Archive for the Category »اردو کی مشہور کہانیاں «
گورڈن کالج راولپنڈی کی کینٹین اس وقت طالب علموں سے کھچا کچھ بھری ہوئی تھی ۔ یہ امتحانات کے دن تھے لڑکے پرچے دے کر سیدھے کینٹین میں چلے آ رہے تھے ۔ایک دو پرچے ہی باقی رہ گئے تھے ۔ اس کے بعد چند ہفتوں کے لئے کالج بند ہو رہا تھا ۔ چھٹیوں کے فورا بعد ان امتحانات کے نتائج آنے تھے اور پھر اگلی کلاسز کا آغاز ہونا تھا۔
طالب علموں کے چہروں پر جہاں ان تعطیلات کی خوشی کا عکس نظر آ رہا تھا، وہاں ایک دوسرے سے چند ہفتے بچھڑنے کا ملال بھی تھا۔ نوجوانی کے اس دور کی دوستیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ بہت جذباتی عمر ہوتی ہے، اس وقت ایسے لگتا ہے کہ دوستوں کے بغیر سانس لینا دو بھر ہو جائے گا ۔ جدائی کا ایک ایک دن بھاری اور ایک ایک رات کٹھن ہوتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ رات پر لگا کر اُڑ جائے ۔ صبح ہو اور انسان سیدھا دوستوں کی منڈلی میں پہنچ جائے ۔ ایک بار اس منڈلی میں بیٹھ جائیں تو دل چاہتا ہے یہ زندگی ایسے ہی ہنستے مسکراتے اور دوستوں کے ساتھ قہقہے لگاتے گزر جاتے۔
گورڈن کالج کی کینٹین میں مختلف میزوں پر لڑکوں کی مختلف ٹولیاں براجمان تھیں۔ ان میں سے ایک میز پر عامر اور اس کے دوست بیٹھے تھے۔ عامر بی کام سال آخر کا طالب علم تھا۔ اس امتحان کے بعد اسے ڈگری ملنی تھی۔ عامر کے دوسرے تین دوست بھی اس کے ہم جماعت تھے۔ آج وہ بہت اداس تھے! کیوں نہ ہوں آج چار سال کا ساتھ ختم ہو رہا تھا۔ ان کے امتحانات ختم ہو چکے تھے ۔ کل سے کالج آنے اور روزانہ ملاقات کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا۔ گذشتہ چار سالوں میں عامر ، ناصر شجاع اور نواز گہرے دوست بن چکے تھے۔ انہیں ایک دوسرے سے محبت تھی، روز ملنے کی عادت تھی اور آپس میں ڈھیروں باتیں کرنے کا چسکا تھا۔ ان کے لئے ویک اینڈ گزارنا مشکل ہوتا تھا۔ کبھی کبھی تو وہ ویک اینڈ پر بھی کہیں اکھٹے ہو جاتے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں پائیں گے ۔
اور آج ! آج وہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو رہے تھے ۔ آئندہ شاید ہی وہ اکھٹے ہو پائیں کیونکہ وقت اور حالات انہیں ایک دوسرے سے دور کر رہے تھے۔
اگرچہ وہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں اکھٹے ہونے اور ملتے رہنے کے وعدے کر رہے تھے، لیکن وہ جانتے تھے کہ اب یہ ناممکن ہے۔ وہ چاہیں بھی تو یہ نہیں ہو سکتا تھا ۔ روزی روزگار کے چکر میں معلوم نہیں انہیں کہاں اور کس عمارت کی اینٹ بننا پڑے گا ۔ حالات کا اندھا رُخ انہیں کہیں بھی لے جا سکتا تھا۔ وہ کل کہاں ہوں گے یہ آنے والے وقت کی دھند میں پوشیدہ تھا۔ یہ سب کہنے کی باتیں تھیں کہ ہر ہفتے کہیں نہ کہیں اکھٹے ہوں گے۔
آج کی اس آخری محفل میں سب دوستوں نے اپنے اپنے مستقبل کے پلان بھی بتائے ۔ ناصر پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کرنے لاہور جا رہا تھا۔ نواز کا بڑا بھائی کراچی میں رہتا ہے وہ وہیں جا کر ایم کام کرنا چاہتا تھا۔ شجاع کے چچا ملٹری اکائونٹس میں تھے، انہوں نے وہیں شجاع کی نوکری کی بات کی ہوئی تھی۔ اس کے ڈائریکٹر نے شجاع کو نوکری دلوانے کا وعدہ کیا ہوا تھا۔ اس نوکری کے ساتھ ساتھ شجاع کا دوسرا اور اصل منصوبہ یہ تھا کہ جب موقع ملا وہ امریکہ ، آسٹریلیا یا کسی یورپی ملک کا رخ کرنا چاہتا تھا۔ وہ پاکستان میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ سب دوست انپے مستقبل کے منصوبوں کا گرمجوشی سے اعلان کر رہے تھے لیکن عامر خاموش تھا۔ نواز نے پوچھا” عامر کیوں اُداس بیٹھے ہو تم بھی تو بتائو کہ آگے کیا کرنا چاہتے ہو؟”
