Archive for the Category »روبینہ فیصل «
انسانیت کے نام ایک بچی کا کھلا خط
میرے اللہ نے جب انسان بنائے تو انسان اور جانور میں ایک ہی فرق ڈالااور وہ تھا انسانیت کا ۔۔ انسان کو انسانیت دی ، حیوان کو حیوانیت دی ۔اور اس ناطے انسان کو اشرف المخلو قات کہہ دیا ۔۔ میں بہت بڑی نہیں ہوں ۔۔ ابھی مجھے جوان ہونا ہے ، اس کے بعد بوڑ ھا ہونا ہے ۔ میری بات سے یہ نہ سمجھیں کہ میں بہت بڑی ہوں میں تو فقط تیرہ سال کی ہوں ، یہ بوڑھی بات مجھے میرے دادا نے بتائی تھی ، جی ہاں اسی دادا نے جنہیں آپ نے جہاز کے پہیئے سے لٹکتے دیکھا ہے۔ میرے دادا میں بہت غیرت تھی ۔ وہ ہر وقت عزتِ نفس اور غیرت کی بات کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے روٹی کچھ نہیں ،پیٹ سے اور جان سے بھی بڑی عزت ہے ۔۔مگر لوگو ایک دم نہ جانے کیا ہوا ، ہم سب روز کی طرح سوئے تھے ۔ صبح اٹھے تو ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔ اس پانی میں سب سامان بہہ رہا تھا ، ہم بہہ رہے تھے ۔۔ اور اسی پانی میں میرے دادا کی خوداری بہہ گئی اور میرے داد ا کہہ رہے تھے ، اپنی جان بچاؤ ، اور میرے دادا جب جہاز سے روٹی کا تھیلا گرتا تو اس پر جھپٹتے تھے اور میں ایک لمحے کو پہچان نہ پائی کہ یہ میرے وہی داد ا ہیں ، اپنے پیٹ کو تو شائد وہ سمجھا لیتے مگر ہمارے پیٹ کے لئے انہوں نے اپنے جھریوں بھرے ہاتھوں کو اللہ کی طرف اٹھانے کی بجائے جہاز کی طرف اٹھا دیا۔میرے دادا کے پاس اور باقی سب کے پاس جو چیز بچ گئی وہ تھا احساس، زندگی بچانے کا اور روٹی کھانے کا ۔۔ پہلے ہم اپنی چیزیں بچاتے رہے ۔۔ چیزیں نہ بچا پائے تو ایک دوسرے کی اور اپنی زندگی بچاتے رہے ۔ ہم سب سوچ رہے ہیں کہاں جائیں ۔۔یہ گاؤں ہم نے بسایا تھا ،اب ہم کہاں جا کر نیا گاؤں اور نیا گھر بسائیں گے ۔؟ اور کیسے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میں نے دور سے دیکھا میری سہیلی اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ پانی کے بیچوں بیچ بیٹھی روٹی کھا رہی ہے ۔ اس کی امی اسے ہر وقت پکارتی تھی ۔۔گل روٹی کھا لے وہ کھانے کی چور تھی مگر لوگو آج وہ کھانا چوری کرکے کھا رہی تھی ، مجھے معلوم ہے اس نے میرے سامنے کسی اور کے تھیلے سے روٹی نکالی تھی اور بھاگ کر اپنے بھائیوں کو بلایا تھا ۔۔اب چاروں طرف پانی ہی پانی ہے اور اس کے درمیاں وہ تینوں بہن بھائی اپنی چارپائی پر بیٹھے ایک دوسرے کے منہ میں لقمے ڈال رہے ہیں ۔۔ لوگو میری اس نخریلی سہیلی کا نخرہ پانی میں میرے دادا کی خوداری کے ساتھ ہی بہہ گیا ہوگا ۔۔۔ پانی میں ہم کچھ بھی نہیں بچا سکے ، نہ سامان ،نہ اپنی اپنی عادتیں ۔۔ سب بہہ گیا ۔
میرے ساتھ حسن اور حسین کا گھر تھا ۔ انہوں نے بہت سے پرندے اور جانور پال رکھے تھے ۔ حسن اور حسین بھی نہیں رہے ۔ ان کے جانور اور پرندے بھی مر گئے ۔ مجھے حسن کی لال پروں والی مرغی بہت اچھی لگتی تھی ۔۔ مگر لوگو ۔۔ مجھے حسن کے ساتھ کھیلنا اس سے بھی ذیادہ اچھا لگتا تھا ۔ دونوں مر گئے ہیں ۔ اس کی امی کو میں نے کہا اماں کھانا کھا لو ۔ وہ کہتی ہے لعنت ہے تجھ پر ایک حسین اورحسن پانی نہ پینے سے شہید ہوے تھے ، میرے حسین اورحسن پانی میں ڈوب کر شہید ہوگئے ہیں ۔۔اور تو مجھے کھانے کو کہتی ہے ۔۔ میں خاموشی سے آگئی ۔ مگر جب جہاز سے روٹی دینے والے آئے تو اماں جہاز کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔ مجھے لگا دادا کی اکڑ ، گل کے نخرے کے ساتھ ساتھ حسن کی اماں کا درد بھی پانی میں بہہ گیا ہے ۔۔ مگر جب میں بھاگ کر اس کے قریب گئی تو وہ کہہ رہی تھی میرے حسن اور حسین کے حصے کی روٹی تو پھینکو ،میرے بچے بھوکے پیاسے چلے گئے ۔ لوگو میری آنکھوں میں سیلاب کا پانی اتر آیا ۔ میں نے پتھر پر سر رکھا اور چیخ چیخ کر رونے لگی ۔ روتے روتے مجھے حیرانگی ہوئی کہ میری اماں مجھے چپ کروانے نہیں آئی ۔۔ لوگو جب مجھے یاد آیا کہ وہ تو پانی کے پہلے ریلے میں ہی بہہ گئی تھی ۔ تو میں نے پتھر سے سر اٹھایا اورآسمان کی طرف منہ کر کے چیخنا شروع کر دیا ۔۔ مجھے دادا نے بتایا تھا کہ لوگ مر کر آسمان کی طرف جاتے ہیں ۔۔مگر وہ مری تو نہیں تھی وہ تو بہہ گئی تھی ۔۔وہ اسی طرح بہہ کر واپس آجائے گی؟ ۔۔میں اور زور سے روتی ہوں ۔۔میرا رونا سن کر وہ ضرور واپس آجائے گی ۔ میرے باپ نے میرے چھوٹے بھائی کو پکڑا ہوا ہے ، وہ بلک بلک کر ماں کے لئے رو رہا ہے ،اسے جہاز سے گرنے والی روٹی نہیں چاہیئے ۔۔لوگو اسے ماں کی چھاتی سے دودھ چاہیئے ۔۔ وہ اتنا چھوٹا ہے ۔۔وہ روٹی نہیں کھا سکتا ۔۔اسے دودھ چاہیئے ۔۔ مگر دودھ کہاں گیا ۔۔ماں کے ساتھ بہہ گیا ۔۔پانی میں غرق ہوگیا ۔۔ میرا گھر چلا گیا ، میرے گھر کی چھت بہہ گئی ۔ میرے دوست حسن اور حسین مر گئے ،ان کے جانور پرندے بہہ گئے۔۔ میری سہیلی کا نخرہ مر گیا اور میرے دادا کی اکڑ پانی میں بہہ گئی،میری ماں بہہ گئی ،میرے بھائی کا دودھ ساتھ لے گئی ۔۔ لوگو ۔۔یہ کیسا پانی تھا جس میں سب بہہ گیا ؟سب برباد ہوگیا ۔
ہمارے گاؤں کے لوگ تو پانی کو ترستے تھے ،مگر یہ کیا ہوا پانی میں ہی مر گئے ۔ ہم تو عام لوگ تھے ، میرے دادا جیسے اور بھی بہت سے لوگ تھے ۔جن کے پاس غیرت تھی ،میری ماں جیسی بہت سی عورتیں تھیں جو پاکباز اور نمازی تھیں ۔ حسن اور حسین جیسے اور بھی بہت سے جوان تھے جو جانوروں اور پرندوں کو بھی محبت سے رکھتے تھے ، اپنی جان سے زیادہ ان جانوروں کو عزیز رکھتے تھے ۔میری سہیلی جیسے اور بھی بہت سے لوگ تھے جو اپنا کھانا دوسرے کو بانٹ کر کھاتے تھے ۔۔ یہ سب اچھی باتیں تھیں مگر لوگو پھر اب یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ ہمارے اعمال کی سزا ہمیں ملی ہے ؟ کیا ہمارے کام اتنے ہی برے تھے کہ ہمارا گاؤں غرق ہوگیا لوگ مٹ گئے اور جو باقی بچ گئے ہیں تو کسی کی ماں نہیں اور کسی کے بچے نہیںیوں آدھا آدھا بچنا بھی کوئی بچنا ہوتا ہے ۔لوگو میرے سامنے رہنے والی خالہ اپنی تین بیٹیوں کو ڈوبتے دیکھتی رہی اور بچا نہ پائی ۔اس کی آنکھوں میں اس کی تین بیٹیوں کے ڈوبنے کا منظر اس کے کس گناہ کے جرم میں بھر دیا گیا ہے ؟ کیا اس کا گناہ اتنا بڑا تھا ؟ کیا گناہ تھا ۔۔؟
آپ سب لوگ کہتے ہو ہمارے اعمال کی سزا میں یہ تباہی مقدر بنی ہے ۔ لوگو بتاؤ ہمارے کیا اعمال تھے ۔۔میرا دادا بات بہ بات غیرت کھاتا تھا ۔وہ کہتا تھا میرا پیٹ میری عزت اور غیرت سے بڑا نہیں ہے ۔ دیکھو لوگو اس کا یہ گناہ کتنا بڑا تھا اللہ نے اسے ایسا مزہ چکھایا ہے کہ وہ اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھائے روٹی کے پیچھے بھا گا پھر رہا ہے ۔ اور کل تو وہ روٹی لینے والوں کی اس قطار میں کھڑا تھا جہاں ایک وزیر ہو کر گیا تھا ۔ وزیر کے احترام میں روٹی کھولی نہیں جا رہی تھی ۔ اس کے جاتے ہی قطار بنانے کو کہاگیا ،فاقہ ذدہ لوگ پہلے ہی کافی انتظار کر چکے تھے ، بھوک سے پیٹ میں بل پڑ رہے تھے ، ماں باپ اپنی بھوک برداشت کرتے تو بچوں کی بھوک ان کے کان پھاڑتی تھی ، ایسے میں لوگ بے تاب ہو کر، قطار توڑ کر کھانے پر ٹوٹ پڑے تھے ، اس میں میرا دادا بھی تھا ، اس خطرناک ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس نے لاٹھیاں ماریں ۔۔ لوگو! انسانیت کے ٹھیکداروں ! اس میں میرا بوڑھا دادا بھی تھا ۔۔ جس نے مجھے یہ بڑی بڑی باتیں سکھائیں ، جو انسان اور جانور کا فرق پڑھاتا پڑھاتا آج جانوروں کے ہاتھوں جانوروں کی طرح ہی پٹ رہا ہے ۔۔میرے دادا کا ایک دوست لاٹھی کھا کر زمین پر گرا تو اٹھ نہ سکا ۔ وہ بھوک سے شائد نہ مرتا ، سیلاب سے بھی بچ گیا ، کیمپوں میں پھیلنے والی بیماریوں سے بھی بچ جا تا مگر لوگو اسے پاک پولیس کی ایک لاٹھی نے مار دیا ۔ وہ اس سے نہ بچ سکا ۔
میرے سامنے ایک باپ بیٹھا ہے ، اس کے پاس چھوٹی سی چھتری ہے ۔اورا س چھتری کے نیچے وہ اپنے تین بیٹوں ، ایک بیوی اورا س کی گود میں بیٹھی ایک بچی کو بچا رہا ہے ۔اس پورے خاندان کی اس ایک چھتری تلے نہ جانے بچت ہے کہ نہیں ، پناہ ہے کہ نہیں ۔۔مگر یہ منظر میرے دل میں یہ سوال ضرور اگاتا ہے کہ ہمارے گھر کا سربراہ اپنی چھتری لئے کہاں گھوم رہا ہے ۔۔ وہ جسے صدرِ پاکستان کہتے ہیں ،اور میرے گاؤں کے چوہدری بتاتے تھے کہ صدر ملک کا باپ ہوتا ہے تو لوگو یہ باپ جو گنہہ گار ہے ، آپ لوگوں کی تعریف کے مطابق اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے کہ کھلے آسماں تلے اس کے پاس فقط ایک چھتری ہے اور وہ اس کے نیچے اپنے پورے خاندان کو بچا رہا ہے ، بارش کا پانی اس کو بھگوتا ہے مگر وہ بچوں کو اس طوفانی پانی سے بچا رہا ہے ،مگر وہ باپ جو میرے ملک کا ہے وہ کہاں ہے ، کیا ا سکے پاس چھتری نہیں ہے جو وہ مجھے اور مجھ جیسے اس ملک کے لوگوں کو جنہوں نے کچھ ایسے گناہ کئے تھے جن کی سزا ان کے گھروں کی اور چھتوں کی اور زندگیوں کی مکمل تباہی تھی ، تو ہم جیسے گنہہ گار بچوں کو بچانے ان کا باپ چھتری تھامے کیوں نہیں آتا ۔۔ اس کے پاس کوئی گناہ ہوتا تو کیا وہ بھی تباہ نہ ہوجاتا ۔ میرے دادا کے بڑے بول ، غیرت کی باتیں ، خوداری کی للکا ر ،ایسا کوئی عیب نہیں ہوگا نا میرے ملک کے باپ کے کردار میں ۔ میری سہیلی کی طرح مل بانٹ کر کھانے کا کوئی جرم ا س نے نہیں کیا ہو گا نا ، حسن اور حسین کی طرح جانور چھوڑ اس نے کبھی انسان سے پیار کرنے کا گناہ بھی نہیں کیا ہوگا نا ۔میرے ملک کا باپ ایسے ہر گناہ سے پاک ہے ، اسی لئے طوفانی بارش کا نہ تو پانی اس کا کچھ بگاڑ سکا اور نہ ہی پانی میں مرتے لوگ اس کی کسی رات کو بے خواب کر سکے ،اس کے کسی غیر ملکی دورے کو متاثر کر سکے،اس کے کسی انسانی جذبے کو بیدار کر سکے ۔۔ ہم چھوٹے سے گاؤں کے لوگ ۔ ہمارے گناہ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ عذابِ الہی کی وجہ بن بیٹھتے ہیں اور بڑے لوگوں کے بڑے بڑے گناہ ، دلوں کی کدورتیں ، نفرتیں اور حسد اتنے پاک باز ہوجاتے ہیں کہ وہ ہم جیسوں کو ٹرکوں میں ، جہازوں میں کھانا بھر بھر کر دینے آتے ہیں ۔۔۔
