Archive for the Category »انوکھی خبریں «
سیلاب متاثرین کے نام پر لگے اس میڈیکل کیمپ میں وزیر اعظم پاکستان و مرشد عزیزی جناب یوسف رضا گیلانی نے اس کیمپ کا دورہ کیا اور جعلی مریضوں میں 5000 کے چیک تقسیم کئے۔ جونہی وہ واپس اسلام آباد کے لئے نکلے تو وہاں نا کوئی مریض رہا اور نہ ہی وہاں کوئی کیمپ بچا
بھارتی ہاکی ٹیم کے آفیشل کا سکینڈل منظر عام پر آگیا
Indian Women Hockey Team Scandal Video
جنوبی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع شہر ڈیرہ اسماعیل خان جو شدت پسندی سے بری طرح متاثر ہوا اور جہاں فرقہ وارانہ تشدد کے بے شمار واقعات پیش آئے ، وہاں اسی شہر میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک انوکھی مثال بھی پائی جاتی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قبرستان میں مسلمانوں کے ہمراہ عیسائیوں اور ہندوؤں کی تدفین بھی کی جاتی ہے۔

اس قبرستان میں مسلمانوں کی قبروں پر قرآنی آیات، عیسائیوں کی قبروں پر صلیب کا نشان جبکہ ہندوؤں کی قبروں کے رنگ پیلے اور ان پر اوم لکھا ہوتا ہے۔
خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ہندوؤں کے لیے کوئی شمشان گھاٹ نہیں ہے جہاں وہ اپنے مُردوں کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے ہندو اپنے مُردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرتے ہیں۔
قبرستان
ہندوؤں کی قبروں کے رنگ پیلے اور ان پر اوم لکھا ہوتا ہے
چاہ سید منور قبرستان میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی قبروں کے علاوہ یہاں ہندوؤوں اور عیسائیوں کی قبریں ساتھ ساتھ واقع ہیں لیکن اس قبرستان کے متولی شوکت علی شاہ کے مطابق کبھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا ہے۔
شوکت علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ قبرستان سینکڑوں سال پرانا ہے اور یہاں سید منور کی زیارت ہے جنھوں نے اس قبرستان کی بنیاد ڈالی تھی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ہندو پنڈت آر سی شرما نے کہا کہ ماضی میں یہاں ایک شمشان گھاٹ تھا جہاں ہندو اپنے مُردوں کی آخری رسومات ادا کرتے تھے لیکن پاکستان بننے کے بعد اس شمشان گھاٹ پر اوقاف کا قبضہ ہے اس لیے اب ہندو اپنے مُردے جلاتے نہیں ہیں بلکہ انھیں مجبوراً چاہ سید منور قبرستان میں دفناتے ہیں اور کبھی اس قبرستان میں انھیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انیس سو پچاسی میں دو مُردوں کو چھاؤنی کے علاقے میں جلایا گیا تھا لیکن اس کے بعد انھیں مُردے جلانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
قبرستان

مسلمان اور عیسائی کی قبریں ساتھ ساتھ
پنڈت آر سی شرما نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر کوہاٹ کے قریب ایک شمشان گھاٹ ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے انھیں مُردے جلانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر شہروں میں یہ اجازت نہیں ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اندازے کے مطابق ہندوؤں کے اسی سے زیادہ گھرانے ہیں اور بقول ہندو پنڈت کے انھیں اپنی دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے میں کوئی مشکلات پیش نہیں آتیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحدیں ایک طرف جنوبی وزیرستان ایجنسی سے ملتی ہیں اور دوسری جانب صوبہ پنجاب واقع ہے۔ وزیرستان میں فوجی آپریشن راہ نجات کے بعد سے کوئی چھ لاکھ پناہ گزین بھی اسی شہر میں رہ رہے ہیں۔ اس شہر میں بڑی تعداد میں بم دھماکے اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آچکے ہیں لیکن چاہ سید منور قبرستان میں مذہبی رواداری کی یہ مثال کم ہی کہیں ملتی ہے۔