عامر نے اداسی سے کہا” یار میں بھی آگے پڑھنا چاہتا ہوں! اگر میرے بس میں ہو تو ایم بی اے کروں، لیکن نہیں کر سکتا”
شجاع نے پوچھا” وہ کیوں ؟تم تو ہم تینوں سے زیادہ ذہین ہو، پھر تم کیوں ایم بی اے نہیں کر سکتے”
عامر نے کہا” یار میرے گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے۔ میرے والد صاحب دو تین ماہ میں ریٹائر ہو رہے ہیں، تم لوگ جانتے ہو کہ میرا کوئی بھائی نہیں ہے، ایک چھوٹی بہن ہے اس کی اور گھر کی ذمہ داری سب میرے اوپر ہے ۔ میرے ایک چچا امریکہ میں رہتے ہیں وہ مجھے امریکہ لے جانا چاہتے ہیں، لیکن میں وہاں نہیں جانا چاہتا۔ میں پاکستان میں رہنا چاہتا ہوں، یہیں کوئی نوکری کرنا چاہتا ہوں۔ نتیجہ آتے ہی نوکری کی تلاش شروع کروں گا، دیکھو کیا ہوتا ہے۔ مقابلے کے امتحان کی درخواست میں نے پہلے ہی دے رکھی ہے، اس کی بھی تیاری کر رہا ہوں”
شجاع نے کہا ”عامر میں تو کہتا ہوں چھوڑو مقابلے کے امتحان کو، اگر تمہیں امریکہ جانے کا موقع مل رہا ہے تو اسے ضائع نہ کرو۔ یہاں کیا رکھا ہے! یار امریکہ چلے جائو گے تو تمہاری زندگی سنور جائے گی”
نواز نے بھی وہی بات کی” تمہارے چچا امریکہ میں ہیں، وہ سپانسر کرکے تمہیں وہاں کا ویزہ دلا دیں گے۔ تمھیں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کرنی چائیے فوراََ کاروائی شروع کر دو”
”ہاں یار میں بھی یہی کہوں گا تمہیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیئے” نواز نے بھی اپنا حصہ دا کیا۔
عامر نے تینوں کی رائے سنی اور پھر بولا” یار تم لوگ خواہ مخواہ غیرممالک کو اہمیت دے رہے ہو۔ پاکستان میں کس چیز کی کمی ہے، اگر ہم سب ایسا ہی سوچنا شروع کر دیں تو یہاں کون رہے گا۔ میں کہیں نہیں جائوں گا۔ یہیں جیئوں گا اور یہیں مروں گا۔ اپنے ملک کی دالی روٹی پر دیس کی مرغ بریانی سے بہتر ہے”
”خیر مرغ بریانی تو پاکستان میں ہی اچھی ملتی ہے، امریکہ میں تو برگر کھانے پڑتے ہیں۔ یہ تمہاری نادانی ہے کہ اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ پاگل جو زندگی امریکہ میں ہے وہ یہاں کہاں ۔ یہاں رہو گے تو ساری زندگی جوتے چٹخاتے رہو گے ۔ چند سال امریکہ میں لگ گئے تو تمہارے گھر والے بھی خوشحال ہو جائیں گے اور تم خود بھی اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائو گے”۔ نواز نے اچھا خاصا لیکچر دے دیا۔
”میں تم سے اتفاق نہیں کرتا ”عامر نے ٹھوس لہجے میں کہا ”امریکہ میں رہنے والا ہر شخص اچھی زندگی نہیں گزار رہا اور یہاں بسنے والا ہر آدمی سزا نہیں کاٹ رہا ۔اپنا ملک آخر اپنا ملک ہوتا ہے۔ یہاں کے سرد وگرم سب ہمارے اپنے ہیں، ہم ان کے عادی ہیں۔ ہمارے باپ دادا اور ان کے آبائواجداد سب نے یہیں اپنی زندگیاں گزاری ہیں، ہم یہاں کیوں نہیں رہ سکتے۔ ہم ان سے الگ تو نہیں ہیں۔ میں تو کہیں نہیں جائوں گا ،یہاں رہ کر جو روکھی سوکھی ملی کھا لوں گا۔ مجھے امید ہے کہ مجھے اچھی نوکری ضرور ملے گی اور انشاء اللہ اپنی محنت سے میں یہاں بھی کوئی مقام حاصل کر لوں گا”
