Archive for the Category »تازہ ترین «
حسبِ فرمائش آج کی تحریر میں ہم اپنے بلاگ کے قاری کو اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت دینے کا طریقہ جانیں گے۔ فونٹ سوئچر والی تھیم میں عموما سائڈ بار پر اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔
ہم اس کام کا بنیادی اور آسان سا طریقہ سمجھیں گے۔ بعد میں آپ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ کرسکتے ہیں۔ اس کام کے لیے آپ کو ورڈپریس تھیم کے بنیادی ڈھانچے سے تھوڑی بہت آگاہی ضرور ہونی چاہیے۔
پہلا کام:
اسٹائل سوئچ ڈاٹ جے ایس کی فائل یہاں سے اتار کر اپنی تھیم کے فولڈر میں کاپی کرلیں۔
دوسرا کام:
اپنی تھیم کی سی ایس ایس فائل کھولیں اور جہاں جہاں تحریری متن کی فونٹ فیملی بیان ہوئی ہے، اسے ہٹاکر صرف body کے سلیکٹر میں ایک فونٹ فیملی بیان کریں۔ یوں یہ فونٹ فیملی پورے بلاگ پر اپلائی ہوجائے گی۔ میں ورڈ پریس کی ڈیفالٹ تھیم کے ساتھ کھیل کررہا ہوں۔ فرض کریں کہ ہم اپنی تھیم کا ڈیفالٹ فونٹ علوی نستعلیق رکھنا چاہ رہے ہیں تو فونٹ فیملی اور فونٹ سائز یوں ہوگا:
1 2 3 4 5 6 7 8 | body { font-size: 17px; font-family: 'Alvi Lahori Nastaleeq', 'Alvi Nastaleeq', Tahoma, 'Lucida Grande', Verdana, Arial, Sans-Serif; background: #d5d6d7 url('images/kubrickbgcolor.jpg'); color: #333; text-align: center; direction: rtl; } |
واضح رہے کہ میں نے فونٹ فیملی اور فونٹ سائز کے علاوہ باڈی سلیکٹر کی دوسری ویلیوز اور ان کی پراپرٹیز کو نہیں چھیڑا ہے۔
تیسرا کام:
اب ایک اور سی ایس ایس فائل بنائیں جس میں صرف اور صرف body کا سلیکٹر اور اس کی پراپرٹیز شامل کریں (style.css کا باقی کوڈ شامل کرنے کی ضرورت نہیں) اور اس کی فونٹ فیملی میں پہلی ترجیح کسی دوسرے فونٹ یا نفیس ویب نسخ کو دیں۔ مثلا:
1 2 3 4 5 6 7 8 | body { font-size: 15px; font-family: 'Nafees Web Naskh', Tahoma, 'Lucida Grande', Verdana, Arial, Sans-Serif; background: #d5d6d7 url('images/kubrickbgcolor.jpg'); color: #333; text-align: center; direction: rtl; } |
اس فائل میں، میں نے صرف فونٹ فیملی اور فونٹ سائز کو بدلا ہے۔ اب اسے کسی بھی نام سے محفوظ کرلیں جیسے
style-nafeesnaskh.css
اسی طرح دوسرے فونٹس (اردو نسخ ایشیا ٹائپ، تاہوما وغیرہ) کی اسٹائل شیٹس بھی بنالیں اور ان میں ان فونٹس کے حساب سے ہی فونٹ سائز رکھیں۔میں نے ایسی تین مزید فائلز بنائی ہیں۔ نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ اور تاہوما کی۔ یوں ہمارے پاس سی ایس ایس فائلز کی تعداد چار ہوگئی۔
1 2 3 4 | style.css style-nafeesnaskh.css style-urdunaskh.css style-tahoma.css |
چوتھا کام:
اپنی تھیم میں header.php کی فائل کھول کر اس میں یہ کوڈ تلاش کریں:
1 | <?php wp_head(); ?> |
اس سے اگلی لائن میں یہ کوڈ پیسٹ کر دیں:
1 2 3 4 | <link rel="alternate stylesheet" type="text/css" media="screen" title="theme1" href="<?php bloginfo('stylesheet_directory'); ?>/style-nafeeswebnaskh.css" /> <link rel="alternate stylesheet" type="text/css" media="screen" title="theme2" href="<?php bloginfo('stylesheet_directory'); ?>/style-urdunaskh.css" /> <link rel="alternate stylesheet" type="text/css" media="screen" title="theme3" href="<?php bloginfo('stylesheet_directory'); ?>/style-tahoma.css" /> <script src="<?php bloginfo('stylesheet_directory'); ?>/styleswitch.js" type="text/javascript"></script> |
پہلے اس فائل کو اتار کر کوڈ دیکھیں۔ اگر آپ اس کوڈ کو سمجھنا چاہیں تو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ پہلی سطر میں ہم نے بتایا کہ theme1 ہمارے پاس اسٹائل شیٹ کی ڈائریکٹری میں رکھی ہے اور نام ہے style-nafeesnaskh.css۔دوسری سطر میں theme2 کا بتایا گیا ہے کہ یہ style-urdunaskh.css ہے۔ تیسری سطر میں theme3 کو style-tahoma.css کہا گیا ہے۔ اور آخری سطر میں styleswitch.js فائل کی موجودگی کا بتایا گیا ہے جسے ہم نے سب سے پہلے مرحلے میں تھیم فولڈر میں کاپی کیا تھا۔ یوں یہ چوتھا مرحلہ بھی اختتام پذیر ہوا۔
پانچواں کام:
کیوں جی؟ تھک گئے کیا؟ اجی یہ کام ہی کچھ اوکھا ہے۔۔۔ چلیں اب یہاں تک آگئے ہیں تو یہ مرحلہ بھی جان لیں اور یقین رکھیں کہ یہ آخری مرحلہ ہے اور اس کے بعد آپ کو اب تک کی گئی محنت کا پھل مل جائے گا۔
کرنا یہ ہے کہ اب سائیڈ بار میں جہاں آپ نے تھیم فونٹ سوئچر شامل کرنا ہے، وہ سائیڈ بار کی فائل کھولیں اور یہ کوڈ شامل کریں:
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 | <li><h2>فونٹ منتخب کریں</h2> <li dir="ltr"> <form id="switchform"> <select name="switchcontrol" style="font-family:'Trebuchet MS','Lucida Grande', Verdana, Arial, Sans-Serif; width:170px" onChange="chooseStyle(this.options[this.selectedIndex].value, 60)"> <option value="Alvi Nastaleeq" selected="selected">Alvi Nastaleeq</option> <option value="theme1">Nafees Web Naskh</option> <option value="theme2"> Urdu Naskh Asiatype </option> <option value="theme3">Tahoma</option> </select> </form> </li> |
اس کوڈ کو سمجھنا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ سوئچ کنٹرول کا بتاکر پہلے ڈیفالٹ فونٹ کا رکھا گیا ہے جو کہ علوی نستعلیق ہے۔ اگلی سطور میں تھیم1، تھیم2، اور تھیم3 کا نام دیا گیا ہے۔ بس اس فائل کو محفوظ کریں اور اپنا بلاگ دیکھیں۔ فونٹ سوئچر جیسے آپشن سے آپ کا بلاگ مالامال ہوچکا ہوگا۔
کسی قسم کی مشکل میں آپ بلا جھجک یہاں سوال کرسکتے ہیں۔