لاہور (خبر نگار + نمائندہ خصوصی + نامہ نگار + نیوز رپورٹر + ایجنسیاں) جدید ترین اسلحہ‘ خودکش جیکٹوں‘ دستی بموں سے لیس دہشت گردوں نے گڑھی شاہو اور ماڈل ٹا¶ن میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر بیک وقت فائرنگ اور دستی بموں سے حملے کر کے 85 افراد کو ہلاک اور 150 کو زخمی کر دیا جبکہ 10 کی حالت تشویشناک ہے‘ دونوں عبادت گاہوں پر حملوں میں صرف دو تین منٹ کا فرق تھا۔ صوبائی دارالحکومت 3 گھنٹے سے زائد عرصہ تک دہشت گردوں کے نرغے میں رہا۔ دونوں حملوں میں مرنے والوں میں جماعت احمدیہ لاہور کے امیر ریٹائرڈ سیشن جج شیخ منیر احمد‘ جماعت احمدیہ ماڈل ٹا¶ن کے امیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر احمد اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے بھائی اعجاز اللہ خان‘ تحریک احمدیہ کے امیر اعجاز نصراللہ اور 3 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ تھانہ ماڈل ٹا¶ن اور تھانہ گڑھی شاہو میں سنگین ترین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کے القاعدہ الجہاد پنجاب ونگ نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور تمام اقلیتی مذہبی مقامات کی سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ حملہ آوروں نے عبادت گاہوں میں دو ہزار سے زائد افراد کو ڈھائی تین گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ فائرنگ کا تبادلہ کرتے رہے۔ حملہ آوروں نے دستی بم پھینکے اور بے دریغ فائرنگ کی۔ دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو اڑا کر بھی متعدد افراد کو ہلاک کیا۔ دہشت گردوں نے پہلا حملہ ایک بجکر 38 منٹ پر گڑھی شاہو میں قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ دارالذکر پر کیا۔ دہشت گرد گولیاں برساتے نہر کی طرف سے پیدل آئے۔ عبادت گاہ کے آگے تعمیر شدہ شیل کے پٹرول پمپ پر گولیاں برسائیں‘ پٹرول پمپ کا عملہ زمین پر لیٹ گیا اور حملہ آور سکیورٹی اہلکاروں پر قابو پا کر عبادت گاہ میں داخل ہو گئے۔ دہشت گرد جن کی اصل تعداد 5 سے 7 بتائی جاتی ہے عبادت گاہ میں داخل ہوئے تو اس وقت مربی ناصر خطبہ دے رہے تھے۔ دہشت گردوں نے عبادت گاہ میں داخل ہو کر فائرنگ کی تو صحن میں موجود افراد باہر کی جانب بھاگے جن پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی۔ بعدازاں دہشت گردوں نے عبادت گاہ کے ہال میں داخل ہو کر فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے۔ عینی شاہدین کے مطابق گرنیڈ کے 6 دھماکے ہوئے‘ زوردار فائرنگ بھی ہوئی۔ اس دوران عبادت گاہوں کے باہر پٹرول پمپ کے ساتھ کھڑی گاڑیوں کے قریب موٹر سائیکل میں دھماکہ ہوا جس سے وہاں کھڑی تمام گاڑیاں بری طرح تباہ ہو گئیں۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی ایس پی سول لائنز ڈاکٹر حیدر اشرف اور ایس پی مجاہد سکواڈ جہانزیب نذیر موقع پر پہنچے تو عبادت گاہ کی چھت اور مینار پر موجود حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی۔ ایس پی ڈاکٹر حیدر اشرف اور جیپ میں موجود ڈرائیور اور گن مین ٹانگ اور بازو میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ ایس پی مجاہد سکواڈ جہانزیب نذیر کی جیپ تباہ ہو گئی مگر ان کے ماتحت بچ گئے۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ملحقہ عمارتوں کی چھتوں پر بھی چڑ گئی اور پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ فائرنگ کی آوازوں سے پورا علاقہ گونجتا رہا۔ فائرنگ کا یہ تبادلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ پولیس بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے عبادت گاہ کے قریب پہنچے اور دہشت گردوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی۔ اس دوران دہشت گرد وقفے وقفے سے ہینڈ گرنیڈ بھی پھینکتے رہے۔ تین بج کر آٹھ سے دس منٹ کے دوران دو زوردار دھماکے ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہ دھماکے دو خودکش حملہ آوروں کے تھے جنہوں نے ان کے درمیان خود کو اڑا لیا تھا۔ دھماکوں کے بعد بھی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ 4بجے تک وقفے وقفے سے پولیس فائرنگ کرتی رہی جبکہ پولیس کے اسلحہ سے مختلف آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ اس دوران عبادت گاہ سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا عمل شروع ہو گیا۔ 4بجکر 5منٹ پر پولیس اہلکاروں نے اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی۔ ہزاروں گولیاں ہوا میں چلائی گئیں جس سے عبادت گاہ کے باہر جمع ہونے والے پولیس‘ ٹریفک پولیس‘ سفید پوش افراد‘ ریسکیو‘ امدادی ٹیموں کا عملہ اور عوام جانیں بچانے کے لئے اندھا دھند بھاگ پڑے۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے جائے وقوعہ سے دور جانے کی کوشش کرتے رہے مگر اس فائرنگ کے فوراً بعد پولیس نے نعرہ تکبیر‘ اللہ اکبر بلند کر کے یہ واضح کر دیا کہ فائرنگ فتح کی خوش میں تھی۔ آپریشن مکمل ہوتے ہی عبادت گاہ کے دروازے کے باہر ایمبولینس گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور زخمیوں اور مرنے والوں کی منتقلی شروع ہو گئی۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والے قادیانیوں کے عزیز و اقارب اور ورثا اس دوران عبادت گاہ کے سامنے اکٹھے ہو گئے‘ ہر کوئی اپنے باپ‘ بھائی‘ بیٹے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ ان مشتعل افراد نے عبادت گاہ کے سامنے گھیرا ڈال کر اخبار نویسوں اور فوٹو گرافروں کو دور دھکیل دیا۔ زخمیوں کو بھی میڈیا سے دور رکھا جاتا رہا مگر اس دوران پولیس نے عمارت کو ”کلیئر“ نہیں قرار دیا اور ایلیٹ فورس کے جوان اپنے سربراہ کی سربراہی میں ”عمارت کلیئر“ کرتے رہے۔ عمارت کو ساڑھے چھ بجے کے بعد کلیئر کیا گیا۔ عبادت گاہ کے باہر اندر موجود افراد کے عزیز و اقارب بے چینی سے باہر آنے والے ہر زخمی اور لاش کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ زخمیوں کو گلے لگا کر روتے اور نعشوں کو دیکھ کر ایمبولینس کے ساتھ چمٹ کر روتے رہے جبکہ اندر سے آنے والے معمولی زخمی اور بچ جانے والے خوش قسمت اپنے خون سے بھرے کپڑوں کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کو فون کر کے اپنے زندہ بچ جانے کی نوید سناتے رہے۔ عبادت گاہ کے باہر موجود خواتین دیوانہ وار اپنے بچوں کو تلاش کرتی رہیں جیسے ہی بچے انہیں ملتے گئے ان کی حالت دیدنی تھی۔ یہ خواتین اپنے بچوں کو چمٹائے روتی نظر آئیں۔ عبادت گاہ سے زندہ بچ کر آنے الے نعمان‘ اشرف اور شرافت نے بتایا کہ اندر داخل ہونے والوں نے جب اندھا دھند فائرنگ کی اس وقت ”مربی ناصر“ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ زندہ بچ کر آنے والے خوش نصیب ر¶ف کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے بعد جب صحن میں موجود 40‘ 50 افراد جانیں بچانے کے لئے باہر بھاگے تو ان پر حملہ آوروں نے پیچھے سے فائرنگ کر کے انہیں قتل کیا۔ ان عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کی عمریں 18 سے 22 برس تھیں اور انہوں نے اپنی کمر پر بیگ پہنے ہوئے تھے۔ گڑھی شاہو میں ہونے والی اس واردات میں 1122 کے مطابق 33 افراد مارے گئے جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 50 کے لگ بھگ ہے۔ ماڈل ٹا¶ن 87 سی میں قائم قادیانیوں کی عبادت گاہ ”بیت النور“ میں موٹر سائیکل پر سوار خودکش جیکٹ پہنے تین حملہ آور ہینڈ گرنیڈ اور جدید آتشی اسلحہ سے لیس ہو کر وہاں آئے۔ انہوں نے موٹر سائیکل بیت النور کے باہر ڈیڑھ دو سو میٹر کے فاصلے پر سڑک کنارے دیگر موٹر سائیکلوں کے ساتھ کھڑی کی۔ ایک حملہ آور وہیں رک گیا جبکہ دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے دوڑتے ہوئے بیت النور کے مرکزی داخلی دروازے کے قریب آئے اور وہاں دستی بم پھینک کر دھماکہ کیا اور تیزی سے اندر داخل ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے دوڑ کر جانیں بچائیں۔ جب حملہ آور عمارت میں داخل ہو گئے تو پھر سکیورٹی اہلکاروں نے باہر سے جوابی فائرنگ کی۔ عمارت میں داخل ہو کر حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے اور عبادت گاہ کے مرکزی ہال میں دو دستی بم کے دھماکے کئے۔ حملہ آور اندھا دھند وہاں موجود افراد کو فائرنگ کا نشانہ بناتے رہے۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی اور خون پھیل گیا۔ اندر موجود پرائیویٹ گارڈز نے بھی حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی جس سے ایک حملہ آور زخمی ہو گیا۔ لوگوں نے دونوں حملہ آوروں کو قابو کر لیا۔ اسی اثناءمیں باہر موجود حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجہ میں وہاں کھڑی دیگر چار موٹر سائیکلیں اور کار نمبر ایل ایکس ایکس 914 تباہ ہو گئی۔ حملہ آور نے دھماکے کے بعد فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے دوڑ لگا دی۔ سامنے سے ایک نج ٹی وی چینل کی گاڑی کوریج کے لئے آ رہ تھی جس پر اس حملہ آور نے دوڑتے ہوئے فائرنگ کی جس سے گاڑی کی ونڈ سکرین و سائیڈ شیشے ٹوٹ گئے۔ حملہ آور نے فائرنگ کر ایک شہری کو بھی زخمی کیا اور فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے دوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اتنے میں پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار‘ ریسکیو 1122‘ ایدھی و دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ پویس‘ ایلیٹ فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے جوانوں نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا اور اندر داخل ہو گئے جہاں دونوں حملہ آوروں کو قابو کر کے وہاں سے نامعلوم مقام پر تفتیش کے لئے منتقل کر دیا۔ ریسکیو و ایدھی ایمبولینسز نے زخمیوں اور نعشوں کو وہاں سے نکال کر ہسپتال پہنچانا شروع کیا۔ عبادت گاہ میں دہشت گردی کی اس واردات میں 24 افراد ہلاک جبکہ 60 افراد شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گئے۔ اس دوران وہاں خوف و ہراس کی شدید فضا چھائی ہوئی تھی۔ عمارت میں موجود لوگوں کو باہر نکالا گیا‘ متعدد لوگوں کے کپڑے خون میں لتھڑے ہوئے تھے اور بعض دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور بعض ایک دوسرے کے گلے لگ کر آہیں بھر رہے تھے۔ متعدد افراد ننگے پا¶ں ہی عمارت سے باہر نکلے اور جلد از جلد گھروں کو روانہ ہو گئے‘ درجنوں قادیانی نوجوانوں نے عمارت کے داخلی دروازے کو اپنے حصار میں لے لیا اور بعض پولیس افسران و اہلکاروں کو بھی اندر نہ جانے دیا۔ صرف پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اندر گئے اور کرائم سین محفوظ کیا۔ میڈیا کو بھی عمارت میں داخلہ کی اجازت نہ دی گئی اور نہ ہی انہیں وقوعہ کی جگہ کا معائنہ کرنے کی اجازت ملی۔
زرائع: نوائے وقت اخبار
’مولانا کے خلاف شرارت کا مقدمہ‘
خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دیوبند
اس ہفتے میں اتردیش میں دارالعلوم مدرسے کے لیے دنیا بھر مشہور شہر’ دیوبند‘گئی تو دیوبند کے ایک مولانا کے بارے میں یہ خبر تقریباً ہر اخبار میں تھی کہ مبینہ طور پر جہاز کو اڑانے کے الزام میں مولانا نورالھدیٰ کو دلی پولیس نے حراست میں لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
نورالھدا(دیوبند)

مولانا نورالھدیٰ دیوبند میں فاروقیہ مدرسے کے سربراہ ہیں۔ وہ بارہ مئی کو امارات کی فلائٹ سے لندن جارہے تھے اور فلائٹ کے اڑنے سے چند منٹ قبل انہیں ائرپورٹ اتھارٹی نے جہاز سے اتار لیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ جہاز میں سوار خاتون نے ان پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ فون پر جہاز کو اڑانے کی بات کر رہے تھے۔ مولانا نورالھدیٰ سے پولیس نظر بندی میں دو دن تک پوچھ گچھ کی گئی اور پھر پولیس نے پندرہ مئی کو ان کے خلاف شرارت کا مقدمہ درج کر کے انھیں ضمانت پر رہا کردیا۔
میں نے مولانا نورالھدیٰ سے دیوبند میں رابطہ کیا اور ان کے مدرسے جاکرایک مختصر بات چیت میں یہ جاننے کی کوشش کی انکے ساتھ جو واقعہ پیش آیا انکی زندگی پر اس کا اثرا پڑا؟
سوال: سب سے پہلے تو یہ بتائیے گا کہ جب آپ جہاز میں سوار تھے اور فلائٹ بس اڑنے ہی والی تھی تو ہوا کیا؟
ج: میں سفر پر جارہا تھا۔ جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میری بغل والی سیٹ پر ایک لڑکی بیٹھی تھیں۔جہاز میں سوار اور لوگ بھی فون پر باتیں کررہے تھے اور وہ لڑکی بھی فون پر باتیں کررہی تھی۔اس لڑکی نے بھی اپنے لواحقین سے باتیں کی ۔ ہندی اور انگلش میں وہ باتیں کررہی تھی تو اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ہندوستانی تھی۔ میں نے بھی اپنی اہلیہ اور اپنے بیٹے سے فون پر بات کی۔میرالڑکا مجھے ائرپورٹ پر چھوڑنے آیا تھا، اس نے مجھے فون کیا اور پوچھا کہ ابو جہاز میں بیٹھ گئے تو میں نے اس سے کہا کہ جہاز میں بیٹھ گیا ہوں اور بس پندرہ بیس منٹ میں جہاز اڑنے والا ہے۔اس کے بعد میں نے کوئی اور بات نہیں کی ۔
میں آپ کو یہ بتادوں کہ( جہاز اڑنےوالا ہے) کوئی ایسا جملہ نہیں جو قابل گرفت ہو! مسلمان ہونا جرم، ٹوپی کرتا پاجامہ پہننا جرم ہے۔ لگتا ہے اسی کی سزا دی جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔کسی بھی طرح سے علماء کا جرم ثابت نہیں ہوسکا۔ ہم مدرسے والے ہیں۔ ہم جرائم کے لیے نہیں پیدا ہوئے۔ ہم تو امن کا درس دیتے ہیں۔
مولانا نورالھدا