عامر ہٹ کا پکا تھا۔ اصول ، راست باز اور کھرا انسان تھا، اسے اپنے وطن سے بے حد پیار تھا اور وطن چھوڑ کر باہر جانے کے سخت خلاف تھا۔ اسے یقین تھا اس کی کوششیں رنگ لائیں گی اور یہاں رہ کر ایک دن اپنا مقام حاصل کر لے گا۔
چند ماہ گزر گئے! عامر کے دوست اپنے اپنے پلان کے مطابق مختلف شہروں میں چلے گئے ۔عامر پنڈی میں اکیلا رہ گیا ۔ رزلٹ آتے ہی اس نے ملازمت کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔ انہی دنوں اس کا مقابلے کے امتحان کے لئے بلاوہ آ گیا۔ عامر کو اسی لمحے کا انتظار تھا، آج کا دن امیدوں اور امنگوں سے لبریز تھا۔ وہ پورے شوق ،ولولے اور تیاری کے ساتھ اس امتحان میں بیٹھا۔ امتحان بہت اچھا رہا۔ عامر کو قوی اُمید بلکہ یقین تھا کہ وہ اس میں ضرور سرخرو ہو گا۔
لیکن عامر کی امید بار آور ثابت نہ ہوئی۔ اسے جہاں امتحان میں ناکامی کا صدمہ تھا وہاں اس بات کی حیرت تھی کہ ایسے ایسے لڑکے منتخب ہوگئے تھےجو قابلیت میں اس کے پاسنگ بھی نہیں تھے۔ عامر کے کالج کے چند لڑکے جو نقل لگا کر بمشکل ڈگری لے پائے تھے، وہ ملک کے اس سب سے بڑے امتحان میں سرخرو ہو کر عامر کی قابلیت اور اہلیت کو چیلنج اور اُس کے یقین کو ڈانوں ڈول کر گئے تھے۔ یہ عامر کے لئے پہلا اور بہت بڑا دھچکا تھا۔ اسے بڑی مشکل سے یقین آیا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہو چکا ہے۔
دوسری طرف اس کے گھر میں مسائل کھڑے ہوگئے تھے۔ بنیادی مسئلہ معاشی تھا۔ والد صاحب کی پنشن اور پس انداز کی ہوئی رقم سے گھر کا خرچ تو کھینچ تان کر پورا ہو ہی جاتا تھا۔ اصل اور بڑا مسئلہ عامر کی چھوٹی بہن عامرہ کی شادی کا تھا۔ اس کی منگنی دور پار کے رشتہ داروں میں کافی عرصہ پہلے ہو چکی تھی، اب لڑکے والے رُخصتی پر زور دے رہے تھے۔ لڑکا اچھا تھا لیکن اُس کے والدین بہت لالچی تھے۔ انہوں نے اچانک جہیز کی فہرست عامر کے ابا کے ہاتھ میں تھما دی۔ انہیں تو ہارٹ اٹیک ہونے والا تھا ۔ جہیز کی یہ فرمائش پوری کرنا عامر کے ابا کے بس میں نہیں تھا ،بلکہ ان سب کے بس میں نہیں تھا۔ یہاں تو گھر کا خرچ بمشکل پورا ہو رہا تھا، یہ اتنی قیمتی چیزیں کہاں سے خریدتے ۔عامرہ کے سسرال والوں کی فرمائش عامر اور اس کے والدین کے لئے لمحہِ فکریہ بن گئی۔ اس مسئلے کا حل کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔
اپنی اور والدین کی پریشانیوں کا کوئی حل نہ دیکھ کر آخر ایک دن عامر بہن کے سسرال والوں سے بات کرنے ان کے ہاں پہنچ گیا۔ پہلے تو اُس کی خوب آئو بھگت ہوئی لیکن جب عامر نے اپنی بہن کے ہونے والے سسر سے جہیز کی فہرست میں کمی کی بات کی تو وہ لوگ ہتھے سے اکڑ گئے۔ نہ صرف انہوں نے مطلوبہ جہیز میں کمی سے انکار کر دیا بلکہ دھمکی دے دی کہ اگر آئندہ ایسی بات کی گئی تو وہ رشتہ توڑ دیں گے۔ عامر نے سمجھایا ِ”انکل آپ جانتے ہیں ہمارے مالی حالات اس قابل نہیں کہ یہ سب ہم کر سکیں ۔ابا ریٹائر ہو چکے ہیں ،مجھے ابھی تک نوکری نہیں ملی ،ہم سب کہاں سے لے کر آئیں؟”
عامرہ کے سسر نے کہا” اس کا حل تمہارے پاس ہے، تم امریکہ چلے جائو ،سال دو سال میں اتنا کما لو گے کہ یہ سب کچھ آسانی سے کر سکو گے، بلکہ وہاں جا کر اپنے بہنوئی کو بھی وہاں بلا لینا”
” لیکن میں امریکہ نہیں جانا چاہتا ” عامر جھنجلا گیا ۔ نہ جانے لوگ ملک بدری کو مذاق کیوں سمجھتے ہیں ، وہ ہمیشہ سوچتا تھا”میں یہیں پاکستان میں رہ کر نوکری کروں گا”
