Pak Galaxy | Information and Telecom News

↑ Grab this Headline Animator

Archive for the Category »اردو کے مشہور افسانے «

خونی تھوک از منٹو حسن

خونی تھوک

گاڑی آنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔

مسافروں کے گروہ کے گروہ پلیٹ فارم کے سنگین سینے کو روندتے ہوئے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ پھل بیچنے والی گاڑیاں ربڑ ٹائر پہیوں پر خاموشی سے تَیر رہی تھیں۔ بجلی کے سینکڑوں قمقمے اپنی نہ جھپکنے والی آنکھوں سے ایک دوسرے کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ برقی پنکھے سرد آہوں کی صورت میں اپنی ہوا پلیٹ فارم کی گدلی فضا میں بکھیر رہے تھے۔ دور ریل کی پٹری کے پہلو میں ایک لیمپ اپنی سرخ نگاہوں سے مسافروں کی آمد و رفت کا بغور مشاہدہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔پلیٹ فارم کی فضا سگریٹ کے تند دھوئیں اور مسافروں کے شور میں لپٹی ہوئی تھی۔

پلیٹ فارم پر ہر ایک شخص اپنی اپنی دھن میں مست تھا۔ تین چار بنچ پر بیٹھے اپنی ہونے والی سیر کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ایک گھڑی کے نیچے خدا معلوم کن خیالات میں غرق زیرِ لب گنگنا رہا تھا۔ دور کونے میں نیا بیاہا ہوا جوڑا ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔ خاوند اپنی بیوی کو کچھ کھانے کیلیے کہہ رہا تھا۔ وہ شرما کر مسکرا دیتی تھی، پلیٹ فارم کے دوسرے سرے پر ایک نوجوان قلیوں کے ساتھ لڑکھڑا کر چل رہا تھا، جو اسکی بہن کا تابوت اٹھائے ہوئے تھے۔ پانچ چھ فوجی گورے ہاتھ میں چھڑیاں لئے اور سیٹی بجاتے ہوئے ریفرشمنٹ روم سے شراب پی کر نکل رہے تھے۔ بک سٹال پر چند مسافر اپنا وقت ٹالنے کی خاطر یونہی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے میں مشغول تھے۔ بہت سے قلی سرخ وردیاں پہنے گاڑی کی روشنی کا امید بھری نگاہوں سے انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ریفرشمنٹ روم کے اندر ایک صاحب انگریزی لباس زیب تن کئے سگار کا دھؤاں اڑا کر وقت کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔

“قلیوں کی زندگی گدھوں سے بھی بدتر ہے۔”

“مگر میاں کیا کریں آخر پیٹ کہاں سے پالیں؟”

“ایک قلی دن بھر میں کتنا کما لیتا ہوگا؟”

“یہی آٹھ دس آنے۔۔۔۔۔۔۔۔”

“یعنی صرف جینے کا سہارا۔۔۔۔۔۔اور اگر بال بچے ہوں تو اپنا پیٹ کاٹ کر ان کا منہ بھریں۔ جب ان لوگوں کی تاریک زندگی کا خیال ایک دفعہ بھی میرے دماغ میں آجائے تو پہروں سوچتا رہتا ہوں کہ آیا ان کی مصیبت ہماری نام نہاد تہذیب پر بدنما داغ نہیں ہے؟”

دو دوست پلیٹ فارم پر ٹہلتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔

خالد اپنے دوست کی گفتگو سن کر قدرے متعجب ہوا اور مسکرا کر کہنے لگا۔ “کیوں میاں یہ لینن کب سے بنے تم؟۔۔۔۔۔۔تہذیب کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔۔۔انسانیت کے سرد لوہے پر جما ہؤا زنگ۔۔۔۔۔۔جانے دو ایسی باتوں کو، جانتے ہو میں پہلے ہی سے اپنے حواس کھوئے بیٹھا ہوں۔”

“خالد، سچ کہہ رہے ہو۔ یہ باتیں واقعی دماغ کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ دو روز ہوئے اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ پندرہ مزدور کارخانے میں آگ لگ جانے کی وجہ سے جلے ہوئے کاغذ کے مانند راکھ ہوگئے۔ کارخانہ بیمہ شدہ تھا، مالک کو روپیہ مل گیا۔ مگر پندرہ عورتیں بیوہ بن گئیں اور خدا معلوم کتنے بچے یتیم ہوگئے۔ کل تین نمبر پلیٹ فارم پر ایک خاکروب کام کرتے کرتے گاڑی تلے آکر مرگیا۔ کسی نے آنسو تک نہ بہایا۔۔۔۔۔۔جب سے یہ واقع دیکھا ہے، طبیعت سخت مغموم ہے۔ یقین جانو، حلق سے روٹی کا لقمہ نیچے نہیں اترتا، جب دیکھو اس خاکروب کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش آنکھیں باہر نکالے میری طرف گھور رہی ہے۔۔۔۔۔۔مجھے اس کے گھر ضرور جانا چاہئے، شاید میں اس کے بچوں کی کچھ مدد کر سکوں۔”

خالد مسکرایا اور اپنے دوست کا ہاتھ دبا کر کہنے لگا۔ “جاؤ۔۔۔۔۔۔پندرہ مزدوروں کی بیکس بیویوں کی بھی مدد کرو، یہ ایک نیک اور مبارک جذبہ ہے مگر اس کے ساتھ ہی شہر سے کچھ فاصلے پر چند ایسے لوگ بھی آباد ہیں، جنھیں ایک وقت کیلیے سوکھی روٹی کا نصف ٹکڑا بھی میسر نہیں۔ گلیوں میں ایسے بچے بھی ہیں جن کے سروں پر کوئی پیار دینے والا نہیں، ایسی سینکڑوں عورتیں موجود ہیں جن کا حسن غربت کے کیچڑ میں گل سڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ تم کس کس کی مدد کرو گے؟ ان پھیلے ہوئے ہاتھوں میں سے کس کس کی مٹھی بھرو گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ہزاروں ننگے جسموں میں سے کتنوں کی ستر پوشی کرو گے؟”

“آہ، درست کہتے ہو خالد۔۔۔۔درست کہتے ہو، مگر بتاؤ اس تاریک آندھی کو کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ اپنے ہم جنس افراد کو ذلت کی زندگی بسر کرتے دیکھنا، ننگے سینوں پر چمکتے ہوئے بوٹوں کی ٹھوکریں کھاتے دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔سخت بھیانک خواب ہے۔”

“واقعات کی رفتار کا نتیجہ دیکھنے کا انتظار کرو، یہ لوگ اپنی طاقت کے باوجود اس طوفان کو نہیں روکتے۔ خود اعتمادی نے انہیں برداشت کرنا سکھا دیا ہے۔۔۔۔۔چنگاریوں کو شعلوں میں تبدیل کرنا آسان ہے مگر چنگاری کا پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔بہرحال تمھیں امید رکھنی چاہئے شاید تمھاری زندگی میں ہی مصائب کے یہ بادل دور ہوجائیں۔”

“میں یہ سہانا وقت دیکھنے کیلیے اپنی زندگی کے بقایا سال نذر کرنے کو تیار ہوں۔”

“کاش یہی خیال باقی لوگوں کے دلوں میں بھی موجود ہوتا۔۔۔۔۔مگر یار گاڑی آج کچھ دیر سے آتی معلوم ہوتی ہے۔ دیکھو نا پٹڑی پر روشنی کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔”

خالد کا ساتھی کسی گہری فکر میں غوطہ زن تھا۔ اسلیے اس نے اپنے دوست کے آخری الفاظ بالکل نہ سنے۔ اور اگر سنے تو کچھ اور خیال کرکے کہنے لگا۔ “واقعی یہ خیال پیدا کرنا چائیے اور اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“چھوڑو میاں اب اس فلسفے کو۔۔۔۔۔کچھ پتا بھی ہے، گاڑی کب آنے والی ہے؟” خالد نے اپنے دوست کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا۔

“گاڑی۔۔۔۔۔۔” اور پھر سامنے والی گھڑی کی طرف نگاہ اٹھا کر بولا۔ “نو بج کر پچیس منٹ، بس دس منٹ تک آجائے گی۔۔۔۔۔یعنی دس منٹ کے بعد ہمارا دوست ہمارے پاس ہوگا۔۔۔۔۔۔ذرا خیال تو کرو، میں وحید کی آمد کو اس دردناک گفتگو کی وجہ سے بالکل بھول چکا تھا۔”

یہ کہتے ہوئے خالد کے دوست نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانا شروع کیا۔

پلیٹ فارم پر لوگوں کا ہجوم تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ مسافر بڑی سرعت سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ قلی اسباب کے ڈھیروں کے پاس خاموش کھڑے گاڑی کے منتظر تھے کہ جلد اپنے کام سے فارغ ہوکر ایک آنہ حاصل کرسکیں۔ خوانچہ والے دوسرے پلیٹ فارموں سے جمع ہو کر اپنی اپنی اپنی مخصوص صدا بلند کررہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا، گاڑیوں کی گڑگڑاہٹ، مختلف انجنوں کی پھپ پھپ، خوانچہ والوں کی صداؤں، مسافروں کی باہم گفتگو کے شور اور قلیوں کی بھدی آوازوں سے معمور تھی۔۔۔۔۔۔برقی پنکھے بدستور سرد آہیں بھر رہے تھے۔

ریفرشمنٹ روم کے اندر بیٹھے ہوئے مسافر نے جو ابھی تک سگار کو دانتوں میں دبائے کش کھینچ رہا تھا، اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی طرف بڑی بے پروائی کے انداز میں دیکھا، اور بازو کو جھٹکا دے کر مرمریں میز پر سہارا دیتے ہوئے بلند آواز میں بولا۔

“بوائے۔”

ٹھوڑی دیر خادم کا انتظار کرنے کے بعد وہ پھر چیخا۔

“بوائے۔۔۔۔۔۔بوائے۔” اور پھر آہستہ بڑبڑاتے ہوئے۔ “نمک حرام”

“جی آیا حضور۔” دوسرے کمرے میں سے کسی کی آواز آئی، اور ساتھ ہی سپید لباس پہنے ہوئے ایک خادم بھاگ کر اس مسافر کے قریب مودب کھڑا ہوگیا۔

“حضور۔”

“ہم نے تمھیں دو دفعہ آواز دی۔ سوئے رہتے ہو تم لوگ شاید۔”

“حضور میں نے سنا نہیں، ورنہ کیا مجال ہے کہ غلام حاضر نہ ہوتا۔”

غلام کا لفظ سن کر مسافر کا غصہ فرو ہوگیا۔

“دیکھو درجہ اول کے مسافروں سے یہ بے رخی اچھی نہیں، ہم تمھارے بڑے صاحب کے بھی کان کھینچ سکتا ہے، سمجھے؟”

“جی ہاں۔”

“ایجنٹ کے، وہ ہمارا دوست ہے۔۔۔۔۔۔خیر، دیکھو تم ویٹنگ روم میں جاؤ اور ہمارے قلی سے کہو کہ وہ صاحب کا تمام اسباب پلیٹ فارم پر لے جائے۔ گاڑی آنے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں۔”

“بہت اچھا حضور۔”

“اور ہاں، ہمارا بل دوسرے آدمی کے ہاتھ بھجوا دو۔”

“بہت اچھا صاحب”

“دیکھو، بل میں پانچسو پچپن نمبر سگریٹ کے ایک ڈبے کے دام بھی شامل کرلینا۔۔۔۔۔۔پانچسو پچپن نمبر کا ڈبہ خیال رہے۔”

“بل اور ڈبہ گاڑی میں لے کر حاضر ہو جاؤں گا، وقت تھوڑا ہے۔”

“جو مرضی میں آئے کرنا، مگر اب تم جاؤ اور جلدی ہمارے قلی کو اسباب نکالنے کیلیے کہہ دو۔”

مسافر نے یہ کہہ کر ایک انگڑائی لی اور میز پر پڑے ہوئے شراب کے گلاس میں سے آخری گھونٹ ایک ہی جرعے میں ختم کردیئے۔ گیلے ہونٹ ایک بے داغ ریشمی رومال سے صاف کرنے کے بعد وہ اٹھا اور آہستہ آہستہ دورازے کی طرف بڑھا۔

صاحب کو دروازے کی طرف بڑھتے دیکھ کر ایک خادم نے جلدی سے دروازہ کھول دیا، مسافر بڑی رعونت سے ٹہلتا ٹہلتا پلیٹ فارم کی بھیڑ میں گم ہوگیا۔

دور ریل کی آہنی پٹڑیوں کے درمیان خیرہ کن روشنی کا ایک دھبہ نظر آرہا تھا جو آہستہ آہستہ آس پاس کی تاریکی کو چیرتا ہوا بڑھ رہا تھا۔

ٹھوڑی دیر کے بعد یہ دھبہ روشنی کی ایک لانبی دھار میں تبدیل ہوگیا اور دفعتاً انجن کی چوندھیا دینے والی روشنی ایک لمحے کیلیے پلیٹ فارم کے قمقموں کو اندھا بناتے ہوئے گل ہو گئی۔ ساتھ ہی کچھ عرصہ کیلیے انجن کے آہنی پہیوں کی بھاری گڑگڑاہٹ تلے پلیٹ فارم کا شور دب کر رہ گیا۔۔۔ایک چیخ کے ساتھ گاڑی سٹیشن کے سنگین چبوترے کے پہلو میں کھڑی ہوگئی۔

پلیٹ فارم کا دبا ہوا شور انجن کی گڑگڑاہٹ سے آزاد ہو کر ایک نئی تازگی سے بلند ہوا۔ مسافروں کی دوڑ دھوپ، بچوں کے رونے کی آواز، قلیوں کی بھاگ دوڑ، اسباب نکالنے کا شور، ٹھیلوں کی کھڑکھڑاہٹ، خوانچہ والوں کی بلند صدائیں، شینٹ کرتے ہوئے انجن کی دلخراش چیخیں اور بھاپ نکلنے کی شاں شاں، پلیٹ فارم کی آہنی چھت تلے فضا میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے تیر رہی تھیں۔

“خالد۔۔۔۔۔۔وحید کو تم نے دیکھا کسی ڈبے میں۔”

“نہیں تو”

“خدا جانے اس گاڑی سے آیا بھی ہے یا نہیں۔”

“تار میں تو اسی گاڑی کا ذکر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ارے، وہ ڈبے میں کون ہے۔۔۔۔وحید۔”

“ہاں، ہاں، وحید۔”

دونوں دوست بھاگتے ہوئے اس ڈبے کی طرف بڑھے جس میں سے وحید اپنا اسباب اتروا رہا تھا۔

ریفرشمنٹ روم والا مسافر تیزی سے فرسٹ کلاس کمپاڑمنٹ کی طرف بڑھا۔ باہر دروازے کے ساتھ لگے ہوئے کاغذ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد دروازہ کھول کر ڈبے کے اندر داخل ہوگیا اور پیتل کی سلاخ تھام کر قلی اور اپنے اسباب کا انتظار کرنے لگا۔

قلی اسباب سے لدا ہوا گاڑی کے ڈبوں کی طرف دیکھ دیکھ کر دوڑا چلا آرہا تھا۔ مسافر نے اسے جھلا کر بلند آواز میں پکارا۔

“ابے اندھے، ادھر آ”

قلی نے مسافر کی آواز پہچان کر ادھر ادھر نگاہ دوڑائی مگر بھیڑ میں خود مسافر کو نہ دیکھ سکا، وہ ابھی اسی پریشانی کی حالت میں ہی تھا کہ ایک اور آواز آئی۔

“کیوں۔ نظر نہیں آرہا کیا؟ ادھر، ادھر۔۔۔۔۔ناک کی سیدھ۔”

قلی نے مسافر کو دیکھ لیا اور اسباب لیکر اسکے ڈبے کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔

“صاحب، ایک طرف ہٹ جائیے میں اسباب اندر رکھدوں”

“ہاں رکھو” دروازے کے ساتھ ایک گدے دار نشست پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ “مگر اتنا عرصہ سوئے رہے تھے کیا؟ خانسامے نے تمھیں یہ نہیں کہا تھا کہ صاحب کا سامان اٹھا کر گاڑی آتے ہی فوراً ڈبے میں رکھ دینا؟”

“مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کس ڈبے میں سوار ہونگے” قلی نے ایک بھاری ٹرنک اٹھا کر بالائی نشست پر رکھتے ہوئے کہا۔

“یہ ڈبہ ہمارا ریزرو کرایا ہوا ہے، باہر چٹ پر نام بھی لکھا ہوا ہے۔”

“آپ نے پہلے یہ کہا ہوتا تو ہرگز یہ دیر نہ ہوتی”۔۔۔۔۔ایک، دو، تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آٹھ۔۔۔اور دس، قلی نے اسباب کی مختلف اشیا گننا شروع کردیں۔

سامان قرینے سے رکھنے کے بعد قلی نے اپنے اطمینان کیلیے ایک بار رکھی ہوئی چیزوں پر نگاہ ڈالی اور ڈبے سے نیچے پلیٹ فارم پر اتر گیا۔

“صاحب، اپنا سامان پورا کر لیجئے”

مسافر نے بڑی بے پروائی سے اپنی جیب سے ایک نفیس بٹوہ نکالا اور ابھی کھول کر مزدوری ادا کرنے والا ہی تھا کہ اسے کچھ یاد آیا۔

“ہماری چھڑی کہاں ہے؟”

“چھڑی؟۔۔۔۔۔۔۔ چھڑی تو آپ کے پاس ہی تھی۔”

“میرے پاس، بکتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وہیں چھوڑ آیا ہوگا تو”

“چھڑی آپ کے پاس تھی۔۔۔۔۔مگر صاحب اس سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں، جب میں نے کوئی خطا ہی نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

قلی کی زبان سے اس قسم کے الفاظ سن کر مسافر آگ بھبھوکا ہوگیا اور اپنی جگہ سے اٹھکر دروازے کے پاس کھڑا ہو کر چلانے لگا۔

“سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں۔۔۔۔۔۔۔کسی نواب کا صاحبزادہ ہے۔۔۔۔۔جتنے کی چھڑی ہے اتنی تو تیری قیمت بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔چھڑی لیکر آتا ہے یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔چور کہیں کا۔”

چور کے لفظ نے قلی کے دل میں ایک طوفان برپا کردیا، اسکے جی میں آئی کہ اس مسافر کو ٹانگ سے پکڑ کر نیچے کھینچ لے اور اسے اس اکڑفوں کا مزا چکھا دے۔ مگر طبیعت پر قابو پا کر خاموش ہوگیا اور نرمی سے کہنے لگا۔

“آپ کو ضرور غلط فہمی ہوئی ہے، چھڑی آپ نے کہیں رکھدی ہوگی، مجھے بتائیے میں وہاں سے پتا لے آؤں۔”

“گویا میں بیوقوف ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کہہ رہا ہوں، چھڑی لیکر آؤ ورنہ ساری شیخی کرکری کردوں گا۔”

قلی ابھی کچھ جواب دینے ہی لگا تھا کہ اسے چند قدم کے فاصلے پر خانساماں نظر آیا جو ہاتھ میں سگریٹ کا ڈبہ اور چھڑی پکڑے چلا آرہا تھا۔

“چھڑی خانساماں لیکر آرہا ہے اور آپ خواہ مخواہ مجھ پر برس رہے ہیں۔”

“بکو نہیں اب۔۔۔۔۔۔۔کتے کی طرح چلائے جا رہا ہے۔”

یہ سنکر قلی غصے سے بھرا ہوا مسافر کی طرف بڑھا۔ مسافر نے پورے زور سے اسکے بڑھے ہوئے سینے میں نوکیلے بوٹ سے ٹھوکر لگائی۔ ٹھوکر کھاتے ہی قلی چکراتا ہوا سنگین فرش پر گر کر بیہوش ہوگیا۔

قلی کو گرتے دیکھ کر بہت سے لوگ اسکے اردگرد جمع ہوگئیے۔

“بیچارے کو بہت سخت چوٹ آئی ہے۔”

“یہ لوگ بہانہ بھی کیا کرتے ہیں۔”

“منہ سے شاید خون بھی نکل رہا ہے۔”

“معاملہ کیا ہے؟”

“اس آدمی نے اسے بوٹ سے ٹھوکر لگائی ہے۔”

“کہیں مر نہ جائے بیچارہ۔”

“کوئی دوڑ کر پانی کا ایک گلاس تو لائے۔”

“بھئی ایک طرف ہٹ کر کھڑے رہو، ہوا تو آنے دو۔”

قلی کے گرد جمع ہوتے ہوئے لوگ آپس میں طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد خالد اور اسکا دوست بھیڑ چیر کر گرے ہوئے مزدور کے قریب پہنچے۔ خالد نے اسکے سر کو اپنے گھٹنوں پر اٹھا لیا اور اخبار سے ہوا دینا شروع کردی۔ پھر اپنے دوست سے مخاطب ہو کر بولا۔

“مسعود، وحید سے کہہ دو کہ ہم اب اسے گھر پر ہی مل سکیں گے۔۔۔۔اور ہاں ذرا اس ظالم کو تو دیکھنا، کہاں ہے۔۔۔۔گاڑی چلنے والی ہے، کہیں وہ چلا نہ جائے۔”

یہ سنتے ہی لوگ اس مسافر کے ڈبے کے پاس جمع ہوگئے جو کھڑکی کے پاس بیٹھا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اخبار پڑھنے کی بے سود کوشش کررہا تھا۔

مسعود اپنے دوست وحید سے رخصت لیکر اس مسافر کی طرف بڑھا اور کھڑکی کے قریب جا کر نہایت شائستگی سے کہا۔

“آپ یہاں اخبار بینی میں مصروف ہیں اور وہ بیچارہ بیہوش پڑا ہے۔”

“پھر میں کیا کروں؟”

“چلئے اور کم از کم اسکی حالت کو ملاحظہ تو کیجیئے۔”

“کمبخت نے میرے سفر کا تمام لطف غارت کردیا ہے۔” اور پھر دروازے سے باہر نکلتے ہوئے۔ “چلئے صاحب۔۔۔۔۔۔یہ مصیبت بھی دیکھنا تھی۔”

خالد بیہوش قلی کا سر تھامے اسے پانی پلانے کی کوشش کررہا تھا۔ لوگ جھکے ہوئے خالد اور قلی کے چہروں کی طرف بغور دیکھ رہے تھے۔

