Pak Galaxy | Information and Telecom News

↑ Grab this Headline Animator

Archive for the Category »خوشی «

میرا دیس

میرے لئے اپنے دیس میں لکھنا جتنا آسان ھے اتنا مشکل بھی ھے آپ کہیں گے یہ کیا بات ہوئی تو شاید اس کا جواب میں ٹھیک سے نہ دے پاؤں اس کی وجہ اپنے دیس سے وہ محبت ھے جو میرے دل میں ھے، مجھے پاکستان سے اس قدر محبت ھے کہ یہاں اگر کبھی کوئی چیز دیکھوں جس پہ میڈ ان پاکستان لکھا ہو تو میری آنکھیں بھر آتی ھیں ، میں خود کو پاکستانی کہلوانے میں فخر محسوس کرتی ہوں جبکہ آج کل کے حالات میں لوگ پاکستان کی پ بھی زبان پہ نہیں‌آنے دیتے،
بارش کے بعد اپنی مٹی کی وہ خوشبو ، سخت گرمی میں گہرے کالے بادلوں کا امڈ کے آنا بہار میں پھولوں کی مہک کس کس چیز کا ذکر کروں ، یہاں تو درخت بھی اجنبی لگتے ھیں پرندے بھی ، نہ کوئل کی کوکو ھے نہ کوے کی کائیں کائیں ،
میں نے اپنے کچھ دوستوں سے کہا کہ میں تو گلی میں آئس کریم یا دوسرے پھیری والوں کی‌آوازیں حتی کہ رکشے کی آواز کو بھی مس کرتی ہوں تو سب نے مل کے میرا مذاق اڑایا ، مگر میں‌خود کو نہیں بدل سکتی اتنے سال یہاں پردیس میں رھنےکے باوجود اب بھی ٹی وی پہ مجھے لاہور کی کوئی سڑک کوئی باغ کوئی عمارت نظر آ جاتی ھے تو میری دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ھیں مجھے لگتا ھے جیسا میرا وجود تو یہاں ھے میری روح وھیں رہ گئی ھے میں کوشش کے باوجود اپنے دیس کے ماحول سے وہاں کی یادوں سے خود کو الگ نہیں کر پائی، دیس کی محبت میں میری رگ رگ میں بسی ھے
جب بھی سوچتی ہوں کہ اب کبھی ممکن نہیں ہو گا وہ درختوں پہ جھولے ڈالنا سکھیوں کے سنگ باغوں میں جاکے چوری چوری آم امرود توڑنا ، کچھ یادیں خواب ہو جاتی ھیں ہم اس ماحول میں کبھی لوٹ نہیں سکتے
کاش ہمارے دیس کے حالات ایسے ہوتے کہ ہم سب وہاں سکون سے رہ سکتے تو آج ہزاروں یا لاکھوں لوگ پردیس کا عذاب نہ جھیل رھے ہوتے، میری دعا ھے کہ خدا ہمارے پیارے دیس کو سلامت رکھے دشمنوں کی بد نظر سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو ہدایت دے کہ ہم اس کی حفاظت کرنے والے بنیں نہ کہ جڑیں کھوکھلی کرنے والے

غزل

یہ بات اس کی ہے کرے یا حق ادا نہ کرے
محبت کرنے والا تو کبھی گلہ نہ کرے

اٹھیں جو راہ عشق میں قدم رکا نہ کریں
گریباں چاک ہو جو اس میں وہ سلا نہ کرے

دعائیں مانگ کہ سحر نصیب ہو تیرے
اندھیرا بخت میں جب ہو دیا جلا نہ کرے

یہ ٹھیک ہے کہ جدا سب نے ہونا ہے اک دن
ہمیں اس زندگی میں تو جدا جدا نہ کرے

یہ کیا شکائتیں تم دل کی آج لے بیٹھے
وہ دل ہی کیا جو مصیبت میں مبتلا نہ کرے

جسی یقین ہو اپنی محبتوں کا وہ
پکڑ کے ہاتھ لے جائے کوئی التجا نہ کرے

ہے کون دنیا میں جس کو نہیں کمی کوئی
جو چاہا جس نے وہ سب اسے ملا نہ کرے

اسے کہیں کہ اگر جینا ہے بگیر اس کے
تو پھر کبھی بھی میری عمر کی دعا نہ کرے

ایم ٹی عامر

کاش ہم اپنوں سے جدا نہ ہوتے

ہماری زندگی میں کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ لگتا ہے سب ٹھہر سا گیا ہے ۔سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہر انسان ایک جیسے واقعات ، حادثات، دکھ درد یا فرحت و انبساط پر ایک جیسے ردعمل کااظہار نہیں‌کرتا۔ کچھ لوگ اپنی داخلی کیفیت پر قابو نہیں رکھ پاتے۔اور اُن کا دکھ جگ ظاہر ہو جاتاہے ۔جب کہ دُنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنے دکھ کو اپنے اندر یپوست کر لیتے ہیں اور دوسروں کو حوصلہ دیتے نظر آتے ہیں ۔
اپنوں کی جدائی پر رونا جتنا آسان ہے اپنوں کی خوشی کے لئے ہنسنا اتنا ہی مشکل۔ ابا کہا کرتے تھے ” میری یہ خوشی مشکل سےمشکل کام کر سکتی ہے “۔ شاید اسی لئے وہ جاتے جاتے مجھے اتنا مشکل کام دے گئے ۔