عامرہ کے سسر نے کہا” یہاں اول تو تمہیں نوکری ملے گی ہی نہیں، اگر مل بھی گئی تو اس سے کیا ہوگا۔ دیکھو میں تمہیں بتائے دے رہا ہوں، گھر جا کر باپ کو بھی بتا دینا ،ہم اپنے بیٹے کو ساری زندگی کنوارہ نہیں رکھ سکتے۔ اگر بیٹی کی شادی کرنی ہے تو آپ لوگوں کو جلدی بندوبست کرنا ہوگا ۔اب گھر جائو اور والدین سے مشورہ کرکے ہمیں جواب دو ۔ ہاں ہماری شرائط تبدیل نہیں ہوں گی”
عامر وہاں سے مایوس لوٹ آیا۔ دوسرے دن پھر نوکری کی تلاش میں پہلے سے بھی زور وشور سے جت گیا۔ اب وہ اپنے تعلیمی معیار سے نیچے کی نوکری بھی کرنے کے لئے تیار تھا ۔ وہ کلرک، سیلز مین حتیٰ کہ ڈرائیور بھی بننے کے لئے تیار تھا۔ لیکن اس کا حصول بھی آسان ثابت نہ ہوا۔ کافی دنوں کی تگ و دو اور بھاگ دوڑ کے بعد ایک دوست کے توسط سے اسُے ایک ناظم کے ڈرائیور کی نوکری ملی۔ عامر نے اسے بھی غنیمت جانا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ چلو کچھ تو گھر والوں کی مدد ہوگی۔
نوکری تو مل گئی لیکن عامر کی آزما ئش ختم نہیں ہوئی۔ دراصل وہ ناظم نہ صرف رشوت خور تھا ،بلکہ اشتہاری مجرموں کو پناہ دینے والا مجرم تھا۔ وہ رشوت ،دھاندلی اور بدمعاشی ہر غلط ہتھکنڈہ استعمال کرکے ناجائز دولت جمع کر رہا تھا۔ اس کے آدمی شریف اور کمزور لوگوں کے گھروں اور پلاٹوں پر ناجائز قبضہ کر لیتے۔ اگر صاحب جائیداد احتجاج کرتا تو اسے زدوکوب کیا جاتا، اسے مارنے اور اس کے بچوں کے اغواء کی دھمکیاں دی جاتیں۔ دوسری طرف اس مظلوم کو پولیس سے بھی تنگ کروایا جاتا۔ اس طرح بے چارہ مظلوم اپنی جائیداد کو بھول کر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان بچانے کی فکر میں لگ جاتا۔ علاقے کی پولیس اور انتظامیہ اس ناظم کے ز یرِاثر تھی اور وہاں مظلوم کی داد اور فریاد سننے والا کوئی نہ تھا۔عامر نے جب سے یہ سب کچھ ہوتے دیکھا تو اس ناظم کی نوکری چھوڑ دی۔
بے روزگاری کا عفریت ایک بار پھر منہ کھولے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ ادھر عامر کے والد اکثر بیمار رہنے لگے۔ پہلے کھانسی شروع ہوئی، پھر نمونیہ ہوگیا جب چیک اپ کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ انہیں ٹی بی ہو چکی ہے۔ وہ بستر کا ہوکر رہ گئے۔ علاج نہ ہونے ، پریشانیوں کے بوجھ، اچھی خوراک کی عدم دستیابی اور بیٹی کے غم نے انہیں چند دنوں میں قریب المرگ کر دیا۔
عامر کی بہن والدین کے ساتھ ساتھ عامر کے لئے ایک آزمائش بنی ہوئی تھی۔ وہ بے زبان لڑکی زبان سے بے شک کچھ نہیں کہتی تھی لیکن اس کی ویران آنکھیں عامر کے لئے ہزاروں سوال لئے ہوتی تھیں، جن کے جواب میں عامر کا سر جھک جاتا۔ روزانہ شام کو جب پورے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد عامر ناکام گھر لوٹتا تو چولہے کے پاس بیٹھی ماں کی امید بھری نظریں اس پر ٹک جائیں۔ عامر ان نظروں کا مفہوم جانتا تھا ،لیکن اس کے پاس ان نظروں کا جواب نہ تھا۔
باپ بستر پر لیٹا کھانس رہا ہوتا ۔ عامر گھر پہنچتا تو وہ کوشش کرکے کھانسی روکتا ، بیٹے کے چہرے پر کامیابی کے آثار ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ،جب اُسے یہ آثار نظر نہ آتے تو اس کی کھانسی لوٹ آتی، وہ کھانستے کھانستے نڈھال ہوجاتا۔
عامر اپنے باپ، اپنی ماں اور اپنی بہن کی امید بھری اور بے بس نظروں کا مطلب سمجھتا تھا۔ پھر ان کے چہروں پر پھیلنے والی نا امیدی کی سیاہی کو بھی جانتا تھا ۔ گھر والوں کی امید کی ڈور ٹوٹتے دیکھ کر اس کی تھکاوٹ کئی گنا بڑ جاتی تھی۔ اسے اپنے اندر ٹوٹ پھوٹ محسوس ہونے لگتی تھی۔ ناکامی اور مایوسی اس کے اندر گھا ئوسا بنانے لگی تھیں۔ ڈگری لینے کے بعد جو جوش اور ولولہ اس کے دل میں تھا، اب ماند پڑ چکا تھا