“خالد، آپ تشریف لے آئے ہیں۔” مسعود نے مسافر کو آگے بڑھنے کو کہا۔

“ہاں، جناب۔۔۔۔۔یہ ہے آپ کے ظلم کا شکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی ڈاکٹر کو ہی بلوا لیا ہوتا آپ نے؟” مسعود نے مسافر سے کہا۔

مسافر، قلی کے زرد چہرہ اور لوگوں کا گروہ دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوا اور گھبراتے ہوئے جیب سے اپنا بٹوہ نکالا۔

مسافر ابھی بٹوہ نکال رہا تھا کہ قلی کا جسم متحرک ہوا اور اس نے اپنی آنکھیں کھول کر ہجوم کی طرف پریشان نگاہوں سے دیکھنا شروع کیا۔

“یہ نوٹ آپ اسے میری طرف سے دے دیجیئے گا۔۔۔۔۔میں چلتا ہوں گاڑی کا وقت ہوگیا ہے۔” مسافر نے مسعود کے ہاتھ میں دس روپے کا ایک نوٹ پکڑاتے ہوئے انگریزی میں کہا، اور پھر قلی کو ہوش میں آتے دیکھ کر اس سے مخاطب ہوا۔ “ہم نے اس غلطی کی قیمت ادا کردی ہے۔”

قلی یہ سنکر تڑپا، منہ سے خون کی ایک دھار بہہ نکلی، بڑی کوشش سے اس نے یہ چند الفاظ اپنی زخمی چھاتی پر زور دے کر نکالے۔

“میں بھی انگریزی زبان جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دس روپے۔۔۔۔۔۔۔ایک انسان کی جان کی قیمت۔۔۔۔۔۔میرے پاس بھی کچھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔”

باقی الفاظ اسکے خون بھرے منہ میں بلبلے بن کر رہ گئے، مسافر قلی کی یہ حالت دیکھ کر اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسکا ہاتھ دبا کر کہنے لگا۔

“میں زیادہ بھی دے سکتا ہوں۔”

قلی نے بڑی تکلیف سے مسافر کی طرف رخ پھیرا اور منہ سے خون کے بلبلے نکالتے ہوئے کہا۔

“میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

یہ کہتے ہوئے اس نے مسافر کے منہ پر تھوک دیا، تڑپا اور پلیٹ فارم کی آہنی چھت کی طرف مظلوم نگاہوں سے دیکھتا ہوا خالد کی گود میں سرد ہوگیا۔۔۔۔۔۔مسافر کا منہ خونی تھوک سے رنگا ہوا تھا۔

خالد اور مسعود نے لاش دوسرے آدمیوں کے حوالہ کرکے مسافر کو پکڑ کر پولیس کے سپرد کردیا۔

مسافر کا مقدمہ دو مہینے تک متواتر عدالت میں چلتا رہا۔

آخر فیصلہ سنا دیا گیا، فاضل جج نے ملزم کو معمولی جرمانہ کرنے کے بعد بری کردیا۔ فیصلے میں یہ لکھا تھا کہ قلی کی موت اچانک تلی پھٹ جانے سے واقع ہوئی ہے۔

فیصلہ سناتے وقت خالد اور مسعود بھی موجود تھے۔ ملزم انکی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔

“قانون کا قفل صرف طلائی چابی سے کھل سکتا ہے۔”

“مگر ایسی چابی ٹوٹ بھی جایا کرتی ہے۔”

خالد اور اسکا دوست باہر برآمدے میں باہم گفتگو کر رہے تھے۔

جھوٹی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعادت حسن منتو

سعادت حسن منٹو

جھوٹی کہانی

کچھ عرصے سے اقلیتیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار ہو رہی تھیں۔ ان کو خوابِ گراں سے جگانے والی اکثریتیں جو ایک مدت سے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ان پر دباؤ ڈالتی رہی تھیں۔ اس بیداری کی لہر نے کئی انجمنیں پیدا کر دیں تھیں۔ ہوٹل کے بیروں کی انجمن، حجاموں کی انجمن، کلرکوں کی انجمن، اخبار والوں میں کام کرنے والے صحافیوں کی انجمن، اقلیت اپنی انجمن یا تو بنا چکی تھی یا بنا رہی تھی تاکہ اپنے حقوق کی حفاظت کر سکے۔

ایسی ہر انجمن کے قیام پر اخباروں میں تبصرے ہوتے تھے۔ اکثریت کے حمایتی ان کی مخالفت کرتے تھے اور اقلیت کے طرفدار موافقت۔ غرض کہ کچھ عرصے سے ایک اچھا خاصا ہنگامہ برپا تھا جس سے رونق لگی رہتی تھی۔ مگر ایک روز اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ملک کے دس نمبریے غنڈوں نے اپنی انجمن قائم کی ہے تو اکثریتیں اور اقلیتیں دونوں سنسنی زدہ ہو گئیں۔ شروع شروع میں تو لوگوں نے خیال کیا کہ بے پر کی اڑا دی ہے کسی نے، پر جب اس انجمن نے اپنے اغراض و مقاصد شائع کیے اور ایک باقائدہ منشور ترتیب دیا تو پتا چلا کہ یہ کوئی مذاق نہیں۔ غنڈے اور بدمعاش واقعی خود کو اس انجمن کے سائے تلے منظم کرنے کا پورا پورا تہیہ کر چکے ہیں۔

اس انجمن کی ایک دو میٹنگیں ہو چکی تھیں۔ ان کی روداد اخباروں میں شائع ہو چکی تھی۔ لوگ پڑھتے اور دم بخود رہ جاتے۔ بعض کہتے کہ بس اب قیامت آنے میں زیادہ دیر باقی نہیں۔

اغراض و مقاصد کی ایک لمبی چوڑی فہرست تھی۔ جس میں‌ یہ کہا گیا تھا کہ غنڈوں اور بدمعاشوں کی یہ انجمن سب سے پہلے تو اس بات پر صدائے احتجاج بلند کرئے گی کہ معاشرے میں ان کو نفرت و حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح بلکہ ان کے مقابلے میں کچھ زیادہ امن پسند شہری ہیں۔ ان کو غنڈے اور بدمعاش نہ کہا جائے، اس لیے کہ اس سے ان کی تذلیل و توہین ہوتی ہے۔ وہ خود اپنے لیے کوئی مناسب اور معزز نام تجویز کر لیتے مگر اس خیال سے کہ اپنے منہ میاں مٹھو کی کہاوت ان پر چسپاں نہ ہو، وہ اس کا فیصلہ عوام و خواص پر چھوڑتے ہیں۔ چوری چکاری ڈکیتی اور رہزنی، جیب تراشی اور جعل سازی، پتے بازی اور بلیک مارکیٹنگ وغیرہ افعال قبیحہ کے بجائے فنون لطیفہ میں شمار ہونے چاہیں۔ ان لطیف فنون کے ساتھ اب تک جو بُرا سلوک روا رکھا گیا ہے، اس کی مکمل تلافی اس یونین کا نصب العین ہے۔

ایسے ہی کئی اور اغراض و مقاصد تھے جو سننے اور پڑھنے والوں کو بڑے عجیب و غریب معلوم ہوتے تھے۔ بظاہر ایسا تھا کہ چند بے فکرے ظریفوں نے لوگوں کی تفریح کے لیے یہ سب باتیں گھڑی ہیں۔ یہ چٹکلہ ہی تو معلوم ہوتا تھا کہ یونین اپنے ممبروں کی قانونی حفاظت کا ذمہ لے گی اور ان کی سرگرمیوں کے لیے سازگار اور خوشگوار فضا پیدا کرنے کے لیے پوری پوری جدوجہد کرئے گی۔ وہ حکام وقت پر زور دے گی کہ یونین کے ہر رکن پر اس کے مقام اور رتبے کے لحاظ سے مقدمہ چلایا جائے اور سزا دیتے وقت بھی اس کی پیشِ نظر رکھا جائے۔ حکومت لوگوں کو اپنے گھروں میں چوری کا برقی الارم نہ لگانے دے۔ اس لیے کہ بعض اوقات یہ ہلاکت ثابت ہوتا ہے۔ جس طرح سیاسی قیدیوں کو جیل میں اے اور بی کلاس کی مراعات دی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس یونین کے ممبروں کو دی جائیں۔ یونین اس بات کا ذمہ لیتی تھی کہ وہ اپنے ممبروں کو ضعیف اور ناکارہ یا کسی حادثے کا شکار ہو جانے کی صورت میں ہر ماہ گزارے کے لیے معقول رقم دے گی۔ جو ممبر کسی خاص شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے باہر کے ممالک میں جانا چاہے گا اسے وظیفہ دے وغیرہ وغیرہ۔

ظاہر ہے کہ اخباروں میں اس یونین کے قیام پر خوب تبصرہ بازی ہوئی۔ قریب قریب سب اس کے خلاف تھے۔ بعض رجعت پسند کہتے تھے کہ یہ کمیونزم کی انتہائی شکل ہے، اور اس کے بانیوں کے ڈانڈے کرملین سے ملاتے تھے۔ حکومت سے چنانچہ بار بار دوخواست کی جاتی کہ وہ اس فتنے کو فوراّ کچل دے، کیونکہ اگر اس کو ذرا بھی پنپنے کا موقع دیا گیا تو معاشرے میں ایسا زہر پھیلے گا کہ اس کا تریاق ملنا مشکل ہو جائے گا۔

خیال تھا کہ ترقی پسند اس یونین کی طرف داری کریں گے کہ اس میں ایک جدت تھی اور پرانی قدروں سے ہٹ کر اس نے اپنے لیے ایک بالکل نیا راستہ تلاش کیا تھا۔ اور پھر یہ کہ رجعت پسند اسے کمیونسٹوں کی اختراع سمجھتے تھے۔ مگر حیرت ہے کہ اقلیتوں کے یہ سب سے بڑے طرفدار پہلے تو اس معاملے میں خاموش رہے اور بعد میں دوسروں کے ہم نوا ہو گئے اور اس یونین کی بیخ کنی پر زور دینے لگے۔

اخباروں میں ہنگامہ برپا ہوا تو ملک کے گوشے گوشے میں اس یونین کے قیام کے خلاف جلسے ہونے لگے۔ قریب قریب ہر پارٹی کے نامی و گرامی لیڈروں نے پلیٹ فارم پر آ کر اس ننگ تہذیب و تمدن جماعت کو ملعون قرار دیا اور کہا یہی وقت ہے جب تمام لوگوں کو آپس کے جھگڑے چھوڑ کر اس فتنہ عظیم کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد، نظم اور یقین محکم کو اپنا موڑ بنا کر ڈٹ جانا چاہیے۔

اس سارے ہنگامے کا جواب یونین کی طرف سے ایک پوسٹر کے ذریعے دیا گیا جس میں بڑے اختصار کے ساتھ یہ کہا گیا کہ پریس اکثریت کے ہاتھ میں ہے، قانون اس کی پشت ہے۔ مگر انجمن کے حوصلے اور ارادے پست نہیں ہوئے۔ وہ کوشش کر رہی ہے کہ بہت سی رقم دے کر کچھ اخبار خرید لے اور ان کو اپنے حق میں کر لے۔

یہ پوسٹر ملک کے درودیوار پر نمودار ہوا تو فوراّ ہی بعد کئی شہروں سے بڑی بڑی چوریوں اور ڈکیتیوں کی اطلاعیں وصول ہوئیں۔ اور اس کے چند روز بعد جب ایکا ایکی دو اخباروں نے دبی زبان میں غنڈوں اور بدکاروں کی یونین کے اغراض و مقاصد میں‌ اصلاحی پہلو کریدنا شروع کیا تو لوگ سمجھ گئے کہ پس پردہ کیا ہوا ہے۔

پہلے ان دو اخباروں کے اشاعت نہ ہونے کے برابر تھی۔ نہایت ہی گھٹیا کاغذ پر چھپتے تھے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ایسی کایا کلپ ہوئی کہ لوگ دنگ رہ گئے۔ سب سے اچھا ایڈیٹوریل اسٹاف ان دو پرچوں کے پاس تھا۔ دفتر میں ایک کی بجائے دو دو ٹیلی پرنٹر تھے۔ تنخواہ مقررہ وقت سے پہلے مل جاتی تھی۔ بونس الگ ملتا تھا۔ گھر کا الاؤنس، تانگے کا الاؤنس، سگرٹوں کا الاؤنس، چائے کا الاؤنس، مہنگائی کا الاؤنس۔ یہ سب الاؤنس مل کر تنخواہ سے دُگنے ہو جاتے تھے۔ جو دخت رز کے رسیا تھے، ان کو مفت پرمٹ ملتا تھا اور بہترین سکاچ وسکی کنٹرولڈ قیمت پر دستیاب ہوتی تھی۔ عملے کے ہر آدمی سے باقاعدہ کنٹریکٹ کیا گیا تھا جس میں مالک کی طرف سے یہ اقرار تھا کہ اگر اس کے گھر میں کبھی چوری ہوئی یا اس کی جیب کاٹ لی گئی تو اسے نقصان کے علاوہ ہرجانہ بھی ادا کیا جائے گا۔

ان دو اخباروں کی اشاعت دیکھتے دیکھتے ہزاروں تک پہنچ گئی۔ تعجب ہے کہ پہلے جب ان کی اشاعت کچھ بھی نہیں تھی تو یہ ہر روز کثیر الاشاعت ہونے کے بلند و بالا دعوے کرتے تھے، مگر جب ان کی کایا کلپ ہوئی تو اس معاملے میں بالکل خاموش ہو گئے۔ بیک وقت البتہ ان دونوں اخباروں نے کچھ عرصے کے بعد یہ اعلان چھاپا کہ ہماری اشاعت اس حد تک جا پہنچی ہے کہ اگر ہم نے اس سے تجاوز کیا تو تجارتی نقطہ نظر سے نقصان ہی نقصان ہے۔

ان کے علمی و ادبی ایڈیشنوں میں عجیب و غریب موضوعات پر مضمون شائع ہوتے تھے۔ یہ چار پانچ تو بڑے ہی سنسنی خیز تھے :

1) بلیک مارکیٹنگ کے فوائد —— معاشیات کی روشنی میں
2) معاشرتی اور مجلسی دائرے میں قحبہ خانوں کی اہمیت
3) دروغ گو را حافظ باشد —— جدید سائنٹفک تحقیق
4) بچوں میں قتل و غارت گری کے فطری رحجانات
5) سادیت پر سیر حاصل تبصرہ
6) دنیا کے خوفناک ڈاکو اور تقدیس مذہب

اشتہار بھی کچھ عجیب و غریب نہیں تھے۔ ان میں مشتہر کا نام اور پتا نہیں ہوتا تھا۔ سرخیاں دے کر مطلب کی بات مختصر لفظوں میں ادا کر دی جاتی تھی۔ چند سرخیاں ملاحظہ ہوں :

چوری کے زیورات خریدنے سے پہلے ہمارا نشان ضرور دیکھ لیا کریں۔ جو کھرے مال کی ضمانت ہے۔

بلیک مارکیٹ میں صرف اسی فلم کے ٹکٹ فروخت کئے جاتے ہیں جو تفریح کا سامان پیش کرتا ہے۔

دودھ میں کن طریقوں سے ملاوٹ کی جاتی ہے۔ رسالہ “ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی “ مطالعہ فرمائیے۔

ٹونے ٹوٹکے، گنڈے اور تعویذ، عمل ہمزاد اور تسخیر محبوب کے جنتر منتر سب جھوٹے ہیں۔ خود کو دھوکہ دینے کی بجائے معشوق کو دھوکہ دیجیئے۔

کھانے پینے کی صرف وہ چیزیں خریدیئے جن میں ضررساں چیزوں کی ملاوٹ نہ ہو۔

ایک الگ کالم میں “ بلیک مارکیٹ کے آج کے بھاؤ “ کے عنوان تلے ان تمام چیزوں کی کنٹرولڈ قیمت درج ہوتی تھی جو صرف بلیک مارکیٹ سے دستیاب ہوتی تھیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان قیمتوں میں ایک پائی کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ جو چوری چھپے چوری کا خاص نشان لگایا ہوا مال خریدتے تھے انہیں ارزاں قیمت پر سولہ آنے کھرا مال ملتا تھا۔

غنڈوں، چوروں اور بدکاروں کی انجمن جب آہستہ آہستہ نیک نامی حاصل کرنے لگی تو ارباب بست و کشاد کو تشویش دو چند ہو گئی۔ حکومت نے اپنی طرف سے خفیہ طور پر بہت کوشش کی کہ اس کے اڈے کا سراغ لگائے مگر کچھ پتہ نہ چلا۔ یونین کی تمام سرگرمیاں زیرِ زمین یعنی انڈر گراؤنڈ تھیں۔ اونچی سوسائٹی کے چند اراکین کا خیال تھا کہ پولیس کے بعض بدقماش افسر اس یونین سے ملے ہوئے ہیں بلکہ اس کے باقاعدہ ممبر ہیں اور ہر ماہ اپنی ناجائز ذرائع سے پیدا کی ہوئی آمدن کا بیشتر حصہ بطور جزیے کے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانون کا نشتر معاشرے کے اس نہایت ہی مہلک پھوڑے تک نہیں پہنچ سکا۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ مگر یہ بات قابلِ غور تھی کہ عوام میں جو اس یونین کے قیام سے بے چینی پھیلی تھی، اب بالکل مفقود تھی۔ متوسط طبقہ اسکی سرگرمیوں میں بڑی دلچسپی لے رہا تھا۔ صرف اونچی سوسائٹی تھی جو دن بدن خائف ہوتی جا رہی تھی۔

اس یونین کے خلاف یوں تو آئے دن تقریریں ہوتی تھیں اور جگہ جگہ جلسے منعقد ہوتے تھے، مگر اب وہ پہلا سا جوش و خروش نہیں تھا۔ چنانچہ اس کو ازسرِ نو شدید بنانے کے لیے ٹاؤن ہال میں ایک بہت عظیم الشان جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ قریب قریب ہر شہر کی ہستیوں کو نمائندگی کے لیے مدعو کیا گیا۔ مقصد اس جلسے کا یہ تھا یہ اتفاق رائے سے غنڈوں، شُہدوں اور بدکاروں کی اس یونین کے خلاف مذمت کا ووٹ پاس کیا جائے اور عوام الناس کو ان خوفناک جراثیم سے کماحقہ آگاہ کیا جائے جو اس کے وجود سے معاشرتی و مجلسی دائرے میں پھیل چکے ہیں اور بڑی سرعت سے پھیل رہے ہیں۔

جلسے کی تیاری پر ہزاروں روپے خرچ کیے گئے۔ مجلس انتظامیہ اور مجلس استقبالیہ نے مندوبین کے آرام و آسائش کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کی۔ کئی اجلاس ہوئے اور بڑے کامیاب رہے۔ ان کی رپورٹ یونین کے پرچوں میں من و عن شائع ہوتی رہی۔ مذمت کے جتنے ووٹ پاس ہوئے، بلا تبصرہ چھپتے رہے۔ دونوں اخباروں میں ان کو نمایاں جگہ دی جاتی تھی۔

آخری اجلاس بہت اہم تھا۔ ملک کی تمام مکرم و محترم ہستیاں جمع تھیں۔ امرا و وزراء سب موجود تھے۔ حکومت کے اعلٰی افسر بھی مدعو تھے۔ بڑے زور دار الفاظ میں تقریریں ہوئیں اور مذہبی، مجلسی، معاشی، جمالیاتی اور نفسیاتی، غرض کہ ہر ممکن نقطہ نظر سے غنڈوں اور بدمعاشوں کی تنظیم کے خلاف دلائل و براہین پیش کیے گئے اور ثابت کر دیا گیا کہ اس طبقہ اسفل کا وجود حیاتِ انسانی کے حق میں زہرِ قاتل ہے۔ مذمت کا آخری ریزولیشن جو بڑے بااثر الفاظ پر مشتمل تھا اتفاقِ رائے سے پاس ہوا تو ہال تالیوں کے شور سے گونج گونج اٹھا۔ جب تھوڑا سکون ہوا تو پچھلے بنچوں سے ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے صدر سے مخاطب ہو کر کہا، “ صاحب صدر، اجازت ہو تو میں‌ کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔“

سارے ہال کی نگاہیں اس آدمی پر جم گئیں۔ صدر نے بڑی تمکنت سے پوچھا، “ میں پوچھ سکتا ہوں آپ کون ہیں؟“

اس شخص نے جو بڑے سادہ مگر خوش وضع کپڑوں میں ملبوس تھا، تعظیم کے ساتھ کہا “ ملک و ملت کا ایک ادنٰی ترین خادم،“ اور کورنش بجا لایا۔

صدر نے چشمہ لگا کر اسے غور سے دیکھا اور پوچھا، “ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟“

اس معما نما مرد نے مسکرا کر کہا، “ کہ —— ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔“

اس پر سارے ہال میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ ڈائس پر، خصوصاّ سب کے سب معززین اور قائدین سوالیہ نشان بن کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔

صدر نے اپنی تمکنت کو ذرا اور تمکین بنا کر پوچھا، “ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“

“ میں ابھی عرض کرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر اس نے جیب سے ایک بے داغ سفید رومال نکالا۔ اپنا منہ صاف کیا اور اسے واپس جیب میں رکھ کر بڑی پارلیمانی انداز میں گویا ہوا، “ صاحب صدر اور معزز حضرات۔“ ڈائس کے ایک طرف دیکھ کر وہ رک گیا، “ معافی کا طلبگار ہوں —— محترمہ بیگم مرزبان خلاف معمول آج پچھلے صوفے پر تشریف فرما ہیں —— صاحب صدر، خاتون مکرم اور معزز حضرات۔“

بیگم مرزبان نے وینیٹی بیگ میں سے آئینہ نکال کر اپنا میک اپ دیکھا اور غور سے سننے لگی۔ باقی بھی ہمہ تن گوش تھے۔

اس شخص نے بڑی شائستگی سے کہنا شروع کیا :

حریف مطلب مشکل نہیں فسوں نیاز
دعا قبول ہو یا رب کہ عمر خضر دراز
کچھ دیر رکھ کر وہ ایک ادا سے مسکرایا، “ حضرت غالب —— اس اجلاس میں اور اس سے پہلے مجلسی دائرے کے ایک مفروضہ طبقہ اسفل کے بارے میں جو زہر افشانی کی گئی ہے، آپ کے اس خاکسار نے بڑے غور سے سنی ہے۔“