اللہ تو نے انسانیت کس کا نام رکھا ؟ ۔میرے بس میں ہو تو میں بھی اپنے دادا کی طرح غیرت اور خوداری کا اعلان کر دوں ، مگر میں جانتی ہوں میری اس للکار سے میری پوری بستی تباہ ہوجائے گی جو کہیں اور جا کر بسنے والی ہے ۔۔ جس میں ہر گھر کے آدھے آدھے لوگ ہیں ۔ نہ ساماں ہے ، نہ مکان ، نہ مکین ۔۔اور جو ہم کچھ لوگ بچ گئے ہیں ، جانوروں کے ساتھ مل کر سڑکوں ، گلیوں ، پہاڑوں میں ایک روٹی اور ایک چھت کے لئے دوڑ رہے ہیں ۔۔ میرے ساتھ کتنے بچے ایسے ہیں جو اس سب بربادی کو ایک کھیل تماشہ سمجھ رہے ہیں ، وہ اس میں بھی خوش ہیں ۔۔اور لوگو ان بچوں کی یہ معصومیت بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے ۔۔بہت بڑا ۔ انہی گناہوں نے ہمیں دنیا سے بہت جلد نیست و نابود کر دیا ہے ۔ اور وہ لوگ جو صاف ستھرے کپڑے پہنے ، اجلے گھروں میں اور روشن گلیوں میں گھومتے ہیں ۔ جن کے پاس رہنے کو محل ہیں ۔۔خدا کا عذاب ان پر کیوں آئے گا ۔۔۔۔ ان کے گناہ ہمارے جتنے بڑے تو نہیں ہیں نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم تو اس دنیا کے سب سے بڑے گنہ گار ہیں۔
لوگو ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے گھر نہیں بسا سکتے مگر ہمارے مکان تو بنا دو ۔
ہماری روحیں نہیں لوٹا سکتے مگر ہمارے جسموں کو بیماریوں سے پاک کرنے کا تو انتظام کر دو
ہمارے لئے بارش کے سیلابی پانی کو نہیں روک سکتے ،ہمارے لئے پینے کا صاف پانی تو مہیا کر دو
ہم بچوں سے ہمارے سکول ، آنگن سب چھن گئے ہیں ۔۔۔۔ہمیں اس کا کچھ تو لوٹا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم گنہ گار تھے سب تباہ کروا بیٹھے ۔۔آپ لوگوں پر اللہ کی رحمت ہے ، اس رحمت کا کچھ حصہ ہمیں تو عطا کر دو ۔۔۔
اللہ نے انسانیت کا نام دے کر انسانوں کو جانوروں سے الگ کر دیا ۔۔۔ اسی انسانیت کے نام پر جو انسانوں اور جانوروں میں فرق رکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنے والی عید پر ہم کیا کریں گے؟یہ سوچئے ۔بس ۔۔ہم نے غیرت سے توبہ کی کیوں کہ پیٹ ان سب سے بڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔دادا تم غلط کہتے تھے ۔۔بھوک ،پیاس ،کپڑا اور مکاں یہ کسی بھی غیرت سے بڑے ہیں ۔ آج ہمارے ہاتھ پھیلے ہیں اور دینے والوں کی طرف نظریں اٹھی ہیں ۔۔ گردنیں تو جھکی ہیں ۔۔ وہ تو جھکی ہیں ۔مگر اپنے بہن بھائیو کے آگے ۔اللہ ہمیں غیروں کے آگے جھکنے سے بچانا ۔۔اتنا تو بچا لینا ۔
مشاعرے تو بہت سے دیکھے سنے ۔مگر میں آج تک ا س سماں سے باہر نہیں آسکی جو قرطبہ مسجد کے پہلو میں بسے ایک ہوٹل کے ہال میں ہوا ۔
یورپ اور نارتھ امریکہ سے آئے شاعر اور شاعرات تھے اور اس کے ساتھ ساتھ قرطبہ کے مقامی شاعر تھے ۔ یہ مشاعرہ بارسلونا اور قرطبہ میں اردو کانفرس کا تیسرا اور آخری حصہ تھا ۔سب شاعر اور شاعرات آپس میں ایک دوسرے کو نہ اتنا جانتے تھے اور نہ وہاں پر گروپ بندیاں تھیں ۔ ڈاکٹر تقی عابدی کی سربراہی اور صدارت میں ہونے والا یہ مشاعرہ میرے حساب سے ایسا مشاعرہ تھا جسے مدتوں یاد رکھا جائیگا،اس کی وجوہات ہیں گروپ بندیوں کا نہ ہونا ، سب کا ایک دوسرے کے لئے تقریبا انجان ہونا ،داد میں تعصب پرستی اور اقربا پروری کا نہ ہونا ۔ نوجوان شاعروں کی شمولیت اور ان کا بھر پور خیر مقدم ، سٹیج پر بیٹھے سب مہمانانِ خصوصی کا باشعور ،با ذوق اور عاجز مزاج ہونا ۔اور سب سے بڑھ کر سامعین کا جوش وخروش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا تجزیہ کیا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سب وجوہات کی کیا وجہ تھی ؟
میں جب سے قرطبہ سے لوٹی ہوں یہی بات سوچتی جارہی ہوں کہ مشاعرہ اتنا جاندار اور توانا کیوں تھا ؟ کیوں لگتا تھا ہال کی چھت داد و تحسین کے نعروں سے اڑ جائے گی ۔میری آنکھوں کے آگے اچانک ایک ہاتھ لہرایا ،سٹیج پر بیٹھے خاص مہمان نے ایک دم باآوازِ بلند واہ واہ کی ،نوجوان شاعر جو ہلکا سا گھبرایا تھا ۔۔اس واہ واہ سے جی اٹھا ، اس کا سر جو ہلکا سا اٹھا تھا یک دم سے کندھوں سے بہت اوپر بلند ہوگیا ۔ اس کی آواز میں بلندی ، تیزی اور اعتماد کود کر آگیا ۔ عام سا شعر ایک دم خاص ہوگیا ۔ داد نے نوجوان شاعر کے اندر ہوا بھر دی ، اور جب وہ اس کے سہارے اڑا تو اس کا شعر بھی بلند ہوگیا ۔۔ پھر جو اس نے اعتماد سے پڑنا شروع کیا تو ہال داد سے گونج اٹھا ۔۔اور یہ ایک نوجوان نہیں تھا ، اس طرح کے بہت سے نوجوان آتے گئے ۔۔ چھاتے گئے ۔ ڈاکٹر تقی عابدی جو خاص مہمان تھے ، جو صدارات پر بیٹھے تھے ، ان کی عاجزی اور داد نے محفل کو جان دی ۔۔۔۔۔۔ اور یہ وجہ تھی ان سب وجوہات کی ۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا داد کیا ہوتی ہے ؟ اس سے پہلے میں سمجھتی تھی اچھا شاعر خود ہی جانتا ہے کہ شعر اچھا ہے بس ہلکے سے اچھا ہے کہہ دو ۔ یا واہ واہ ۔۔مگر ہماری اردو کی روایت مشاعرہ اس کی جان داد میں ہے ۔ یہ شاعر کو خود اعتمادی اور اس کے شعروں کو حسن بخشتی ہے ۔ اور یہ بات اس دن مجھے قرطبہ کے مشاعرے میں سمجھ میں آئی ۔ اور یہ سمجھ کبھی نہ آتی جب ڈاکٹر تقی عابدی کی شخصیت میرے سامنے نہ ہوتی ۔۔۔۔۔ ان کی شخصیت کے اس پہلو نے ان کے قد کو میری نظروں میں بلند کر دیا ۔۔ مجھے لگا ڈاکٹر صاحب جس طرح نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ، اور جتنی محنت اور تردد کر رہے ہیں اے پتہ نہیں کبھی کوئی سراہے گا یا نہیں ۔۔ دوسروں کی حوصلہ افزائی کر کے اور جوانوں کو اردو میں آگے بڑھتا دیکھنے کے لئے جس طرح وہ ٹخنوں سے پاجامہ اٹھا کر پانی میں گھسے ہوئے ہیں ، قلم کی تلوار سے اپنے مقاصد سیٹ کر کے جہاد کر رہے ہیں ،دانشوروں کی ا س دنیا میں کبھی کوئی انہیں بھی داد دے گا یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بس یہی سوچتے ہوئے سوچا کہ ایک دفعہ میں تو ہاتھ کو ماتھے پر لے جا کر ڈاکٹر تقی عابدی کو سلیوٹ کر دوں ۔ان کی بدولت میں نے ایسا مشاعرہ دیکھا جو ذہن سے محو ہی نہیں ہوتا ۔
جوش کا یہ عالم تھا کہ رات کے تین بج گئے اور دوپہر کا کھانا کھائے ہوئے لوگوں کے معدے بھی مضبوطی سے وہیں ڈٹے رہے ۔ کسی سے بھوک کی آواز نہیں آئی ۔کسی کو کھانے کا ہوش نہیں تھا ،اردو کی غزلیں اس دن انڈین گانوں پر بھاری ہوگئیں ۔ شعر فلموں سے ذیادہ ہٹ ہوگئے ۔میں نے ایک دفعہ پہلے لکھا تھا جس طرح سیاست میں لیڈر چاہیں اسی طرح ہماری قوم کو میڈیا میں بھی لیڈر چاہیں ۔ اس دن مجھے لگا لیڈر تو ہمیں ہر جگہ چاہیں ۔اگر سٹیج پر بیٹھا صدر سامعین کو اپنی طرز پر نہیں موڑ سکتا تو اسے سٹیج پر بیٹھنا ہی کیوں ہے ؟ اگر سٹیج پر بیٹھا شخص لیڈر ہے تو وہ وہیں بیٹھے بیٹھے لوگوں کو تعلیم بھی دے دیگا اور راہبری بھی ۔ ذوق بھی اور شعور بھی ۔
اس دن سپین میں نجانے کتنے نئے شاعر پیدا ہوئے اور کتنے اردو شاعری سے پیار کرنے والوں کا جنم ہوا ۔۔ جیسے جو لوگ وہاں پہلی دفعہ مشاعرے میں آئے تھے ۔۔میں نے انہیں کہتے سنا ۔اب تو ہم کبھی کوئی مشاعرہ نہیں چھوڑیں گے ۔ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ شاعر اتنے فنکار لوگ ہوتے ہیں کہ بڑی بڑی باتوں کو دو لائنوں میں سمو دیتے ہیں ۔ عام کم پڑھے لکھے لوگوں کا یہ تبصرہ شاعروں کے لئے ایک ایسے سرٹیفکٹ کی حیثیت رکھتا ہے جسے وہ لاکھ حکومتی ایوارڈ حاصل کر نے کے بعد بھی نہیں لے سکتے ۔
اردو کی ایسی کانفرسوں اور مشاعروں کو برپا کرنے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ عام لوگوں میں اردو سے محبت پیدا ہو ۔۔ اس کی بقا کے لئے کام ہو ، ترقی اور ترویج کے طریقے دریافت کئے جائیں ۔۔ اس مشاعرے کے بعد لوگوں کی شاعروں سے محبت اور عقیدت دیکھ کر میں کہہ سکتی ہوں کہ یہ کانفرس ، یہ مشاعرہ بہت کامیاب تھا ۔ عام لوگوں کے دلوں میں شاعروں کے لئے محبت اور عقیدت تھی ۔ ان کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ ، جب قوم فخش سٹیج ڈراموں اور لچر گانوں کے پیچھے پاگل ہورہی ہو ایسے میں شاعروں اور ادیبوں کی محبت میں انہیں مبتلا کرنے کا مطلب ہے کے ہم نے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے اور اس طرح ہم قوم سے کچھ اور بھی اچھے کی امید رکھ سکتے ہیں ۔
ہر شعبے کی طرح ہمیں اردو زبان اور ادب میں بھی لیڈر چاہیے جو اپنی ذات سے بلند ہو کر سوچیں ۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں ۔نہ کہ یہ کہ کسی کا تلفظ پنجابی ہے تو وہ اردو نہیں لکھ سکتا یا یہ کہ کوئی اردو میں بھاری بھر کم فارسی نہیں ٹھونس سکتا ۔یا اردو کے مشکل الفاظ کا بھاری غرارہ نہیں پہن سکتا ۔۔اردو کو عام فہم کر کے دوڑا دیجئے گلیوں بازاروں میں ۔ اور اس کو ایسے لیڈر لیڈ کریں جو اپنی ذات سے نکل کر سوچیں ۔ یہ نہیں کہ مائیک پر کھڑے ہو کر اپنی تعریفوں کے پل باندھ دیں اور دوسرے پر تنقید کی بھر مار کر دیں ۔ بڑائی دوسرے کو نیچا دکھانے میں نہیں اپنے آپ کو بلند کر نے میں ہے ۔اور آپ کی بلندی وہ نہیں جو آپ خود بیان کرتے ہیں ،جو دوسرے آپ کے بارے میں کہیں وہیں آپ ہیں ، اور وہیں آپ کے کارنامے ہیں ۔