نوکری کی تلاش میں مسلسل ناکامی سے اس کی عزت نفس بھی متاثر ہو رہی تھی۔ ہر انکار اس کی خودی کے جذبے کو ضرب لگا رہا تھا۔ اس کی خوداعتمادی ، توکل اور جذبہ حب الوطنی پر مسلسل چوٹیں لگ رہی تھیں ۔عامر اس وقت خود کو ایک پریشر ککر میں محسوس کر رہا تھا، جس پر ہر جانب سے شدید دباؤ بڑھ رہا تھا ۔اسے تازہ ہوا کا ایک جھونکا اور روشنی کی ایک کرن کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
تاہم اس کی کوششیں کم نہیں ہوئیں۔ وہ ہر اس جگہ درخواست لے کر موجود ہوتا ،جہاں سے نوکری ملنے کی ذرہ سی بھی امید ہوتی۔ یہ وہ آسامیاں تھیں جو اس کی تعلیم اور ڈگری کے عین مطابق ہوتیں۔ لیکن اسے حیرت ہوتی جب اسے انٹرویو تک کے لئے نہیں بلایا جاتا۔ اگر کہیں بلایا بھی جاتا تو انٹرویو لینے والے کے رویے سے صاف لگ رہا ہوتا کہ یہ سب رسمی کارروائی ہے اصل انتخاب پہلے ہی ہو چکا ہے۔
آخر ایک دن وہی ہوا جس کا ڈر تھا عامرہ کے سسرال والوں نے عامرہ کا رشتہ توڑ دینے کا اعلان کر دیا۔ وہ دن عامر کے گھر والوں کے لئے ماتم کا دن تھا۔ اس دن عامر کی آنکھوں کی رہی سہی روشنی بھی بجھ گئی۔ اس کی آنکھوں میں موتی سے جھلملا رہے تھے۔ ماں کی آنکھیں ساون بھادوں کی برسات کی طرح برس رہی تھیں۔ باپ بیماری کی اذیت اور بیٹی کے دکھ سے مزید لاغر نظر آ رہا تھا۔ اس دن عامر کو اپنے باپ، اپنی ماں اور اپنی بہن کی آنکھوں میں امید کی جگہ نفرت نظر آ ئی، عامر کے لئے نفرت!
عامر جو جوان تھا، تعلیم یافتہ تھا، والدین اور بہن کا اکلوتا سہارا تھا۔ لیکن انہیں یہ سہارا نہیں مل سکا تھا۔ عامر ان کے لئے کچھ نہیں کر سکا تھا۔ بلکہ ان کے لئے بوجھ بن گیا تھا۔
وہ خود کو واقعی بوجھ سمجھ رہا تھا۔ اسے اپنا کوئی مصرف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ کوئی فرض پورا کرنے کے قابل نہیں تھا۔ نہ والدین کا فرض ، نہ بہن کا فرض اور نہ ہی اپنی مٹی کا فرض ۔
وہ اس مٹی پر بوجھ بن گیا تھا۔
اگلے روز صبح وہ امریکہ کے سفارت خانے میں ویزے کا فارم بھر رہا تھا۔
تحریر: طارق محمود مرزا سڈنی
جھونپڑا
جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں، ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا درد زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔ جاڑوں کی رات تھی، فضا سناٹے میں غرق۔ سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہو گیا تھا۔
گھسو نے کہا ”معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں۔ سار ا دن تڑپتے ہو گیا، جا دیکھ تو آ۔“
مادھو دردناک لہجے میں بولا ”مرنا ہی ہے تو جلدی مرکیوں نہیں جاتی۔ دیکھ کر کیا آؤں۔“
”تو بڑا بیدرد ہے بے! سال بھر جس کے ساتن جندگانی کا سکھ بھوگا اسی کے ساتھ اتنی بے وپھائی۔“
”تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا۔“
چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام۔ گھسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام، مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹے بھر کام کرتا تو گھنٹے بھر چلم پیتا۔ اس لئے اسے کوئی رکھتا ہی نہ تھا۔ گھر میں مٹھی بھر اناج بھی موجود ہوتو ان کے لئے کام کرنے کی قسم تھی۔ جب دو ایک فاقے ہو جاتے تو گھسو درختوں پر چڑھ کر لکڑی توڑ لاتا اور مادھو بازار سے بیچ لاتا، اور جب تک وہ پیسے رہتے، دونوں ادھر ادھر ما رے مارے پھرتے جب فاقے کی نوبت آ جاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی۔ کاشتکاروں کا گاؤں تھا۔ محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کرلینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکل کے لئے ضبط نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی۔ یہ ان کی خلقی صفت تھی۔ عجیب زندگی تھی ان کی۔
گھرمیں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں۔ پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی کو ڈھانکے ہوئے دنیا کی فکروں سے آزاد۔ قرض سے لدے ہوئے گالیاں بھی کھاتے مار بھی کھاتے مگر کوئی غم نہیں۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امید نہ ہونے پر لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھاتے۔ یا دن پانچ ایکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے۔ گھسو نے اسی زاہدانہ انداز میں ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی اور مادھو بھی سعادت مند بیٹے کی طرح باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے ہوئے آلو بھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود لائے تھے۔ گھسو کی بیوی کا تو مدت ہوئی انتقال ہو گیا تھا، مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی۔ جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھی۔ پسائی کرکے گھاس چھیل کر وہ سیر بھر آٹے کا انتظام کرلیتی تھی۔ اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی۔ جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہو گئے تھے۔ بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے۔ کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی کی شان میں دوگنی مزدوری مانگتے۔ وہی عورت آج صبح سے درزہ میں مر رہی تھی اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ مرجائے تو آرام سے سوئیں۔
گھسو نے آلو نکال کرچھیلتے ہوئے کہا ”جا دیکھ تو کیا حالت ہے“ اس کی چڑیل کا پھنساؤ ہو گا اور کیا، یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے۔ کس کے گھر سے آئے“۔
مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھسو آلوؤں کا بڑاحصہ صاف کردے گا، بولا ”مجھے وہاں ڈر لگتا ہے۔“
”ڈر کس بات کا ہے؟ میں تو یہاں ہوں ہی“
”تو تمہیں جا کر دیکھو نا۔“
”میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن تک اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں ، اور پھر مجھ سے لجائے گی کہ نہیں، کبھی اسکا منہ نہیں دیکھا، آج اسکا اگھرا ہوا بدن دیکھوں۔ اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہو گی۔ مجھے دیکھ لے گی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکے گی۔“
”میں سوچتا ہوں کہ کوئی بال بچہ ہو گیا تو کیا ہو گا۔ سونٹھ، گڑ، تیل، کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں۔“
”سب کچھ آجائے گا۔ بھگوان بچہ دیں تو، جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں، وہی تب بلا کردیں گے۔ میرے تو لڑکے ہوئے ، گھرمیں کچھ بھی نہ تھا، مگر اس طرح ہر بار کام چل گیا۔“