سارے ہال میں کھسر پھسر ہونے لگی۔ صدر کی ناک کے بانسے پر چشمہ پھسل گیا۔ “ آپ ہیں کون؟“

سر کے ایک ہلکے سے خم کے ساتھ اس شخص نے جواب دیا، “ ملک و ملت کا ایک ادنٰی خادم —— مجلسی دائرے کے مفروضہ طبقہ اسفل کی جماعت کا ایک رکن جسے اس کی نمائندگی کا فخر حاصل ہے۔“

ہال میں کسی نے زور سے “ واہ “ کہا اور تالی بجائی۔ چوروں، اچکوں اور غنڈوں کی یونین کے نمائندے نے سر کو پھر ہلکی سی جنبش دی اور کہنا شروع کیا، “ کیا عرض کروں، کچھ کہا نہیں جاتا :

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں
اس اجلاس میں اس جماعت کے خلاف جس کا یہ خاکسار نمائندہ ہے، اس قدر گالیاں دی گئی ہیں، اس قدر لعنت ملامت کی گئی ہے کہ صرف اتنا کہنے کو جی چاہتا ہے :

لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہیں
صاحب صدر، محترم بیگم مرزبان اور معزز حضرات۔“

بیگم مرزبان کی لپ اسٹک مسکرائی، بولنے والے نے آنکھیں اور سر جھکا کر تسلیم عرض کیا۔

“ محترم بیگم مرزبان اور معزز حضرات ۔۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ یہاں میری جماعت کا کوئی ہمدرد موجود نہیں۔ آپ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو ہمارا طرفدار ہو۔

دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرئے چارہ گری
نہ سہی ایک تمنائے دوا ہے تو سہی“
ڈائس پر ایک اچکن پوش رئیس کلے میں پان دبا کر بولے، “ مکرر “

صدر نے جب ان کی طرف سرزش بھری نظروں سے دیکھا تو وہ خاموش ہو گئے۔

چوروں اور بدکاروں کی یونین کے نمائندے کے پتلے پتلے ہونٹوں پر شفاف مسکراہٹ نمودار ہوئی، “ میں اپنی تقریر میں جو شعر بھی استعمال کروں گا —— حضرت غالب کا ہو گا۔“

بیگم مرزبان نے بڑے بھولپن سے کہا، “ آپ تو بڑے لائق معلوم ہوتے ہیں۔“

بولنے والا کورنش بجا لایا اور مسکرا کر کہنے لگا،

سیکھے ہیں مہ رُخوں کے لیے ہم مصوری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
سارا ہال قہقوں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔ بیگم مرزبان نے اٹھ کر صدر کے کان میں کچھ کہا جس نے حاضرین کو چپ رہنے کا حکم دیا۔ خاموشی ہوئی تو چوروں اور لفنگوں کی یونین کے نمائندے نے پھر بولنا شروع کیا، “ صاحب صدر، محترم مرزبان اور معزز حضرات،

گرچہ ہے کس کس برائی سے شلے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سچ پوچھئے تو اس سے تسلی نہیں ہوتی۔ میں تاسف کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس طبقے کے ساتھ جس کی نمائندگی میری جماعت کرتی ہے، نہایت بے انصافی ہوئی ہے۔ اس کو اب تک بالکل غلط رنگ میں دیکھا جاتا رہا ہے اور یہی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اسے ملعون و مطعون قرار دے کر خارج اس سماج کر دیا جائے۔ میں ان مطہر ہستیوں کو کہا کہوں جنہوں نے اس شریف اور معزز طبقے کو سنگسار کرنے کے لیے پتھر اٹھائے ہیں :

آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے
اے وائے اگر معرض اظہار میں آوے
صدر نے دفعتہّ گرج کر کہا، “ خاموش —— بس اب آپ کو مزید بولنے کی اجازت نہیں ہے۔“

مقرر نے مسکرا کر کہا : “ حضرت غالب کی اسی غزل کا ایک شعر ہے :

دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستمگر
کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔ صدر نے اجلاس برخواست کرنا چاہا مگر لوگوں نے کہا کہ نہیں چوروں اور غنڈوں کی یونین کے نمائندے کو تقریر ختم ہو جائے تو کاروائی بند کی جائے۔ صدر اور دوسرے اراکین اجلاش نے پہلے آمادگی ظاہر نہ کی لیکن بعد میں رائے عامہ کے سامنے انہیں جھکنا پڑا۔ مقرر کو بولنے کی اجازت مل گئی۔

اس نے صاحب صدر کا مناسب و موزوں الفاظ میں شکریہ ادا کیا اور کہنا شروع کیا، “ ہماری یونین کو صرف اس لیے نفرت و تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ چوروں، اٹھائی گیروں، راہزنوں اور ڈاکوؤں کی انجمن ہے جو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہے۔ میں آپ لوگوں کے جذبات بخوبی سمجھتا ہوں۔ آپ کا فوری ردِ عمل کس قسم کا تھا، میں اس کا بھی تصور کر سکتا ہوں، مگر چوروں، ڈاکوؤں اور رہزنوں کے حقوق کیا نہیں ہوتے؟ یا نہیں ہو سکتے؟ میں سمجھتا ہوں کوئی سلیم الدماغ آدمی ایسا نہیں سوچ سکتا —— جس طرح سب سے پہلے آپ انسان ہیں، بعد میں سیٹھ صاحب ہیں، رئیس اعظم ہیں، میونسپل کمشنر ہیں، وزیر داخلہ ہیں یا خارجہ، اسی طرح وہ بھی سب سے پہلے آپ ہی کی طرح انسان ہیں۔ چور، ڈاکو، اٹھائی گیرا، جیب کترا اور بلیک مارکیٹر بعد میں ہے۔ جو حقوق دوسرے انسانوں کو اس سقف نیلوفری کے نیچے مہیا ہیں، وہ اسے بھی مہیا ہیں اور ہونے چاہیں۔ جن نعمتوں کے دوسرے انسان متمتع ہوتے ہیں، ان سے وہ بھی مستفیذ ہونے کا حق رکھتا ہے۔ —— میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک چور یا ڈاکو کیوں شئے لطیف سے خالی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں اسے ایک ایسا شخص متصور کیا جاتا ہے جو معمولی حسیات سے بھی عاری ہے —— معاف فرمائیے وہ اچھا شعر سن کر اسی طرح پھڑک اٹھتا ہے جس طرح کوئی دوسرا سخن فہم۔ صبح بنارس اور شام اودھ سے صرف آپ ہی لطف اندوز نہیں ہوتے، وہ بھی ہوتا ہے۔ سُرتال کی اس کو بھی خبر ہے۔ وہ پولیس کے ہاتھوں ہی گرفتار ہونا نہیں جانتا، کسی حسینہ کے دامِ اُلفت میں گرفتار ہونے کا سلیقہ بھی جانتا ہے۔ شادی کرتا ہے، بچے پیدا کرتا ہے۔ ان کو چوری سے منع کرتا ہے، جھوٹ بولنے سے روکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ خدانخواستہ اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے دل کو صدمہ بھی پہنچتا ہے۔“ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز کسی قدر گلوگیر ہو گئی لیکن فوراّ ہی اس نے رخ بدلا اور مسکراتے ہوئے کہا، “ حضرت غالب کے اس شعر کا جو مزا وہ لے سکتا ہے، معاف کیجیئے، آپ میں سے کوئی بھی نہیں لے سکتا :

نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
سارا ہال شگفتہ ہو کر ہنسنے لگا۔ بیگم مرزبان بھی جو تقریر کے آخری حصے پر کچھ افسردہ سی ہو گئی تھیں، مسکرائیں۔ مقرر نے اسی طرح پتلی پتلی شفاف مسکراہٹ کے ساتھ کہنا شروع کیا، “ مگر اب ایسے دعا دینے والے کہاں؟“

بیگم مرزبان نے بڑے بھولپن کے ساتھ آہ بھر کر کہا، “ اور وہ رہزن بھی کہاں؟“

مقرر نے تسلیم کیا، “ آپ نے بجا ارشاد فرمایا بیگم مرزبان۔ ہمیں اس افسوس ناک حقیقت کا کامل احساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے مل کر اپنی انجمن کی بِنا ڈالی ہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ رہزن، چور اور جیب کترے، قریب قریب سب، اپنی پرانی روش اور وضعداری بھول گئے ہیں۔ لیکن مقام مسرت ہے کہ وہ اب بہت تیزی سے اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں ان حضرات سے جو ان غریبوں کی بیخ کنی میں مصروف ہیں یہ گستاخانہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی اصلاح کے لیے اب تک انہوں نے کیا کیا ہے؟ مجھے کہنا تو نہیں چاہیے مگر تقابل کے لیے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں نہایت ذلیل، چور اور سفاک ڈاکو کہا جاتا ہے، مگر وہ لوگ کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔ کچھ اس عالی مرتبت ڈائس پر بھی بیٹھے ہیں، جو عوام کا مال و متاع دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں۔

ہال میں “ شیم شیم “ کے نعرے بلند ہوئے۔

مقرر نے کچھ توقف کے بعد کہنا شروع کیا، “ ہم چوری کرتے ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، مگر اسے کوئی نام نہیں دیتے۔ یہ معزز ہستیاں بدترین قسم کی ڈاکہ زنی کرتی ہیں مگر یہ جائز سمجھی جاتی ہیں۔ اپنی آنکھ کے اس طویل و عریض شہتیر کو کوئی نہیں دیکھتا اور نہ دیکھنا چاہتا ہے —— کیوں —— یہ بڑا گستاخانہ سوال ہے۔ میں اس کا جواب سننا چاہتا ہوں، چاہے وہ اس سے بھی زیادہ گستاخ ہو ۔۔۔۔۔۔ “ تھوڑے وقفے کے بعد وہ مسکرایا، “ وزیر صاحبان اپنی مسند وزارت کی سان پر استرا تیز کر کے ملک کی ہر روز حجامت کرتے رہیں۔ یہ کوئی جرم نہیں۔ لیکن کسی کی جیب سے بڑی صفائی کے ساتھ بٹوا چرانے والا قابلِ تعزیر ہے ۔۔۔۔۔۔ تعزیر کر چھوڑیئے مجھے اس پر کوئی زیادہ اعتراض نہیں —— وہ آپ کی نظروں میں گردن زدنی ہے۔“

ڈائس پر بہت سے حضرات بے چینی اور اضطراب محسوس کرنے لگے —— بیگم مرزبان مسرور تھیں۔

مقرر نے اپنا گلا صاف کیا، پھرکہنا شروع کیا، “ تمام محکموں میں، اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت ستانی کا سلسلہ قائم ہے۔ یہ کسے معلوم نہیں۔ کیا یہ بھی کوئی راز ہے جس کے انکشاف کی ضرورت ہے کو خویش پروری اور کنبہ نوازی کی بدولت سخت نااہل، خر دماغ اور بدقماش بڑے بڑے عہدے سنمبھالے بیٹھے ہیں۔ معاف فرمائیے گا، ادھر ہمارے طبقے میں ایسے افسوس ناک حالات موجود نہیں ہیں۔ کوئی چور اپنے کسی عزیز کو بڑی چوری کے لیے منتخب نہیں کرئے گا۔ ہمارے ہاں لوگ اس قسم کی رعایتوں سے فائدہ اٹھانا بھی چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے کہ چوری کرنے، جیب کاٹنے یا ڈاکہ ڈالنے کے لیے دل گردے اور مہارت و قابلیت کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی سفارش کام نہیں آتی۔ ہر شخص کا کام ہی خود اس کا امتحان ہوتا ہے۔ جو اس کو فوراّ نتیجے سے باخبر کر دیتا ہے۔“

ہال میں سب خاموش تھے اور بڑے غور سے سن رہے تھے۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد مقرر کی آواز پھر بلند ہوئی، “ میں بدکاری معاف کر سکتا ہوں لیک خامکاری ہرگز ہرگز معاف نہیں کر سکتا —— وہ لوگ یقینا قابلِ مواخذہ ہیں جو نہایت ہی بھونڈے طریقے پر ملک کی دولت لوٹتے ہیں۔ ایسے بھونڈے طریقے پر کہ ان کے کرتوتوں کے بھانڈے ہر دوسرے روز چوراہوں میں پھوٹتے ہیں۔ وہ پکڑے جاتے ہیں مگر بچ نکلتے ہیں کہ ان کے نام دس نمبر کے بستہ الف میں درج ہیں نہ بستہ ب میں ۔۔۔۔۔۔ یہ کس قدر ناانصافی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں بیچارے انصاف کا ۔۔۔۔۔۔ اندھے انصاف کا خون یہیں پر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ نہیں ایسے اور بھی کئی مقتل ہیں جہاں انصاف، انسانیت، شرافت و نجابت، تقدس و طہارت، دین و دنیا، سب کو ایک ہی پھندے میں ڈال کر ہر روز پھانسی دی جاتی ہے —— میں پوچھتا ہوں انسانوں کی خام کھالوں کی تجارت کرنے والے ہم ہیں یا آپ ۔۔۔۔۔۔ میں سوال کرتا ہوں ازمنہ عتیق کی بربریت کی طرف امن پسند انسانوں کی کشاں کشاں کھینچ کر لے جانے والے ہم ہیں یا آپ ۔۔۔۔۔۔ اور استفسار کرتا ہوں کہ دوسرے اجناس کی طرح ملاوٹ کر کے اپنے ایمان کو آپ بیچتے ہیں یا ہم؟“

ہال پر قبر کی سی خاموشی طاری تھی۔ مقرر نے جیب سے اپنا سفید رومال نکال کر منہ صاف کیا اور اسے ہوا میں لہرا کر کہا، “ صاحب صدر، خاتونِ مکرم اور معزز حضرات، مجھے معاف فرمایئے کہ میں ذرا جذبات کی رو میں بہہ گیا ۔۔۔۔۔۔ عرض ہے کہ جدھر نظر اٹھائی جائے، ایمان فروش ہوتا ہے یا ضمیر فروش، وطن فروش ہوتا ہے یا ملت فروش۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ بھی کوئی فروخت کرنے کی چیزیں ہیں۔ انسان تو انہیں نہایت مشکل وقت میں بھی ایک لمحے کے لیے گروی نہیں رکھ سکتا، مگر میں انسانوں کی بات کر رہا ہوں ۔ معاف کیجیئے، میرے لہجے میں پھر تلخی پیدا ہو گئ :

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
یہ کہتا ہوا وہ ڈائس کی طرف بڑھا، “ صاحب صدر، محترم خاتون مرزبان اور معزز حضرات، میں اپنی یونین کی طرف سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے لب کشائی کا موقع دیا۔“

ڈائس کے پاس پہنچ کر اس نے صدر کی طرف ہاتھ بڑھایا، “ میں اب ایک دوست کی حثیت سے رخصت چاہتا ہوں۔“

صدر نے ہچکچاتے ہوئے اٹھ کر اس سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد اس نے بیگم مرزبان کی طرف ہاتھ بڑھایا، “ اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو ۔۔۔۔“

بیگم مرزبان نے بڑے بھول پن سے اپنا ہاتھ پیش کر دیا۔ باقی معززین اور رؤسا سے ہاتھ ملا کر جب فارغ ہوا تو خدا حافظ کہہ کر چلنے لگا، لیکن فورا ہی رک گیا۔ اپنی دونوں جیبوں سے اس نے بہت سی چیزیں نکالیں اور صدر کی میز پر ایک ایک کر کے رکھ دیں۔ پھر وہ مسکرایا، “ ایک عرصے سے جیب تراشی چھوڑ چکا ہوں، آج کل سیف توڑنا میرا پیشہ ہے۔۔۔۔۔۔ آج صرف ازراہ تفریح آپ لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کر دیا۔“ یہ کہہ کر وہ بیگم مرزبان سے مخاطب ہوا، “ خاتون مکرم معاف کیجیئے، آپ کے وینیٹی بیگ سے بھی میں نے ایک چیز نکالی تھی، مگر وہ ایسی ہے کہ سب کے سامنے آپ کو واپس نہیں کر سکتا۔“

اور وہ تیزی کے ساتھ ہال سے باہر نکل گیا۔

بلاؤز حصہ دوئم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعادت حسن منٹو

جب ٹرنک کا ڈھکنا کھولا اور نۓ لٹھے کی بو اس کی ناک تک پہنچی تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ نہا دھو کر یہ نۓ کپڑے پہن کر وہ سیدھا شکیلہ بی بی کے پاس جاۓ اور اسے سلام کرے۔ اس کی لٹھے کی شلوار کس طرح کھڑ کھڑ کرے گی اور اس کی رومی ٹوپی….

رومی ٹوپی کا خیال آتے ہی مومن کی نگاہوں کے سامنے اس کا پھندنا آگیا اور پھندنا فوراً ہی ان کالے کالے بالوں کے گچھے میں تبدیل ہو گیا جو اس نے شکیلہ کی بغل میں دیکھا تھا۔ اس نے کپڑوں کے نیچے سے اپنی نئی رومی ٹوپی نکالی اور اس کے نرم اور لچکیلے پھندنے پر ہاتھ پھیرنا شروع ہی کیا تھا کہ اندر سے شکیلہ بی بی کی آواز آئی۔ ”مومن“

مومن نے ٹوپی ٹرنک میں رکھی، ڈھکنا بند کیا اور اندر چلا گیا جہاں شکیلہ نمونے کے مطابق اودی ساٹن کے کئی ٹکڑے کاٹ چکی تھی۔ ان چمکیلے اور پھسل پھسل جانے والے ٹکڑوں کو ایک جگہ رکھ کر وہ مومن کی طرف متوجہ ہوئی۔ “میں نے تمہیں اتنی آوازیں دیں۔ سو گۓ تھے کیا؟“
مومن کی زبان میں لکنت پیدا ہو گئی۔ ”نہیں بی بی جی“۔
”تو پھر کیا کر رہے تھے؟“
”کچھ…. کچھ بھی نہیں“۔
”کچھ تو ضرور کرتے ہوگے۔“ شکیلہ یہ سوال کۓ جا رہی تھی مگر اس کا دھیان اصل میں بلاؤز کی طرف تھا جسے اب اسے کچا کرنا تھا۔
مومن نے کھسیانی ہنسی کے ساتھ جواب دیا۔ ٹرنک کھول کر اپنے نۓ کپڑے دیکھ رہا تھا۔
شکیلہ کھل کھلا کر ہنسی۔ رضیہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
شکیلہ کو ہنستے دیکھ کر مومن کو ایک عجیب تسکین محسوس ہوئی اور اس تسکین نے اس کے دل میں یہ خواہش پیدا کی کہ وہ کوئی ایسی مضحکہ خیز طور پراحمقانہ حرکت کرے جس سے شکیلہ کو اور زیادہ ہنسنے کا موقع ملے چنانچہ لڑکیوں کی طرح جھینپ کر اور لہجے میں شرماہٹ پیدا کرکے اس نے کہا۔ ”بڑی بی بی جی سے پیسے لے کر میں ریشمی رومال بھی لوں گا۔“
شکیلہ نے ہنستے ہوۓ اس سے پوچھا۔ ”کیا کرو گے اس رومال کو ؟“
مومن نے جھینپ کر جوا ب دیا۔ ”گلے میں باندھ لو ں گا بی بی جی…. بڑا اچھا معلوم ہو گا۔“
یہ سن کر شکیلہ اور رضیہ دونوں دیر تک ہنستی رہیں۔
”گلے میں باندھو گے تو یاد رکھنا اسی سے پھانسی دے دوں گی“ یہ کہہ کر شکیلہ نے اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کی اور رضیہ سے کہا۔ ”کم بخت نے مجھ سے کام ہی بھلا دیا۔ رضیہ میں نے اسے کیوں بلایا تھا؟“
رضیہ نے جواب نہ دیا اور نئی فلمی طرز گنگنانا شروع کردی جو وہ دو روز سے سیکھ رہی تھی۔ اس دوران میں شکیلہ کو خود ہی یاد آگیا کہ اس نے مومن کو کیوں بلا یاتھا۔
”دیکھو مومن میں تمہیں یہ بنیان اتار کر دیتی ہوں۔ دوائیوں کے پاس جو ایک دکان نئی کھلی ہے نا، وہاں جہاں تم اس دن میرے ساتھ گۓ تھے۔ وہاں جاؤ اور پوچھ کے آؤ کہ ایسی چھ بنیانوں کے وہ کیا لے گا…. کہنا ہم چھ لیں گے۔ اس لۓ کچھ رعایت ضرور کرے…. سمجھ لیا نا؟“
”مومن نے جواب دیا۔ ”جی ہاں“۔
”اب تم پرے ہٹ جاؤ۔“
مومن باہر نکل کر دروازے کی اوٹ میں ہو گیا۔ چند لمحات کے بعد بنیان اس کے قدموں کے پاس آگرا اور اندر سے شکیلہ کی آوازآئی۔ ”کہنا ہم اس قسم کی ہی ڈیزائن کی بالکل یہی چیز لیں گے۔ فرق نہیں ہونا چاہۓ۔“
مومن نے بہت اچھا کہہ کر بنیان اٹھا لیا جو پسینے کے باعث کچھ کچھ گیلا ہو رہا تھا جیسے کسی نے بھاپ پر رکھ کر فوراً ہی اٹھا لیا ہو۔ بدن کی بو بھی اس میں بسی ہوئی تھی۔ میٹھی میٹھی گرمی بھی تھی۔ یہ تمام چیزیں اس کو بہت بھلی معلوم ہوئیں۔
وہ اس بنیان کو جو بلی کے بچے کی طرح ملائم تھا، اپنے ہاتھوں میں مسلتا ہوا باہر چلا گیا۔ جب بھاؤ دریافت کر کے بازار سے واپس آیا تو شکیلہ بلاؤز کی سلائی شروع کر چکی تھی۔ اس اودی، اودی ساٹن کے بلاؤز کی جو مومن کی رومی ٹوپی کے پھندنے سے کہیں زیادہ چمکیلی اور لچک دار تھی۔

یہ بلاؤز شاید عید کے لۓ تیار کیا جارہا تھا کیونکہ عید اب بالکل قریب آگئی تھی۔ مومن کو ایک دن میں کئی بار بلا گیا۔ دھاگہ لانے کے لۓ، استری نکالنے کے لۓ، سوئی ٹوٹ گئی تو نئی سوئی لانے کےلۓ، شام کے قریب جب شکیلہ نے دوسرے روز پر باقی کام اٹھا دیا تو دھاگے کے ٹکڑے اور اودی ساٹن کی بیکار کترنیں اٹھانے کے لۓ بھی اسے بلایا گیا۔

