Archive for the Category »دوست بلاگرز «

لاہور:وطن عزیزکے سیلاب زدہ علاقوں کے ساتھ ساتھ لاہور سمیت دیگرشہر وں میں بھی آشوب چشم کی وبا ء پھیل گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں بچے’ بڑے’مرد اور خواتین شامل ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم اس سال تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے اس مرض کی وباء میںشدت انتہائی زیادہ ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ (بحوالہ نزہ المجا لس جزثانی)دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔یونانی میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں ‘خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوںکیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی’حبس اور بارش کے بعد آلودہ اور سیلابی پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے’رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میںفوری طور پر ہسپتال یاماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میں مندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
٭…٭…٭
http://healthnewspaper.co.cc/
news@healthlineint.co.cc
qazimakhalid@who.net

کاش ! مسلمان اور مسلم دنیا موجودہ حالات میں بدر کےتاریخی کردار سےسبق لےکر اپنےاندر اسلامی اتحاد و اخوت پیدا کرےاور اس تاریخی واقعہ کو بھی حرز جان بنائےکہ حقیقی نصب العین کی تکمیل چند سالوں کےبعد فتح مکہ کی شکل میں ہوئی وہ بھی رمضان المبارک کی بیس ٢٠ تاریخ تھی جس کی وجہ سےپورا جزیرہ العرب عالم گیر اسلامی برادری کا مرکز بن گیا اور عالمی سطح پر غلبہ توحید کی روشنی پھیل گئی تاکہ دنیائےانسانیت حقیقی اسلام کےغلبہ و اظہار کا مشاہدہ کرلےجو اس کےلیےاتمام حجت بنے۔
انسانیت کے نام ایک بچی کا کھلا خط
میرے اللہ نے جب انسان بنائے تو انسان اور جانور میں ایک ہی فرق ڈالااور وہ تھا انسانیت کا ۔۔ انسان کو انسانیت دی ، حیوان کو حیوانیت دی ۔اور اس ناطے انسان کو اشرف المخلو قات کہہ دیا ۔۔ میں بہت بڑی نہیں ہوں ۔۔ ابھی مجھے جوان ہونا ہے ، اس کے بعد بوڑ ھا ہونا ہے ۔ میری بات سے یہ نہ سمجھیں کہ میں بہت بڑی ہوں میں تو فقط تیرہ سال کی ہوں ، یہ بوڑھی بات مجھے میرے دادا نے بتائی تھی ، جی ہاں اسی دادا نے جنہیں آپ نے جہاز کے پہیئے سے لٹکتے دیکھا ہے۔ میرے دادا میں بہت غیرت تھی ۔ وہ ہر وقت عزتِ نفس اور غیرت کی بات کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے روٹی کچھ نہیں ،پیٹ سے اور جان سے بھی بڑی عزت ہے ۔۔مگر لوگو ایک دم نہ جانے کیا ہوا ، ہم سب روز کی طرح سوئے تھے ۔ صبح اٹھے تو ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔ اس پانی میں سب سامان بہہ رہا تھا ، ہم بہہ رہے تھے ۔۔ اور اسی پانی میں میرے دادا کی خوداری بہہ گئی اور میرے داد ا کہہ رہے تھے ، اپنی جان بچاؤ ، اور میرے دادا جب جہاز سے روٹی کا تھیلا گرتا تو اس پر جھپٹتے تھے اور میں ایک لمحے کو پہچان نہ پائی کہ یہ میرے وہی داد ا ہیں ، اپنے پیٹ کو تو شائد وہ سمجھا لیتے مگر ہمارے پیٹ کے لئے انہوں نے اپنے جھریوں بھرے ہاتھوں کو اللہ کی طرف اٹھانے کی بجائے جہاز کی طرف اٹھا دیا۔میرے دادا کے پاس اور باقی سب کے پاس جو چیز بچ گئی وہ تھا احساس، زندگی بچانے کا اور روٹی کھانے کا ۔۔ پہلے ہم اپنی چیزیں بچاتے رہے ۔۔ چیزیں نہ بچا پائے تو ایک دوسرے کی اور اپنی زندگی بچاتے رہے ۔ ہم سب سوچ رہے ہیں کہاں جائیں ۔۔یہ گاؤں ہم نے بسایا تھا ،اب ہم کہاں جا کر نیا گاؤں اور نیا گھر بسائیں گے ۔؟ اور کیسے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میں نے دور سے دیکھا میری سہیلی اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ پانی کے بیچوں بیچ بیٹھی روٹی کھا رہی ہے ۔ اس کی امی اسے ہر وقت پکارتی تھی ۔۔گل روٹی کھا لے وہ کھانے کی چور تھی مگر لوگو آج وہ کھانا چوری کرکے کھا رہی تھی ، مجھے معلوم ہے اس نے میرے سامنے کسی اور کے تھیلے سے روٹی نکالی تھی اور بھاگ کر اپنے بھائیوں کو بلایا تھا ۔۔اب چاروں طرف پانی ہی پانی ہے اور اس کے درمیاں وہ تینوں بہن بھائی اپنی چارپائی پر بیٹھے ایک دوسرے کے منہ میں لقمے ڈال رہے ہیں ۔۔ لوگو میری اس نخریلی سہیلی کا نخرہ پانی میں میرے دادا کی خوداری کے ساتھ ہی بہہ گیا ہوگا ۔۔۔ پانی میں ہم کچھ بھی نہیں بچا سکے ، نہ سامان ،نہ اپنی اپنی عادتیں ۔۔ سب بہہ گیا ۔
میرے ساتھ حسن اور حسین کا گھر تھا ۔ انہوں نے بہت سے پرندے اور جانور پال رکھے تھے ۔ حسن اور حسین بھی نہیں رہے ۔ ان کے جانور اور پرندے بھی مر گئے ۔ مجھے حسن کی لال پروں والی مرغی بہت اچھی لگتی تھی ۔۔ مگر لوگو ۔۔ مجھے حسن کے ساتھ کھیلنا اس سے بھی ذیادہ اچھا لگتا تھا ۔ دونوں مر گئے ہیں ۔ اس کی امی کو میں نے کہا اماں کھانا کھا لو ۔ وہ کہتی ہے لعنت ہے تجھ پر ایک حسین اورحسن پانی نہ پینے سے شہید ہوے تھے ، میرے حسین اورحسن پانی میں ڈوب کر شہید ہوگئے ہیں ۔۔اور تو مجھے کھانے کو کہتی ہے ۔۔ میں خاموشی سے آگئی ۔ مگر جب جہاز سے روٹی دینے والے آئے تو اماں جہاز کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔ مجھے لگا دادا کی اکڑ ، گل کے نخرے کے ساتھ ساتھ حسن کی اماں کا درد بھی پانی میں بہہ گیا ہے ۔۔ مگر جب میں بھاگ کر اس کے قریب گئی تو وہ کہہ رہی تھی میرے حسن اور حسین کے حصے کی روٹی تو پھینکو ،میرے بچے بھوکے پیاسے چلے گئے ۔ لوگو میری آنکھوں میں سیلاب کا پانی اتر آیا ۔ میں نے پتھر پر سر رکھا اور چیخ چیخ کر رونے لگی ۔ روتے روتے مجھے حیرانگی ہوئی کہ میری اماں مجھے چپ کروانے نہیں آئی ۔۔ لوگو جب مجھے یاد آیا کہ وہ تو پانی کے پہلے ریلے میں ہی بہہ گئی تھی ۔ تو میں نے پتھر سے سر اٹھایا اورآسمان کی طرف منہ کر کے چیخنا شروع کر دیا ۔۔ مجھے دادا نے بتایا تھا کہ لوگ مر کر آسمان کی طرف جاتے ہیں ۔۔مگر وہ مری تو نہیں تھی وہ تو بہہ گئی تھی ۔۔وہ اسی طرح بہہ کر واپس آجائے گی؟ ۔۔میں اور زور سے روتی ہوں ۔۔میرا رونا سن کر وہ ضرور واپس آجائے گی ۔ میرے باپ نے میرے چھوٹے بھائی کو پکڑا ہوا ہے ، وہ بلک بلک کر ماں کے لئے رو رہا ہے ،اسے جہاز سے گرنے والی روٹی نہیں چاہیئے ۔۔لوگو اسے ماں کی چھاتی سے دودھ چاہیئے ۔۔ وہ اتنا چھوٹا ہے ۔۔وہ روٹی نہیں کھا سکتا ۔۔اسے دودھ چاہیئے ۔۔ مگر دودھ کہاں گیا ۔۔ماں کے ساتھ بہہ گیا ۔۔پانی میں غرق ہوگیا ۔۔ میرا گھر چلا گیا ، میرے گھر کی چھت بہہ گئی ۔ میرے دوست حسن اور حسین مر گئے ،ان کے جانور پرندے بہہ گئے۔۔ میری سہیلی کا نخرہ مر گیا اور میرے دادا کی اکڑ پانی میں بہہ گئی،میری ماں بہہ گئی ،میرے بھائی کا دودھ ساتھ لے گئی ۔۔ لوگو ۔۔یہ کیسا پانی تھا جس میں سب بہہ گیا ؟سب برباد ہوگیا ۔
ہمارے گاؤں کے لوگ تو پانی کو ترستے تھے ،مگر یہ کیا ہوا پانی میں ہی مر گئے ۔ ہم تو عام لوگ تھے ، میرے دادا جیسے اور بھی بہت سے لوگ تھے ۔جن کے پاس غیرت تھی ،میری ماں جیسی بہت سی عورتیں تھیں جو پاکباز اور نمازی تھیں ۔ حسن اور حسین جیسے اور بھی بہت سے جوان تھے جو جانوروں اور پرندوں کو بھی محبت سے رکھتے تھے ، اپنی جان سے زیادہ ان جانوروں کو عزیز رکھتے تھے ۔میری سہیلی جیسے اور بھی بہت سے لوگ تھے جو اپنا کھانا دوسرے کو بانٹ کر کھاتے تھے ۔۔ یہ سب اچھی باتیں تھیں مگر لوگو پھر اب یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ ہمارے اعمال کی سزا ہمیں ملی ہے ؟ کیا ہمارے کام اتنے ہی برے تھے کہ ہمارا گاؤں غرق ہوگیا لوگ مٹ گئے اور جو باقی بچ گئے ہیں تو کسی کی ماں نہیں اور کسی کے بچے نہیںیوں آدھا آدھا بچنا بھی کوئی بچنا ہوتا ہے ۔لوگو میرے سامنے رہنے والی خالہ اپنی تین بیٹیوں کو ڈوبتے دیکھتی رہی اور بچا نہ پائی ۔اس کی آنکھوں میں اس کی تین بیٹیوں کے ڈوبنے کا منظر اس کے کس گناہ کے جرم میں بھر دیا گیا ہے ؟ کیا اس کا گناہ اتنا بڑا تھا ؟ کیا گناہ تھا ۔۔؟
آپ سب لوگ کہتے ہو ہمارے اعمال کی سزا میں یہ تباہی مقدر بنی ہے ۔ لوگو بتاؤ ہمارے کیا اعمال تھے ۔۔میرا دادا بات بہ بات غیرت کھاتا تھا ۔وہ کہتا تھا میرا پیٹ میری عزت اور غیرت سے بڑا نہیں ہے ۔ دیکھو لوگو اس کا یہ گناہ کتنا بڑا تھا اللہ نے اسے ایسا مزہ چکھایا ہے کہ وہ اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھائے روٹی کے پیچھے بھا گا پھر رہا ہے ۔ اور کل تو وہ روٹی لینے والوں کی اس قطار میں کھڑا تھا جہاں ایک وزیر ہو کر گیا تھا ۔ وزیر کے احترام میں روٹی کھولی نہیں جا رہی تھی ۔ اس کے جاتے ہی قطار بنانے کو کہاگیا ،فاقہ ذدہ لوگ پہلے ہی کافی انتظار کر چکے تھے ، بھوک سے پیٹ میں بل پڑ رہے تھے ، ماں باپ اپنی بھوک برداشت کرتے تو بچوں کی بھوک ان کے کان پھاڑتی تھی ، ایسے میں لوگ بے تاب ہو کر، قطار توڑ کر کھانے پر ٹوٹ پڑے تھے ، اس میں میرا دادا بھی تھا ، اس خطرناک ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس نے لاٹھیاں ماریں ۔۔ لوگو! انسانیت کے ٹھیکداروں ! اس میں میرا بوڑھا دادا بھی تھا ۔۔ جس نے مجھے یہ بڑی بڑی باتیں سکھائیں ، جو انسان اور جانور کا فرق پڑھاتا پڑھاتا آج جانوروں کے ہاتھوں جانوروں کی طرح ہی پٹ رہا ہے ۔۔میرے دادا کا ایک دوست لاٹھی کھا کر زمین پر گرا تو اٹھ نہ سکا ۔ وہ بھوک سے شائد نہ مرتا ، سیلاب سے بھی بچ گیا ، کیمپوں میں پھیلنے والی بیماریوں سے بھی بچ جا تا مگر لوگو اسے پاک پولیس کی ایک لاٹھی نے مار دیا ۔ وہ اس سے نہ بچ سکا ۔
میرے سامنے ایک باپ بیٹھا ہے ، اس کے پاس چھوٹی سی چھتری ہے ۔اورا س چھتری کے نیچے وہ اپنے تین بیٹوں ، ایک بیوی اورا س کی گود میں بیٹھی ایک بچی کو بچا رہا ہے ۔اس پورے خاندان کی اس ایک چھتری تلے نہ جانے بچت ہے کہ نہیں ، پناہ ہے کہ نہیں ۔۔مگر یہ منظر میرے دل میں یہ سوال ضرور اگاتا ہے کہ ہمارے گھر کا سربراہ اپنی چھتری لئے کہاں گھوم رہا ہے ۔۔ وہ جسے صدرِ پاکستان کہتے ہیں ،اور میرے گاؤں کے چوہدری بتاتے تھے کہ صدر ملک کا باپ ہوتا ہے تو لوگو یہ باپ جو گنہہ گار ہے ، آپ لوگوں کی تعریف کے مطابق اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے کہ کھلے آسماں تلے اس کے پاس فقط ایک چھتری ہے اور وہ اس کے نیچے اپنے پورے خاندان کو بچا رہا ہے ، بارش کا پانی اس کو بھگوتا ہے مگر وہ بچوں کو اس طوفانی پانی سے بچا رہا ہے ،مگر وہ باپ جو میرے ملک کا ہے وہ کہاں ہے ، کیا ا سکے پاس چھتری نہیں ہے جو وہ مجھے اور مجھ جیسے اس ملک کے لوگوں کو جنہوں نے کچھ ایسے گناہ کئے تھے جن کی سزا ان کے گھروں کی اور چھتوں کی اور زندگیوں کی مکمل تباہی تھی ، تو ہم جیسے گنہہ گار بچوں کو بچانے ان کا باپ چھتری تھامے کیوں نہیں آتا ۔۔ اس کے پاس کوئی گناہ ہوتا تو کیا وہ بھی تباہ نہ ہوجاتا ۔ میرے دادا کے بڑے بول ، غیرت کی باتیں ، خوداری کی للکا ر ،ایسا کوئی عیب نہیں ہوگا نا میرے ملک کے باپ کے کردار میں ۔ میری سہیلی کی طرح مل بانٹ کر کھانے کا کوئی جرم ا س نے نہیں کیا ہو گا نا ، حسن اور حسین کی طرح جانور چھوڑ اس نے کبھی انسان سے پیار کرنے کا گناہ بھی نہیں کیا ہوگا نا ۔میرے ملک کا باپ ایسے ہر گناہ سے پاک ہے ، اسی لئے طوفانی بارش کا نہ تو پانی اس کا کچھ بگاڑ سکا اور نہ ہی پانی میں مرتے لوگ اس کی کسی رات کو بے خواب کر سکے ،اس کے کسی غیر ملکی دورے کو متاثر کر سکے،اس کے کسی انسانی جذبے کو بیدار کر سکے ۔۔ ہم چھوٹے سے گاؤں کے لوگ ۔ ہمارے گناہ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ عذابِ الہی کی وجہ بن بیٹھتے ہیں اور بڑے لوگوں کے بڑے بڑے گناہ ، دلوں کی کدورتیں ، نفرتیں اور حسد اتنے پاک باز ہوجاتے ہیں کہ وہ ہم جیسوں کو ٹرکوں میں ، جہازوں میں کھانا بھر بھر کر دینے آتے ہیں ۔۔۔