دوسروں کی اچھائی پر نظر رکھ کر اگر ہم اپنی برائی پر آنکھ رکھیں گے تو دنیا میں سب اچھا ہوجائے گا ۔ دوسروں کو سدھانے جو لوگ کچھ ٹھان کر نکلیں ہیں ، وہ اس مشن کا آغاز اپنے وجود سے کریں ۔یقین مانئے اپنی اصلاح میں ہی ساری عمر بیت جائے گی ۔ اور دوسروں کے عیبوں تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی ۔ سٹیج پر بیٹھے ڈاکٹر تقی عابدی کو نیا لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے دیکھ کر مجھے امید بندھی کہ ابھی ہم لیڈر شپ میں بھی مکمل طور پر بانجھ نہیں ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحب بار بار کہتے جاتے تھے کہ ایسا اچھا لکھنے والے ہیں تو میں اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں اورمیں تو یہ کہوں گی کہ اگر ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ ، جن کی آواز آج بھی بارسلونا اور قرطبہ میں گونج گونج کر کہ رہی ہے ۔۔پھر سے پڑھیئے ۔۔۔۔بہت خوب ۔۔کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔ سپین کے جوان شاعروں کے دل میں بس گئے ہیں ۔ وہاں آج بھی جس سے بات ہوتی ہے ان کی آواز میں ڈاکٹر صاحب کے لئے عقیدت اور محبت ہے ۔ اور ان کے دلوں میں وہ الفاظ ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے ان کی حوصلہ افزائی میں کہے تھے اور انہی الفاظ کے سہارے انہیں لگتا ہے کہ وہ اور شعر کہیں گے ۔۔اور کہتے چلے جائیں گے ۔ اور ڈاکٹر صاحب آپ آج کے جوان کو دیکھ کر اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں اور میں آپ جیسے ادب میں لیڈر دیکھ کر اردو ادب کا جھنڈا بہت بلند دیکھ رہی ہوں ۔
تین جولائی 2010 میری شکست کا دن تھا ۔ میں جب قرطبہ مسجد میں داخل ہوئی میرے ساتھ نور الصباح سیمیں برلاس اور اردو کانفرس میں شریک ایک جرمن مندوب تھا ۔آٹھ یورو کی ٹکٹ میرے ہاتھ میں تھی ۔۔اور میرے آگے میری لٹی ہوئی سلطنت تھی ۔ میں اس کی بادشاہ تھی اور میں نے اس کی تعمیر اور تزئین میں لاکھوں ،کروڑوں دینار خرچ کر دئیے ۔ میں نے اس کے سنگِ مر مر کے ستونوں پر سونے کا کام کیا تھا ۔ میں نے اس کو جامع مسجد دمشق کا ہم پلہ بنا کر اہلِ اندلس و مغرب کو ایک نیا مرکز دیاتھا ۔ میں نے اس مسجد کو جو پہلے st vincent چرچ کا ایک چھوٹا سا حصہ تھی،السمیع بن مالک الخوانی کے زمانے میں اسے خریدنے کی کوشش کی تاکہ میں اپنی مسجد بڑی کر سکوں مگر چرچ والے نہ مانے ۔۔عبد الرحمن داخل کے دور میں بالاخر منہ مانگی قیمت دے کر اسے خرید لیا ۔ پہلے دو سال میں ہی اسی ہزار دینار کا خرچہ ہوگیا ۔ بے دریغ پیسہ اور محنت اور محبت لٹائی گئی ۔ جب جب حکمران بدلتے رہے ۔۔ اس کی آرائش میں اضاٖفہ ہوا ۔ میں نے اس کے محرابوں میں جو سنگِ مر مر لگا یا وہ دودھ کی طرح اجلا اور ہیرے کی طرح چمکیلا تھا ۔ اس کے اندر میں نے کھبی فانوس اور موم بتی کی روشنی مدہم نہیں ہونے دی ۔ اس کے اکیس دروازے بنائے ۔۔محرابوں ، ستونوں اور منبروں سے آراستہ کیا ۔ میں نے اس پر سب کچھ لٹا دیا ۔
اور آج جب میں لندن سے آئی ایک شاعرہ اور جرمن شاعر کے ساتھ اپنی اس شاندار یادگار میں داخل ہو رہی تھی ۔جسے بنانے میں میں نے دن نہیں ، مہینے نہیں سال نہیں صدیاں گذاری تھیں تو میری ٹانگیں کانپ گئیں ۔۔وفد کے باقی لوگ ادھر ادھر بکھر گئے ۔ میری رنگت زرد ہوگئی ۔ کیونکہ مجھے ایک سکیورٹی گارڈ کے چلانے کی آواز آئی ۔۔وہ سکارف باندھی خاتون اور داڑھی والے حضرت کو کہہ رہا تھا ۔۔no pray ، میں نے جب بہت صدیاں پہلے اسے چرچ کی حالت میں دیکھا تھا تب بھی اس کے ایک کونے میں ایک ایسا چھوٹا سا مقام تھا جہاں میں نماز پڑھ سکتی تھی ۔ میں دعا مانگ سکتی تھی اور میرا بھائی اذان دے سکتا تھا ۔ اس کو خریدنے ، سجانے سنوارنے ،لاکھوں دینار اس پر خرچ کرنے ،اسے دینا کے عجائبات میں شمار کروانے کے بعد آج میں st .vincent کے پہلو میں بستی اس چھوٹی سی مسجد اور معصوم سے سجدے سے بھی محروم ہوگئی ہوں ۔ تین جولائی کو مجھے شکست ہوگئی ۔ میں نے اندلس کی چابیاں پھینکیں۔۔پھینکیں بھی نہیں پلیٹ میں سجا کر ا سکے اوپر لال ورق لگا کر فرنیڈنس کے حوالے کر دیں ۔۔۔۔۔سر کو جھکایا ۔اتنا کے میرا سر میرے گھٹنے تک آلگا ۔میری آنکھیں شکست کے آنسوؤں سے بھر گئیں جب میرا ایک ساتھی ایک کونے میں چھپ کر اذان دے رہا تھا اور دوسرا ایک کونے میں اپنے آگے تین چار دوست کھڑے کر کے نماز پڑھ رہا تھا ۔۔ کیا میرے اللہ کو اس اذان اور اس سجدے سے کوئی مطلب ہے ؟ کیا ان کی اس چوری سے میرا گھٹنے سے لگا سر اٹھ جائے گا ؟ کیا میں ساتھ کھڑے جرمن کی اپنے چہرے پر جمی متجسس آنکھوں کا جواب دے سکوں گی ۔ اس نے پوچھا تم ٹھیک ہو؟ تمھار ارنگ زرد ہورہا ہے ۔۔ اور میں نے اپنی آنسوؤں سے بھری آنکھیں دوسری طرف کرتے ہوئے اپنے ساتھ کھڑی سیمیں کو کہا اس سے بات کرؤ ۔۔ میں زرا بھاگ کر وہ ستون دیکھ آؤں ۔۔اس کے بعد وہ دونوں باتیں کرتے رہے ۔ اور میں ایک ستون سے دوسرے ستون تک بھاگتی رہی ۔میں صدیوں سے بھاگ رہی تھی، میں اپنے گمشدہ سجدے ڈھونڈ رہی تھی ۔ کھوئی ہوئی اذانوں کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔ شہزاد ارمان کے ہاتھ میں کیمرہ تھا اور ارم کے ہاتھوں میں مائیک ،وہ قرطبہ کی مسجد پر تاثرات لے رہے تھے ۔ اور میں جلدی سے دوسری طرف رخ موڑ کر بھاگنے لگی ۔۔۔ مجھ میں اپنا جنازہ پڑھنے کا حوصلہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ اپنی موت پر آپ خود کیسے تاثرات دے سکتے ہو ؟ مجھ سے کوئی پوچھے گا تو میں کیا کہوں گی ۔ اندلس کی چابیاں میں نے ہار دیں ۔۔انہیں گلے کا ہار کیسے بناؤں ۔۔ میں ادھر ادھر ستون دیکھتی رہی ، بس تصویریں کھینچتی رہی ۔۔ اور کیا کرتی اس وقت آنکھیں نہ کچھ دیکھ رہی تھیں نہ کان کچھ سن رہے تھے ۔ دل دماغ خالی تھا ۔۔ بس کیمرے کا فلیش کام کر رہا تھا ۔۔ اور میری انگلیاں جن میں وہ کیمرہ تھا بے جان تھیں ۔وہ ہاتھ دنیا کی دوسری بڑی مسجد میں رب کے آگے دعا کو نہیں اٹھ سکتے تھے ۔ہاتھ بلند ہوں تو سیکورٹی گارڈ یوں ڈانٹتا ہے جیسے کوئی گناہ ہو گیا ہو ۔۔ رب کے گھر میں رب سے بات ہی نہیں کرسکتے ،
حدیں وہ کھینچ رکھی ہیں حرم کے پاسبانوں نے
کہ بن مجرم بنے پیغام بھی پہنچا نہیں سکتے
میں کسی غیر سے نہ شکوہ کرتی ہوں ،نہ گلہ ۔۔ ہم مجرم بھی خود بنے ہیں ۔ قاتل بھی خود ہیں اور گناہ گار بھی خود ہیں ۔ میں اپنی بربادی کی خود ذمہ دار ہوں ۔ میں اپنی مسلسل بر بادیوں کی ذمہ دار خود ہوں ۔ میں کل آنے والے بر بادیوں کی ذمہ دار بھی خود ہونگی ۔ میں شکست کھا کر اس سے سیکھ چکی ہوتی تو کہانی اتنی دردناک نہ ہوتی ، اندلس کی چابیاں ایک دفعہ ہاری ہوتیں ، حوالے کی ہوتیں تو خیر تھی ۔ ابو عبد اللہ ایک دفعہ ہی پیدا ہوتا تو خیر تھی ۔ جنرل موسی ایک دفعہ اپنی بہادری میں تنہا رہ جاتا تو خیر تھی ۔مگر یہ ساڑھے آٹھ صدیاں پہلے چلا ہوا رواج آج تک چلتا جا رہا ہے ۔ ابو عبد اللہ بار بار پیدا ہورہے ہیں ، جنرل موسی بار بار مر رہے ہیں ۔چابیاں غیروں کے حوالے بار بار کی جارہی ہیں ۔تین جولائی2010 شکست کا دن تھا ۔
اسی دن مجھے پتہ چلا کہ دسمبر 2006میں جب سپین کے مسلمانوں نے پوپ بینڈیکٹ سے اپیل کی تھی کہ انہیں وہی پرانی مسجد نماز کے لئے استعمال کرنے دی جائے تو ان کی یہ اپیل مسترد کر دی گئی تھی کہ مسجدِ قرطبہ جو آج بھی مسجد کے نام سے ہی جانی جاتی ہے اسے مشترکہ عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ مسجد کی روح تو زخمی ہے ہی ۔ مسجد کے جسم کو چھلنی دیکھ کر ایک عجیب سا احساسِ شکستگی پھیل گیا ۔۔ کہ میں وہ ہوں جس سے مسجد کی ایک بار بھی حفاظت نہ ہوسکی ۔ میں وہ ہوں جس نے بار بار مسجد کو بیچا ۔ کہیں بحرین اور قطر کے ہوائی اڈے پر چابیاں رکھیں اور غیروں کو استعمال کرنی دیں ۔ کہیں سعودی عرب اور دبئی میں سارے بزنس غیروں کے حوالے کر دیے ، آج نیویارک سٹاک ایکسچینج میں 8%عربی لوگوں کے حصص ہیں برطانیہ اور امریکہ کے بنکوں میں تمام عرب ممالک کا پیسہ ہے ۔ شام ، مصر ، ترکی ، سب جگہ مسلمان حکمران ابو عبد اللہ ہیں ۔۔آج بھی افغانستان اور پاکستان میں ہم نے اپنی چابیاں غیروں کے حوالے کر کے صرف چند چند سال کی شہنشاہی مانگی ہے ۔
سارے مسلمان ممالک کو چھوڑئے ۔۔ آج مجھے پاکستان میں اذانیں گمشدہ اور سجدے بھٹکے ہوئے لگتے ہیں ۔ چابیاں حوالے کر دی گئی ہیں ۔
ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ آج اندلس ہر جگہ بک رہا ہے ۔ہمارے ابو عبداللہ جنرل موسی کو پکڑتے ہیں اور امریکہ کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایک سال ، دو سال ، یا تین سال حکمران کو حکمرانی کرنے دیتا ہے ۔اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں ابو عبد اللہ کی تو کھیپ کی کھیپ تیار ہورہی ہے مگر عبد الرحمن،امیر ہشام اول ۔ جیسے حکمران ۔جنہوں نے مسجدِ قرطبہ کو اسلامی مرکز جان کر ، اس کو ایک یادگار بنا دیا ،ایسے پر عزم لوگ فیکٹریوں سے تیار ہونے بند ہوگئے ہیں ۔ زرداری بن رہے ہیں ۔ یقین مانئے ہر طرف زرداری بن رہے ہیں ۔ بڑے پیمانے پر چھوٹے پیمانے پر ۔ وقتی نام اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والے ، سوئس بنکوں کو بھرنے والے ۔ بزدلی کی سیکورٹی ویگنوں میں دھنسے ہوئے ، کم ہمتی کی بلٹ پروف جیکٹیں پہنے ہوئے ۔ اپنے لوگوں کو غیروں کو بیچتے ہوئے ۔ ہر طرف زرداری ہی زرداری ۔ اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرطبہ میں !!!۱!۱۱!