مومن نے اچھی طرح جگہ صاف کردی۔ باقی سب چیزیں اٹھا کر باہر پھینک دیں مگر ساٹن کی چمکیلی کترنیں اپنی جیب میں رکھ لیں…. بالکل بے مطلب کیونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ ان کا کیا کر ے گا؟

دوسرے روز اس نے جیب سے کترنیں نکالیں اورالگ بیٹھ کر ان کے دھاگے الگ کرنے شروع کردۓ۔ دیر تک وہ اس کھیل میں مشغول رہا حتٰی کہ دھاگے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا ایک گچھا سا بن گیا۔ اس کو ہاتھ میں لے کر وہ دباتا رہا، مسلتا رہا لیکن اس کے تصور میں شکیلہ کی وہی بغل تھی جس میں اس نے کالے کالے بالوں کا ایک چھوٹا سا گچھا دیکھا تھا۔

اس دن بھی اسے شکیلہ نے کئی بار بلایا…. اودی ساٹن کے بلاؤز کی ہر شکل اس کی نگاہوں کے سامنے آتی رہی۔۔
پہلے جب اسے کچا کیا گیا تھا تو اس پر سفید دھاگے کے بڑے بڑے ٹانکے جا بجا پھیلے ہوۓ تھے۔ پھر اس پر استری پھیری گئی جس سے سب شکنیں دور ہو گئیں اور چمک بھی دوبالا ہو گئی۔ اس کے بعد کچی حالت ہی میں شکیلہ نے اسے پہنا۔ رضیہ کو دکھایا۔ دوسرے کمرے میں سنگھار میز کے پاس آئینے میں خود اس کو ہر پہلو سے اچھی دیکھا۔ جب پورا اطمینان ہو گیا تو اسے اتارا۔ جہاں جہاں تنگ یا کھلا تھا وہاں نشان لگاۓ۔ اس کی ساری خامیاں دور کیں۔ ایک بار پھر پہن کر دیکھا جب بالکل فٹ ہو گیا تو پکی سلائی شروع کی۔
اُدھر ساٹن کا یہ بلاؤز سیا جا رہا تھا، اِدھر مومن کے دماغ میں عجیب و غریب خیالوں کے ٹانکے ادھڑ رہے تھے…. جب اسے کمرے میں بلایا جاتا اور اس کی نگاہیں چمکیلی ساٹن کے بلاؤز پر پڑتیں تو اس کا جی چاہتا کہ وہ ہاتھ سے چھو کر اسے دیکھے صرف چھو کر ہی نہیں…. بلکہ اس کی ملائم اور روئیں دار سطح پر دیر تک ہاتھ پھیرتا رہے۔ اپنے کھردرے ہاتھ۔
اس نے ان ساٹن کے ٹکڑوں سے اس کی ملائمت کا اندازہ کرلیا تھا۔ دھاگے جو اس نے ان ٹکڑوں سے نکالے تھے اور بھی زیادہ ملائم ہو گۓ تھے۔ جب اس نے ان کا گچھا بنایا تو دباتے وقت اسے معلوم ہوا کہ ان میں ربڑی کی سی لچک بھی ہے…. وہ جب بھی اندر آکر بلاؤز کو دیکھتا تو کا خیال فوراً ان بالوں کی طرف دوڑ جاتا جو اس نے شکیلہ کی بغل میں دیکھے تھے۔ کالے کالے بال۔ مومن سوچتا تھا کہ وہ بھی ساٹن ہی کی طرح ملائم ہوں گے؟

بلاؤز بالآخر تیار ہو گیا…. مومن کمرے کے فرش پر گیلا کپڑا پھیر رہا تھا کہ شکیلہ اندر آئی۔ قمیض اتار کر اس نے پلنگ پر رکھی۔ اس کے نیچے اسی قسم کا سفید بنیان تھا جس کا نمونہ لے کر مومن بھاؤ دریافت کرنے گیا تھا…. اس کے اوپر شکیلہ نے اپنے ہاتھ کا سلا ہوا بلاؤز پہنا۔ سامنے کے ہک لگاۓ اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
مومن نے فرش صاف کرتے ہوۓ آئینہ کی طرف دیکھا۔ بلاؤز میں اب جان سی پڑ گئی تھی۔ ایک دو جگہ پر وہ اس قدر چمکتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا ساٹن کا رنگ سفید ہو گیا ہے…. شکیلہ کی پیٹھ مومن کی طرف تھی جس پر ریڑھ کی ہڈی کی لمبی جھری بلاؤز فٹ ہونے کے باعث اپنی پوری گہرائی کے ساتھ نمایاں تھی۔ مومن سے رہا نہ گیا۔ چنانچہ اس نے کہا”بی بی جی، آپ نے درزیوں کو بھی مات کر دیا ہے۔“
شکیلہ اپنی تعریف سن کر خوش ہو ئی مگر وہ رضیہ کی راۓ طلب کرنے کے لۓ بے قرار تھی۔ اس لۓ وہ صرف ”اچھا ہے نا“ کہہ کر باہر دوڑ گئی…. مومن آئینے کی طرف دیکھتا رہ گیا جس میں بلاؤزکا سیاہ اور چمکیلا عکس دیر تک موجود رہا۔

رات کو جب وہ پھر اس کمرے میں صراحی رکھنے کے لۓ آیا تو اس نے کھونٹی پر لکڑی کے ہینگر میں اس بلاؤز کو دیکھا۔ کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا۔ چنانچہ آگے بڑھ کر پہلے اس نے غورسے دیکھا پھر ڈرتے ڈرتے اس پر ہاتھ پھیرا۔ ایسا کرتے ہوۓ یوں لگا کہ کوئی اس کے جسم کے ملائم روؤں پر ہولے ہولے بالکل ہوائی لمس کی طرح ہاتھ پھیر رہا ہے۔
رات کو جب وہ سویا تو اس نے کئی اوٹ پٹانگ خواب دیکھے…. ڈپٹی صاحب نے پتھر کے کوئلوں کا ایک بڑا ڈھیر اسے کوٹنے کو کہا جب اس نے ایک کوئلہ اٹھایا اور اس پر ہتھوڑے کی ضرب لگائی تو وہ نرم نرم بالوں کا ایک گچھا بن گیا…. یہ کالی کھانڈ کے مہین مہین تار تھے جن کا گولا بنا ہوا تھا…. پھر یہ گولے کالے رنگ کے غبارے بن کر ہوا میں اڑنے شروع ہوگۓ…. بہت اوپر جا کر یہ پھٹنے لگے…. پھر آندھی آگئی اور مومن کی رومی ٹوپی کا پھندنا کہیں غائب ہو گیا…. پھندنے کی تلاش میں نکلا…. دیکھی اور ان دیکھی جگہوں میں گھومتا رہا…. نۓ لٹھے کی بو بھی یہیں کہیں سے آنا شروع ہوگئی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا…. ایک کالی ساٹن کی بلاؤز پر اس کا ہاتھ پڑا …. کچھ دیر تک وہ کسی دھڑکتی ہوئی چیز پر اپنا ہاتھ پھیرتا رہا۔ پھر دفعتہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تھوڑی دیر تک وہ کچھ سمجھ نہ سکا کیا ہوگیاہے۔ اس کے بعد اسے خوف، تعجب اور ایک انوکھی ٹھیس کا احساس ہوا۔ اس کی حالت اس وقت عجیب و غریب تھی…. پہلے اسے تکلیف دہ حرارت محسوس ہوئی۔ مگر چند لمحات کے بعد ایک ٹھنڈی سی لہر اس کے جسم میں رینگنے لگی۔

بلاؤز حصہ اول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعادت حسن منٹو

کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوۓ، حتٰی کہ سوچتے ہوۓ بھی اسے ایک عجیب قسم کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایسا درد جس کو اگر وہ بیان کرنا چاہتا تو نہ کر سکتا۔

بعض اوقات بیٹھے بیٹھے وہ ایک دم چونک پڑتا۔ دھندلے دھندلے خیالات جو عام حالتوں میں بے آواز بلبلوں کی طرح پیدا ہو کر مٹ جایا کرتے ہیں مومن کے دماغ میں بڑے شور کے ساتھ پیدا ہوتے اور شور ہی کے ساتھ پھٹتے۔ اس کے دل و دماغ کے نرم و نازک پردوں پر ہر وقت جیسے خار دار پاؤں والی چیونٹیاں سی رینگتی رہتی تھیں۔ ایک عجیب قسم کا کھنچاؤ اس کے اعضا میں پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث اسے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ اس تکلیف کی شدت جب بڑھ جاتی تو اس کے جی میں آتا کہ اپنے آپ کو ایک بڑے سے ہاون میں ڈال دے اور کسی سے کہے کہ مجھے کوٹنا شروع کردیں۔

باورچی خانے میں گرم مصالحہ جات کوٹتے وقت جب لوہے سے لوہا ٹکراتا اور دھمکوں سے چھت میں ایک گونج سی دوڑ جاتی تو مومن کے ننگے پیروں کو یہ لرزش بہت بھلی معلوم ہوتی۔ پیروں کے ذریعے یہ لرزش اس کی تنی ہوئی پنڈلیوں اور رانوں میں دوڑتی ہوئی اس کے دل تک پہنچ جاتی جو تیز ہوا میں رکھے ہوۓ دیےکی لو کی طرح کانپنا شروع کردیتا۔

مومن کی عمر پندرہ برس تھی۔ شاید سولہواں بھی لگا ہو۔ اسے اپنی عمر کے متعلق صحیح اندازہ نہیں تھا۔ وہ ایک صحت مند اور تندرست لڑکا تھا جس کا لڑکپن تیزی سے جوانی کے میدان کی طرف بھاگ رہا تھا۔ اسی دوڑ نے جس سے مومن بالکل غافل تھا اس کے لہو کے ہر قطرے میں سنسنی پیدا کردی۔ وہ اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا مگر ناکام رہتا۔

اس کے جسم میں کئی تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ گردن جو پہلے پتلی تھی اب موٹی ہوگئی تھی۔ بانہوں کے پٹھوں میں اینٹھن سی پیدا ہو گئی تھی۔ کنٹھ نکل رہاتھا۔ سینے پر گوشت کی موٹی تہہ ہو گئی تھی اور اب کچھ دنوں سے پستانوں میں گولیاں سی پڑ گئی تھیں، جگہ ابھر آئی تھی جیسے کسی نے ایک بنٹا اندر داخل کر دیا ہے۔ ان ابھاروں کو ہاتھ لگانے سے مومن کو بہت درد محسوس ہو تا تھا۔ کبھی کبھی کام کرنے کے دورا ن میں غیر ارادی طور پر جب کا ہاتھ ان گولیوں سے چھو جاتا تو وہ تڑپ اٹھتا۔ قمیض کے موٹے اور کھردرے کپڑے سے بھی اس کی تکلیف دہ سرسراہٹ محسوس ہوتی تھی۔

غسل خانے میں نہاتے وقت یا باورچی خانہ میں جب کوئی اورموجود نہ ہوتا۔ مومن اپنے قمیض کے بٹن کھول کر ان گولیوں کو غور سے دیکھتا۔ ہاتھوں سے مسلتا۔ درد ہوتا، ٹیسیں اٹھتیں جیسے جسم پھلوں سے لدے ہوۓ پیڑ کی طرح زور سے ہلا دیا گیا ہو۔ کانپ کانپ جاتا مگر اس کے باوجود وہ اس درد پیدا کرنے والے کھیل میں مشغول رہتا۔ کبھی کبھی زیادہ دبانے پر یہ گولیاں پچک جاتیں اور ان کے منہ سے ایک لیس دار لعاب نکل آتا۔ اس کو دیکھ کر اس کا چہرہ کان کی لوؤں تک سرخ ہو جاتا۔ وہ یہ سمجھتا کہ اس سے کوئی گناہ سر زد ہو گیا ہے۔ گناہ اور ثواب کے متعلق مومن کا علم بہت محدود تھا۔ ہر وہ فعل جو ایک انسان دوسرے انسان کے سامنے نہ کر سکتا ہو، اس کے خیال کے مطابق گناہ تھا۔ چنانچہ جب شرم کے مارے اس کا چہرہ کان کی لوؤں تک سرخ ہو جاتا تو وہ جھٹ سے اپنی قمیض کے بٹن بند کرلیتا اور دل میں عہد کرتا کہ آئندہ ایسی فضول حرکت کبھی نہیں کر ے گا لیکن اس عہد کے باوجود دوسرے یا تیسرے روز تخلیے میں وہ پھر اسی کھیل میں مشغول ہو جاتا۔

مومن کا بھی بالکل یہی حال تھا۔ وہ کچھ دنوں سے موڑ مڑتا زندگی کے ایک ایسے راستے پر آنکلا تھا جو زیادہ لمبا تو نہیں تھا مگر بے حد پُرخطر تھا۔ اس راستے پر اس کے قدم کبھی تیز تیز اٹھتے تھے، کبھی ہولے ہولے۔ وہ در اصل جانتا نہیں تھا کہ ایسے راستوں پر کس طرح چلنا چاہۓ۔ انہیں جلدی طے کرنا چاہۓ یا کچھ وقت لے کر آہستہ آہستہ ادھر ادھر کی چیزوں کا سہارا لے کر طے کرنا چاہۓ۔ مومن کے ننگے پاؤں کے نیچے آنے والے شباب کی گول گول چکنی بنٹیاں پھسل رہی تھیں۔ وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس لۓ بے حد مضطرب تھا۔ اسی اضطراب کے باعث کئی بار کام کرتے کرتے چونک کر وہ غیر ارادی طور پر کسی کھونٹی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیتا اور اس کے ساتھ لٹک جاتا۔ پھر اس کے د ل میں خواہش پیدا ہوتی کہ ٹانگوں سے پکڑ کر اسے کوئی اتنا کھینچے کہ وہ ایک مہین تار بن جاۓ۔ یہ سب باتیں اس کے دماغ کے کسی ایسے گوشے میں پیدا ہوتی تھیں کہ وہ ٹھیک طور پر ان کا مطلب نہیں سمجھ سکتا تھا۔

مومن سے سب گھر والے خوش تھے۔ بڑا محنتی لڑکا تھا۔ جب ہر کام وقت پر کردیتا تو کسی کو شکایت کا موقع کیسے ملتا۔ ڈپٹی صاحب کے یہاں اسے کام کرتے ہوۓ صرف تین مہینے ہوۓ تھے لیکن اس قلیل عرصے میں اس نے گھر کے ہر فرد کو اپنی محنت کش طبعیت سے متاثر کرلیا تھا۔ چھ روپے مہینے پر نوکر ہوا تھا مگر دوسرے مہینے ہی اس کی تنخواہ میں دو روپے بڑھا دۓ گۓ تھے۔ وہ اس گھر میں بہت خوش تھا اس لۓ کہ اس کی یہاں قدر کی جاتی تھی مگر اب کچھ دنوں سے وہ بے قرار تھا۔ ایک عجیب قسم کی آوارگی اس کے دماغ میں پیدا ہو گئی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ سارا دن بے مطلب بازاروں میں گھومتا پھرے یا کسی سنسان مقام پر جا کر لیٹا رہے۔

اب کام میں اس کا جی نہیں لگتا تھا لیکن اس بے دلی کے ہوتے ہوۓ بھی وہ کاہلی نہیں برتتا تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ گھر میں کوئی بھی اس کے اندرونی انتشار سے واقف نہیں تھا۔ رضیہ تھی سو وہ دن بھر باجہ بجانے، نئی نئی فلمی طرزیں سیکھنے اور رسالے پڑھنے میں مصروف رہتی تھی۔ اس نے کبھی مومن کی نگرانی ہی نہ کی تھی۔ شکیلہ البتہ مومن سے ادھر ادھر کے کام لیتی تھی اور کبھی کبھی اسے ڈانٹتی بھی تھی مگر اب کچھ دنوں سے وہ بھی چند بلاؤزوں کے نمونے اتارنے میں بے طرح مشغول تھی۔ یہ بلاؤز اس کی ایک سہیلی کے تھے جسے نئی نئی تراشوں کے کپڑے پہننے کا بے حد شوق تھا۔ شکیلہ اس سے آٹھ بلاؤز مانگ کر لائی تھی اور کاغذوں پر ان کے نمونے اتار رہی تھی چنانچہ اس نے بھی کچھ دنوں سے مومن کی طرف دھیان نہیں دیا تھا۔

ڈپٹی صاحب کی بیوی سخت گیر عورت نہیں تھی۔ گھر میں دو نوکر تھے یعنی مومن کے علاوہ ایک بڑھیا بھی تھی جو زیادہ تر باورچی خانے کا کام کرتی تھی۔ مومن کبھی کبھی اس کا ہاتھ بٹا دیا کرتا تھا۔ ڈپٹی صاحب کی بیوی نے ممکن ہے مومن کی مستعدی میں کوئی کمی دیکھی ہو مگر اس نے مومن سے اس کا ذکر نہیں کیا تھا اور وہ انقلاب جس میں مومن کا دل و دماغ اور جسم گزر رہا تھا، اس سے تو ڈپٹی صاحب کی بیوی بالکل غافل تھی۔ چونکہ اس کا کوئی لڑکا نہیں تھا اس لۓ وہ مومن کی ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کو نہیں سمجھ سکی اور پھر مومن نوکر تھا…. نوکروں کے متعلق کون غور و فکر کرتا ہے۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک وہ تمام منزلیں پیدل طے کرجاتے ہیں اور آس پاس کے آدمیوں کو خبر تک نہیں ہوتی۔

غیر شعوری طور پر وہ چاہتا تھا کہ کچھ ہو…. کیا ہو؟ …. بس کچھ ہو۔ میز پر قرینے سے چنی ہوئی پلیٹیں ایک دم اچھلنا شروع کریں۔ کیتلی پر رکھا ہوا ڈھکا پانی ایک ہی ابال سے اوپر کو اڑ جاۓ۔ نل کی جستی نال پر دباؤ ڈالے تو وہ دوہری ہو جاۓ اور اس میں سے پانی کا ایک فوارہ سا پھوٹ نکلے۔ اسے ایک ایسی زبردست انگڑائی آۓ کہ اس کے سارے جوڑ جوڑ علیحدہ علیحدہ ہو جائیں اور اس میں ایک ڈھیلا پن پیدا ہو جاۓ۔
کوئی ایسی بات وقوع پذیر ہو جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔

مومن بہت بے قرار تھا۔ رضیہ نئی طرز سیکھنے میں مشغول تھی اور شکیلہ کاغذوں پر بلاؤزوں کے نۓ نمونے اتار رہی تھی۔ جب اس نے یہ کام ختم کرلیا تو وہ نمونہ جو ان سب میں اچھا تھا، سامنے رکھ کر اپنے لۓ اودی ساٹن کا بلاؤز بنانا شروع کردیا۔ اب رضیہ کو بھی اپنا باجہ اور فلمی گانوں کی کاپی چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہونا پڑا۔

شکیلہ ہر کام بڑے اہتمام اور چاؤ سے کرتی تھی۔ جب سینے پرونے بیٹھتی تو اس کی نشست بڑی پر اطمینان ہوتی تھی۔ اپنی چھوٹی بہن رضیہ کی طرح وہ افرا تفری پسند نہیں کرتی تھی۔ ایک ایک ٹانکا سوچ سمجھ کر بڑے اطمینان سے لگاتی تھی تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔ پیمائش بھی اس کی بہت صحیح تھی۔ اس لۓ کہ پہلے کاغذ کاٹ کر پھر کپڑا کاٹتی تھی یوں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے مگر چیز بالکل فٹ تیار ہوتی تھی۔
شکیلہ بھر ے بھرے جسم کی صحت مند لڑکی تھی، ہاتھ بہت گدگدے تھے۔ گوشت بھری مخروطی انگلیوں کے آخر میں ہر جوڑ پر ایک ننھا گڑھا تھا جب مشین چلاتی تھی تو یہ ننھے گڑھے ہاتھ کی حرکت سے کبھی کبھی غائب ہو جاتے تھے۔

شکیلہ مشین بھی بڑے اطمینان سے چلاتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی دو یا تین انگلیاں بڑی صفائی کے ساتھ مشین کی ہتھی گھماتی تھیں۔ کلائی میں ایک ہلکا سا خم پیدا ہو جاتا تھا۔ گردن ذرا ایک طرف کو جھک جاتی تھی اور بالوں کی ایک لٹ جسے شاید اپنے لۓ کوئی مستقل جگہ نہیں ملتی تھی نیچے پھسل آتی تھی۔ شکیلہ اپنے کام میں اس قدر منہمک رہتی کہ اسے ہٹانے یا جمانے کی کوشش ہی نہیں کرتی تھی۔

جب شکیلہ اودی ساٹن سامنے پھیلاکر اپنے ماپ کا بلاؤز تراشنے لگی تو اسے ٹیپ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ ان کا ٹیپ گھس گھسا کر اب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ لوہے کا گز موجود تھا مگر اس سے کمر اور سینے کی پیمائش کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے اپنے کئی بلاؤز موجودے تھے مگر اب چونکہ وہ پہلے سے کچھ موٹی ہو گئی تھی اس لۓ ساری پیمائش دوبارہ کرنا چاہتی تھی۔

قمیض اتار کر اس نے مومن کو آواز دی۔ جب وہ آیا تو اس سے کہا ”جاؤ مومن دوڑ کر چھ نمبر سے کپڑے کا گز لے آؤ۔ کہنا شکیلہ بی بی مانگتی ہے“۔

مومن کی نگاہیں شکیلہ کی سفید بنیان سے ٹکرائیں۔ وہ کئی بار شکیلہ بی بی کو ایسی بنیانوں میں دیکھ چکا تھا مگر آج اسے ایک عجیب قسم کی جھجک محسوس ہوئی۔ اس نے اپنی نگاہوں کا رخ دوسری طرف پھیر لیا اور گھبراہٹ میں کہا۔ ”کیسا گز بی بی جی۔“

شکیلہ نے جواب دیا” کپڑے کا گز…. ایک گز تو یہ تمہارے سامنے پڑا ہے۔ یہ لوہے کا ہے۔ ایک دوسرا گز بھی ہوتا ہے کپڑے کا۔ جاؤ چھ نمبر میں جاؤ اور دوڑ کے ان سے یہ گز لے آؤ۔ کہنا شکیلہ بی بی مانگتی ہے۔“

