Author Archive
کوئی خواہش نہ تمنا نہ ضرورت رکھی
دل نے اس سےبے لوث محبت رکھی
بجھ ہی جاتے ہیں ہیاںتیز ہواؤں میںچراغ
اس لیے میںنے شب تار کی عادت رکھی
خشک ہونے نہ دیا محبت کا پیڑ کبھی
میںنے آنکھوں میںہے برسات کی شدت رکھی
تو گزرتا ہے مری سانس سے خشبو کی طرح
میںنے ہردم تیری یادوں کی یہ نکہت رکھی
خامشی نت نئے انداز سے جلوہ گر ہے
اس نے چپ رہ کر بھی اظہار میںجدت رکھی
داغ ہجرت کے عباد اور کسے دکھلاتا
اس لیے اس نے تو ویرانوںسے سنگت رکھی
سکوں میں رات ہی گزرےنہ دن ہی کو قرار آئے
ہی دل کو لگی ہے بس کہ وہ جانِ بہار آئے
ہزاروں بار چمکا ہے ہزاروں بار ہی چمکے
ہمیںکیا چاند سے لینا نہ جب تک وہ نگار آئے
کبھی ھم چپ ہی رہتے ہیںکبھی ھم رو بھی لیتے ہیں
نہ یوں دل کو قرار آئے نہ یوں دل کو قرار آئے
چمن سے تم اگر جاؤ چمن ویرانہ ہو جائے
اگر صحرا میںجا بیٹھوتو صحرامیں بہار آئے
عجب کیفیت دل میں ہیں گزرے رات دن میرے
جو مشکل سے گزرے ہیں وہ لمحے بار بار آئے
گئے تھے شہر میںتیرے وہاں دیکھیںتیری گلیاں
تیری محفل میں جب پہنچے تیری محفل سےجب ائے
وہاں دل تھام کر بیٹھے وہاں سے اشکبار آئے
نہاں خانے میںدل کے جو قرار اپنا چھپایا تھا
بچا رکھی تھی جو پونجی ان کے پاس ہار آئے





تازہ ترین تبصرہ جات