چاروں طرف پھیلے کلیساؤں میں
میں اپنی مسجد ڈھونڈ رہی تھی
سجدے کی اجازت نہ تھی
دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نہ سکتی تھی
چاروں طرف پھیلے کلیسا ؤں میں
میں اپنا رب ڈھونڈ رہی تھی
ادھر ادھر چھپے گمشدہ سجدوں کے درمیاں
اذان دیتے دوستوں کے درمیاں
چاروں طرف پھیلے کلیساؤں میں
میں اپنی کھوئی ہوئی اذانیں ڈھونڈ رہی تھی۔(روبینہ فیصل)
وہاں سے باہر آکر دیکھا اپنے ساتھیوں کے چہرے دیکھے سب نارمل تھے ۔ قرطبہ کی مسجد کھونے کے آثار مٹ رہے تھے ۔ مٹ چکے تھے ۔ ہم نے اس مسجد کے اندر جو کرب دل میں محسوس کیا ۔وہ سب باہر آتے ہی ختم ہوچکا تھا ۔۔ قہقوں کی آوازیں تھیں ۔ واپس ہوٹل پہنچنے کی جلدی تھی ۔۔بھاگم دوڑ تھی ۔۔ رات کو ہونے والے مشاعرے کی فکر تھی ۔ نہا دھو کر فریش ہونے کی جلدی تھی ۔میں جلد از جلد نہانا چاہتی تھی تاکہ اس مسجد کی گرد بھی میرے جسم پر باقی نہ رہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو میں اس گرد سے کچھ سبق سیکھ لوں ،کہیں ایسا نہ ہو یہ گرد مجھے ذندہ کر دے ۔ کہیں ایسا نہ ہو یہ گرد مجھے سر اٹھا کر جینا سکھا دے ۔ وہ سر جو گھٹنے کو لگا ہوا ہے ۔وہ سر اٹھنے کی ضد کرنے لگ جائے ۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر میں نے پیچھے مڑ کر مسجد کو نہ دیکھا ۔۔ کہیں میں پیچھے مڑ کر دیکھوں اور تاریخ کے کسی صفحے سے کوئی سبق سیکھ لوں ۔۔ میں دہرائی جانے والی تاریخ کو بدلنے کا سوچ لوں ۔۔ میں نے مڑ کر نہ دیکھا ۔۔ مسجدِ قرطبہ اپنے چہار سو پھیلے انوکھے مینار کے ساتھ جس کا منہ خانہ کعبہ کی طرف نہیں ہے ،سر اٹھائے کھڑی ہے ، مگر ا سکا سر چرچ کے طور پر بلند ہے مسجد کے طور پر نہیں ۔میں پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا چاہتی ہوں نہ تاریخ کے اس طمانچے سے کچھ سیکھنا چاہتی ہوں ۔ کیونکہ ابھی اندلس کی چابیاں حوالے کرنے کا وقت ختم نہیں ہوا ۔۔اور میں مختلف راگ الاپ کر ، ذندہ ہو کر ، سر اٹھا کر اپنی مشکلوں میں اضافہ نہیں کر نا چاہتی ۔ راجہ شفیق کیانی( سپین )نے ایک کالم جانے سے پہلے لکھا تھا مرنے سے پہلے ایک دفعہ قرطبہ ضرور دیکھنا ۔۔۔ مجھے لگتا ہے ہم تو مردہ حالت میں قرطبہ پہنچے تھے ۔ ذندہ ہوتے تو مسجدِ قرطبہ پہنچتے، نا کہ قرطبہ چرچ میں ۔ آج بھی ا س مردے میں ذندگی پڑ سکتی ہے اگر ہم مڑ کر ایک دفعہ قرطبہ کے اونچے مینار کو دیکھ سکتے ۔اور سن سکتے وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ مگر ہماری ٹیکسیاں اندھا دھند چل پڑیں اور ہم میں سے کسی نے مڑ کر نہ پیچھے دیکھا ، نہ کچھ سنا نہ سیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہم واپس اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے ۔جہاں ہم پر گورے حکمران ہیں ۔ ملک کے اندر یا ملک کے باہر ۔ اور ہم مالِ غنیمت ہیں ۔ ملک کے اندر بھی اور باہر بھی ۔
دُکھڑے کہتے لاکھوںُ مکھڑے !
(روبینہ فیصل)
ہمیں اللہ سبحان تعالی نے مسلمان پیدا کیا ۔کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے ؟ کیونکہ آج تو ہم فرقہ ہیں ۔ اور ہم سب اپنے اپنے فرقوں کے کمال وفادار ہیں ۔قرانِ پاک میں کیا لکھا ہے ۔۔ہم کیا جانیں ؟ ہمارا ملا کیا بتا رہا ہے ،ہمیں تو ا سکی خبر ہے ۔ اور آج جب ہم سب ،پاکستان کے دانشور اور مغربی ممالک میں بیٹھے پڑھے لکھے لوگ انسانیت کا سبق پڑھاتے ہیں ، فرقہ پرستی سے بلند ہو کر سوچنے کی بات کرتے ہیں اور مولوی کو گالی دیتے ہیں ۔ مگر حقیقت میں کیا ہم اپنے اپنے فرقے کے مولوی کو اپنے اندر سے نکال سکے ہیں ۔ مسجد آج نماز نہیں ، عبادت نہیں ، خدا سے لگاؤ نہیں ،صرف فرقہ پرستی دے رہی ہے اور انہی فرقوں میں ہم اتنے مضبوط ہیں کہ یہ مضبوطی ہمیں اندر سے کھو کھلا اور کمزور کر رہی ہے ۔ اور دشمن اسی کمزور حصے پر ایسا وار مارتا ہے کہ پھر سے فرقہ پرستی مذیدمضبوط اور انسان دوستی کمزور ہوجاتی ہے ۔
اقرباء پروری کیا ہے ؟ رشتے داری کی بنا پر یا کسی قربت کی بنا پر کسی کو ذیادہ favourدے دینا اور کسی کو کم ۔ کل تک یہ اقربا پروری ذندگیوں تک محدود تھی اور آج اس کا شکار موت بھی ہے ۔ میرے فرقے کا انسان مرے تو میں ماتم کرتی ہوں ، کسی دوسرے کا مرے تو مجھے ایک خبر سے دوسری خبر تک ماؤس کلک کرتے وقت نہیں لگتا ۔ کوئی فرقہ اقلیت ہے تو کوئی اکثریت ۔۔اور ہر دوسرا فرقہ پہلے کے لئے کافر ۔ اور بہنوں اور بھائیو ہم کافروں کی موت کا جشن مناتے ہیں ۔۔میرے رب نے انسان بنائے تھے ۔۔فرقے کس نے بنا دئے ؟ اسی مولوی نے جسے ہر پڑھا لکھا آدمی گالی دیتا ہے ،مگر سلام ہے اس مولوی پر جس نے اپنی روزی روٹی کا وسیلہ ایسا مضبوط کیا ہے کہ اسے اس جاب سے زندگی بھر کوئی نہیں نکال سکتا ۔ دنیا بھر کے ملازمین لے آف ہوسکتے ہیں مگر مولوی نہیں ،چاہے اسے جتنا مرضی برا کہیں ۔۔ مولوی ہر پڑھے لکھے انسان کے اندر بیٹھا ہے ۔اور افسوس صد افسوس کوئی بھی پڑھا لکھا انسان اپنے اپنے مولوی کو اپنے اندر سے مار نہیں سکا ۔
فرقے بیٹھ کر اماموں کی باتیں کرتے ہیں ، خلفاء راشدین میں اپنی اپنی مرضی سے صفات ڈالتے اور نکالتے ہیں ، صحابہ کرام کے درجات پر بحث کرتے ہیں اور گھتم گھتا ہوجاتے ہیں ۔کیا ہم تاریخ کے جھروکوں سے نکل کر اپنا حال خود بنا سکتے ہیں یا نہیں ؟ تاریخ پر بات کر کے نہ صرف ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے پر اپنی علمیت کا رعب ڈالتے ہیں ۔ حوالے در حوالے ۔۔ سب انسانیت کی بات کرتے ہیں ،مگر آج آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر مجھ سے نہیں اپنے �آپ سے سچ بولئے کیا ہم واقعی انسانیت اور امن پر یقین رکھتے ہیں ؟ اس سچ کا جواب اتنا کڑوا ہوگا کہ آپ کا اپنا چہرہ بھیانک ہوجائے گا ۔ جب مسجدوں پر حملے ہوتے ہیں تو غیر مسلم صرف مسلمان کی مسجد پر حملہ کرتا ہے اسے کسی فرقے کی گہرائی کا اندازہ نہیں ، مگر اسے یہ ضرور پتا ہے بقول مجید امجد دکھڑے کہتے لاکھوں مکھڑے ۔۔ہیں ۔
یہ لاکھوں مکھڑے صرف اپنے فرقے والے کے مرنے پر افسردہ ہوتے ہیں ۔ حالانکہ ۔۔آج کل سڑکوں ، بازاروں اور سکولوں میں دہشت گردی سے مرنے والوں کے ہجوم کا تو یہ عالم ہوتا ہے کہ بقول ن م راشد ۔۔نہ اہلِ صلوتہ نہ اہلِ شراب ۔۔نہ اہلِ ادب اور نہ اہلِ حساب
۔ایک دفعہ ایک اندھے آدمی نے سوامی ووک آنند سے پوچھا ۔۔بصارت نہ ہونے سے ذیادہ بھی کوئی دنیا میں دکھ ہوگا ۔۔ سوامی جی نے فرمایا ۔۔ہاں بصیرت کا نہ ہونا ۔۔تو قارئین ہم بصیرت سے ،visionسے محروم ہوگئے ہیں ۔اقبال چیختے تھے !