لیکن جہاز وقت پر نہیں اڑا، بلکہ خاصی دیر ہوگئی۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ وہ لڑکی بھی اپنی سیٹ سے چلی گئی مجھے لگا کہ کہیں گئی ہوگی لوگ جہاز میں اپنی سیٹ سے جاتے رہتے ہے بیت الخلاء وغیرہ۔ تھوڑی دیر بعد ایک اہلکار میرے پاس آیا اور میرا پاسپورٹ مانگا اور اسکے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ اپنا سامان اٹھا لیجیے اور میرے ساتھ چلیے، اس لڑکی کو بھی جہاز سے اتار لیا گیا۔
اس لڑکی سے تو میرے سامنے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی لیکن اہلکار نے مجھے بتایا کہ اس لڑکی سے انہیں بتایا ہے کہ میں جہاز کو اڑانے کی بات کر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ ، میں تو عالم آدمی ہوں، مدرسے سے میرا تعلق ہے اور پڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ ہم یہ درس دیتے ہیں کہ اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہ پہنچائیے ، میں نے ان سے کہا کہ میری فون پر یہ بات ہوئی ہے اور آپ چاہیں تو کمپیوٹر سے یہ پتہ کرلیں کہ فون پر کیا بات ہوئی ہے۔ انہوں نے میرے سامان کی تلاشی لی۔ متعدد بار تلاشی لی۔کوئی چيز ان کی نہیں ملی۔
ان کو چاہیے تھا کہ پھر وہ مجھے جانے دیتے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ دوسری فلائٹ سے اس لڑکی کو بھیج دیاگیا۔ لیکن بار بار الگ الگ افسران انفرادی شکل میں یا پھر گروپ میں آتے رہے اور جہاز کو اڑانے والی بات کرتے رہے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ بتائیں کہ ٹرین کو کہتے ہیں چلنے والی ہے۔
گاڑی کے بارے میں کہتے ہیں چل رہی ہے کیونکہ چلتی ہے اور جہاز کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اڑنے والا ہے۔ ورنہ مجھے یہ بتادیں اسکا متبادل کیا ہے جہاز اڑتا نہیں تو کیا کرتا ہے۔ ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ مجھے انگریزی میں کہنا چاہیے تھا کہ جہاز اڑنے والا ہے تو میں نے ان سے کہا کہ میں ہندوستانی ہوں اور ہندی بولتا ہوں۔ اس کے بعد وہ میرے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔ اس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ ہر محکمے میں اچھے اور برے ملازم ہوتے ہیں۔ لیکن جو ذہنی تکلیف مجھے ہوئی اس سے مجھے ابھی تک بہت پریشانی ہے۔
افسران نے میرے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کی۔
س: کن لوگوں سے آپنے مدد کے لیے رابط کیا؟
میرے ساتھ میرا لڑکا تھا جومجھے ائرپورٹ چھوڑنے آیا تھا۔ زندگی میں میرے خاندان میں کسی کے ساتھ کبھی ایسا حادثہ نہیں ہوا، بس میرا اٹھارہ سال کا لڑکا اور بعد میں میرا بھائی بھی وہاں پہنچ گیا۔
س: کسی سیاسی پارٹی نے آپ کی مدد کی؟
ج: میں نے کسی سیاسی پارٹی سے رابط نہیں کیا۔مجھے پوری طرح سے معلومات بھی نہیں ملی۔ میرا پورا سامان ضبط تھا تو میں کسی سے رابطہ کر بھی نہیں سکا۔ مجھے جب تھانے لے کر گئے تو میں نے اپنے بیٹے کو فون کیا اور اسے پوری صورتحال بتائی۔
س: گزشتہ دس برسوں پر نظر دوڑائیں تو اس طرح کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔
ج:( سوال کے بیچ میں) میں آپ کو یہ بتادوں کہ( جہاز اڑنےوالا ہے) کوئی ایسا جملہ نہیں جو قابل گرفت ہو! مسلمان ہونا جرم، ٹوپی کرتا پاجامہ پہننا جرم، لگتا ہے اسی کی سزا دی جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔کسی بھی طرح سے علماء کا جرم ثابت نہیں ہوسکا۔ ہم مدرسے والے ہیں۔ ہم جرائم کے لیے نہیں پیدا ہوئے۔ ہم تو امن کا درس دیتے ہیں۔
س: اب آپ نے کیا سوچا ہے۔ حکومت سے احتجاج درج کریں گے؟
ج: میں تو رات ہی دلی سے دیوبند پہنچا ہوں اور ابھی میں نے کچھ سوچا نہیں ہے!