اللہ تو نے انسانیت کس کا نام رکھا ؟ ۔میرے بس میں ہو تو میں بھی اپنے دادا کی طرح غیرت اور خوداری کا اعلان کر دوں ، مگر میں جانتی ہوں میری اس للکار سے میری پوری بستی تباہ ہوجائے گی جو کہیں اور جا کر بسنے والی ہے ۔۔ جس میں ہر گھر کے آدھے آدھے لوگ ہیں ۔ نہ ساماں ہے ، نہ مکان ، نہ مکین ۔۔اور جو ہم کچھ لوگ بچ گئے ہیں ، جانوروں کے ساتھ مل کر سڑکوں ، گلیوں ، پہاڑوں میں ایک روٹی اور ایک چھت کے لئے دوڑ رہے ہیں ۔۔ میرے ساتھ کتنے بچے ایسے ہیں جو اس سب بربادی کو ایک کھیل تماشہ سمجھ رہے ہیں ، وہ اس میں بھی خوش ہیں ۔۔اور لوگو ان بچوں کی یہ معصومیت بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے ۔۔بہت بڑا ۔ انہی گناہوں نے ہمیں دنیا سے بہت جلد نیست و نابود کر دیا ہے ۔ اور وہ لوگ جو صاف ستھرے کپڑے پہنے ، اجلے گھروں میں اور روشن گلیوں میں گھومتے ہیں ۔ جن کے پاس رہنے کو محل ہیں ۔۔خدا کا عذاب ان پر کیوں آئے گا ۔۔۔۔ ان کے گناہ ہمارے جتنے بڑے تو نہیں ہیں نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم تو اس دنیا کے سب سے بڑے گنہ گار ہیں۔
لوگو ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے گھر نہیں بسا سکتے مگر ہمارے مکان تو بنا دو ۔
ہماری روحیں نہیں لوٹا سکتے مگر ہمارے جسموں کو بیماریوں سے پاک کرنے کا تو انتظام کر دو
ہمارے لئے بارش کے سیلابی پانی کو نہیں روک سکتے ،ہمارے لئے پینے کا صاف پانی تو مہیا کر دو
ہم بچوں سے ہمارے سکول ، آنگن سب چھن گئے ہیں ۔۔۔۔ہمیں اس کا کچھ تو لوٹا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم گنہ گار تھے سب تباہ کروا بیٹھے ۔۔آپ لوگوں پر اللہ کی رحمت ہے ، اس رحمت کا کچھ حصہ ہمیں تو عطا کر دو ۔۔۔
اللہ نے انسانیت کا نام دے کر انسانوں کو جانوروں سے الگ کر دیا ۔۔۔ اسی انسانیت کے نام پر جو انسانوں اور جانوروں میں فرق رکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنے والی عید پر ہم کیا کریں گے؟یہ سوچئے ۔بس ۔۔ہم نے غیرت سے توبہ کی کیوں کہ پیٹ ان سب سے بڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔دادا تم غلط کہتے تھے ۔۔بھوک ،پیاس ،کپڑا اور مکاں یہ کسی بھی غیرت سے بڑے ہیں ۔ آج ہمارے ہاتھ پھیلے ہیں اور دینے والوں کی طرف نظریں اٹھی ہیں ۔۔ گردنیں تو جھکی ہیں ۔۔ وہ تو جھکی ہیں ۔مگر اپنے بہن بھائیو کے آگے ۔اللہ ہمیں غیروں کے آگے جھکنے سے بچانا ۔۔اتنا تو بچا لینا ۔

اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہيں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض کیے گئے
تھے تا کہ تم متقی وپرہیز گاربنو ۔ البقرۃ ۔۱۸۳
سیلاب زدگان بہن بھائیوں کی مدد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ
زکواۃ کی بروقت ادائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔استقبال رمضان اور اسلامی سوشل جسٹس کا نشان







تازہ ترین تبصرہ جات