دل مردہ دل نہیں ہے اسے ذندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
نظر آئے گا اسی کو یہ جہانِ دوش و فردا
جسے آگئی میسر مری شوخیء نظارہ
شیطان ہماری امت کی بیداری سے ڈرتا ہے اور ہم ایسے اس کے فرمانبردار ہیں کہ اسے کوئی دکھ نہیں دینا چاہتے اور مسلسل نیند کی حالت میں ہیں ۔ فرقہ پرستی کے نام پر ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں ،یا نہیں بھی کاٹتے تو ان کے کٹنے پر اتنے افسردہ نہیں ہوتے جتنے اپنے فرقے کے مرنے والوں پر ۔ دوستو! اقربا پروری ہمارے جسم میں خون کے ساتھ ساتھ کھیل رہی ہے ۔ہم دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے گروپ بنا لیتے ہیں، فرقے، علاقے یا زبان کی بنیاد پر اور پھر ہم ان حلقوں میں ہی آنکھیں بند کر کے ناچتے رہتے ہیں ۔ اور جب آنکھ کھولتے ہیں دوسرے حلقے پر لعنت ڈالتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کی مدح سرائی میں غرق ہوجاتے ہیں ۔ یااللہ دنیا ایسے چلانی تھی تو بنائی کیوں ؟ شیطان نے ہی جیتنا تھا تو حضرتِ آدم سے ان کا پنگا ہی کیوں کروا دیا ۔۔شیطان کا چیلنج سچ ثابت ہورہا ہے اور انسان ہار رہا ہے ۔۔ تو نے ہمیں مسلمان پیدا کیاتھا ۔۔ شیطان نے فرقہ بنا دیا ۔۔اور آج ہر جگہ فرقہ ہے ،انسان کہیں نہیں ہیں ۔ بڑے بڑے عالم فاضل اور انسان دوستوں کے ہاں بھی نہیں ۔۔وہ بھی انسانیت کا،محبت کا خالی پیلی ڈھول بجا رہے ہیں ۔ ہم انسان سے نہیں فرقوں سے محبت میں پاگل ہیں ۔ مگر جب غیر مسلم کوئی سازش کرتا ہے ، کوئی حملہ کرتا ہے اس کا ٹارگٹ اسلام ہوتا ہے ،فرقہ نہیں ۔ سکولوں میں،پارکوں میں ، بازاروں میں صرف مسلمانوں اور پاکستانیوں کے بچے ،عورتیں اور بزرگ ہوتے ہیں ۔ غیر مسلم جب نشانہ باندھتا ہے تو ا سکا نشانہ اسلام اور پاکستان پر ہوتا ہوگا ۔۔۔ کسی ایک فرقے پر نہیں ۔ اس نے اسلام کو یا پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش بنائی ہوگی کسی ایک فرقے کو نہیں ۔۔ خدا یا بصیرت ۔۔اور علامہ اقبال کی شوخی ئنظارہ دے دے ۔۔کہاں ہے؟بس اب تو دے دے ۔
سوچئے اسرئیل کا امدای سامان لے کر جانے والوں پر حملہ ۔۔کہیئے میری امت کے لبرل اور نام نہاد دانشوروں اب کہیئے کیا کہتے ہیں ؟ یہ کیا تھا ۔ میں اسے دہشت گردی نہیں کہتی ۔ کیونکہ حملہ کرنے والے یہودی تھے ان میں کوئی مسلمان نہیں تھا لہذا یہ دہشت گردی کے زمرے میں کسی صورت نہیں آتا ۔اور نہ حملہ کرنے والے دنیا کے امن میں خطرے کا باعث ہوسکتے ہیں اور نہ مرنے والے مظلوم ہوسکتے ہیں ۔ نہ اغوا ہونے والے انسان ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ مسلمان تھے حملہ آوار یہودی تھے ۔۔ اللہ تیری دنیا میں اقراباء پروری ہر جگہ پیر پھیلائے بیٹھی ہے ۔ انصاف اور عدل کی بات منہ چھپائے کہیں ادھر ادھر بھاگ گئی ہیں ۔۔ورنہ میڈیا شور مچا مچا کر جینا نہ دوبھر کر دیتا ۔۔ میں خود ڈرتے ڈرتے کہہ رہی ہوں یہ دہشت گردی تھوڑی تھی ۔۔ پتہ نہیں میرے فرقے کے لوگ اس میں تھے بھی یا نہیں میں خوامخواہ اس طاقت کو برا کہہ دوں جسے امریکہ بھی ڈرتے ڈرتے مذمت کر رہا ہے اور چپکے سے اسرائیل کے کان میں سرگوشی کرتا ہے :
ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر
سوچتا ہوں تری حمایت میں ۔
وہ اسرائیل جس کے گلے میں سانپوں کی مالا ہے۔۔۔اسے سب ہلکا پھلکا سراہنے جیسا تنبیہ کر رہے ہیں ۔۔کیا یہ رویہ پوری دنیا کے امن ، اور سکون کے لئے بذاتِ خود ایک بہت بڑا فتنہ نہیں ہے ۔ ایک طرف کے بہنے والے خون کو آپ کیمرے کی آنکھ سے صاف بچا لے جاؤ اور دوسری طرف سے آنے والے پانی کو بھی دیکھ کر خون خون کا شور مچا دو ۔۔۔ دنیا کے امن میں مسلمان دہشت کی علامت نہیں ہے ۔ نہ دہشت گردی کا موجب ہے ۔ یہ ہٹ دھرمی ، ضد ، ناانصافی اور اقرباء پروری ہیں جو اس دہشت گردی کی ماں ہیں ۔۔ دہشت گردی کو روکنا ہے تو اس کی ماں کو پکڑو ۔۔۔ دہشت گرد مسلمان نہیں ۔۔یہ وجوہات ہیں ۔
دنیا کو ہے پھر معرکہء روح وبدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا(علامہ اقبال)
مگر اسے سمجھے کون ؟فرقہ پرستی کی شراب میں غرق مسلمان ؟ عام مولوی یا کم پڑھا لکھابندہ پاکستان کے گھٹے ماحول میں فرقہ کی بات کرے تو اس پر افسوس نہیں ، مگر نام نہاد دانشور ،کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر جب وہی بند روشنی اور بند ہوا جیسی بات کرتے ہیں تو دل ماتم میں ڈوب جاتا ہے ۔ انسانیت کی بات کرتے کرتے اپنے اپنے فرقے کا ذکر آتے ہی چہرہ سرخ اور منہ سے جھاگ اڑنے لگتی ہے ۔ اور پھر وہیں پر انسان اور جانور کا فرق ختم ہوجاتا ہے ۔۔اپنے حجرے کا کیا بیاں کہ یہاں ۔۔خون تھوکا گیا شرارت میں (جان ایلیا ء)۔ آئیے قرانِ پاک کی روشنی میں اسلام کو دیکھیں ۔۔وہاں عربی عجمی کہیں نظر نہیں آتے ۔ اللہ اور اس کے پاک رسول اور ان کی کتاب میں انسان کی بات ہوئی ہے ۔فرقے کی نہیں ۔ مگر میں عالم فاضل نہیں ،مجھے اماموں کی ، خلفائے راشدین کی ، صحابہ کرام کی کوئی بات اختلافات کے لئے ، بحث مباحثے کے لئے دوسرے کو چاروں شانے چت کرنے کے لئے یاد نہیں آتی ۔ میری یاداشت کمزور ہے مجھے یہ سب واقعات پڑھ کر بھی بھول گئے ہیں ۔ سو میں نہ عالم ہوں اور نہ فاضل ۔۔میں قرانِ پاک کی روح کو سمجھتی رہتی ہوں ۔۔ میں کسی فرقے کی نہیں ۔۔تو میں مسلمان ہی نہیں ۔ ایک خدا پر ایمان ہے ۔ روزِ آخرت پر ایمان ہے ۔ اللہ تعالی کے آخری نبی پر ایمان ہے ۔ نمازیں پڑھتی ہوں ۔ روزے رکھتی ہوں ، کسی کا دل نہیں دکھاتی ۔ حتی المکان خیرات دینے کی کوشش کرتی ہوں ۔ کسی بھی فرقے کا بندہ بے موت مر جائے اس کے لئے دعا مانگتی ہوں ۔۔۔ مگر میں مسلمان نہیں ہوں ۔۔ کیونکہ میرا کوئی فرقہ نہیں اور ہر فرقے والا جس کے فرقے میں میں نہیں ہوں کے حساب سے میں کافر ہوں ۔۔۔ تو میں کافر ہوں ۔۔۔۔مسلمان نہیں ۔ اگر مسلمان ہوں تو کس فرقے کی ہوں ؟ اور اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ۔
آج کے کالم میں تین برقی خطوط شامل کرتی ہوں ۔۔اور جواب آپ پر چھوڑتی ہوں ۔۔
ایک صاحب محمد یوسف لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔آپ کے کالموں میں سوال ہیں کہ کب پاکستانی نوجوان اپنے آپ کو پہچانے گا ۔۔کب اس میں شعور اور بیداری پیدا ہوگی ۔کب ہم ایک قوم بنیں گے ۔۔یہ وہ ۔۔وہ کب اور یہ کب ؟ آپ جیسے لوگ اس طرح کے سوالات پوچھتے رہتے ہیں اور میرا ایک ہی جواب ہے جب آپ جیسے لوگ اس طرح کے کالم لکھنے بند کر دیں گے تو سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔اور اب آپ جیسے لوگوں سے میرے سوال یہ ہیں :
پہلا سوال :مسائل بچے بچے کو پتہ ہیں ،آپ میں سے کسی نے اس کا حل بھی بتایا ہے ؟ حل کون بتائے گا ؟
دوسرا سوال:آپ جیسے دانشوروں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم پاکستانی اتنا کچھ سہنے کے باوجود سرخ انقلاب کی طرف کیوں نہیں بڑھ رہے ؟
تیسر سوال:کبھی آپ میں سے کسی نے سوچا کہ پاکستانی لوگ روز بروز بدتر کیوں ہوتے جارہے ہیں ؟
چوتھا سوال:آپ میں سے کبھی کسی نے سوچا ہم میں لیڈر کیوں پیدا نہیں ہورہے ؟(کہاں گیا ہمارا لیڈر )
یہ جوان چاہتا ہے کہ میرے جیسے لوگ اس کا جواب دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس خط کا جواب میں اپنے جیسے لوگوں پر چھوڑتی ہوں ۔
دوسرا خط لالہ موسی سے ایک نوجوان کا ہے جسے پڑھ کر مجھے لگا اسے اس قیادت تک پہنچانا چاہیئے جو ہوسکتا ہے ہمیں طوفان سے نکال ہی دے ۔آپی !