ہم اپنے ارد گرد لوگوں کو اس دنیا سے رخصت ہوتے دیکھتے ہیں ، سنتے ھیں اور انالللہ،،،،، کے بعد چند تسلی بخش اور رسمی جُملے
” صبر کریں ” یا” اللہ صبر دینے والا ہے ” کہہ کر اپنا فرض اداکر دیتے ہیں۔مگر جب ہمارا کوئی اپنا پیارا ہم سے بچھڑتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے ۔” صبر کرو ” کا یہ جملہ اس وقت کتنا تلخ لگتا ہے ۔ قدرت کے اس قانون کے آگے ہم بے بس ہو جاتے ہیں۔ اپنی محبت، پیار، چاہت ، دولت سب کے عوض بھی ہم جانے والے کو روک سکتے ہیں نہ واپس لا سکتے ہیں۔ دنیا کے بڑے سے بڑے خزانے بھی یہ سب نہیں کر سکتے ۔ یہ کیسی بے بسی ہے۔۔۔۔۔؟؟
خدا پر یقین رکھتے ہوئے ہمیں اس کی رضا میں ہی راضٰی ہونا پڑتا ہے۔ مگر کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں ، جن کی کمی تا عمر محسوس ہوتی ہے ۔ ان کا جاناایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی تھے ۔۔۔ ابھی اٹھ کرگئے ہوں ۔۔۔اور ابھی لوٹ آئیں گے۔ اپنے پیاروں کا جدا ہونااور اس جدائی کو برداشت کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔
کاش ۔۔۔کبھی ایسا نہ ہوتا۔۔۔۔!!! کاش۔۔۔۔ ہم اپنوں سے جدا نہ ہوتے ۔کاش۔۔۔۔
مگر یہ کاش تو صرف کاش ہی ہے۔ اس کاش پر انسان کو اختیارنہیں۔

غزل

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وھی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے
جو محبتوں کی اساس تھے وھی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جنہیں مانتا ھی نہیں یہ دل وھی لوگ میرے ھیں ھمسفر
مجھے ھر طرح سے جو راس تھے وھی لوگ مجھ سے بچھڑگئے

مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے
مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وھی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے

یہ خیال سارے ھیں عارضی یہ گلاب سارے ھیں کاغذی
گل آرزو کی جو باس تھے وھی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ھوئے
جو مری طلب مری آس تھے وھی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے مرا خواب تھے
وہ جو روزو شب مرے پاس تھے وھی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

اعتبار ساجد

پردیس

پر دیس کیا ہوتا ھے مجھے نہیں معلوم تھا اور پر دیس کو پر دیس ہی کیوں کہا جاتا ھے اس حقیقت سے بھی آشنا نہیں تھی ، مگر جب میں نے اپنا دیس چھوڑا تب مجھے علم ہوا پردیس کیا ہوتا ھے اور اسے پردیس کیوں کہتے ھیں ، پردیس ایسا دیس ہے جس میں ہمارا اپنا کچھ نہیں ہوتا ہم چاھے سالہا سال بسر کریں ہم پردیسی ہی رہتے ھیں یہ ہمارا دیس نہیں بنتا

ہر ایک کی اپنے دیس کو چھوڑنے کی وجہ مختلف ہو سکتی ھے ، کسی کی مجبوری ہو سکتی ھے کسی کا شوق مگرذ را غور کریں تو تان وہیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ پہ‌آ ٹوٹتی ھے
خیر اس پہ بحث نہیں کہ ہم کیوں‌آئے پردیس ، مجھے تو صرف اتنا کہنا ھے کہ کیا ہم کوشش کرکے اپنے دیس میں اپنا بہتر مستقبل نہیں بنا سکتے ؟

میں پردیس کو ایک عذاب کہتی ہوں کیونکہ یہ ہمیں اپنوں سے دور کر دیتا ھے کئی بار ہم اپنے وسائل کے باوجود اپنوں کی خوشی غمی میں ان کے پاس وقت پہ نہیں پہنچ سکتے ، پردیس ایک ایسی جدائی کا نام ھے جو جیتے جاگتے ہم نے اپنے پیاروں سے بنا رکھی ہوتی ھے زندگی بہت مختصر ھے کوشش کریں کہ ایسی خود ساختہ جدائیاں کم سے کم ہوں اور ہم لوگ اپنے دیس میں اپنے ہی وسائل میں اپنے پیاروں میں خوش وخرم رہنا سیکھ لیں

خوشی کا سلام

میں یہاں تک پہنچ تو گئی ہوں مگر مجھے قطعی علم نہیں اس بات کا کہ مجھے یہاں کیا لکھنا ھے کیسے لکھنا ھے اور کیوں لکھنا ھے مجھے تو مشورہ دیا گیا یہاں آنے کا اور میں آ پہنچی یہاں۔


click tracking
Web Stat