چھ نمبر کا فلیٹ بالکل قریب تھا۔ مومن فوراً ہی کپڑے کا گز لے کر آگیا۔ شکیلہ نے اس کے ہاتھ سے لے لیا اور کہا ”یہاں ٹھہر جا۔ اسے ابھی واپس لے جانا۔“ پھر وہ اپنی بہن رضیہ سے مخاطلب ہوئی۔ ان لوگوں کی کوئی چیز اپنے پاس رکھ لی جاۓ تو وہ بڑھیا تقاضے کر کے پریشان کردیتی ہے…. ادھر آؤ یہ گز لو اور یہاں سے میرا ماپ لو۔

رضیہ نے شکیلہ کی کمر اور سینے کا ماپ لینا شروع کیا تو ان کے درمیان کئی باتیں ہوئیں۔ مومن دروازے کی دہلیز پر کھڑا تکلیف دہ خاموشی سے یہ باتیں سنتا رہا۔

”رضیہ تم گز کو کھینچ کر ماپ کیوں نہیں لیتیں…. پچھلی دفعہ بھی یہی ہوا۔ جب تم نے ماپ لیا اور میرے بلاؤز کا ستیا ناس ہوگیا…. اوپر کے حصہ پر اگر کپڑا فٹ نہ آۓ تو ادھر ادھر بغلوں میں جھول پڑ جاتے ہیں۔“

” کہاں کا لوں، کہاں کا نہ لوں۔ تم تو عجب مخمصے میں ڈال دیتی ہو۔ یہاں کا ماپ لینا شروع کیا تھا تو تم نے کہا ذرا اور نیچے کا لو…. ذرا چھوٹا بڑا ہو گیا تو کون سی آفت آجاۓ گی۔“

”بھئی واہ…. چیز کے فٹ ہونے ہی میں ساری خوبصورتی ہوتی ہے۔ ثریا کو دیکھو کیسے فٹ کپڑے پہنتی ہے۔ مجال ہے جو کہیں شکن پڑے، کتنے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ایسے کپڑے…. لو اب تم ماپ لو….“۔

یہ کہہ کر شکیلہ نے سانس کے ذریعے اپنا سینہ پھلانا شروع کیا۔ جب اچھی طرح پھول گیا تو سانس روک کر اس نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا ” لو اب جلدی کرو۔“

جب شکیلہ نے سینے کی ہوا خارج کی تو مومن کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کے اندر ربڑ کے کئی غبارے پھٹ گۓ ہیں۔ اس نے گھبرا کر کہا ”گز لائیے بی بی جی…. دے آؤں۔“
شکیلہ نے اسے جھڑ ک دیا۔ ”ذرا ٹھہر جا“۔
یہ کہتے ہوۓ کپڑے کا گز اس کے ننگے بازو سے لپٹ گیا۔ جب شکیلہ نے اسے اتارنے کی کوشش کی تو مومن کو اس کی سفید بغل میں کالے کالے بالوں کا ایک گچھا نظر آیا۔ مومن کی اپنی بغلوں میں بھی ایسے ہی بال اگ رہے تھے مگر یہ گچھا اسے بہت بھلا معلوم ہوا۔ ایک سنسنی سی اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ ایک عجیب و غریب خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی کہ یہ کالے کالے بال اس کی مونچھیں بن جائیں۔ بچپن میں وہ بُھٹوں کے کالے اور سنہری بال نکال کر اپنی مونچھیں بنایا کرتا تھا۔ ان کو اپنے بالائی ہونٹ پر جماتے وقت جو سرسراہٹ اسے محسوس ہوتی تھی۔ اسی قسم کی سرسراہٹ اس خواہش نے اس کے بالائی ہونٹ اور ناک میں پیدا کردی۔

شکیلہ کا بازو اب نیچے جھک گیا تھا اور بغل چھپ گئی تھی مگر مومن بھی کالے بالوں کا وہ گچھا دیکھ رہا تھا۔ اس کے تصورمیں شکیلہ کا بازو دیر تک ویسے ہی اٹھا رہا اور بغل میں اس کے سیاہ بال جھانکتے رہے۔

تھوڑی دیر بعد شکیلہ نے مومن کو گز دے دیا اور کہا ”جاؤ، واپس دے آؤ۔ کہنا بہت بہت شکریہ ادا کیاہے“۔

مومن گز واپس دے کر باہر صحن میں بیٹھ گیا۔ اس کے دل و دماغ میں دھندلے دھندلے خیال پیدا ہو رہے تھے۔ دیر تک ان کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا رہا جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے غیر ارادی طور پر اپنا چھوٹا سا ٹرنک کھولا، جس میں اس نے عید کے لۓ نۓ کپڑے بنوارکھے تھے۔

کھول دو

امر تسر سے اسپيشل ٹرين دوپہر دو بجے کو چلي آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچي، راستے ميں کئي آدمي مارے گئے، متعد زخمي اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے۔
صبح دس بجے ۔۔۔۔کيمپ کي ٹھنڈي زمين پرجب سراج الدين نے آنکھيں کھوليں، اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ايک متلاطم سمندر ديکھا تو اس کي سوچنے کي قوتيں اور بھي ضعيف ہوگئيں، وہ دير تک گدلے آسمان کو ٹکٹکي باندھے ديکھتا رہا، يو تو کيمپ ميں ہر طرف شور برپا تھا، ليکن بوڑھے سراج الدين کے کان جيسے بند تھے، اسے کچھ سنائي نہيں ديتا تھا، کوئي اسے ديکھتا تو يہ خيال کرتا تھا، کہ وہ کسي گہري فکر ميں غرق ہے، اسے کچھ سنائي نہيں ديتا ہے، اس کے حوش و حواس شل تھے، اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔
گدلے آسمان کي طرف بغير کسي ارادے کے ديکھتے ديکھتے سراج الدين کي نگاہيں سورج سے ٹکرائيں، تيز روشني اس کے وجود کے رگ و ريشے ميں اتر گئي اور وہ جاگ اٹھا، اوپر تلے اس کے دماغ پر کئي تصويريں دوڑ گئيں، لوٹ، آگ۔۔۔۔۔بھاگم بھاگ۔۔۔۔۔اسٹیشن۔۔۔۔گولياں۔۔۔۔رات اور سکينہ۔۔۔سراج الدين ايک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کي طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھليے ہوئے انسانوں کے سمندر کو کھٹکانا شروع کيا۔ پورے تين گھنٹے وہ سکينہ سکينہ پکارتا کيمپ کي خاک چھانتا رہا، مگر اسے اپني جوان اکلوتي بيٹي کا پتہ نہ چل سکا،چاروں طرف ايک دھاندلي سي مچي ہوئي تھي، کوئي اپنا بچہ ڈھونڈ رہا تھا، کوئي ماں، کوئي بيوي اور کوئي بيٹي، سراج الدين تھک ہار کر ايک طرف بيٹھ گيا، اور حافظے پر زور دينے لگا، کہ سکينہ اس سے کب اور کہاں جدا ہوئي تھي ليکن سوچتے سوچتے اس کا دماغ سکينہ کي ماں کي لاش پر جا کر جم جاتا ہے، جس کي ساري انتڑياں باہر نکلي ہوئي تھيں، اس سے آگے وہ اور کچھ نہ سوچ سکا۔
سکينہ کي ماں مر چکي تھي، اس نے سراج الدين کي آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا، ليکن سکينہ کہاں تھي، جس کے متعلق اس کي ماں نے مرتے ہوئے کہا تھا، مجھے چھوڑ دو اور سکينہ کو لے کر جلدي يہاں سے بھاگ جاؤ۔
سکينہ اس کے ساتھي ہي تھي، دونوں ننگے پاؤں بھاگ رہے تھے، سکينہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا، اسے اٹھانے کيلئے سراج الدين نے رکنا چاہا مگر سکينہ نے چلا کر کہا ابا جي ۔۔۔۔۔چھوڑئيے، ليکن اس نے دوپٹہ اٹھا ليا تھا۔۔۔يہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے کوٹ کي بھري ہوئي جيب کي طرف ديکھا اور ميں ہاتھ ڈال کر ايک کپڑا نکالا۔۔۔۔۔سکينہ کا وہي دوپٹا تھا۔۔۔۔ليکن سکينہ کہاں تھي؟
سراج الدين نے اپنے تھکے ہوئے دماغ پر بہت زور ديا مگر وہ کسي نتيجہ پر نہ پہنچ سکا، کيا وہ سکينہ کو اپنے ساتھ اسٹيشن لے آيا تھا؟۔۔۔۔کيا وہ اس کے ساتھ ہي گاڑي ميں سوار تھي؟۔۔۔ راستہ ميں جب گاڑي روکي گئي تھي اور بلوائي اندر گھس آئے تھے تو کيا وہ بے ہوش تھا جو وہ سکينہ کو اٹھا کر لئے گئے؟
سراج الدين کے دماغ ميں سوال ہي سوال تھے، جواب کوئي بھي نہيں تھا، اس کو ہمدردي کي ضرورت تھي، ليکن چاروں طرف جتنے بھي انسان پھيلے ہوئے تھے، سب کو ہمدردي کي ضرورت تھي، سراج الدين نے رونا چاہا، مگر آنکھوں نے اس کي مدد نہ کي، آنسو جانے کہاں غائب ہوگئے تھے۔ چھ روز کے بعد جب ہوش و حواس کسي قدر درست ہوئے تو سراج ان لوگوں سے ملا جو اس کي مدد کرنے کيلئے تيار تھے، آٹھ نوجوان تھے، جن کے پاس لاري تھي، بندوقيں تھيں، سراج الدين نے ان کو لاکھ لاکھ دعائيں ديں اور سکينہ کا حليہ بتايا، گورا رنگ ہے، بہت ہي خوبصورت ہے ۔۔۔۔مجھ پر نہيں اپني ماں پر تھي۔۔۔۔عمر سترہ برس کے قريب اکلوتي لڑکي ہے، ڈھونڈ لاؤ، تمہارا خدا بھلا کرے گا۔
رضاکار نوجوانوں نے بڑے جذبے کے ساتھ بوڑھے سراج الدين کو يقين دلايا کہ اگر اس کي بيٹي زندہ ہوئي تو چند ہي دنوں ميں اس کے پاس ہوگي۔
آٹھوں نوجوانوں نے کوشش کي، جان ہتھيلي پر رکھ کر وہ امر تسر گئے، کئي عورتوں کئ مردوں اور کئي بچوں کو نکال نکال کر انہوں نے محفوظ مقاموں پر پہنچايا، دس روز گزر گئے مگر انہيں سکينہ نہ ملي۔
ايک روز وہ اسي خدمت کيلئے لاري پر امر تسر جا رہے تھے، کہ چھ ہرٹہ کے پاس سڑک پر انہيں ايک لڑکي دکھائي دي، لاري کي آواز سن کر وہ بدکي اور بھاگنا شروع کرديا، رضاکاروں نے موٹر روکي اور سب کے سب اس کے پيچھے بھاگے، ايک کھيت ميں انہوں نے لڑکي کو پکڑ ليا، ديکھا تو بہت ہي خوبصورت تھي، دہنے گال پر موٹا تل تھا، ايک لڑکے نے اس سے کہا گھبراؤ نہيں۔۔۔۔۔۔کيا تمہارا نام سکينہ ہے؟
لڑکي کا رنگ اور بھي زرد ہوگيا، اس نے کوئي جواب نہ ديا، ليکن جب تمام لڑکوں نے اسے دم سلاسہ ديا تو اسکي وحشت دور ہوئي اس نے مان ليا کہ وہ سراج الدين کي بيٹي سکينہ ہے۔
آٹھ رضا کار نوجوانوں نے ہر طرح سے سکينہ کي دل جوئي کي، اسے کھانا کھلايا، دودھ پلايا، اور لاري ميں بيٹھا ديا، ايک نے اپنا کوٹ اتار کر اسے دے ديا، کيونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث وہ بہت الجھن محسوس کر رہي تھي، اور بار بار بانہوں سے اپنے سينے کو ڈھانکنے کي ناکام کوشش ميں مصروف تھي۔ کئي دن گزر گئے ۔۔۔۔۔۔۔سراج الدين کو سکينہ کي کوئي خبر نہ ملي، وہ دن بھر مختلف کميپوں اور دفتروں کے چکر کاٹتا رہتا، ليکن کہيں سے بھي اسکي بيٹي سکينہ کا پتہ نہ چلا سکا، رات کو وہ بہت دير تک ان رضاکر نوجوانوں کي کاميابي کيلئے دعائيں مانگتا رہا، جنہوں نے اسکو يقين دلايا تھا کہ اگر سکينہ زندہ ہوئي تو چند ہي دنوں ميں وہ اسے ڈھونڈ نکاليں گے۔
ايک روز سراج الدين نے کيمپ ميں ان نوجوان رضا کاروں کو ديکھا، لاري ميں بيٹھے تھے، سراج الدين بھاگا بھاگا ان کے پاس گيا، لاري چلنے والي تھي کہ اس نے پوچھا بيٹا ميري سکينہ کا پتہ چلا؟
سب نے يک زبان ہو کر کہا چلا جائے گا، چل جائے گا اور لاري چلادي۔
سراج الدين نے ايک بار پھر ان نوجوانوں کي کاميابي کيلئے دعا مانگي اور اس کا جي کس قدر ہلکا ہوگيا، شام کے قريب کيمپ ميں جہاں سراج الدين بيٹھا تھا، اس کے پاس ہي کچھ گر بڑ سي ہوئي چار آدمي کچھ اٹھا کر لارہے تھے، اس نے دريافت کيا تو معلوم ہو کہ ايک لڑکي ريلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑي تھي، لوگ اسے اٹھا کر لائے ہيں، سراج الدين ان کے پيچھے پيچھے ہوليا، لوگوں نے لڑکي کو اسپتال والوں کے سپرد کيا اور چلے گئے۔
کچھ دير بعد ايسے ہي اسپتال کے باہر گڑے ہوئے لکڑي کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا، پھر آہستہ آہستہ اندر چلا گيا، کمرے ميں کوئي نہيں تھا، ايک اسٹيريچر تھا، جس پر ايک لاش پڑي تھي، سراج الدين چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کي طرف بڑھا، کمرے ميں دفعتا روشني ہوئي سراج الدين نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہو تل ديکھا اور چلايا، سکينہ۔
ڈاکٹر نے جس نے کمرے ميں روشني کي تھي، سراج الدين سے پوچھا کيا ہے؟
سراج الدين کے حلق سے صرف اس قدر نکل سکا،جي ميں ۔۔۔۔۔ جي ميں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا باپ ہوں۔
ڈاکٹر نے اسٹريچر پر پڑي ہوئي لاش کي طرف ديکھا، اس کي نبض ٹٹولي اور سراج الدين سے کہا کھڑکي کھول دو۔
سکينہ کے مردہ جسم ميں جنبش پيدا ہوئي ، بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا اور شلوار نيچے سرکا ديا، بوڑھا سراج الدين خوشي سے چلايا، زندہ ہے۔۔۔۔۔۔ميري بيٹی زندہ ہے۔۔۔۔ڈاکٹر سر سے پير تک پسينے ميں غرق ہوگيا۔