سلام عرض ہے ! ایک مسئلہ سنیں ۔
نوازش علی شیخ ،کریم پورا لالہ موسی کا رہنے ولا ہے ۔کسی زمانے میں اس نے پیپلز پارٹی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا تھا ،اسی زما نے میں اس کا بھائی مسلم لیگ نواز کی طرف سے سر گرم تھا اور ان کا موقوف یہ تھا کہ جو بھی پارٹی جیتے کم از کم ان کا ایک فیملی ممبر پاور میں ہو ۔۔ یہ شخص ایک دفعہ پی پی پی میں ہونے کی وجہ سے ناظم بھی بنا ، اس زمانے میں اس نے خوب پیسہ بنایا ۔ آپ کوای میل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم بھی آپ کی طرح عمران خان کو پاکستان کے لئے ایک روشن کرن سمجھتے ہیں ۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل یہی شخص ہامرے علاقے میں تحریکِ انصاف کا نمائندہ ہے ۔ تحریکِ انصاف کے نمائندوں میں ہم لوگ عمران خان کی جھلک ڈھونڈھتے ہیں ، وہ عمران خان جسے کراچی میں جان کی دھمکی تھی مگر وہ دیدہ دلیری سے وہاں گھس گیا ۔۔ مگر یہ انسان جھوٹ اور فراڈ کا مرکب ہے ۔ایک دفعہ جون ،جولائی 2009میں لوڈ شیڈنگ سے تنگ آئے لوگوں کے ساتھ جلوس نکالنے گیا ۔۔ مین بازار سے ہی بھاگ گیا ۔اور میں نے لوگوں کو چلاتے ہوئے سنا ۔۔سالا کہاں بھاگ گیا ؟۔ دو سال پہلے پیپلز پارٹی چھوڑ کے تحریکِ انصاف میں شامل ہونے والا یہ شخص آج بھی پی پی پی کی عادتوں پر چل رہا ہے ۔ سب اچھا کی باتیں سناتا ہے اور علاقے میں کوئی کام نہیں کرتا ، نہ کوئی وعدہ پورا کرتا ہے ۔حکومت کے خلاف جلوس نکالنے کا اعلان کرتا ہے اور پھر قمر زمان کائرہ کے ساتھ لنچ یا ڈنر کرتا ہے اور حکومت کے خلاف جلوس کی کال کو کینسل کر دیتا ہے یا بھول جاتا ہے ۔جب لالہ موسی کے لوگوں نے آٹھ گھنٹے تک جی ٹی روڈ بند رکھی تو قمر زمان کائرہ صاحب یہ سوچ کر کہ لالہ موسی کے لوگ پی پی پی کو بہت پیار کرتے ہیں ،، معاملہ ٹھنڈا کرنے آئے اور میں نے اپنے کانوں سے لوگوں کو اس کے منہ پر گندی گالیاں دیتے سنا ۔ اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ پتھر ، چھلکے اور گندے ٹماٹر مارے ۔۔وہاں سے کائرہ صاحب کو پولیس کی حفاظت میں بھاگنا پڑااور بعد میں اس کے آرڈر سے پولیس نے عام لوگوں پر کھلی فائرنگ کی جس سے کافی نقصان ہوا ۔ا سمیں کوئی شک نہیں کہ دو سال پہلے لا لہ موسی کے لوگ پیپلز پارٹی کو پسند کرتے تھے ۔مگر آج وہ شدید نفرت کرتے ہیں ۔ کوئی بھی اسے ووٹ نہیں دے گا ، لوگ عمران خان کو پسند کرتے ہیں ، مگر جو شخص لالہ موسی میں عمران خان کی نمائندگی کر رہا ہے وہ لوگوں کو تحریکِ انصاف سے بھی دور لے جائے گا ۔۔اور ہمارے پاس نور الحسن شاہ جو مسلم لیگ ن کے ہاں ان کی چوائس رہ جاتی ہے ۔ عمران خان کو چھان پھٹک کئے بغیر لوگوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے ۔ بس یہی ہمارے لیڈر ہیں ۔
میں نے کائرہ صاحب کے لئے ایک زمانے میں بڑی محنت کی تھی ۔ وہ جیت گئے تو بس اس کے بعد ان کے کام دیکھ کر دل اچاٹ ہوگیا ہے ۔ سیاست سے ہی نفرت ہوگئی ہے ۔عمران خان خود ٹھیک ہے مگر ہم اس کے نام پر ایک جھوٹے اور غیر پسندیدہ شخص کو ووٹ تو نہیں دے سکتے نہ ۔۔!لالہ موسی کے لوگ کیا کریں ؟عمران خان کو ہم پسند کرتے ہیں مگر وہ اپنے نمائندے چنتے وقت چھان بین نہیں کرے گا تو ہم پھر اسی فراڈ اور جھوٹ کے چکر میں پھنسے رہیں گے ۔اور پھر ہماری تبدیلی کی امید عمران خان کے حکومت میں آنے سے پہلے ہی دم توڑ جائے گی ۔
ہماری آواز عمران خان تک پہنچا دیجئے ۔۔۔آپکا بھائی ۔( نام لکھنے سے منع کیا گیا ) ۔
تو یہ دو خط ہیں ۔۔الگ الگ ۔۔ایک میں سوال ہیں اور دوسرے میں شائد ان سوالوں کے جواب ہیں ۔ دھوکوں نے عوام کو نفسیاتی مریض اور ہماری زمین کو لیڈر پیدا کرنے میں بانجھ کر دیا ہے ۔ اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے ہیں ۔۔ کوئی لیڈر ہے؟
سب ٹھیک ہوجائے گا ، حالات بھی سدھر جائیں گے اور لیڈر بھی پیدا ہوجائیں گے اگر ہم جیسے لوگ لکھنا بند کر دیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔کسی کے پاس کوئی اور حل ہے ؟ہمارا اصلی لیڈر کہاں گیا۔۔اور میرے دما غ میں فقط ایک ہی فقرہ گونج رہا ہے ۔۔مگر سالا گیا کہاں ؟
پھر ایک اوربرقی خط دمام سعودی عرب سے فیصل شہزاد کا ہے ۔لکھتا ہے ۔
ُکا فیس بک پر آرٹیکل بہت معلوماتی اور اچھا تھا ، جسے پڑھ کر مجھے پتہ چلا کہ فیس بک بنانے والا کوئی دل جلا ہارورڈ کا جوان تھا،جو اب دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں شمار ہوتا ہے ۔میں ہمیشہ فیس بک کو کسی بڑے سوفٹ ائر کے ادارے کی ملکیت سمجھتا رہا ۔آپ کا کالم پڑھ کر مجھے کالج کا وہ دور یاد آگیا جب میں نے Bcsاپنے ASPمضمون میں سو میں سے سو نمبر حاصل کئے تھے ،یہ پروگرام بالکل PHPپروگرام جیسا ہے جس میں فیس بک ڈیزائن ہوئی ہے ۔اور ویب ڈیزائننگ کے پیپیر میں جو ویب سائٹ میں نے ڈیزائن کی تو مجھ پر یہ الزام لگا دیا گیا تھا کہ یہ مارکیٹ سے بنوا کر دے دی ہے ۔
روبینہ ہمارا اصل دشمن ہمارا نظام ہے ۔میں نے چیٹ چینل پر ریویو کیا ،آن لائن گیمز سرور پر ریویو کیا ،اور نتیجہ نکلا گروپ بندی ۔ہماری سوچ ایک جگہ پر کبھی بھی اکھٹی نہیں ہوتی ۔ چینل کا ایڈمنسٹراس کا وڈیرہ بن جاتا ہے ۔اس کے اپنے پسند کے لوگ ہونگے اور یہ گروپ صرف آپس میں باتیں کرے گا ۔حتی کہ کسی تیسرے بندے کے سلام کا جواب بھی دینا پسند نہیں کرتے ۔گیم سرور پر بھی وڈیرہ اپنی پسند کے لوگ رکھے گا ۔انہی کو مراعات سے نوازے گا اور باقی کو بلاک کر دے گا ۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ پیچھے ہیں ،ہم میں اتفاق نہیں ہیں اور ہم پستی میں گرتے جارہے ہیں اور ہمیں یہی نا اتفاقی ترقی کرنے سے روک رہی ہے ۔اور اگر کوئی اپنی انفرادی محنت سے کوئی کام کرتا یا نام بنا ہی لیتا ہے تو سیاسی لٹیرے اس کا ستیاناس کر دیتے ہیں اور مجبورا وہ پاکستان سے جان اور عزت بچا کر بھاگ جاتا ہے ۔
واہ رے فیس بک کے مالک کاش! ہم کو بھی تیرے جیسا تعلیمی ماحول ،اچھے دوست اور ایک اچھا سسٹم ملتا تو ہم پاکستانی بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔۔مگر افسوس در افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔در افسوس ۔۔۔۔۔۔!
بہت شکریے کے ساتھ۔
اور یہ تیسر خط ،جس میں بہت سی اور باتوں کا جواب ہے ۔۔جو پہلا ناراض نوجوان ہم جیسے جاہل لکھنے والوں سے پوچھ رہا ہے ۔ ہمارے لوگوں کے اندر سوالات ہیں اور وہ اتنے ذہین لوگ ہیں کہ ان پاس ان سوالات کے جوابات بھی ہیں ۔۔مگر سسٹم ، ماحول اور لیڈر ۔۔یہ سالے کہاں مر گئے ؟
فیس بک کا اصل فیس !

اٹھائیس اکتوبر 2003کی شب ہارورڈ یونیورسٹی کا ایک نوجوان ہوسٹل کے کمرے میں بیٹھا اس لڑکی کی بھولنے کی کوشش کر رہا تھا جو اسے حال ہی میں چھوڑ گئی تھی ۔ اس کی یادوں سے بچنے کے لئے MARK ELIOT ZUCKERBERGاپنے آپ کوکسی اور کام میں الجھا رہا تھا ۔ اس کے ذہن میں کینڈر گارٹن سکول کا وہ آئیڈیا بیک گراؤنڈ میں ہمیشہ سے رہا تھا جس میں سب بچوں کی تصویریں اور ان کے نام لکھے ہوتے تھے اور اس طرح سب ایک دوسرے کو جانتے تھے اور اس پروگرام کو فیس بک کہا جاتا تھا ۔ یہی خیال اس نے ہارورڈ یونیورسٹی کے طالبعلوں کو ایک دوسرے کو جاننے میں مدد دینے کے لئے استعمال کیا ۔ اپنے چند دوستوں کی مدد سے زکبرگ نے سوشل نیٹ ورکنگ کی اس سائٹ کی بنیاد رکھی ۔ اور پہلے چوبیس گھنٹوں میں بارہ سو طالبعلم اس میں شامل بھی ہوچکے تھے ۔ اور پہلے مہینے ہاورڈ کے آدھے سے ذیادہ طالبعلم اس کا حصہ بن چکے تھے ۔ اس کے بعد اس کو اور کالجوں یونیورسٹیوں تک پھیلایا گیا ،پھر یہ ہائی سکول کے بچوں تک پہنچائی گئی ۔ اور پھر 26 sept 2006کو یہ سائٹ تیرہ سال سے اوپر افراد کے لئے کھول دی گئی ۔اس کے صدر SEAN PARKERبنے ۔ اور اکتوبر 2008میں ا سکا پہلا انٹرنیشل ہیڈ کوارٹر ڈبلن آئر لینڈ میں بنایا گیا ۔ شروع میں اس کا مقصد ہائی سکول کے بچے اور یونیورسٹی سٹوڈنٹس کی نیٹ ورکنگ تھا ، مگر دھیرے دھیرے یہ عمر کو بھی پھلانگ گیا ،اور سرحدوں کو بھی ۔۔کون جانتا تھا زکبرگ اپنی بے وفا محبوبہ کو بھلانے کے لئے جو سائٹ بنا رہا ہے اس سے بعد میں کتنے بچھڑے لوگ ملیں گے اور کتنی وفاداریاں بے وفائیوں میں بدل جائیں گی ۔ آج فیس بک ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جہاں دنیا میں دور دور بیٹھے لوگ ایک دوسرے کے قریب ہورہے ہیں اور قریب رہتے ہوئے لوگ دور ہورہے ہیں ۔
جولائی 2007میں فیس بک پر وال پوسٹ کا آغاز ہوا ،اگست 2006سے ایک دوسرے کو نوٹ ، تصویریں ٹیگ ہونا شروع ہوگئیں ۔7 april2008سے ٹیکسٹ پر بات چیت یعنی چیٹینگ کا آغاز ہو گیا ۔ یوں ایک دوسرے کے پروفائلز میں جا کر مداخلت کرنا مشکل نہ رہا ۔ کوئی بھی کسی کی بھی وال میں جا کر کچھ بھی لکھ دے ۔ گو کہ ڈیلٹ کی آپشن اپنی جگہ ہے ۔ اور دوست بنانے میں اپنی آذادی ہے ۔ مگر انسانی غلطی ہونے کا اندیشہ تو ہے نا ، جسے اس فیس بک سے کافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔CYBER STALKINGمیں ایک اور اضافہ یہ بھی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی تصویریں ، دوست اور گروپ لے اڑتے ہیں ۔ آج جب اپریل 2010کی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس فیملی کے ۴۰۰ ملین ممبرز ہیں تو اتنی بڑی فیملی میں کچھ بھی ممکن ہے ۔ درمیان سے گرفت کا مضبوط ہونا اور ذیادہ ضروری ہے ۔
فیس بک پر ہر قسم کے گروپ بنتے ہیں ۔ اپنے اپنے مزاج کے لوگ ان میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ اپنے خیا لات کو ایک دوسرے تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ ہے ۔ 2008کے امریکی الیکشن میں اس سائٹ کا بہت کردار رہا ۔ لوگوں نے اپنے خیالات کھل کر بیان کئے ۔اور اپنے اپنے نقطہ ء نظر کے اظہار کے لئے اس پلیٹ فارم کو بے دریغ استعمال کیا ۔ مسائل تب بنے جب اس پر ہولوکاسٹ پر بات ہونا شروع ہوگئی اور اس کا ایک گروپ بنا ۔۔اس طرح کے گروپ جو ایسی باتیں زیرِ بحث لاتے ہیں فیس بک کے مسائل میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔ 14 may 1984کو نیویارک میں یہودی گھرانے میں پیدا ہونے والا zuckerbergاور باتوں پر بولنے کی آذادی کو تو بجا سمجھتا ہوگا مگر ہولوکاسٹ کے مسئلے پر بات کی آزادی شائد فیس بک پر بولنے کی آذادی کو بھی تھوڑا سا دھچکا دے ۔
