتہ وصولی کے باوجود 3حساس اداروں کے اعلیٰ افسران اور 16شہریوں کو قتل کر کے کروڑوں روپے بھتہ وصول کرنے اور چھ سے زائد پولیس ملازمین کو شہید کرنے کے مقدمات میں مطلوب تھا جس کے سر کی قیمت صوبائی حکومت نے 20لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی گذشتہ ر وز جہانیاں کے علاقہ چک152میں پولیس مقابلے کے دوران آصف وڈو اور 10لاکھ سر کی قیمت والے انتہائی مطلوب ہاشم عرف کالے گجر کی ہلاکت کے بعد گوجرانوالہ پولیس نے ان کی نعشوں کو پولیس کی گاڑی میں رکھ کر شہر بھر کا چکر لگوایا ۔ لوگوں نے خطرناک اشتہاری آصف وڈو اور اسکے ساتھی کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد سکھ کا سانس لیتے ہوئے مقابلے میں حصہ لینے پولیس ملازمین پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پولیس کی یہ حرکت خلاف قانون ہے۔ پولیس کا کام تو صرف مجرموں کو پکڑ انہیں عدالتوں سے عبرت ناک سزا دلوانا ہے نا کہ ان کی نعشوں کو سڑکوں پر گھمکا کر انہیں نشان عبرت بنانا۔کچھ لوگوں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پولیس کی اس کاروائی سے معصوم لوگوں اور وہاں سے گزرنے والے معصوم سکول کے بچوں کےپر عجیب قسم کی دہشت کی فضا بنا دی ہے۔

دنیا نیوز کی جانب سے جاری کی گئی خبر کی تفصیل:

Related posts:

  1. پنجاب پولیس کا لوگو بھارتی پنجاب پولیس کے لوگو سے تبدیل
  2. پنجاب پولیس کی ویب سائیٹ ہیک
  3. چیف جسٹس بلال اسلام آباد ہائیکورٹ بے نقاب سکینڈل
  4. ٹریفک پولیس کا ایف ایم ریڈیو
  5. گوجرانوالہ شہر کے اعزازات
  6. “پیار کبھی نہیں مرتا”
  7. قائد اعظم کو ہیرو کہنے پر جسونت سنگھ پر تنقید
Category: بلاگ
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. You can leave a response, or trackback from your own site.
Leave a Reply

You must be logged in to post a comment.


click tracking
Web Stat