حجِ اکبر

امتياز صغير کي شادي ہوئي تو شہر بھر ميں دھوم مچ گئي، آتش بازيوں کا رواج باقي نہيں رہا تھا مگر دولہے کے باپ نے اس پراني عياشي پر بے دريغ روپيہ صرف کيا، جب صغير زيوروں سے لدے پھندے سفيد براق گھوڑے پر سوار تھا تو اس کے چاروں طرف انار چھوٹ رہے تھے، مہتابياں اپنے رنگ برنگ شعلے بکھير رہي تھيں، پٹاخے چھوٹ رہے تھے، صغير خوش تھا۔
صغير نے امتياز کو ايک شادي کي تقريب ميں ديکھا تھا، اس کي جھلک اسے دکھائي دي تھي، مگر وہ اس پر سو جان سے فريضہ ہوگيا، اور اس نے دل ميں عہد کرليا کہ وہ اس کے علاوہ کسي کو اپني رفيقہ حيات نہيں بنائے گا، چاہے دنيا ادھر کي ادھر نہ ہوجائے، دنيا ادھر کي ادھر نہ ہوئي، صغير نے امتياز کے راستے ڈھونڈ لئے شروع شروع ميں اس خوبرو لڑکي کے حجاب آڑے آيا، ليکن بعد ميں صغير کو اس کا التفات حاصل ہوگيا۔
صغير بہت مخلص دل کا نوجوان تھا، اس ميں ريا کاري نام کو بھي تھي، اس کو امتياز سے محبت ہوگئي تو اس نے يہ سمجھا کہ اسے اپني زندگي کا اصل مقصد حاصل ہوگيا، اس کو اس بات کي کوئي فکر نہيں تھي کہ اميتاز اسے قبول کرے گي يا نہيں وہ اس قسم کا آدمي تھا کہا اپني محبت کے جذبے کے سہارے ساري زندگي بسر کرديتا، اس کو جب اميتاز سے پہلي بار بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے گفتگو کي ابتدا ہي ان الفاظ سے کي، ديکھو لالي، ميں ايک نا محرم آدمي ہوں، ميں نے مجبور کياہے تم مجھ سے ملو، اب اس ملاپ کا انجام بھي نيک ہونا چاہئيے، يہ ميرے ضمير اور دل کي اکھٹي آواز ہے ، تم بھي وعدہ کرو کہ جب تک ميں زندہ ہو مجھے کوئي آزا نہيں پہنچائوں گي اور ميري موت کے بعد بھي مجھے ياد کرتي رہو گي، اس لئے کہ قبر ميں بھي ميري سوکھي ہڈياں تمہارے پيار کي بھوکيں ہوں گي۔
امتياز نے دھڑکتے ہوئے دل سے وعدہ کيا کہ وہ اس عہد پر قائم رہے گي، اس کے بعد ان دونوں ميں چھپ چھپ کے ملاقاتيں رہيں، صغير مطمئن تھا کہ امتياز اس کي محبت کي دعوت قبول کر چکي ہے، اس لئے اب اور زيادہ گفتگو کرنے کي ضرورت تھي، ويسے وہ بھي اپني محبوبہ سے ملنا اس لئے ضروري سمجھتا تھا کہ وہ اس کے عادات و حصائل سے واقف ہوجائے اور وہ بھي اس کو اچھي جان پہچان لے تاکہ وہ اس کچلت کا اندازہ کرسکے اور اس کو شکايت کا کوئي موقع نہ ملے، اس نے ايک دن امتياز سے بڑے غير عاشقانہ انداز ميں کہا، نازي ميں اب بھي تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ ميں کوئي خامي ديکھي ہے اگر ميں تمہارے معيار پر پورا نہيں اترا تو مجھے سے صاف صاف کہہ دو، تم کسي بندھن ميں گرفتار نہيں ہو، تم مجھے دھتکار تو مجھے کوئي شکايت نہيں ہوگي، ميري محبت ميرے لئے کافي ہے، ميں اس کے اور ان ملاقاتوں کے سہارے کافي دير تک جي سکتا ہوں۔
امتياز اس سے بہت متاثر ہوئي اس کا جي چاہا کہ صغير کو اپنے گلے سے لگا کر رونا شروع کردے مگر وہ اسے نا پسند کرتا تھا، اس لئے اس نے اپنے جذبات اند ہي مسل ڈالے، وہ چاہتي تھي کہ صغيع اس سے فلسفانہ باتيں نہ کريں، ليکن کبھي کبھي اس طور رپ بھي اس سے پيش آئے، جس طرح فلموں ميں ہيرو اپني ہيروئن سے پيش آتا ہے ، مگر صغير کو ايسي عاميانہ حرکت سے نفرت تھي۔
پہلي رات کو حجلہ روعي ميں جب صغير داخل ہوا تو اميتاز چھينک مار رہي تھي، وہ بہت متفکر ہوا امتياز کو بلا شبہ زکام ہو رہا تھا ليکن وہ نہيں چاہتي تھي کہ اس کا خاوند اس معمولي سے عارضے کي طرف متوجہ ہو کر اس کي تمام امنگوں کو فراموش کردے وہ سرتاپا سپردگي تھي مگر صغير کو اس بات کي تشويش تھي کہ امتياز اس کي جان سے زيادہ عزيز ہستي عليل ہے، چناچہ اس نے فورا ڈاکڑ بلوايا، جو دوائياں اس نے تجويز کيں بازار سے خريد کر لايا، اور اپني نئي دلہن کو جس کو ڈاکڑ کي آمد سے کوئي دلچسپي تھي نہ اپنے خاوند کي تميارداري سے مجبور کيا کہ وہ انجکشن لگوائے اور چار چار گھنٹے کے بعد دار پئے، زکام کچھ شديد قسم کا تھا اس لئے چار دن اور چار راتين صغير اپني دلہن کي تيمارداري ميں مصروف رہا، اميتاز چڑ گئي، وہ جانے کيا سوچ کر عروسي جورا پہن کر صغير کے گھر آئي تھي، مگر وہ بے کار، اس کے زکام کو درست کرنے کے پيچھے کے پيچھے پڑا ہوا تھا، جيسے دلہا دلن کيلئے بس ايک يہي چيز اہم ہے باقي اوت باتين سب فضول ہيں۔
تنگ آکر ايک دن اس نے اپنے ضرورت سے زيادہ شريف شوہر سے کہا، آپ چھوڑئيے ميرے معالجے کو، ميں اچھي بھلي ہوں، پھر اس نے دعوت بھري نگاہوں سے اس کي طرف ديکھا ميں دلہن ہو آپ کے گھر آئي ہوں، اور آپ نے اسے اسپتال بناديا ہے، صغير نے بڑے پيار سے دلہن کا ہاتھ دبايا اور مسکرا کر کہا، نازي خدا نہ کرے کہ يہ کوئي اسپتال ہو، يہ ميرا گھر نہيں تمہارا گھر ہے، اس کے بعد امتياز کو جو فوري شکايت تھي وہ دور ہوگئي، اور شير و شکر ہو کر رہنے لگے صغير اس سے محبت کرتا تھا ليکن اس کو ہميشہ امتياز کي صحت اس کے جسم کي خوبصورتيوں اور اس کو ترو تازہ ديکھنے کا خيال رہتا تھا، وہ اسے کانچ کے نازک پھولدان کي طرح سمجھتا تھا، جس کے متعلق ہر وقت يہ خدشہ ہو کہ زرا سي بے احتياطي سے ٹوٹ جائے گا، امتياز اور صغير کا رشتہ دوہرا تھا دو بھائي اصغر حسين اور امجد حسين تھے، کھاتے پيتے تاجر، صغير بڑے بھائي اصغر حسين کا لڑکا تھا اور امتياز امجد حسين کي بيٹي تھي، اب يہ دنوں مياں بيوي تھے، شادي سے پہلے دونوں بھائيوں ميں کچھ اختلافات تھے جو اب دور ہوگئے۔
امتياز کي دو بہنيں اور تھيں اور جو اس پر جان چھڑکتي تھيں، امتياز کا بياہ تو ہوا ان دونوں کي باري قدرتي طور پر آگئي، وہ اپنے گھروں ميں آبا خوش تھيں، کبھي کبھي امتياز سے ملنے آتيں، اور صغير کے اخلق سے متاثر ہوتيں ان کي نظر ميں وہ آئيڈيل شوہر ہے۔
دو برس گزر گئے امتياز کے ہاں کوئي بچہ نہ ہوا دراصل چاہتا تھا کہ اتني چھوٹي عمر ميں وہ اولاد کے بکھيڑوں ميں نہ پڑے، ان دنوں کے دن کے ابھي کھيلني کودنے کے تھے، صغير ہر روز اسے سينما لے جاتا باغوں کي سري کراتا، نہر کے کناے کنارے سے اسکے ساتھ ساتھ چہل قدمي کرتا، اس کي ہر آسائش کا خيال تھا، بہترين کھانے، اچھے سے اچھا باورچي اگر امتياز کبھي باورچي خانے کا رخ کرتي تو وہ اسے کہتا تازي انگھيٹوں ميں پتھر کے کوئے جلتے ہين، ان کي بو بہت بري ہوتي ہے، اور صحت کيلئے نا مفيد، ميري جان تم اندر نہ جايا کرو، دو نوکر ہيں، کھانے پکانے کا کام جب تم نے ان کے سپرد کر رکھا ہے تو اس زحمت کي کيا ضرورت ہے، امتياز مان جاتي۔
سرديون ميں صغير کا بڑا بھائي اکبر جو نيروبي ميں ايک عرصہ مقيم تھا اور ڈاکڑ تھا کسي کام کے سلسلے ميں کراچي آيا ہوا تھا تو اس نے سوچا کہ چلو لاہور صغير سے مل آئيں بذريعہ ہوائي جہاز لاہور پہنچا اور اپنے چھوٹے بھائي کے پاس ٹہرا، وہ صرف چار روز کيلئے آيا کہ ہوائي جہان ميں اس کي سيٹ پانچويں دن کي بک تھي، مگر جب اس کي بھابي نے جو اس کي آمد پر خوش ہوئي تھي، اصرار کيا تو چھوٹے بھائي صغير نے اس سے کہا، بھائي جان آپ اتني دير کے بعد آئے ہيں کچھ دن اور ٹھہر جائيے، ميري شادي ميں آپ شريک ہوئے تھے جتنے آپ فالتوں ٹہريں گے اتنا جرمانہ سمجھ ليجے گا، امتياز مسکرائي اور کابر سے مخاطب ہوئي، اس تو آپ کو ٹہرنا ہي پڑے گا اور پھر مجھے آپ نے شادي پر کوئي تحفہ بھي تو نہيں ديا، ميں جب تک وصول نہيں کرلوں گي آپ کيسے جاسکتے ہيں اور آپ کو ميں جانے بھي کب دوں گي۔
دوسرے روز اکبر اس کو ساتھ لے گيا اور سچے موتيوں کا ايک ہار لے ديا، صغير نے اپنے بڑے بھائي کا شکريہ ادا کيا، اس لئے کہ ہار بہت قيمتي تھا کم از کم پانچ ہزار کا ہوگا ہي، اسي دن اکبر نے واپسي نيروبي جانے کا ارادہ ظاہر کيا اور صغير سے کہا کہ وہ ہوائي جہاز ميں اس کے ٹکٹ کا بندوبست کردے اس لئے کے اس کي لاہور شہر ميں کافي واقفيت تھي اکبر نے اس کو روپے دئيے مگر اس نے کو درانہ انداز ميں کہا، آپ ابھي اپنے پاس رکھئے ميں لے لوں گا، اور ٹکٹ کا بندوبست کرنے چلا گيا، اسے کوئي دقت نہ ہوئي اس لئے کہ ہوائي جہاز سروس کا ايک جنرل مينيجر اس کا دوست تھا اس نے فورا ٹکت لے ديا، صغير کچھ دير اس کے ساتھ بيٹھا گپ لڑا تا رہا اس کے بعد گھر کا رخ کيا، موٹر گيراج ميں بند کرکے وہ اندر داخل ہوا ليکن فورا باہر نکل آيا، گراج سے موٹر نکالي اور اس ميں بيٹھ کے جانے کہا روانہ ہو گيا، اکبر اور امتياز دير تک اس کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آيا انہوں نے موٹر کے آنے اور گيراج ميں بند ہونے کي آواز سني تھي، مگر انہوں نے سوچا کہ شايد ان کے کانوں کو دھوکا ہوا تھا، اس لئے کہ صغير موجود تھا نہ اس کي موٹر وہ غائب ہو گيا تھا؟ اکبر کو واپس جانا تھا، مگر اس نے ايک ہفتہ انتظار کيا کيا ادھر ادھر کئي جگہ پوچھ گچہ کي پوليس ميں رپورٹ لکھوائي مگر صغير کي کوئي سن گن نہ ملي، آخري دن جب کہ اکبر جا رہا تھا پوليس اسٹيشن سے اطلاع ملي کہ پي بي ايل 100591 نمبر کي موٹر کار جس کے ايک خانے ميں صغير اخترا نام کے لائسنس نکلا ہے، ہوائي اڈے کے باہر کئي دنوں سے پڑي ہے، دريافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اکبر امجد حسين نام کے ايک آدمي نے آٹھ روز پہلے ہوائي جہاز ميں نيروبي کا سفر کيا ہے، اکبر کي سيٹ نيروبي کيلئے بک تھي امتياز سے رخصت لے کر جب وہ کنيا پہنچا تو اسے بڑي مشکلوں کے بعد صرف اتنا پتہ ايک صاحب جن کا نام اکبر امجد تھا ہوائي جہاز کے ذريعے سے يہاں پہچنے تھے ايک ہوٹل ميں دور روز ٹہرے اس کے بعد چلے گئے۔
اکبر نے بہت تلاش کي مگر کوئي پتہ نہ چلا اس دوران ميں اس کو امتياز کے کئي خطوط آئے، پہلے دو تين خطوں کي تو اس نے رسيد بھيجي اس کے بعد جو بھي خط آيا پھاڑديتا تاکہ اس کي بيوي نہ پڑھ لے، دس برس گزر گئے امجد حسين يعني امتياز کا باپ بہت پريشان تھا، بہت لوگوں کا خيال تھا کہ صغير مر کھپ چکا ہے مگر امجد حسين کا دل نہيں مانتا تھا۔
کہيں اس کي لاش ہي مل جاتي، خود کشي کرنے کي کيا وجہ ہودکتي ہے؟ بڑا نيک ، شريف اور برخوردار لڑکا تھا، امجد کو اس سے بہت محبت تھي، ايک ہي بات اس کي سمجھ ميں آئي تھي کہ اس کي بيٹي امتياز نہ کہيں اس جيسے ذکي الحس آدمي کو اسيے ٹھيس نہ پہنچائي ہو کہ وہ دل شکستہ ہو کر کہيں رو پوش ہو گيا ہے، چناچنہ اس نے امتياز سے کئي مرتبہ اس بار ميں پوچھا مگر وہ صاف منکر ہوگئي، خدا اور رسول کي قسميں کھا کر اس نے اپنے پاب کي تشفي کردي، کہ اس سے اسي کوئي حرکت سرز نہيں ہوئي اکثر اوقات وہ روتي تھي، اس کو صغير ياد آتا تھا، اس کي نرم و نازک محبت ياد آتي تھي، اس کو وہ دھيما دھيما نيسم سحري کا سلوک ياد آتا تھا، جو اس کي فطرت تھي، نيا پيرا امجد کا ايک دوست حج کو گيا، واپس آيا تو اس نے اس کو يہ خوشخبري سنائي کہ صغير زندہ ہے اور ايک عرصے سے مکے ميں مقيم ہے امجد حسين کو ہوش ہوا، اس کو اس کے دوست نے صغير ہندي کا پتا ديا تھا، اس نے اپني بيٹي کو تيار کيا کہ وہ اس کے ساتھ حجاز چلے، فورا ہوائي جہاز کا سفر کا انتظام کيا، امتياز ساتھ جانے کو تيار نہ تھي، اس کو جھجھک سي محسوس ہو رہي تھي۔
بہر حال باپ بيٹی سرزمين حجاز ميں پہنچے، ہر مقدس مقام کي زيارت کي، امجد حسين نے ايک ايک کونہ چھان مارا مگر صغير کا پتہ نہ چلا، چند آدميوں سے جو اس کو جانتے تھے، صرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ آپ کي آمد سے دس روز پہلے، کيونکہ اسے کسي نہ کسي طريق معلوم ہوچکا تھا، کہ آپ تشريف لارہے ہيں، کھڑکي دے کود اور گر کر ہلاک ہوگيا، مرنے سے پہلے چند لمحات اس کےہونتوں پر ايک لفظ کانپ رہا تھا غالبا امتياز تھا۔
اس کي قبر کہاں ہے وہ کب اور کيسے دفن ہوا اس کے متعلق صغير کے جاننے والوں نے کچھ نہ بتايا، يہ ان کے علم ميں نہيں تھا، امتياز کو يقين ہوگيا کہ اس کے خاوند نے خودکشي کر لي ہے، اس کو شادي اس کا سبب معلوم تھا، مگر اس کا باپ يہ ماننے سے يکسر منکر تھا، چناچہ اس نے ايک بار اپني بيٹي سے کہا ميرا دل کہتا ہے وہ زہدہ ہے، وہ تمہاي محبت کي خاطر اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک خدا اس کو موت کے فرشتے کے حوالے نہ کردے، ميں اس کو اچھي طرح سمجھتا تمہاري جگہ اگر وہ ميرا بيٹا ہوتا تو ميں خود کو دنيا کا سب سے خوش نصيب انسان سمجھتا، يہ سن کر امتياز خاموش رہي۔
دونوں سرزمين حجاز سے بے نيل و مرام واپس آگئے، ايک برس گزر گيا، اس دوران ميں امجد حسين بڑي مہلک بيماري يعني دل کے عارضے ميں گرفتار ہوا اور وفات پاگيا، مرتے وقت اس نے اپني بيٹي کو کچھ کہان چاہا مگر وہ شايد بڑي اذيت دہ تھي کہ وہ خاموش رہا اور صرف سرزنس بھري نگاہوں سے امتياز کو ديکھتے ديکھتے مر گيا، اس کے بعد امتياز اپني بہن ممتاز کے پاس راولپنڈي چلي گئي، ان کي کوٹھي کے سامنے ايک اور کوٹھي تھي، جس ميں ايک ادھيڑ عمر کا مرد بہت تھکا تھکا سا دکھائي ديتا تھا، دھپو تاپتا اور کتابيں پڑھتا رہتا تھا، ممتاز اس کو ہر روز ديکھتي، ايک دن اس نے امتياز سے کہا، مجھے ايسا معلوم ہوتا ہے يہ صغير ہے، کيا تم نہيں پہچان سکتي ہو، وہ ناک نقشہ متانت وہي سنجدگي، امتياز نے اس آدمي کي طرف غور سے ديکھا ايک دم چلائي ہاں ہاں وہي ہے پھر فورا رک گئي، ليکن وہ کيسے ہوسکتے ہيں وہ تو وفات پاچکے ہيں۔
انہيں دنوں ان کي چھوٹي بہن شہناز بھي آگئي ممتاز اور امتياز نے ان کو قبل از وقت مرجھايا اور افسردہ مرد دکھايا جس کي داڑھي کچھڑي تھي، اور اس سے پوچھا تم بتائو اس کي شکل صغير سے ملتي ہے يا نہيں؟ شہناز نے اس کو بڑي گہري نظروں سے ديکھا اور فيصلہ کن لہجے ميں کہا، شکل ملتي کي ہے يہ خود صغير ہے سوني صدي صغير اور يہ کہہ کہ وہ سامنے والي کوٹھي ميں داخل ہوگئي وہ شخص کتاب پڑھنے ميں مشغول تھا چونکا، شہناز جس نے شادي کے موقع پر اس کي جوتي چرائي تھي، اسي پرانے انداز ميں کہا، جناب آپ کب تک چھپے رہيں گے؟
اس شخص نے شہناز کي طرف ديکھا اور بڑي سنجيدگي اخيتار کرتے ہوئے پوچھا آپ کون ہيں؟
شہناز طراز تھي اس کے علاوہ اس کو يقين تھا کہ جس سے وہ ہم کلامي ہے وہ اس کا بہنوئي ہے چناچہ اس نے بڑے نوکيلئے لہجے ميں کہا جناب ميں آپ کي سالي شہہاز ہوں، اس شخص نے شہناز کو سخت نا اميد کي اس نے کہا، مجھے افسوس ہے کہ آپ کو غلط فہمي ہوئي ہے، اس کے بعد شہناز نے اور بہت سے باتيں کيں مگر اس نے بڑے ملام انداز ميں اس سے جو کچھ کہا، اس کا يہ مطلب تھا کہ تم ناحق اپنا وقت ضائع کر رہي ہوں، ميں تمہيں جانتا ہوں نہ تمہاري بہن کو جس کے متعلق تم کہتي ہو کہ ميري بيوي ہے، ميري بيوي اپني زندگي ميں ہے ار ميں ہي اس کا خاوند ہو۔
شہناز اور ممتاز کو معلوم ہوگيا تھا کہ وہ امتياز کے متعلق تمام معلومات حاصل کرتا ہے، ان کو يہ بھي پتہ چل گيا تھا کہ اس پر اسرار مرد کے نوکر کے ذريعے سے کہ وہ راتوں کو اکثر روتاہے نمازيں پڑھتا ہے اور دعائيں مانگتا ہے کہزندہ رہے وہ چاہتا ہے کہ اس کو جو اذيت پہنچي ہے اس سے دير تک لطف اندوز ہوتا رہے، نوکر حيران تھا کہ انسان کي زندگي ميں ايسي کون سي تکليف ہوسکتي ہے، جس سے وہ لفط اٹھا سکتا تھا، سب باتيں امتياز سنتي تھي اور اس کے دل ميں يہ خواہش پيدا ہوئي تھي کہ مرجائے، چنانچہ اس نے جب يہ سنا کہ وہ شخص جس کو امتياز اچھي طرح پہچانتي تھي، اس کے نام سے قطعنا آشنا ہے تو اس نے ايک روز افيم کھالي اور يہ ظاہر کيا کہ اس کے سر ميں درد ہے اور اکيلي آرام کرنا چاہتي ہے، وہ آرام کرنے چلي گئي ليکن شہناز نے جب اس کو غنونگي کے عالم ميں ديکھا تو اسے شبہ ہوا اس نے ممتاز سے بات کي، اس کا ماتھا بھي ٹھنڈا کمرے ميں جاکر ديکھا تو امتياز بالکل بے ہوش پڑي تھي، اس کو جھنجھوڑا مگر نہ جاتي شہناز دوڑي دوڑي سامنے کوٹھي ميں گئي اور اس شخص جس کا نام راولپنڈي ميں کسي کو نا معلوم تھا، سخت گھبراہٹ ميں يہ اطلاع دي کہ اس کي بيوي نے زہر کھا ليا ہے، اور مرنے کے قريب ہے، يہ سن کر اس نے اتنا کہا آپ کو غلط فہمي ہے وہ ميري بيوي نہيں ہے، ليکن ميرے ہاں اتفاق سے ايک ڈاکڑ آيا ہوا ہے، آپ چليئے ميں اسے بھيج ديتا ہوں۔
شہناز گئي تو وہ اندر کوٹھي ميں گيا اور اپنے بھائي اکبر سے کہا، يہ جو کوٹھي سامنے ہے اس ميں کسي عورت نے زہر کھا ليا ہے، بھائي جان آپ جلدي سے جائيے، اور کوشش کيجئے کہ بچ جائے، اس کا بھائي جو نيروبي ميں بہت بڑا ڈاکٹر تھا امتياز کو نہ بچاسکا دونوں نے ايک دوسرے کو ديکھا تو اس کا رد عمل بہت مختلف تھا، امتياز فورا مر گئي اور اکبر اپنا بيغ لے کر واپس چلا گيا، صغير نے اس سے پوچھا کيا حال ہے مريضہ کا؟
اکبر نے جواب ديا مرگئي، صغير نے اپنے ہونٹ بھينچ کر بڑے مظبوط لہجے ميں کہا ميں زندہ رہوں گا، ليکن ايک دم سنگين فرش پر لڑکڑانے کے بعد گرا اورجب اکبر نے اس کي نبض ديکھي تو وہ ساکت تھي۔