س: لیکن جب اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ ایک طرح کے لوگوں کی شناخت پر سوال اٹھتاہے اور اگر آپ احتجاج نہیں کریں گے تو اسکے منفی اثرات ہوسکتے ہیں؟
ج: اخبارات کے مطالعے سے معلومات ہوتا ہے کہ لوگوں میں غصہ ہے نہ صرف دیوبند کے لوگوں میں بلکہ دوسرے علاقوں کے لوگوں میں۔
س: لیکن میں نے جو اخبارات پڑھے ہیں اس میں دیوبند سے کوئی بیان نہیں آیا؟
ج: اس کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا ہے۔ ابھی میں ذہنی طور پر فکر مند ہوں۔
س: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے کہا ہے کہ امیریٹس فلائٹ کو آپ کو معاوضہ دینا چاہیے؟
ج: اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو میں ان نے کو مبارکباد دیتا ہوں!
س: لیکن مسلم کمیونٹی کی جانب کوئی احتجاج نہ ہونا کیا کہتا ہے؟
ج: اس پر احتجاج ہونا چاہیے اور مجھے نہیں پتہ کیا اس پر مسلم تنظیمیں کیا سوچ رہی ہیں!
آخر میں جب میں نے ان سے یہ پوچھا کہ جب آپ کو ایک ’شدت پسند‘ سمجھا گیا تو کیا آپ کو صدمہ ہوا تو انکا کہنا تھا کہ ‘ میرے ذہن میں ابھی کچھ نہیں آرہا ہے’۔
پاکستان میں ہیجڑوں کے رجسڑیشن فارم میں ولدیت کے خانے نے ان کے لیے مسئلہ کھڑا کردیاہے۔ لاہور میں خواجہ سراؤں کے ایک گرو محسن آرزو نے کہا ہےکہ رجسٹریشن سے صدیوں پرانا وراثتی نظام متاثر ہوگا۔ اس نظام کے تحت ہیجڑے کی جائیداد کا وارث دوسرا ہیجڑا یعنی خواجہ سرا ہوتا ہے۔

پاکستان میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ہیجڑوں کی رجسٹریشن شروع کی گئی ہے جس پر ہیجڑوں کی ایک بڑی تعداد نے خوشی کا اظہار کیا ہے تو بعض کو تحفظات بھی ہیں۔


“خواجہ سراوں کی شادی:دلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی مذہبی رہنماؤں نے سخت مذمت کی ہے۔”
محسن آرزو لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت اورچونگی امرسدھو کے ہیجڑوں کے گرو ہیں اور ان کا اپنا ایک ڈیرہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب والدین اپنے ہیجڑے بچے کو اپناتے ہی نہیں ہیں اوروہ بچہ ان کے لیے شرم کا باعث بن جاتا ہے تو پھر ہیجڑوں کے رجسٹریشن فارم میں ولدیت کے خانے کا جواز ہی نہیں رہتا۔
محسن آرزو ہیجڑوں کے اس گروہ سے تعلق رکھتا ہے جن کے بارے میں پیدائشی طور پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ مرد ہیں یا عورت ہیں۔ہیجڑے کو کھسرا یا خواجہ سرا بھی کہا جاتا ہے جبکہ زنانہ یا زنخا ایک دوسری صنف ہے۔
محسن آرزو نے کہا کہ زنانہ یا زنخا جسمانی طور پر مرد ہوتا ہے لیکن اس کی روح اپنے آپ کو عورت سمجھ کر خوش ہوتی ہے۔انہوں نے کہا ایسے افراد کے فارم میں ولدیت کا خانہ درست مانا جاسکتا ہے لیکن ہیجڑوں کے معاملے میں نہیں۔
انہوں نے کہا ہیجڑے خود سے اپنی نسل نہیں بڑھا سکتے بلکہ عام مرد و عورت کے گھر جو بچہ نامکمل جنسی شناخت کےساتھ پیدا ہوجائے وہی ان کے خاندان کا حصہ بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے بچے اپنے ہی گھروالوں محلے داروں کے طنز طعنوں کا نشانہ اور ایک تماشہ بنتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ایسا بچہ جب اپنے جیسے کسی ہیجڑے یا کھسرے کو ناچتا گاتا اور خوش دیکھتا ہیں تو اپنے والدین بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ آملتا ہے۔