نوجوانوں اور جوانوں کے لئے بننے والی اس سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ پر آج ہر قسم کے اور ہر عمر کے لوگ شامل ہیں ۔ یہ گروپ کسی ایک عمر یا طبقے تک مخصوص نہیں رہا ، وہ لوگ جو تنہائیوں کا شکار تھے ، یا وہ لوگ جن کی کوئی سنتا نہیں تھا ،یا وہ لوگ جو اپنے اردگرد کے ماحول میں مس فٹ تھے ، یوں لگتا ہے سب کو ایک راہ فرار مل گیا ہے ۔ ایک طرف تو اس کے فوائد ہیں اور دوسری طرف ہر سائنسی ایجاد کی طرح اگر ٹھیک سے استعمال نہ کیا جائے تو نقصانات ہی نقصانات ۔21 aug 2009میں میلون برطانیہ کی ایک اٹھارہ سالہ لڑکیKEELEY HOUGHTON کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کرائم کی تین ماہ کی پہلی سزا ہوئی ۔ جو فیس بک کو اپنی ایک ہم جماعت کا مذاق اڑانے اور بلنگ کرنے کے لئے استعمال کرتی تھی ۔ پھر ایک لڑکے نے ایک ایسا گروپ بنا یا جس میں سب لوگ ایک دوسرے لڑکے کا مذاق اڑاتے تھے اور اس گروپ کا کوئی اور مقصد نہیں تھا ۔۔ سزا والی بات سے مجھے خیال آیا جس طرح پاکستانی لوگ فیس بک پر ایک دوسرے سے گھتم گھتا رہتے ہیں ان کو تو سال دو سال کی سزا یوں ہی ہوسکتی ہے ۔ کبھی جھوٹی شاعری کے سچے مقدمے چلتے ہیں تو کبھی ایک دوسرے کے کردار پر کیچڑ اچھا لا جاتا ہے ۔ اور اسی گالی گلوچ والے نوٹس سے ہی ہمیں پتہ چلا کہ فیس بک پر نوجوان نسل کو تو چھوڑئے ، بال بچوں والے اصاحب ،جو عمر کے ا س دور میں داخل ہیں جہاں ذہنی پختگی خود بخود آجاتی ہے ، جعلی آئی ڈیز بناتے ہیں ، کسی اور کی تصویر لگاتے ہیں اور فیس بک پر اپنا فیس ہی بدل لیتے ہیں اور یوں وہاں سے اپنے مخالف کی کھنچائی کرتے ہیں ۔ اور اس طرح منفاقت کا ہاتھ بھی نہیں چھوٹتا ، مخالف کے لتے بھی لے لئے اور اسے یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ کہہ کون رہا ہے ۔ وہ جیسے کہتے ہیں نہ کہ پاکستان میں ہیلمٹ کا رواج خوب چلا ہے ، جس کے پیسے دینے ہوں اس کے سامنے بھی ہیلمٹ پہن کر پھرتے رہو ۔ تو یہ فیس بک پر جعلی آئی ڈیز کا بھی خوب رواج چلا ہے ، بزدل لوگ اس کے پیچھے چھپ کر اپنے مخا لف سے بہادری سے بات کرتے ہیں ۔ مگر میں تو یہ سوچتی ہوں کہ اتنا وقت اور اتنا بغض لوگوں میں آکہاں سے جاتا ہے ؟
پچھلے دنوں شاعرات کے اصلی اور نقلی ہونے کی جنگ چل رہی تھی ، کبھی ایک دوسرے پر جعلی آئی ڈیز اور لوگوں کے پاس ورڈ چرانے کے الزامات کی بوچھاڑ تھی ۔۔اور میںیہ سوچ رہی تھی ہارورڈ یونیورسٹی کے ہوسٹل کے کمرے میں بیٹھ کر ایک نوجوان یہودی لڑکے نے اپنی محبت کی ناکامی کو بھی ایک مثبت کام میں بدل دیا اور ایک ہم ہیں جو بڑے بڑے مثبت کاموں کو آپسی نفرت سے منفی میں بدل رہے ہیں ۔ آج وہ نوجوان دنیا کا سب سے کم عمر ارب پتی ہے ،جس کی بنائی ہوئی سائٹ پر چودہ ملین تصویریں روز اپ لوڈ ہوتی ہیں ۔ لاکھوں کروڑوں لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، گیمز کھیلتے ۔ایک دوسرے کو غائیبانہ تحائف بھیجتے ، ایک دوسرے کو نوٹ ٹیگ کرتے اور ایک دوسرے سے دکھ سکھ کرتے ہیں ۔ اس کو بنانے والے کے پاس اس وقت 2010میں چار بلین امریکی ڈالر کا مالک ہے ۔اس وقت نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سب سے ذیادہ فیس بک انگلینڈ ، امریکہ اور انڈونیشیا میں استعمال ہورہی ہے ۔
میں ایک طرف اس یہودی نوجوان کی کامیابی کی داستان پڑھتی ہوں اور دوسری طرف اپنے لوگوں کو اسی غار کے انسان کی سوچ میں گرفتار دیکھتی ہوں ۔۔وہی صدیوں پرانی فرسٹریشن ، وہی سالوں سے بوسیدہ نفرت ، وہی تہمتیں لگانا ، وہی ٹانگیں کھینچنا ، وہی عورت کی تصویر کو دیکھ کر ہمیشہ بے ہودہ ہی سوچنا ۔ہم کیا اس سے آگے کبھی نہیں بڑھیں گے ؟
پھر کہا جاتا ہے ہم پر زوال ہے ۔۔کیا نہ ہو ؟ پھر کہا جاتا ہے یہودی پروپگینڈہ کرتا ہے ۔۔کیا نہ کرے ؟ پھر کہا جاتا ہے ہمیں انسان نہیں سمجھا جاتا ۔۔کیا سمجھا جائے ؟ پھر کہا جاتا ہے ہم پر ظلم ہو رہا ہے ۔۔ کیا نہ ہو ؟ پھر کہا جاتا ہے دنیا میں کوئی ہماری سنتا نہیں ۔۔ کیا کوئی سنے ؟
جب ہم نے اپنے ذہنوں کو ایک ہی چیز پر محدود کر دیا ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے انڈیا کی ساری فلمیں ہمارے پاکستانی نوجوانوں کے لئے بنتی ہیں ۔ خود وہ ٹیکنالوجی میں ، طب میں اور اکاؤنٹنگ میں کہاں کے کہاں پہنچ گئے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل چھوڑ ، ادھیڑ عمر حتی کہ بوڑھی نسل کو بھی سچے پیار کی تلاش میں لگا دیتے ہیں ۔۔ ہر کوئی بس ایک ہی راگ الاپ رہا ہے ۔ نہ کہیں ملک کو آگے لے جانے کی بات ہو رہی ہے ، نہ کہیں میڈیا میں اور ٹیکنالوجی میں اپنا لوہا منوانے کی بات ہو رہی ہے ، نہ کوئی عورتوں کو میرٹ پر اعلی عہدوں اور اعلی مرتبوں میں گھسانے کی بات کر رہاہے ، نہ کل کے آنے والے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی بات ہورہی ہے ۔نہ سائنس ، نہ آرٹ ، نہ زمینی علم نہ ستاروں پر کمندیں ۔۔کہاں ہے اقبال کا جوان؟ ۔۔کیا اقبال کا جوان ہندو اور یہودی ہے ؟تو کیا ہم نے قائد اعظم کے ملک کو بیچنے کے بعد اقبال کا جوان بھی بیچ دیا ہے ؟ کیا اب ہم خوابوں کی چھابڑی بھی خالی کر بیٹھے ہیں ؟ اور فقط بیٹھ کر اسی طرح تو یہ تو میں وہ ۔۔ تو جھوٹا میں سچا ، تو بدصورت میں خوبصورت ، وہ لڑکی پھنسا لو اور یہ نکال دو ۔کیا ہم صرف یہ ہیں ؟ یہ ہی رہیں گے ؟
ساری دنیا فیس بک سے فائدہ اٹھاتی ہوگی ، سوشل نیٹ ورکنگ کرتی ہوگی ، اپنے ہم خیال گروپس بنا کر آپس میں بات کرتی ہوگی ۔ مذہب ، سیاست ،سائنس ،اور آرٹ پر بات کرتی ہوگی ۔ ہمارے لڑکے اور لڑکیاں تو صرف انڈیا کی فلموں کے ہیرو اور ہیرؤئن ہیں ۔ لڑکیاں اس نیٹ ورکنگ سے فائدہ اٹھا کر اپنے علم میں اعتماد میں اور اپنی سوچ میں وسعت پیدا کر سکتی ہیں ۔ لڑکوں کو ایک دماغ سمجھ کر ان سے تبادلہ خیال میں کوئی گناہ نہیں ،اور لڑکیوں کو ایک دماغ سمجھ کر ان سے بات کرنے میں کوئی عار نہیں ۔۔مگر یہاں تو معاملات ہی الٹے ہوجاتے ہیں ، فیس بک پر بے تحاشا لڑکوں اوردوسری طرف لڑکیوں کی آپشن نظر آنے سے دونوں شادی کے لئے کنفیوز ہوگئے ہیں۔اور یہ عمر انہی اللے تللوں میں برباد کر دیں گے جب انہیں ملک کے لئے ،اپنے نام کے لئے کچھ کرنا ہے ۔ شادی شدہ عورتوں میں طلاق کا رحجان بڑھ گیا ہے ۔ اور میرے نزدیک ایک وجہ تو میڈیا کی تعلیم ہے ، جو ہماری ماؤں کی تعلیم سے فرق ہوگئی ہے اور دوسری طرف یہ فیس بک کا بھی فیس ہے ۔ جہاں بہت سے مرد سنہری باتوں کا جال پھینکے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور عورتوں کا یونہی بیٹھے بیٹھے گھروں میں دم گھٹنا شروع ہوجاتا ہے ۔ اور غیر شادی شدہ لڑکیاں کہتی ہیں ۔۔میرے پاس کافی آپشن ہیں ۔۔ابھی مجھے سوچنا ہے ۔ اور یونیہی سوچتے سوچتے ۔۔یہ وقت جو بہت قیمتی ہے ، اور جو بہت تھوڑا سا ہوتا ہے ،ہاتھ سے سرک جاتا ہے ۔ عورتیں اچھے گھر نہیں بسا سکتیں ۔۔آدمی کوئی مثبت کام نہیں کرسکتے ۔۔بس یونہی ایک ہی جھمیلے میں الجھے ہوئے ہیں ۔۔ اور پھر جب میں پڑھتی ہوں اسی فیس بک کا مالک یہودی جوان دنیا کا سب سے کم عمر امیر ترین آدمی ہے ، اور اس فیس بک کا ہیڈ آفس آج کل کیلی فورنیا میں ہے ۔۔تو میں سوچتی ہوں میرے ملک کا جوان سطحی سوچوں سے نکل کر کب بڑے بڑے خوابوں کے پیچھے بھاگے گا ؟ کب ایسا کام کرے گا جب لاہور ، کراچی یا اسلام آباد میں ہیڈ آفس ہو اور دنیا اس کام کے پیچھے پاگل ہو ۔ کب ہمارا فیس بدلے گا ؟ کب ہم جعلی آئی ڈی سے چھٹکارہ پا کر اپنے اصل کو ، اپنے شاندار ماضی کو لوٹیں گے ۔؟
لڑکی باتوںمیں نہیں آتی
وہ احساس میں جیتی ہے
لڑکی الفاظ نہیں سنتی
وہ دھڑکن میں دھڑکتی ہے
لڑکی بند آنکھوں سے سوتی نہیں
کھلی آنکھوں سے خواب چنتی ہے
لڑکی عقل کا دروازہ بند کر کے
عقل سے پاگل بنتی ہے
لڑکی معصومیت میںنہیں
پوری چالاکی سے جان سے جاتی ہے
لڑکی باتوں میں نہیں آتی
وہ احساس میں جیتی ہے
لڑکی بے وقوفی سے نہیں
پورے ہوش و ہواس میں نثار ہوتی ہے
لڑکی خاموش رہتی ہے
اور دل میں بولتی ہے
لڑکی باتوں میں نہیں آتی
وہ احساس میں جیتی ہے ۔
پاکستان میں روشنی ۔
مجھے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے ثانیہ مرزا کی شعیب ملک سے شادی پاکستان کے سارے مسائل کا حل ہے ۔
اگر ایسا نہ ہو تا تو پاکستانی عوام میں اتنا جوش و خروش دیکھنے میں کیوں آتا ۔
1960میں ہم نے انڈس ٹریٹی پر دستخط کر کے ستلج اور بیاس انڈیا کے حوالے کر دیے تھے ۔ وہ ہماری فوجی حکومت کا کمال تھا ۔ چونکہ انڈیا پر منجھے ہوئے ساست دان بیٹھے تھے اور ہم قسمت کے مارے اس وقت بھی اپنے آمر کی جان کو رو رہے تھے ۔ آج انڈیا اس پانی پر حکومت کر رہا ہے اور پانی کی یہ ایسی دہشت گردی ہے جس کا نہ کہیں ذکر ہے اور نہ علاج ۔ اسے ہم نے ایک دستخط کر کہ پیا دیس سدھار دیا ۔
مگر پورے چالیس سال بعد ہمیں بھی موقعہ ملا ہے کہ ہم بھی انڈیا سے کچھ لیں ۔کچھ مانگیں ، کچھ جھپٹیں ۔۔انڈیا کو پانی کی طلب تھی وہ لے گیا ۔ہمیں جس چیز کی طلب رہتی ہے ہم بھی وہ لے اڑے۔ جی ہاں دریاؤں کے بدلے ہم چالیس سال بعد انڈیا کی ایک سٹار لڑکی بیاہ کر لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے ثانیہ مرزا کے آنے سے لوڈ شیڈنگ ، پانی کی قلت اور آٹے کا بحران سب ختم ہوجائے گا ۔ بھنگڑے تو ایسے ہی ڈالے جارہے ہیں ۔