جس سماج میں رات دن محنت کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے کہیں زیادہ فارغ البال تھے وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔ ہم تو کہیں گے گھسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و آداب کی پابندی بھی کرتا۔ اس لئے یہ جہاں اس کی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرغنہ اور مکھیا بنے ہوئے تھے۔ اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کر رہا تھا پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم سے کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بےجا فائدہ تو نہیں اٹھاتے۔
دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے۔ کل سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا، اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہو جانے دیں۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصہ تو زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا تھا لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اسی میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے۔ وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی سامان تھے۔ اس لئے دونوں جلد جلد نگل جاتے تھے حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔
گھسو کو اس وقت ٹھاکر کی برات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی، وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی۔ وہ بولا ”وہ بھوج نہیں بھولتا۔ تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا۔ لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں، سب کو۔ چھوٹے بڑے سب نے پوڑیاں کھائیں اور اصلی گھی کی چٹنی، رائتہ، تین طرح کے سوکھے ساگ، ایک رسے دار ترکاری، دہی، چٹنی، مٹھائی اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا۔ کوئی روک نہیں تھی جو چیز چاہو مانگو۔ اور جتنا چاہو کھاؤ لوگوں نے ایسا کھایا، ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا ، مگر پروسنے والے ہیں کہ سامنے گرم گول گول مہکتی ہوئی کچوریاں ڈال دیتے ہیں۔ منع کرتے ہیں نہیں چاہیے مگر وہ ہیں دیے جاتے ہیں، اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بڑا پان بھی ملا مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا۔ جھٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا ۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر۔“
مادھو نے ان تکلفات کا مزا لیتے ہوئے کہا ”اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا۔“
”اب کوئی کیا کھلا ئے گا؟“ وہ جمانا دوسرا تھا۔ اب تو سب کو کھبایت سوجھتی ہے۔ سادی بیاہ میں مت کھرچ کرو، کریا کرم میں مت کھرچ کرو۔ پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کر کہاں رکھو گے۔ مگر بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے۔ ہاں کھرچ میں کبھایت سوجھتی ہے۔“
”تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہوں گی۔“
”وہی لوگ دیں گے جنہوں نے اب کی دیا ۔ ہاں وہ روپے ہمارے ہاتھ نہ آئیں گے اور اگر کسی طرح آ جائیں تو پھر ہم اس طرح بیٹھے پئیں گے اور کفن تیسری بار لے گا۔“