گرو اس کو اپنی اولاد بنا لیتا ہے اور اس کے لیے اپنی محبت نچھاور کرتا ہے اور ہیجڑا بھی خوش ہوتا ہے اور اس کے گھروالے بھی اس ’نجات” ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔
محسن آرزو کے ڈیرے پرموجود ایک بزرگ ہیجڑے حاجی مینگو نے کہا کہ والدین بہن بھائی تو ہمارے دشمن ہوتے ہیں۔وہ ہمیں ناپسند کرتے ہیں ہمیں اپنے گھروں میں آنے سے منع کرتے ہیں اور اگر کوئی ہیجڑا مر جائے تو اس کے جنازے پر نہیں آتے۔بہتر برس کے حاجی مینگو نے کہا کہ حکومت ایسے لوگوں کا نام کیوں ہمارے نام کے ساتھ جوڑنا چاہتی ہے جو ہمارے دشمن ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان میں ہیجڑوں کے گرو ہوتے ہیں جنہیں ان کے چیلے اپنی کمائی میں سے حصہ دیتے ہیں اور اس سے گرو کا ڈیرہ چلتا ہے اور وہ چیلوں کی فلاح و بہبود اور ان کے چھوٹے موٹے مسائل حل کرتا ہے۔
محسن آرزو کے پاس ایک ایسا شجرہ نسب ہے جس میں ان کے بقول مغلیہ دور تک کے گرو کے نام ہیں۔
محسن آرزو نے بتایا کہ کوئی بھی گرو کبھی بھی کرائے کے مکان میں نہیں رہتا بلکہ اس کا اپنا ذاتی مکان ہوتا ہے جو اسے اپنے سے پہلے والے گرو سے وراثت میں ملتا ہے۔انہوں کہا کہ املاک یا جائیداد گرو اور اس کے چیلوں کی کمائی ہوتی ہے اور گرو کے مرنے کےبعد انہی کی برداری میں سے نیا گرو اس کا انتظام سنبھالتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ولدیت کے خانے میں حقیقی باپ کا نام ہوگا تو پھرہیجڑے کا بہن بھائی اس جائیداد کے وارث بننے کے دعویدار ہوسکتے ہیں جس پران کے بقول اخلاقی طور پر ان کا کوئی حق نہیں ہے۔
محسن آرزو کے قومی شناختی کارڈ پر ان کے گرو کا نہیں بلکہ ان کے حقیقی والد کا نام ہے۔انہوں نے کہا ’میں رجسٹریشن آفس یعنی نادرا والوں کے دباؤ میں آکراپنے والد کا نام لکھوا دیا تھا اور جب مجھے غلطی کا احساس ہوا اور میں نے اپنے گرو کا نام لکھوانے کی کوشش کی تو رجسٹریشن آفس کے عملے نے تبدیلی سے انکار کردیا۔
حاجی سیاں اچھرہ کے علاقے کے گرو ہیں ان کا کہنا ہے کہ پہلے شناختی کارڈ بنوانے پر انہیں مسائل کا سامنا رہتا تھا اب رجسٹریشن ایک نئی مصیبت بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہیجڑوں کی رجسٹریشن کا اعلان کیا تو پہلے تو وہ بہت خوش ہوئے کہ اب انہیں معاشرے کے دیگر لوگوں کی طرح انسان سمجھا جائے گا اور ان کے مسائل کو بھی وہی اہمیت ملے گی جو باقی لوگوں کے مسائل کو ملتی ہے۔
انہوں نے کہا دوتین مہینے ہوگئے ہیں لیکن ان کے ڈیرے پر کوئی رجسٹریشن کرانے کے لیے نہیں پہنچا الٹامیڈیا میں خبریں آنے لگی ہیں اور اب یہ پریشانی کھڑی ہوگئی ہے کہ ولدیت میں اس شخص کا نام کیسے لکھوادیں جو ہمیں اپنی اولاد کہنے پر شرمندہ ہوتا ہے۔
محسن آرزو نے کہا کہ رجسٹریشن تو ہوئی نہیں لیکن ہم جو پہلے ہی تماشہ تھے اب اور تماشہ بن گئے ہیں
بشکریہ: بی بی سی اردو







تازہ ترین تبصرہ جات