یہ تھا پاکستان میں ۲۲ ، ۲۲ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ میں انڈیا کا حصہ ۔۔ باقی کی مصیبیتوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ کالا باغ ڈیم جو ۳ گیگا واٹ بجلی بنا سکتا ہے ابھی تک ایک ایسی رپورٹ کی صورت ادھر ادھر بھٹک رہا ہے جس رپورٹ کی تیاری میں ہی لاکھوں روپیہ خرچ ہوچکا ہے ۔ اس پر اختلافات اٹھتے ہیں اور پھر ان اختلافات کا جائزہ لینے کو کمیٹی تشکیل پاتی ہے اور پھر اس کمیٹی کے کردار کا جائزہ لینے کے لئے ایک اور کمیٹی تشکیل پاتی ہے اور یوں بہت سے لوگوں کا روزگار لگ جاتا ہے اور ان لوگوں کے روزگار کے صدقے باقی سب لوگ اندھیرے میں ڈوبتے جارہے ہیں ۔ صوبوں کی آپسی نفرت اور ایک دوسرے پر بداعتمادی کا جیتا جاگتا نمونہ دیکھنا ہو تو کالا باغ ڈیم کے پروجیکٹ پرایک طائرانہ نظر ڈالنا کافی ہے ۔اگر اس ڈیم کی تشکیل سے وافر مقدار میں بجلی بن سکتی ہے اور پانی کی کمی دور ہوسکتی ہے تو کیوں یہ ڈیم آج تک کھٹائی میں پڑا ہے ۔ اس پر ہر صوبے کی ایک اپنی رائے ہے ۔ صوبہ سندھ چونکہ دریائے سندھ پر اپنا حق سمجھتا ہے اور اس کے مطابق صوبہ پنجاب ،منگلا اورتربیلا ڈیم کی طرح یہ ڈیم بنا کر بھی ان کے پانی پر ڈاکہ ڈال لے گا اور اس سے ان کی زمینیں بنجر ، آبی ذندگی خطرے میں اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوگا ۔ اور صوبہ سندھ میں پانی کی مذید قلت ہوجائے گی ۔صوبہ سرحد کو یہ خوف ہے کہ وفاق رائلٹی میں سے اسے حصہ نہیں دے گا،ضلع نوشہرہ کا ایک بڑا حصہ زیرِ آب آجائے گا اور بعد میں ریت کے جمع ہونے سے ایک بڑا علاقہ بنجر ہوجائے گا اور پانی کی سطح ڈیم ہونے بننے کے بعددو سو میڑ بلند ہوجائے گی جو کہ سیلابوں کا باعث بن سکتی ہے ۔ اور صوبہ بلوچستان حسبِ معمول ۔۔میں نہ مانوں گا ۔۔ کی تصویر بنے بیٹھا ہے ۔ اور اس طرح کالا باغ کاغذوں میں ہی دفن ہے ۔ ایک تکنیکی مسئلہ جسے تکنیکی طور پر حل ہونا چاہیئے تھا ایک زبردست سیاست کی نذر ہو جاتا ہے ۔ صوبہ سندھ کے جو بھی تخفظات ہیں انہیں دور کیا جانا چاہیئے ۔ تکنیکی حساب سے اس ڈیم کے بننے کے بعد جو بھی مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں ۔جیسے زمینوں کا بنجر ہونا یا سیلابوں کا آنا ، تو اس کے حل بھی یقیناًوہیں کہیں ہونگے جہاں سے اتنے بڑے بڑے پلان تیار ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں زمینیں چاہے بنجر ہو رہی ہیں مگر ذہن آج بھی دنیا کے زرخیز ترین ذہنوں میں شمار ہوتے ہیں ۔
اور مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں حکومتیں صوبوں کی ایک رائے لینے میں ناکام ہیں تو اب تک اتنے سالوں میں کوئی چھوٹے بند ، ڈیم اور بیراج بھی نہیں بنائے گئے ۔
اور اس بڑے پراجیکٹ کے انتظار میں چھوٹے چھوٹے ہنگامی انتظامات کا بھی گلہ گھونٹا جا رہا ہے ۔
واپڈا اور کے ای ایس جتنے میگا واٹس پیدا کرنے کے اہل ہیں وہ اتنے پیدا نہیں کر رہے کیوں کہ ایا کرنے کے لئے ناہیں پیسہ چاہیئے اور وہ پیسہ ہم سوئس بنکوں میں تو فریز کروا سکتے ہیں مگر ان کاموں کے لئے قوم کو صرف ٹھینگا دکھا سکتے ہیں ۔ منصوبے کاغذوں میں دم توڑ رہے ہیں اور پیسہ سوئس بنکوں میں ۔۔ اور ہمارے سامنے جو حال کا صفحہ کھلا ہے وہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے جس میں میرے ملک کا طالبعلم امتحانات کی تیاری موم بتی کی روشنی میں کر رہا ہے ، جہاں کا بزنس مین اپنے بزنس کو لالٹین کی روشنی میں چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔ جہاں ہر طرف ڈیزل کی بو ہے اور جنریٹر کی لائٹ قوم کو عارضی روشنی تو دے رہی ہے مگر ساتھ مستقل پاگل پن بھی بخش رہی ہے ۔
پاکستانی لوگ کہتے ہیں ترقی یافتہ قومیں کروڑوں خرچ کر کہ چاند پر جا رہی ہیں اور ہم نے پاکستان کو ہی چاند بنا لیا ہے ۔ نہ بجلی ، نہ گیس نہ پانی ۔چاند ہی میں ایسا ہوتا ہے نا ۔ پاکستان میں اب یہ حالت ہے کہ یہ لطیفہ وہاں بہت سنا ،لکھا اور پڑھا جاتا ہے ۔کیونکہ اس کے علاوہ وہاں کرنے کو اب کچھ نہیں رہ گیا ۔
کراچی میں کچھ لوگوں نے اپنے علاقوں میں پن چکی لگا کر بجلی کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش ہے ۔ جس کا جو ہاتھ پڑ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ مگر کیا یہ مستقل حل ہیں ۔ کیا حکومتیں اس لئے نہیں بنتیں کہ وہ پالیسیاں ترتیب دیں اور ان پر عمل درآمد کروا کر ملک میں جہاں ،جس جگہ کمی ہورہی ، اس کو پورا کیا جائے ۔ اور یہاں حکومتیں آتی ہیں چاہے فوجی یا عوامی ، پالیسیاں بنانا تو دور کی بات صوبوں میں آپسی نفرت کو ختم نہیں کر سکیں ۔ صوبہ پنجاب پر بڑھتی ہوئی بداعتمادی کا کوئی تداراک نہیں کر سکیں۔ بلکہ نااہل لیڈر جذباتی عوام کو ایک دوسرے سے لڑوانے میں مصروف کر کے خود عیش و عشرت میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔ فارن بنکس میں اپنا روپیہ بھرتے ہیں ، وہ روپیہ وہیں گلتا سڑتا رہتا ہے ، ان کے کام بھی نہیں آتا ۔۔کیونکہ ایک انسان کتنا کھا سکتا ہے ؟ کتنا اوڑھ سکتا ہے اور اپنی عیش پر کتنا کو خرچ کر سکتا ہے ۔۔ جب وہ یہ سب کر لیتے ہیں ا سکے باوجود پیسہ اکاؤنٹس کے کریڈٹ بیلنس کو شو کرتا رہتا ہے ، جگہ جگہ بنے محل ویسے ہی سجے رہ جاتے ہیں ، ہیرے کی عینکیں اور کروڑوں کی گھڑیاں ، سونے کے سگار اور لاکھوں کی جوتیاں ۔۔ سب ادھر ادھر بکھرے پڑے ہوتے ہیں ۔ مگر ا سکے باوجود اس تماشے کے لئے پیسہ لوٹ کر عوام کو ان کی بنیادی ضرورت سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ ورنہ کیا ان لیڈروں کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ وہ قوم کو بجلی کے بحران سے نجات دلاسکیں ۔اگر تھرمل یونٹس کو ان کی ادا ئیگی کر دی جائے تو کیا یہ ناممکن ہے کہ وہ ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی کرسکیں ۔۔کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ بجلی کی ڈیمانڈ سے بھی ذیادہ سپلائی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں مگر بات ہے کہ انہیں پیسہ نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ حکومت کی لسٹ میں سرِ فہرست نہیں ہے ۔ ان کی ترجیحات عوام کی ترجیحات سے فرق ہیں ۔ کیونکہ یہ حکومت عوامی پسند سے نہیں ایک کچے کاغذ کی وصیت پر آئی ہے ۔ جو اور کام تو دور کی بات لوگوں کے اس بکھرے ہجوم کو ایک قوم بنانے میں ناکام ہے ۔ ورنہ ڈیم بننے پر صوبوں میں تو ، میں کی نوبت نہ آتی ۔۔اور جو کام ملکی مفاد میں ٹھیک ہوتا اس پر سب صوبوں کی ایک رائے ہوتی ۔
مگر یہاں تو زرداری صاحب اپنی دوستیاں نبھا رہے ہیں ۔ جو دوست ہے چاہے وہ کتنا ہی نااہل ہے اسے اہم پوسٹ پر لگانا ان کا حقِ دوستی ہے ۔ قوم کی کون سوچتا ہے یہاں تو اپنا بنک بیلنس اور اپنی دوستیاں ۔۔
آج دو سالوں کے اندر اندر جس بری طرح بجلی کا یہ بحران آیا ہے ،میرے دماغ میں بار بار ایک دو جملے گونجتے جاتے ہیں ،ایک تو یہ کہ ۔۔یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔۔ اور دوسرا democracy is the best revenge
بس عوام یہی خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔
اس کے ساتھ ہی ایک بات اور ذہن میں آتی ہے کہ پاکستانی سب مصیبتیں بھول کر اس بات پر جشن منا رہے ہیں کہ انڈیا کی دوشیزہ ان کے آنگن میں اتر رہی ہے ۔ تو یہاں بھی انہیں تھوڑا سا محتاط ہونا چاہیئے ۔ لازمی نہیں کہ وہ ہی ہماری بہو بن کر آئے ، شعیب ملک جتنا عقل مند ہے وہ ان کا گھر جمائی بھی بن سکتا ہے ۔لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوبی قوم کو یاد دلانا ہے کہ آگے بھی ایک دفعہ انڈیا کی حسینہ نے ہمارے اچھے خاصے کرکٹ کے ہیرؤ محسن خان کو ادکار بنا دیا تھا اور انڈیا رکھنے پر بضد رہی تھی ۔ انڈیا نے ہم سے پانی بھی چھینا ہے اور گاہے بگاہے ہمارے ہیروز بھی ۔۔ چاہے دھوکے سے ، چاہے پیار سے ، چاہے عزت دے کر ۔سوچئے اس دن کو جب شعیب ملک کرکٹ چھوڑ کر ٹینس کھیلے گا ۔۔ موم بتی سے سر اٹھا کر دیکھئے ۔۔ہم اونٹوں کے زمانے میں جا رہے ہیں۔ بجلی ،پانی اور گیس ۔۔کہتے کہتے اب ہمیں کچھ عجیب نہیں لگتا ۔۔ مگر یقین جانئے ۔۔ صوبے تو کالا باغ ڈیم اس لئے نہیں بننے دے رہے کہ ایک آدھا علاقہ بنجر ہوجائے گا ، ایک قوم بن کر سوچیں تو پتہ چلے گا کہ یہ پورا ملک بنجر ہوسکتا ہے ۔ ایک صحرا میں بدل سکتا ہے اور ایک ویرانہ بن سکتا ہے ۔۔ جب بین الاقوامی سطح پر جا کر پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں اپنے کچھ علاقے مکمل طور پر برباد کر چکا ہے ۔ اور اس بربادی کے نتیجے میں ، لوگوں کو قتل کر کے یہ موقف اختیا ر کیا جاتا ہے کہ یہ سب قومی مفاد میں کیا جارہا ہے تو کیا ایک کالا باغ ڈیم نہیں بنایا جاسکتا ۔ اس کے بدلے میں اگر کچھ علاقے بنجر بھی ہوتے ہیں تو کیا یہ فیصلہ ملک کے وسیع تر مفاد میں فورا نہیں کر دینا چاہیئے تھا ؟ اول تو اس کے بھی بہت طریقے ہونگے ، احتیاطی تدابیر ہونگی ۔۔تکنیکی طور پر حل تو بہت ہونگے ، مگر شائد سیاسی طور پر چھائی منحوست کو ختم کرنے کا کوئی ٹوٹکہ عوام کے پاس نہیں ہے ۔
اتنے بڑے بڑے آمر آئے ۔۔ بڑے بڑے فیصلے تن تنہا کر گئے ، حتی کہ ضیاالحق جیسا آمر جس نے بھٹو کو پھانسی دے دی ، وہ بھی اس ڈیم پر آکر دو تین آرا ء کا شکار ہوگیا اور کوئی فیصلہ نہ کر سکا ، مشرف جیسا ٹارزن جس نے لوگوں کو غلاموں کی طرح بیچنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا ، وہ بھی اپنے اعلان کے باوجود یہ ڈیم نہ بنا سکا ۔۔ اور پھر راجہ پرویز نے تو بالکل ہی نیاء ڈبو دی کہ یہ ڈیم بن ہی نہیں سکتا ۔۔نہیں بن سکتا تو کچھ اور تو ہوسکتا ہے ۔۔کچھ تو کر دیں ۔۔چھوٹی نہریں ، بند ۔۔ بیراج ۔۔کچھ تو ۔۔ مگر نہیں فکر کی کوئی بات نہیں ۔۔ ثانیہ مرزا دلہن بن کر ہمارے آنگن میں اتر رہی ہے ۔۔ اب تو ویسے بھی چار سو روشنی پھیل جائے گی ۔تو کیا ضرورت ہے ۔ انڈیا لاکھ چلاکیاں کر لے ،ہمارے نوجوان ہیں نہ ایک ہی کام میں جتے ہوئے ۔۔ اور عبدالقادر نے ایک اور خوشخبری دی ہے جس سے لوڈ شیڈنگ میں اور بھی افاقہ ہوگا ، اندھیرا مذید کم ہوگا ۔۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اگلی روشنی وسیم اکرم اورششمیتا سین کی شادی کے بعد پھیلے گی ۔ انڈیا لاکھ ہم سے دریا چھین لے ہم بھی اپنے کام کے پورے ہیں ماشاء اللہ ۔





تازہ ترین تبصرہ جات