موذیل حصہ آخری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعادت حسن منٹو

ترلو چن نے کسی قدر ڈھٹائی کے ساتھ کہا، ہاں۔
مبارک ہو موذیل نے ایک کھڑاؤں پیر سے اتار لی اور پانی کے تل پر بجانے لگی کسی اور لڑکی سے محبت کرنی شروع کردی۔
ترلو چن نے آسہتہ سے کہا، ہاں۔
مبارک ہو۔۔۔۔اسی بلڈنگ کی ہے کوئی؟
نہیں۔
یہ بہت بری بات ہے، موذیل کھڑاؤں اپنی انگلیوں میں اڑس کر اٹھی، ہمیشہ آدمی کو اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔
ترلو چن خاموش رہا، موذیل نے اڑھ کر اس کی داڑھی کو اپنی پانچوں انگلیوں سے چیرا، کیا اس لڑکی نے تم کو بال بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔
نہیں۔
ترلو چن بڑی الجھن محسوس کررہا تھا، کنگھا کرتے کرتے اس کی داڑھی کے بال آپس میں الجھ گئے ہیں، جب اس نے نہیں کہا تو اس کے لہجے میں تیکھا پن تھا۔
موذیل کے ہونٹوں پر لپ اسٹک باسی گوشت کی طرح معلوم ہوتی تھی، وہ مسکرائی تو ترلو چن نے ایسا محسوس کیا کہ اس کہ گاؤں میں جھٹکے کی دکان پر قصائی نے چھری سے موٹی رگ کے گوشت کے دو ٹکڑے کر دئیے۔
مسکرانے کے بعد وہ ہنسی، تم اب یہ داڑھی منڈا ڈالو تو کسی کی بھی قسم لے لو، میں تم سے شادی کر لوں گی۔
ترلو چن کے جی میں آیا کہ اس سے کہے کہ وہ ایک بڑی شریف، باعصمت اور پاک طنیت کنواری لڑکی سے محبت کر رہا ہے، اور اسی سے شادی کرے گا۔۔۔۔۔موذیل اس کے مقابلے میں فاحشہ ہے، بد صورت ہے، بے وقوف ہے، بے مروت ہے، مگر وہ اس قسم کا گھٹیا آدمی نہیں تھا، اس نے موذیل سے صرف اتنا کہا، موذیل میں اپنی شادی کا فیصلہ کر چکا ہوں، میرے گاؤں کی ایک سیدھی سادی لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔جو مذہب کی پابند ہے، اسی لئے میں نے بال بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
موذیل سوچ بچار کی عادی نہیں تھی، لیکن اس نے کچھ دیر سوچا اور کھڑاؤں پر نصف دائرے میں گھوم کر ترلو چن سے کہا، وہ مذہب کی پابند ہے تو تمہیں کیسے قبول کرے گی کیا اسے معلوم نہیں کہ تم ایک دفعہ اپنے بال کٹوا چکےہو؟
اس کو ابھی تک معلوم نہیں۔۔۔۔۔داڑھی میں نے تمہارے دیولالی جانے کے بعد ہی بڑھانی شروع کردی تھی۔۔۔۔۔محض انتقامی طور پر۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میری کرپال کور سے ملاقات ہوئی مگر میں پگڑی اس طریقے سے باندھتا ھوں کہ سو میں سے ایک ہی آدمی مشکل سے جان سکتا ہے کہ میرے کیس کٹے ہوئے ہیں۔
مگر اب یہ بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گے، ترلو چن نے اپنے لمبے ملائم بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کردی۔
موذیل نے لمبا کرتا اٹھاکر اپنی گوری گوری دبیز ران کھجانی شرو ع کردی، یہ بہت اچھا ہے۔۔۔۔مگر یہ کمبخت مچھر یہاں بھی موجود ہیں۔۔۔۔دیکھا کس زور سے کاٹا ہے۔
ترلو چن نے دوسری طرف دیکھنا شروع کردیا، موذیل نے اس جگہ جہاں مچھر نے کاٹا تھا انگلی سے لب لگائی اور کرتہ چھوڑ کر سیدھی کھڑی ہوگئی، کب ہو رہی ہے تمہاری شادی؟
ابھی کچھ نہیں یہ کہہ کر تو لو چن سخت متفکر ہوگیا۔
چند لمحات کی خاموشی رہی، اس کے بعد موذیل نے اس کے نفکر کا اندازہ لگا کر اس سے بڑے سنجیدہ اندازمیں پوچھا،ترلو چن۔۔۔۔تم کیا سوچ رہے ہو؟
ترلو چن کو اس وقت کسی ہمدرد کی ضرورت تھی، خواہ وہ موذیل ہی کیوں نہ ہو، چناچہ اس نے اس کو سارا ماجرا سنادیا، موذیل ہنسی، تم اول نمبر کے ایڈیٹ ہو۔۔۔۔جاؤ اس کو لے آؤ، ایسی کیا مشکل ہے۔
مشکل۔۔۔۔موذیل تم اس معاملے کی نزاکت کو کبھی نہیں سمجھ سکتیں۔۔۔۔کسی بھی معاملے کی نزاکت۔۔۔۔۔۔تم ایک لابالی قسم کی لڑکی ہو۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ تمہارے اور میرے تعلقات قائم نہیں رہ سکے،جس کا مجھے ساری عمر افسوس رہےگا۔
موذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں پانی کے نل کے ساتھ ماری، افسوس ایڈیٹ۔۔۔تم سے سوچو کہ تمہاری اس۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔اس حملے سے بچا کر لانا کیسے ہے۔۔۔تم بیٹھ گئے ہوتعلقات کا رونا رونے۔۔۔۔تمہارے میرے تعلقات قائم نہیں رہ سکے۔۔۔۔۔تم ایک سلی قسم کے آدمی ہو۔۔۔۔اور بہت ڈرپوک، مجھے نڈر مرد چاہئیے۔۔۔۔۔لیکن چھوڑ ان باتوں کو۔۔۔۔۔چلو آؤ تمہاری اس کور کو لے آئیں۔
اس نے ترلو چن کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔ترلو چن نے گھبراہٹ میں اس سے پوچھا کہاں سے؟
وہیں سے جہاں وہ ہے۔۔۔۔۔میں اس محلے کی ایک ایک اینٹ کو جانتی ہوں، چلو آؤ میرے ساتھ۔
سنو تو۔۔۔کر فیو ہے۔
موذیل کیلئے نہیں۔۔۔۔چلو آؤ۔
وہ ترلو چن کو بازوسے پکڑ کر کھینچتی اس دروازے تک لے گئی ہے جو نیچے سیڑھیوں کی طرف کھلتا تھا،دروازہ کھول کر وہ اتر نےوالی تھی کہ رک گئی اور ترلو چن کی داڑھی کی طرف دیکھنے لگی۔
ترلو چن نے پوچھا کیا بات ہے؟
موذیل نے کہا یہ تمہاری داڑھی۔۔۔۔۔لیکن خیر ٹھیک ہے، اتنی بڑی نہیں ہے ۔۔۔۔ ۔ ننگے سر چلو تو کوئی نہیں سمجھے گا کہ تم سکھ ہو۔
موذیل نےبڑے معصوم انداز میں پوچھا،کیوں؟
ترلو چن نے اپنے بالوں کی ایک لٹ ٹھیک کی، تم سمجھتی نہیں ہو، میرا وہاں پگڑی کے بغیر جانا ٹھیک نہیں ہے۔
کیوں ٹھیک نہیں ہے۔
تم سمجھتی کیوں نہیں ہو کہ اس نے مجھے ابھی تک ننگے سر نہیں دیکھا۔۔۔۔وہ یہی سمجھتی ہے کہ میرے کیس ہیں، میں اس پر یہ راز افشاں نہیں کرنا چاہتا۔
موذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں دروازے کی دہلیز پر ماری، تم واقعی اول درجے کے ایڈیٹ ہو۔۔۔۔۔گدھے کہیں کے۔۔۔۔۔اس کی جان کا سوال ہے۔۔۔۔۔کیا نام ہے ۔۔۔۔ تمہاری اس کور کا، جس سے تم محبت کرتے ہو۔
ترلو چن نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، موذیل وہ بڑی مذہبی قسم کی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔۔اگر اس نے مجھے ننگے سر دیکھ لیا تو مجھ سےنفرت کرنے لگے گی۔
موذیل چڑھ گئی، اوھ تمہاری محبت ۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں کیا سارے سکھ تمہاری طرح کے بیوقوف ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔اس کی جان کا خطرہ ہے اور تم کہتے ہو کہ پگڑی ضرور پہنو گے۔۔۔۔اور شاید وہ اپنا انڈروئیر بھی جو نیکر سے ملتا جلتا ہے۔
ترلو چن نے کہا وہ تو میں ہر وقت پہنتا ہوں۔
بہت اچھا ہے کرتے ہو۔۔۔مگر اب تم یہ سوچو کہ معاملہ اس محلے کا ہے جہاں میاں بھائی رہتے ہیں، اور وہ بھی بڑے بڑے داد اور بڑے بڑے موالی۔۔۔تم پگڑی پہن کر گئے تو وہیں ذبح کر دئیے جاؤ گے۔
ترلو چن نے مختصر سا جواب دیا، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔۔۔۔اگر میں تمہارے ساتھ وہاں جاؤں گا تو پگڑی پہن کر جاؤں گا۔۔۔۔میں اپنی محبت خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔
موذیل جھنجلا گئی، اسی روز سے اس نے پیچ و تاب کھائے کہ اس کی چھاتیاں آپس میں بھڑ بھڑ گئیں، گدھے۔۔۔۔۔تمہاری محبت ہی کہاں رہے گی، جب تم نہ رہو گے۔۔۔۔تمہاری وہ ۔۔۔کیا نام ہے اس بھڑوی کا۔۔۔۔جب وہ بھی نہ رہےگی، اس کا خاندان تک نہ رہے گا۔۔۔تم سکھ ہو۔۔۔۔خدا کی قسم تم سکھ ہو اور بڑے ایڈیٹ سکھ ہو۔
ترلو چن بھنا گیابکواس نہ کرو۔
موذیل زور سے ہنسی، مہین مہین بالوں کے غبار سے اٹی ہوئی بانہیں اس نے ترلو چن کے گلے میں ڈال دیں اور تھوڑا سا جھول کر کہا، ڈارلنگ چلو، جیسے تمہاری مرضی۔۔۔۔جاؤ پگڑی پہن آؤ، میں نیچے بازار میں کھڑی ہوں۔
یہ کہہ کر وہ نیچے جانے لگی ترلو چن نے اسے روکا تم کپڑے نہیں پہنو گی، موذیل نے اپنے سر کو جھکا کر کہا، نہیں۔۔۔۔۔چلے گا اسی طرح۔
یہ کہہ کر وہ کھٹ کھٹ کرتی نیچے اتر گئی، ترلو چن نچلی منزل کی سیڑھیوں پر بھیاس کی کھڑاؤں کی چوبی آواز سنتا رہا، پھر اس نے اپنے لمبے لمبے بال انگلیوں سے پیچھے کی طرف سمیٹے اور نیچے اتر کر اپنے فلیٹ میں چلا گیا، جلدی جلدی اس نے کپڑے تبدیل کئے پگڑی بندھی بندھائی رکھی تھی، اسے اچھی طرح سر پر جمایا اور فلیٹ کا دروازہ متفل کرکےنیچے اتر گیا۔باہر فٹ پاتھ پر موذیل اپنی تگڑی ٹانگیں چوڑی کئے سگریٹ پی رہی تھی، بالکل مردانہ انداز میں جب ترلوچن اس کے نزدیک پہنچا تو اس نے شرات کے طور پر منہ بھر کے دھواں اس کے چہرے پر دے مارا، ترلو چن نے غصے میں کہا تم بہت ذلیل ہو۔
موذیل مسکرائی، یہ تم نے کوئی نئی بات نہیں کی۔۔۔۔۔اس سے پہلے اور کئ مجھے ذلیل کہہ چکے ہیں، پھر اس نے ترلو چن کی پگڑی کی طرف دیکھا یہ پگڑی تم نے واقعی بہت اچھی طرح باندھی ہے۔۔۔۔۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمہارے کیس ہیں۔
بازار بالکل سنسان تھا۔۔۔۔ایک طرف ہوا چل رہی ہو، اور وہ بھی بھی دھیرے دھیرے جیسے کرفیو سے خوفزدہ ہے، بتیاں روشن تھیں، مگر ان کی روشنی بیمار سی معلوم ہوتی تھی، عام طور پر اس وقت ٹریمیں چلنی شروع ہوجاتی تھیں، اور لوگوں کی آمد و رفت بھی جاری ہوجاتی تھی، اچھی خاصی گہما گہمی ہوتی تھی، پر اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سڑک پر کوئی انسان گزرا ہے نہ گزرے گا۔
موذیل آگے آگے تھی، فٹ پاتھ کے پتھروں پر اس کی کھڑاؤں کھٹ کھٹ کر رہی تھیں، یہ آواز، اس خاموش فضا میں ایک بہت بڑا شور تھی ترلو چن دل ہی دل میں موذیل کو برا بھلا کہہ رہا تھا، کہ دو منٹ میں اور کچھ نہیں تو اپنی واہیات کھڑاؤں چھوڑ کر کوئی اور دوسری چیز پہن سکتی تھی، اس نے سوچا کہ موذیل سے کہے، کھڑاؤں اتار دو اور ننگے پاؤں چلو، مگر اس کو یقین تھا کہ وہ کبھی نہیں مانے گی، اس لئے خاموش رہا۔
ترلو چن سخت خوفزدہ تھا، کوئی پتاکھڑکتا تو اس کا دل دھک سے رہ جاتا تھا، مگر موذیل بالکل بے خوف چلی جارہی تھی، سگریٹ کا دھواں اڑاتی جسیے وہ بے فکری سے چہل قدمی کر رہی ہے۔
چوک میں پہنچے تو پولیس مین کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔اے کدھر جار ہےہو۔
ترلو چن سہم گیا، موذیل آگے بڑھی اور پولیس مین کے پاس پہنچ گئ اور بالوں کو ایک خفیف جھٹکا دیا اور کہا کہ وہ تم۔۔۔۔ہم کو پہچانا نہیں۔
موذیل ۔۔۔۔۔پھر اس نےایک گلی کی طرف اشارہ کیا، ادھر اس باجو ۔۔۔۔۔ہمارا بہن رہتا ہے، اس کی طبعیت خراب ہے۔۔۔۔۔ڈاکڑ لےکر جارہا ہے۔
سپاہی اسےپہچاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے خدا معلوم کہاں سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور ایک سگریٹ نکال کر اس کو دیا۔ لو پیو۔سپاہی نے سگریٹ لے لیا، موذیل نے اپنے منہ سے سلگا ہوا سگریٹ نکالا اور اس سے کہا، بئیر از لائٹ۔
سپاہی نے سگریٹ کا کش لیا، موذیل نے داہنی آنکھ اس کو اور بائیں آنکھ ترلو چن کو ماری اور کھٹ کھٹ کرتی اس گلی کی طرف چل دی۔۔۔جس میں سے گزر کر انہیں۔۔۔۔محلے جانا تھا۔
ترلوچن خاموش تھا، مگر وہ محسوس کررہا تھا، کہ موذیل کرفیو کی خلاف ورزی کرکے عجیب و غریب قسم کی مسرت محسوس ہو رہی تھی، خطروں سے کھیلنا اسے پسند تھا، وہ جب جو ہو پر اس کے ساتھ جاتی تھی، تو اس کے لئے مصیبت بن جاتی ہے، سمندر کی پیل تن لہروں سے ٹکراتی، بھٹرتی وہ دور تک نکل جاتی تھی اور اس کو ہمیشہ اس بات کا دھڑکا رہتا تھا کہ کہیں وہ ڈوب نہ جائے، جب واپس آتی تو اس کا جسم نیلوں اور زخموں سے بھرا ہوتا تھا مگر اسے ان کی کوئی پروہ نہیں ہوتی تھی۔
موذیل آگے آگے تھی ترلو چن اس کے پیچھے پیچھے، ڈر ڈرکے ادھر ادھر دیکھتا رہتا تھا کہ اس کی بغل میں سےکوئی چھری مار نمودار نہ ہوجائے، موذیل رک گئی جب ترلو چن پاس آیا تو اس نے سمجھانے کے انداز میں اس سے کہا ترلوچ ڈئیر۔۔۔۔۔اس طرح ڈرنا اچھا نہیں۔۔۔۔تم ڈرو گے تو ضرور کچھ نہ کچھ ہو کے رہے گا۔۔۔۔۔۔۔سچ کہتی ہو، یہ میری آزمائی ہوئی بات ہے۔
ترلو چن خاموش رہا۔
جب وہ گلی طے کرکے دوسری گلی میں پہنچے جو اس محلے کی طرف نکلتی تھی جس میں کرپال کور رہتی تھی۔۔۔۔۔تو موذیل چلتے چلتے ایک دم رک گئی، کچھ فاصلے پر بڑے اطمینان سے ایک مارواڑی کی دکان لوٹی جارہی تھی، ایک لحظے کیلئے اس نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور ترلو چن سے کہا، کوئی بات نہیں۔۔۔۔چلو آؤ۔
دونوں چلنے لگے۔۔۔۔۔ایک آدمی جو سر پر بہت بڑی پرات اٹھائے چلا آرہا تھام ترلو چن سے ٹکرا گیا، اس آدمی نے غور سے ترلو چن کی طرف دیکھا، صاف معلوم ہوتا تھا، کہ وہ سکھ ہے، اس آدمی نے جلدی سے اپنے نیفے میں ہاتھ ڈالا، کہ موذیل آگئی، لڑکھڑاتی ہوئی جیسے نشے میں چور ہے، اس نے زورسے اس آدمی کو دھکا دیا اور مخمور لہجے میں کہا، اے کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔ اپنے بھائی کو مارتا ہے۔۔۔۔۔۔ہم اس سےشادی بنانے کو مانگتا ہے۔۔۔۔۔پھر وہ تر لو چن سے مخاطب ہوئی کریم۔۔اٹھاؤ، پرات اور رکھ دو اس کے سر پر۔
اس آدمی نے نے نیفے سے ہاتھ نکال لیا اور شہوانی آنکھوں سے موذیل کی طرف دیکھا، پھر آگے بڑھ کر اپنی کہنی سے اس کی چھاتیوں میں ایک ٹہو کا دیا عیش کر سالی۔۔۔۔۔عیش کر پھر اس نےپرات اٹھایا اور یہ جا وہ جا۔
تر لو چن بڑبڑایا کیسی ذلیل حرکت ہے، حرامزادے کی۔
موذیل نے اپنی چھاتیوں پر ہاتھ پھیرا کوئی ذلیل حرکت نہیں۔۔۔۔سب چلتا ہے۔۔۔۔آؤ۔
اور تیز تیز چلنے لگی۔۔۔۔ترلو چن نے بھی قدم تیز کردئیے۔
یہ گلی طےکرنے کے بعد دونوں اس محلے میں پہنچ گئے، جہاں کرپال کور رہتی تھی، موذیل نے پوچھا کس گلی میں جانا ہے؟
تر لو چن نے آہستہ سے کہا، تیسری گلی میں۔۔۔۔نکڑ والی بلڈنگ۔
موذیل نے اس طرف چلنا شروع کر دیا، یہ راستہ بالکل خاموش تھا، آس پاس اتنی گنجان آبادی تھی مگر کسی بچے کی رونے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔
جب وہ اس گلی کے قریب پہنچے تو کچھ گڑ بڑ دکھائی دی۔۔۔۔ایک آدمی بڑی تیزی سے اس کنارےوالی بلڈنگ سے نکلا اور دوسرے کنارے والی بلڈنگ میں گھس گیا، اس بلڈنگ سے تھوڑی دیر بعد تین آدمی نکلے، فٹ پاتھ پر انہوں نے ادھر ادھر دیکھا اور بڑی پھرتی سے دوسری بلڈنگ میں چلے گئے، موذیل ٹھٹک گئی، اس نے ترلو چن کو اشارہ کیا کہ اندھیرے میں ہو جائے، پھر اس نے ہولے سے کہا ترلو چن ڈئیر۔۔۔۔یہ پگڑی اتار دو۔
ترلو چن نے جواب دیا میں یہ کسی صورت بھی نہیں اتارسکتا۔
موذیل جھنجلا گئی، تمہاری مرضی۔۔۔لیکن تم دیکھتے نہیں سامنے کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے تھا دونوں کی آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔۔۔صاف گڑ بڑ ہو رہی تھی اور بڑی پراسرار قسم کی، دائیں ہاتھ کی بلڈنگ سے جب دو آدمی پیٹھ پربوریاں اٹھائے نکلے ہیں۔
بوریاں اٹھائے نکلے تو موذیل ساری کی ساری کانپ گئی، ان میں سے کچھ گاڑھی گاڑھی سیال سی چیز ٹپک رہی تھی، موذیل اپنے ہونٹ کاٹنے لگی غالباًا وہ سوچ رہی تھی، جب یہ دونوں آدمی گلی کے دوسرے سرے پر پہنچ کر غائب ہوگئے، تو اس نے ترلوچن سے کہا۔
دیکھو ایسا کرو۔۔۔۔۔میں بھاگ کر نکڑ والی بلڈنگ میں جاتی ہوں۔۔۔۔تم میرے پیچھے آنا۔۔۔۔۔بڑی تیزی سے جیسے تم میرا پیچھا کر رہے ہو۔۔۔سمجھے ۔۔۔مگر یہ اب ایک دم جلدی جلدی میں ہو۔
موذیل نے ترلوچن کے جواب کا انتظار کیا اور نکڑ والی بلڈنگ کی طرف کھڑاؤں کھٹکھٹاتی بڑی تیزی سے بھاگی،ترلو چن بھی اس کے پیچھے دوڑا، چند لمحوں میں وہ بلڈنگ کے اندر تھے۔۔۔۔۔ سیڑھیوں کے پاس ۔۔۔ ترلو چن ہانپ رہا تھا، مگر موذیل بالکل ٹھیک ٹھاک تھی، اس نے ترلوچن سے پوچھا کون سا مالا؟
ترلو چن نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، دوسرا۔
چلو۔
یہ کہہ کر کھٹ کھٹ سیڑھیاں چڑھنے لگی، تو تر لو چن اس کے پیچھے ہولیا، زینوں پر خون کے بڑے بڑے دھبے پڑے تھے، ان کو دیکھ دیکھ کر اس کا خون خشک ہو رہا تھا۔
دوسرے مالے پر پہنچے تو کوری ڈور میں کچھ دور جا کر ترلو چن نے ہولے سے ایک دروازے پر دستک دی، موذیل دو سیڑھیوں کے پاس کھڑی رہی۔
ترلو چن نے ایک بار پھر دستک دی اور دروازے کے ساتھ منہ لگا کر آواز دی۔
مہنگا سنگھ جی۔۔۔۔۔۔مہنگا سنگھ جی؟
اندر سے مہین آواز آئی۔کون؟
ترلوچن
دروازہ دھیرے سے کھلا۔۔۔۔ترلو چن نے موذیل کو اشارہ کیا، وہ لپک کر آئی دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔۔موذیل نے اپنی بغل میں ایک پتلی لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔جو بے حد سہمی ہوئی تھی، موذیل نے اس کو ایک لحظے کیلئے غور سے دیکھا، پتلے پتلے نقش تھے، ناک بہت ہی پیاری تھی مگر زکام میں مبتلا، موذیل نے اس کو اپنے چوڑے چکلے سینے کے ساتھ لگا لیا اور اپنے ڈھیلے ڈھالے کرتے کا دامن اٹھا کر اس کی ناک پونچھی۔
ترلو چن سرخ ہوگیا۔
موذیل نے کرپال کور سے بڑے پیارکے ساتھ کہا، ڈرو نہیں ترلوچن تمہیں لینے آیا ہے۔
کرپال کور نے ترلوچن کی طرف اپنی سہمی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور موذیل سے الگ ہوئی۔
ترلو چن نے اس سے کہا سردار صاحب سے کہو کہ جلدی تیار ہوجائیں۔۔۔۔اور ماتا جی سے بھی۔۔۔۔لیکن جلدی۔
اتنے میں اوپر کی منزل پر بلدن آوازیں آنے گلیں جیسے کوئی چیخ رہا ہو اور دھینگا مشتی ہو رہی ہو۔
کرپال کور کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی، اسے پکڑ لیا انہوں نے۔
ترلو چن نے پوچھا کسے؟
کرپال کور نے جواب دینے والی تھی کہ موذیل نے اس کو بازو سے پکڑا اور گھسیٹ کر ایک کونے میں لے گئی، پکڑ لیا تو اچھا ہوا۔۔۔۔۔۔تم یہ کپڑے اتارو۔
کرپال کور کو ابھی سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ موذیل نے آنا فانا اس کی قمیض اتار کر ایک طرف رکھ دی ، کرپال کورنے اپنی بانہوں میں اپنے ننگے جسم کو چھپالیا اور وحشت زدہ ہوگئی، ترلو چن نے منہ دوسری طرف موڑلیا، موزیل نے اپنا ڈھیلا ڈھالا کرتہ اتار اور اس کو پہنا دیا، خود وہ ننگ دہڑنگ تھی، جلدی جلدی اس نے کرپال کور کا آزار بند ڈھیلا کی اور اس کی شلوار اتارکر، ترلو چن سے کہنے لگی، جاؤ اسے لے جاؤ،لیکن ٹھہرو۔
یہ کہہ کر اس نے کرپال کور کے بال کھول دئیے ، اس سے کہا جاؤ۔۔جلدی۔۔نکل جاؤ۔۔
ترلو چن نے اس سے کہا آؤ مگر فورا ہی رک گیا، پلٹ کر اس نے موذیل کی طرف دیکھا جو دھوئے دیدے کی طرح ننگی کھڑی تھی اس کی بانہوں پر مہین مہین بال سردی کے باعث جاگے ہوئے تھے۔
تم جاتے کیوں نہیں ہو؟ موذیل کے لہجے میں چڑا چڑا پن تھا۔
ترلو چن نے آہستہ سے کہا، اس کے ماں باپ بھی تو ہیں۔
جہنم میں جائیں وہ۔۔۔۔۔تم اسے لے جاؤ۔
اور تم۔
میں آجاؤں گی۔
ایک دم اوپر کی منزل سے کئی آدمی دھڑا دھڑا دھڑ نیچے اترنے لگے، دروازےکےپاس آکر انہوں نے کوٹنا شروع کر دیا، جیسے وہ اسے توڑ ہی ڈالیں گے۔
کرپال کور کی اندھی ماں اور مفلوج باپ دوسرے کمرے میں پڑے کراھ رہے ہیں۔
کرپال کور نے سوچااور بالوں کو خفیف جھٹکا دیا اور اس نے ترلوچن سے کہا سنو اب صرف ایک ہی ترکیب سمجھ میں آتی ہے۔۔۔میں دروازہ کھولتی ہو۔۔۔۔
کرپال کور کے خشک حلق سے چیخ نکلتی دب گئی، دروازہ۔
موذیل ترلو چن سے مخاطب رہی میں دروزہ کھول کر باہر نکلتی ہوں۔۔۔تم میرے پیچھے بھاگنا۔۔۔۔میں اوپر چڑھ جاؤ گی۔۔۔تم بھی اوپر چلے جانا۔۔۔۔یہ لوگ دروازہ توڑ رہے ہیں، سب کچھ بھول جائیں گے اور ہمارے پیچھے چلے آئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترلو چن نے پوچھا پھر؟
موذیل نے کہا یہ تمہاری۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔۔۔موقع پاکر نکل جائے۔۔۔اس لباس میں اسے کچھ نہ کہے گا۔
ترلو چن نے جلدی جلدی کرپال کور کو سار بات سمجھا دی، موذیل زور سے چلائی دروازہ کھولا اور دھڑام سے باہر کے لوگوں پر گری، سب بوکھلا گئے اٹھ کر اس نے اوپر کی سیڑھیوں کا رخ کیا، ترلوچن اس کے پیچھے بھاگا سب ایک طرف ہٹ گئے۔
موذیل اندھا دھند سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔کھڑاؤں اس کے پیروں میں تھی۔۔۔۔۔۔وہ لوگ جو دروازے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، سنبھل کر ان کے تعاقب میں دوڑے، موذیل کا پاؤ ں پھسلا۔۔۔۔۔۔۔اوپر کے زینے سے وہ کچھ اس طرح لڑھکی کہ ہر پتھریلے زینے کے ساتھ ٹکراتی لوہے کے جنگلے کے ساتھ الجھتی وہ نیچے آرہی ۔۔۔۔۔۔
پتھریلے فرش پر۔
ترلو چن ایک دم نیچے اترا، جھک کر اس نے دیکھا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا، منہ سے خون بہہ رہا تھا، کانوں کے رستے بھی خون نکل رہا تھا، وہ جو دروازہ توڑنے آئے تھے، ارد گرد جمع ہوگئے۔۔۔۔۔کسی نے بھی نہ پوچھا کیا ہوا ہے، سب خاموش تھے اور موذیل کے ننگےاور گورے جسم کو دیکھ رہے تھے، جس پر جا بجا خراشیں پڑی تھیں۔
ترلو چن نے اس کا بازو ہلایا اور آواز دی، موذیل۔۔۔۔موذیل۔
موذیل نے اپنی بڑی بڑی یہودی آنکھیں کھولیں، جو لال بہوٹی ہو رہی تھیں اور مسکرائی۔
ترلو چن نے اپنی پگڑی اتار اور کھول کر اس کا ننگا جسم ڈھک دیا،موذیل پھر مسکرائی اور آنکھ مارکر اس نےترلو چن سے منہ میں خون کے بلبلے اڑاتے ہوئے کہا کہ جاؤ دیکھو، میرا انڈر وئیر وہاں ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔
ترلو چن اس کا مطلب سمجھ گیا مگر اس نے اٹھانا نہ چاہا، اس پر موذیل نے غصے میں کہا۔۔۔۔۔۔تم سچ مچ سکھ ہو۔۔۔۔۔۔جاؤ دیکھ کر آؤ۔
ترلوچن اٹھ کر کرپال کور کے فلیٹ کی طرف چلاگیا، موذیل نے اپنی دھندلی آنکھوں سے آس پاس کھڑے مردوں کی طرف دیکھا اور کہا یہ میاں بھائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بہت دادا قسم کا۔۔۔۔میں اسے سکھ کہا کرتی ہوں۔
ترلو چن واپس آگیا، اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں موذیل کو بتا دیا کہ کرپال کور جاچکی ہے۔۔۔۔۔۔موذیل نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔۔۔۔لیکن ایسا کرنے سے بہت سا خون اس کے منہ سے بہہ نکلا۔۔۔۔اوہ ڈیم اٹ۔۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنی مہین مہین بالوں سے اٹی ہوئی کلائی سے اپنا منہ پونچھا اور ترلو چن سے مخاطب ہوئی، آل رائٹ ڈارلنگ۔۔۔۔۔بائی بائی۔
ترلو چن نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ اس کے حلق میں اٹک گئے۔
موذیل نے اپنے بدن سےترلو چن کی پگڑی ہٹالی۔لے جاؤ اس کو۔۔۔۔۔۔اپنے اس مذہب کو، اور اس کا بازو اس کی مضبوط چھاتیوں پر بے حس ہو کر گر پڑا۔