جوں جوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی، میخانے کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی۔ کوئی گاتا تھا، کوئی بہکتا تھا، کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا، کوئی اپنے دوست کے منہ سے ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا، ہوا میں نشہ۔ کتنے تو چلو میں ہی الو ہوجاتے ہیں۔ یہاں آتے تھے تو صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لئے ۔ شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی اور کچھ دیر کے لئے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ ہیں یا زندہ در گور ہیں۔
اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کے چسکیاں لے رہے تھے۔ سب کی نگاہیں ان کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ کتنی خوش نصیب ہیں دونوں، پوری بوتل بیچ میں ہے۔
کھانے سے فارغ ہو کر مادھو نے بچی ہوئی پوریوں کا تیل اٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا، جو کھڑا ان کی طرف گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور ”پینے“ کے غرور اور مسرت اور ولولہ کا ، اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔ گھسو نے کہا ”لے جا کھوب کھا اور آشیر باد دے“
جس کی کمائی تھی وہ تو مر گئی مگر تیرا اشیر باد اسے جرور پہنچ جائے گا روئیں روئیں سے اشیر باد دے بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔“
مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ”وہ بیکنٹھ میں جائے گی۔ دادا بیکنٹھ کی رانی بنے گی۔“ گھسوکھڑا ہو گیا اور جیسے مسرت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا۔ ”ہاں بیٹا بیکنٹھ میں نہ جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لو گ جائیں گے، جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپ کے دھونے کے لئے گنگا میں جاتے ہیں اور مندروں میں جل چڑھاتے ہیں۔“
یہ خوش اعتقادی کا رنگ بھی بدلا….نشہ کی خاصیت سے یاس اور غم کا دورہ ہوا۔ مادھو بولا ”مگر داد بیچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ مری بھی کتنی دکھ جھیل کر۔“ وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔
گھسو نے سمجھایا ”کیوں روتا ہے بیٹا! کھس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہو گئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلد مایا کے موہ کے بندھن توڑ دئیے۔“
اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگے…. ٹھگنی کیوں نیناں جھمکا دے ٹھگنی۔
سارا میخانہ محو تماشا تھا اور یہ دونوں مے کش مخمور محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے۔ پھر دونوں ناچنے لگے ۔ اچھلے بھی، کودے بھی، گرے بھی ، مٹکے بھی، بھاؤ بھی بتائے اور آخر نشے سے بد مست ہوکر وہیں گرپڑے۔
تحریر: منشی پریم چند
رستم و سہراب
یا
عشق وفرض
آغا حشرؔ کاشمیری
ڈرامے کے کردار
مردانہ
رستم:۔ سر زمیں فارس کا مشہور ومعروف پہلوان
سہراب:۔ توران کا نامور دلیر ، رستم کا فرزند
شاہِ سمنگان:۔
پیلسم:۔ شاہِ سمنگان کے فوج کا سردار
ہومان :
سہراب کی تورانی فوج کے سردار
بارمان:
شاہ افرا سیاب :۔ شنہشاہِ توران
گستہم :۔ قلعۂ سفید کا مقتدر رئیس
بہرام:۔ قلعۂ سفید کا مقتدر رئیس۔غدّار
ہجیر:۔ قلعۂ سفید کا جنگ آزمودہ محافظ
شاہ کیکاؤس:۔ شنہشاہِ ایران۔
طوس ، گودرز:۔ کیکاؤس کی فوج کے سردار
(ان کے علاوہ سردارانِ لشکر، ایران وتوران کے
سپاہی ، حاجب ، دربان چند دیہاتی وغیرہ)
مکمل ڈرامہ ڈاون لوڈ کریں:





تازہ ترین تبصرہ جات