Archive for the Category »اردو لطائف «
ایک دفعہ ایک میراثی کریلے لینے سبزی والی دکان پر گیا۔
سبزی والا ۔۔سبزی کو پانی لگا رہا تھا۔
میراثی کافی دیر تک کھڑا رہا اور انتظار کرتا رہا۔
آخر میراثی سے رہا نہیں گیا اور بولا
“جے ایناں نوں ہوش آگئی تے ایک کلو تول دیو”
تیری آنکھوں میں آنسو ، چہرے پہ ہنسی ہے
تیرے سانس میں آہیں ، دل میں بے بسی ہے
تونے پہلے کیوں نا بتایا ، مجھ کو کہ
دروازے میں تیری انگلی پھنسی ہے
ایک عامل صاحب کو دعوی تھا کہ وہ مردہ روحوں سے بات کرادیتے ہیں۔ ایک دن ایک بچہ ان کے آستانے پر آیا اور کہا کہ مجھے اپنے دادا کی روح سے بات کرنی ہے۔ عامل صاحب کے چیلے نے بچے کو ایک اندھیرے کمرے میں بٹھا دیا اورکہا کہ ابھی کچھ دیر میں تمھارے دادا کی روح آئے گی اور تم سے بات کرے گی۔ تھوڑی دیر بعد ایک بھاری سی آواز آئی “کیوں آئے ہو برخوردار؟” بچے نے معصومیت سے پوچھا “دادا جان میں یہ معلوم کرنا چاہ رہا تھا کہ آپ کی روح یہاں کیا کررہی ہے آپ کا تو ابھی انتقال ہی نہیں ہوا!!!”
بھکاری نے دروازہ کھٹکایا اور آواز لگائی ۔
اﷲ کے نام پر پلاؤ اور کیک کھلا دو۔
گھر والے : لیکن تم روزانہ تو روٹی مانگتے ہو‘ آج پلاؤ کیوں؟
بھکاری : وہ جی ۔۔ آج میری سالگرہ ہے۔
لڑکیاں اور شادی
لڑکیاں شادی کے معاملے میں نرالی ہوتی ہیں !
رشتہ آنے پر لڑکے کے بارے میں ایسے ایسے سوالات کرتی ہیں جیسے لڑکے کو اپنا خاوند نہیں منیجر بنا رہی ہوں۔
لیکن جوں جوں ان کی عمر گزرتی جاتی ہے ، سوالات میں بھی تبدیلی آتی جاتی ہے۔
20 سال کی عمر میں لڑکی کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے :
“لڑکا کیسا ہے؟”
25 سال کی عمر میں جب رشتہ آتا ہے تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے :
“لڑکا کیا کرتا ہے؟”
30 سال کی عمر سے جب لڑکی تجاوز کر جاتی ہے تو کوئی بھی رشتہ آنے پر اس کا پہلا سوال ہوتا ہے :
“کہاں ہے؟”
*****
ایک بیوی نے اپنے شوہر کے خلاف علیحدگی کا مقدمہ دائر کر دیا۔ اس نے جج کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ۔
” جناب ! میں نہ تو اس کی دولت کی خواہش مند ہوں نہ حق مہر طلب کرتی ہوں ۔
میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ میرا شوہر مجھے اسی حالت میں چھوڑ دے جس حالت میں ، میں شادی سے پہلے تھی ۔ ”
” شادی سے پہلے تم کس حالت میں تھیں ؟ ” جج نے پوچھا ۔
” بیوہ ! ” بیوی نے اطمینان سے جواب دیا ۔
سردار شادی کے اگلے دن بیوی کو مار رہا تھا
لوگوں نے پوچھا تو بولا
“اینے میری چا وچ تعویذ گھول دیتا اے”
بیوی روتے ہوئے غصے سے
“او تعویذ نہیں سی ، ٹی بیگ سی جی”
لڑکی:
جب ڈیڈ سو جائیں گے تو میں گلی میں سکہ پھینکوں گی تم آجانا۔
لڑکی نے گلی میں سکہ پھینکا۔لیکن لڑکا ایک گھنٹہ بعد آیا۔
لڑکی:
تم ایک گھنٹے بعد کیوں آئے ہو؟
لڑکا:
میں سکہ ڈھونڈ رہا تھا۔
لڑکی:
اوہ پاگل میں نے سکہ دھاگہ باند ھ کر پھینکا تھا۔





تازہ ترین تبصرہ جات