موذیل حصہ دوئم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعادت حسن منٹو

ترلوچن چلایا، موذیل۔
موذیل وینٹی بیگ سے ننھا سا آئینہ نکال کر اپنے ہونٹ دیکھنے لگی جس پر لگی ہوئی گاڑھی لپ اسٹک پر خراشیں آگئی تھیں، خدا قسم ۔۔۔تم اپنی داڑھی اور مونچھوں کا صیح استعمال نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔ان کے بال ایسے اچھے ہیں کہ میرا نیوی بلو اسکرٹ بہت اچھی طرح صاف کرسکتے ہیں،۔۔۔۔بس تھوڑا سا پیٹرول لگانے کی ضرورت ہوگی۔
ترلو چن غصے کی اس انتہا تک پہنچ چکا تھا، جہاں وہ بالکل ٹھنڈا ہوگیا تھا، آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا، موذیل بھی آگئی اور اس نے ترلو چن کی داڑھی کھولنی شروع کردی۔۔۔۔اس میں جو پنیں لگی تھیں وہ اس نے ایک ایک کرکےاپنے دانتوں تلے دبالیں۔
ترلوچن خوبصورت تھا، جب اس کے داڑھی مونچھ نہیں اگی تھی تو واقعی لوگ اس کے کھلے گیسؤوں کے ساتھ دیکھ کر دھوکا کھاجاتے تھے، کہ وہ کوئی کم عمر خوبصورت لڑکی ہے۔مگر بالوں کے اس انبار نے اب اس کے تمام خدوخال جھاڑیوں کے مانند اندر چھپا لئے تھے، اس کو اس کا احساس تھا، مگر وہ ایک اطاعت شعار بردار لڑکا تھا، اس کے دل میں مذہب کا احترام تھا، وہ نہیں چاہتا تھا، کہ ان چیزوں کو اپنے وجود سے الگ کر دے، جن سے اس کے مذہب کی ظاہری تکمیل ہوتی تھی۔
جب داڑھی پوری کھل گئی اور اسکے سینے پر لٹکنے لگی تو اس نے موذیل سے پوچھا ، یہ تم کیا کر رہی ہو؟
دانتوں میں پنیں دبائے وہ مسکرائی،تمہارے بال بہت ملائم ہیں۔۔۔۔۔میرا اندازہ غلط تھا کہ ان سے میرا نیوی بلو اسکرٹ صاف ہوجائے گا تر لوچ تم یہ مجھے دے دو میں انہیں گوندھ کر اپنے لئے ایک فسٹ کلاس بٹوا بناؤں گئی۔
اب تو ترلو چن کی داڑھی میں چنگاریاں پھڑکنے لگیں، وہ بڑی سنجیدگی سے موذیل سے مخاطب ہوا، میں نے آج تک تمہارے مذہب کا مذاق اڑایا ہے تم کیوں اڑاتی ہو۔۔۔دیکھو کسی کے مذہبی جذبات سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ کبھی برداشت نہ کرتا مگر صرف اس لئے کرتا ہوں کہ مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے۔۔۔۔کیا تمہیں اس کا پتہ نہیں۔
موذیل نے ترلو چن کی داڑھی سے کھیلنا بند کردیا، معلوم ہے۔
پھرترلو چن نے اپنی داڑھی کے بال بڑی صفائی سے تہہ کئے اور موذیل کے دانتوں سے پنیں نکال لیں، تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میری محبت بکواس نہیں۔۔۔میں تم سےشادی کرنا چاہتا ہوں۔
مجھے معلوم ہے، بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دے کر وہ اٹھی اور دیوار سے لٹکی ہوئی تصویر کی طرف دیکھنے لگی، میں بھی قریب یہی فیصلہ کرچکی ھو کہ تم سے شادی کروں گی۔
ترلو چن اچھل پڑا سچ؟
موذیل کے عنابی ہونٹ موٹی مسکراہٹ کے ساتھ کھلے اور اس کے سفید مخبوط دانت ایک لحظے کیلئے چمکے۔ہاں۔
ترلو چن نے اپنی نصف لپٹی ہوئی داڑھی ہی سے اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھییچ لیا۔
تو تو کب؟
موذیل الگ ہٹ گئی ، جب۔۔۔۔۔تم اپنے بال کٹوا دو گے جب۔
ترلو چن اس وقت جو ہو سو ہو تھا، اس نے کچھ نہ سوچا اور کہہ دیا میں کل ہی کٹوادوں گا۔
موذیل فرش پر ٹیپ ڈانس کرنے لگی، تم بکواس کرتے ہو ترلوچ۔۔۔۔۔تم میں اتنی ہمت نہیں ہے۔
اس نے ترلو چن کے دل و دماغ سے مذہب کے رہے سہے خیال کو نکال باہر پھینکا، تم دیکھ لو گی۔
اور وہ تیزی سے آگے بڑھی ترلوچ کی مونچھوں کو چوما اور پھو پھوں کرتی باہر نکل گئی۔
ترلو چن نے رات بھر کیا سوچا۔۔۔وہ کن کن اذیتوں سے گزرا، اس کا تذکرہ فضول ہے اس لئے کہ دوسرے روز اس نے فورٹ میں اپنے کیس کٹوادئیے اور داڑھی بھی منڈوادی۔۔۔۔یہ سب کچھ ہوتا رہا اور وہ آنکھیں میچے رہا، جب سارا معاملہ صاف ہوگیا تو اس نے آنکھیں کھول لیں اور دیر تک اپنی شکل آئینے میں دیکھتا رہا، جس میں بمبئی کی حسین سے حسین لڑکی بھی کچھ دیر کیلئے غور کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔
ترلو چن وہی عجیب و غریب ٹھنڈک محسوس کرنے لگا تھا، جو سیلون سے باہر نکل کر اس کو لگی تھی، اس نے ٹیرس پر تیز تیز چلنا شروع کردیا، جہاں ٹینکوں اور نلوں کا ایک ہجوم تھا وہ چاہتا تھا کہ اس داستان کا بقایا حصہ اس کے دماغ میں نہ آئے مگر وہ بن نہ رہا۔
بال کٹوا کر وہ پہلے دن گھر سے باہر نہیں نکلا تھا، اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ دوسرے روز چٹ موذیل کی بھیجی کہ اس کی طبعیت ناساز ہے تھوڑی دیر کیلئے آجائے، موذیل آئی ترلو چن کو بالوں کے بغیر دیکھ کر پہلے وہ ایک لحظے کیلئے ٹھٹکی پھر مائی ڈارلنگ ترلوچن کے صاف اور ملائم گالوں پر ہاتھ پھیرا اس کے چھوٹے انگریزی وضع کے کٹے ہوئے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی اور عربی زبان مین نعرے مارتی رہی، اس نے اس قدر شور مچایا کہ اس کی ناک سے پانی بہنے لگا۔۔۔۔۔۔موذیل نے جب اسے محسوس کیا تو اپنی اسکرٹ کا گھیرا اٹھایا اور اسے پونچھنا شروع کردیا۔۔۔۔ ترلو چن شرما گیا، اس نے اسکرٹ نیچی کی اور سرزنش کے طور پراس سے کہا، نیچے کچھ پہن تو لیا کرو۔
موذیل پر اس کا کچھ اثر نہ ھوا، باسی اور جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی لپ اسٹک لگے ہونٹوں سے مسکرا کر اس نے صرف اتنا ہی کہا مجھے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ایسے ہی چلتا ہے۔
ترلوچن کو وہ پہلا دن یاد آگیا جب وہ موذیل دونوں ٹکرا گئے اور آپس میں عجیب طرح گڈ مڈ ہوگئے تھے، مسکرا کر اس نے موذیل کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا، شادی کل ہوگی؟
ضرور، موذیل نے ترلو چن کی ملائم تھوڑی پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری۔
طے یہ ہوا کہ شادی پونے میں ہو، چونکہ سول میرج تھی، اس لئے ان کو دس پندرہ دن کا نوٹس دینا تھا، عدالتی کارروائی تھی، اس لئے مناسب یہی خیال کیا گیا کہ پونہ بہتر ہے، پاس ہے اور ترلو چن کے وہاں کئی دوست بھی ہیں، دوسرے روز انہیں پروگرام کے مطابق پونہ روانہ ہوجاتا تھا۔
موذیل فورٹ کے ایک اسٹور میں سیلز گرل تھی، اس سے کچھ فاصلے پر ٹیکسی اسٹینڈ تھا، بس یہیں موذیل نے اس کو انتظار کرنے کیلئے کہا تھا، ۔۔۔ترلوچن وقت مقررہ پر وہاں پہنچا، ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرتا رہا، مگر وہ نہ آئی، دوسرے روز اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنے ایک پرانے دوست کے ساتھ جس نے تازہ تازہ موٹر خریدی ہے، دیولالی چلی گئی ہے اور ایک غیر معین عرصے کیلئے وہیں رہے گی۔
ترلوچن پر کیا گزری؟۔۔۔ایک بڑی لمبی کہانی ہے، قصہ مختصر یہ ہے کہ اس نے جی کڑاکیا اور اس کو بھول گیا۔۔۔۔ اتنے میں اس کی ملاقات کرپال کور سے ہوگئی اور وہ اس سے محبت کرنے لگا اور تھوڑے ہی عرصے میں اس نے محسوس کیا کہ موذیل بہت واہیات لڑکی تھی، جس کے دل کے ساتھ پتھر لگے ہوئے ہیں اور جو چڑوں کی مانند ایک جگہ سے دوسری جگہ پھدکتا رہتا تھا، اس احساس سے اسکو گونہ تسکین ہوئی تھی کہ وہ موذیل سے شادی کرنے کی غلطی نہ کر بیٹھا تھا۔لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی موذیل کی یاد میں ایک چٹکی کے مانند اس کے دل کو پکڑ لیتی تھی اور پھر چھوڑ کر کد کڑے لگاتی غائب ہوجاتی تھی۔
وہ بے حیا تھی۔۔۔۔۔بے مروت تھی، اس کو کسی کے جذبات کا پاس نہیں تھا ترلو چن کو پسند تھی، اس لئے کبھی کبھی اس کے متعلق سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا، کہ وہ دیولالی میں اتنے عرصے سے کیا کر رہی ہے،، اس آدمی کے ساتھ ہے جس نے نئی نئی کار خریدی تھی، یا اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی گئی ہے، اس کو اس خیال سے سخت کوفت ہوتی تھی کہ وہ اس کے سوا کسی اور کے پاس ہوگی، حالانکہ اس کو موذیل کے کردار کا بخوبی علم تھا۔
وہ اس پر سینکڑوں نہیں ہزاروں روپے خرچ کر چکا تھا، لیکن اپنی مرضی سے، ورنہ موذیل مہنگی نہیں تھی، اس کو بہت سسی قسم کی چیزیں پسند آتی تھی، ایک مرتبہ ترلو چن نے اسے سونے کی ٹوپس دینے کا ارادہ کیا جو اسے بہت پسند تھے مگر اسی دکان میں موذیل جھوٹے اور بھڑکیلے اور بہت سستے آویزوں پر مرمٹی اور سونے کے ٹوپس چھوڑ کر ترلو چن سے منتیں کرنے لگی کہ وہ انہیں خرید دے۔
ترلو چن اب تک نہ سمجھ سکا کہ موذیل کس قماش کی لڑکی ہے، کس آب و گل سے بنی ہے، وہ گھنٹوں اس کے ساتھ لیٹی رہتی تھی اور اس کو چومنے کی اجازت دیتی تھی، وہ سارا کا سارا صابن کی مانند اس کے جسم پر پھر جاتا تھا، مگر وہ اسکو اس سے آگے ایک انچ نہ بڑھنے دیتی تھی، اس کو چرانے کی خاطر اتنا کہہ دیتی کہ تم سکھ ہو۔۔۔۔مجھے تم سے نفرت ہے۔
ترلو چن اچھی طرح محسوس کرتا تھا، کہ موذیل کو اس سے نفرت نہیں ہے،اگر ایسا ہوتا تو وہ اس سے کبھی نہ ملتی، برداشت کا مادہ اس میں رتی بھر نہیں تھا، وہ کبھی کبھار دو برس تک اس کی صحبت میں نہ گزارتی، دو ٹک فیصلہ کردیتی، انڈروئیر اس کو ناپسند تھے اس لئے کہ ان سے اس کو الجھن ہوتی تھی، ترلو چن نے کئی بار اسکو ان کی اشد ضرورت سے آگاہ کیا، اسکو شرم و حیا کا واسطہ دیا، مگر اس اس نے یہ چیز کبھی نہ پہنی۔
ترلو چن جب اس سے حیا کی بات کرتا تھا تو وہ چڑ جاتی تھی، یہ حیا ویا کیا بکواس ہے۔۔۔اگر تمہیں اس کا کچھ خیال ہے تو آنکھیں بند کرلیا کرو۔۔۔۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ کون سا لباس ہے جس میں آدمی ننگا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔یا جس میں سے تمہاری نگاہیں پار نہیں ہوسکتیں۔۔۔۔۔۔مجھ سے ایسی بکواس نہ کیا کرو۔۔۔۔۔تم سکھ ہو۔۔۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ تم پتلون کے نیچے ایک سلی انڈروئیر پہنتے ہو جو نیکر سے ملتاجلتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ بھی تمہاری داڑھی اور سر کے بالوں کی طرح تمہارے مذہب میں شامل ہے۔۔۔۔۔شرم آنی چاہئیے۔۔۔۔۔۔اتنے بڑے ہوگئے اور ابھی تک یہی سمجھتے ہو کہ تمہارا مذہب انڈروئیر میں چھپا بیٹھا ہے۔
ترلو چن کو شروع شروع میں ایسی باتیں سن کر غصہ آیا تھا مگر بعد میں غور و فکر کرنے پر وہ کبھی کبھی لڑھک جاتا تھا اور سوچتا تھا کہ موذیل کی باتیں شاید نادرست نہیں اور جب اس نے اپنے کیسوں اور داڑھی کا صفایا کرادیا تھا تو اسے قطعی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ وہ بیکار اتنے دن بالوں کا بوجھ اٹھائے پھرا جس کا کچھ مطلب نہیں تھا۔
پانی کی ٹنکی کے پاس پہنچ کر ترلو چن رک گیا، موذیل کو ایک بڑی موٹی گالی دے کر اس نے اس کے متعلق سوچنا بند کردیا،۔۔۔کرپال کور، ایک پاکیزہ لڑکی جس سے اس کو محبت ہوئی تھی، خطرے میں تھی، وہ ایسے محلے میں تھی، جس میں کٹر قسم کے مسلمان رہتے تھے اور وہاں دو تین وارداتیں بھی ہوچکیں تھیں۔۔۔۔۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس محلے میں اڑتالیس گھنٹے کا کرفیو تھا، مگر اڑتالیس گھنٹے کے کرفیو کی کون پروا کرتا ہے، اس چالی کے مسلمان اگر چاہتے تو اندر ہی اندر کرپال کا، اس کی ماں کا، اس کے باپ کا بڑی آسانی کے ساتھ صفایا کرسکتے تھے۔
ترلو چن سوچتا سوچتا پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گیا، اس کےسر کے بال اب کافی لمبے ہو گئے تھے، اس کو یقین تھا کہ ایک برس کے اندر اندر یہ پورے کیسیوں میں تبدیل ہو جائیں گے، اس کی داڑھی تیزی سے بڑھی تھی مگر اسے بڑھانا نہیں چاہتا تھا، فورٹ میں ایک باربر تھا، وہ اس صفائی سے اسے تراشتا تھا، کہ ترشی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔۔۔۔
اس نے اپنے لمبے اور ملائم بالوں میں انگلیاں پھیریں اور ایک سرد آہ بھری۔۔۔اٹھنے کا ارادہ کرہی رہا تھا۔۔۔ کہ اسے کھڑاؤں کی کرخت آواز سنائی دی، اس نے سوچا کون ہو سکتا ہے؟۔۔بلڈنگ میں کئی یہودی عورتیں تھیں، جو کہ سب کھڑاؤں پہنتی تھیں۔۔۔۔۔۔آواز قریب آتی گئی، یک لخت اس نے دوسری ٹنکی کے پاس موذیل کو دیکھا۔جو یہودیوں کی خاص قطع کا ڈھیلا ڈھالا کرتہ پہنے بڑے زور کی انگڑائی لے رہی تھی۔۔۔۔۔اس زور کی کہ ترلو چن کو محسوس ہوا کہ آس پاس کی ہوا چٹخ جائے گی۔
ترلو چن پانی کے نل پر سے اٹھا، اس نے سوچا یہ ایکاایک کہاں سے نمودار ہوگئی۔۔۔۔اور اس وقت ٹیرس پر کیا کرنے آئی ہے؟
موذیل نے ایک اور انگڑائی لی۔۔۔۔۔۔۔اب ترلو چن کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔
ڈھیلے ڈھالے کرتے میں اس کی مضبوط چھاتیاں دھڑکیں۔۔۔۔۔۔۔ترلو چن کی آنکھوں کے سامنے کئ گول گول اور چپٹے چپٹے نیل ابھر آئے، وہ زور سے کھانسا ، موذیل نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا، اس کا رد عمل بالکل خفیف تھا، کھڑاؤں گھسٹتی وہ اس کے پاس آئی اور اس کی نھنی منی داڑھی دیکھنے لگی، تم پھر سکھ بن گئے تر لو چ؟
داڑھی کے بال ترلوچن کو چبھنے لگے۔
موذیل نے آگے بڑھ کر اس کی ٹھوڑی کے ساتھ اپنے ہاتھ کی پشت رگڑی اور مسکرا کر کہا، اب یہ برش اس قابل ہے کہ میری نیوی بلو اسکرٹ صاف کرسکے۔۔۔مگر وہ تو وہیں دیوالالی میں رہ گئی ہے۔
ترلوچ خاموش رہا۔
موذیل نے اس کے بازو کی چٹکی لی بولتے کیوں نہیں سردار صاحب؟
ترلوچن اپنی پچھلی بے وقوفیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہتا تھا، تاہم اس نے صبح کے ہلکے اندھیرے میں موذیل کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔۔کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی، ایک طرح وہ پہلے سے کچھ کمزور نظر آتی تھی، ترلوچن نے اس سے پوچھا، بیمار رہی ہو؟
نہیں موذیل نے اپنے تراشے ہوئے بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔
پہلے سے کمزور دکھائی دیتی ہو؟
میں ڈائیٹنگ کر رہی ہوں، موذیل پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گئی اور کھڑاؤں فرش کے ساتھ بجانے لگی، تم گویا کہ ۔۔۔۔اب پھر۔۔۔نئے سرے سے سکھ بن رہے ہو۔


click tracking
Web Stat