یوں تو ورڈپریس روز اول سے ہی زبردست پذیرائی لیے آج تک موجود تھا لیکن اس درمیانے عرصے میں اگر ورڈپریس 2.7 کو اس مشہور بلاگنگ سافٹ وئیر کے شاندار دور کا نقطہءِ عروج کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ میری طرح سے دوسرے عام صارفین مشکل اصطلاحات والے، اندورنی قسم کے فیچرز کی بجائے سافٹ وئیرز کو رنگ ڈھنگ، استعمال میں آسانی جیسی ظاہری خوبیوں کے نقطہ نگاہ سے جانچتے ہیں اور اس نئے جاری کردہ نسخے کی سب سے بڑی خوبی انہی چیزوں کی بہترین پیشکش ہے۔
ورڈپریس 2.7 کا اجراء دسمبر کی 12 تاریخ کو ہوا، گو پہلے ورڈپریس ٹیم کا ارادہ نومبر میں جاری کرنے کا تھا۔ ورڈپریس کے یہ نیا نسخہ 150 ماہرین کی شبانہ روز محنت کا ثمر ہے۔ اس نئے نسخے کو امریکی موسیقار John Coltrane کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
بات خوبیوں کی ہے تو جیسے میں نے ذکر کیا کہ ظاہر وضع قطع میں زیادہ اور خوشگوار تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تبدیلیاں آپکے قارئین کو نہیں بلکہ صرف آپکو یعنی صرف ڈیش بورڈ میں نظر آئینگی۔ قارئین کیلیے ایک فیچر کمنٹس تھریڈنگ کا ہے جس کا ہم آگے چل کر ذکر کرینگے۔
فیچرز کا ذکر شروع کرتے ہیں ورڈپریس کے نئے سادہ مگر انتہائی خوبصورت مواجے(Interface) سے۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کچھ ہی دن بعد ورڈپریس والے خود مواجے کو اس درجے کا خوبصورت بنا دینگے تو میں کبھی ایسی تحریر نہ لکھتا۔
۔

نئے مواجے میں جاوا سکرپٹ کی مشہور لائبریریز جے کیوری(jQuery) اور پروٹوٹائپ(Prototype) کو استعمال میں لاتے ہوئے نہ صرف خوبصورت بلکہ استعمال میں انتہائی سہل ڈیش بورڈ کی تشکیل کی گئی ہے۔ ڈیش بورڈ کے وہ غیر ضروری عناصر جن سے آپ تنگ ہو یا وقتی طور پر انہیں یہاں موجود نہ دیکھنا چاہتے ہو، کو آپ باآسانی اوپر دائیں طرف موجود سکرین آپشنز کے ذریعے غائب(اور دوبارہ حاضر) کر سکتے ہیں(دیکھیے نمبر1)۔ ہیڈر میں ہمہ وقت ایک ڈراپ ڈاؤن مینو موجود رہتا ہے جس سے با آسانی آپ اپنے ڈیش بورڈ کے زیادہ استعمال ہونے والے حصوں یعنی نئی تحریر، نیا صفحہ، ڈرافٹس، اپلوڈز اور تبصروں کے صفحات تک ایک کلک سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں(دیکھیے نمبر 2)۔ ایک کلک کی بات چل نکلی تو میں بتاتا چلوں کہ ڈیش بورڈ کا پرانا عمودی بار جسمیں صرف ایک صفحے تک جانے کے لیے آپکو کئی کلک کرنے پڑتے تھے، آپ ہر صفحے تک ایک کلک کے ذریعے رسائی کے ساتھ عمودی حالت میں بائیں جانب کر دیا گیا ہے۔ بائیں جانب آنے سے صفحے کے درمیانی عناصر کا دم اگر آپ کو گھٹتا نظر آئے تو سائیڈ بار میں موجود دو سلائیڈرز کے ذریعے اسے چھوٹا کر کے مزید جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ اگر آپ صفحہ پر موجود عناصر (ٹیکسٹ ایڈیٹر کو چھوڑ کے) غائب کرنے کی بجائے صرف minimize کرنا چاہتے ہیں تو یہ مزے بھی آپکو ورڈپرس کے نئے نسخے میں ملیں گے۔ ڈیش بورڈ کی صفحه اول پر بلاگ کے اعداد و شمار کو زیادہ بہتر طریقے سے پیش کیا گیا(دیکھیے نمبر3)۔ Quick Press جو پہلے ایک ویجیٹ کی صورت میں آتا تھا، اب ڈیش بورڈ کا باقاعده حصه ہے(دیکھیے نمبر4)۔ اس کے ذریعے آپ تحریر لکھنے والے صفحہ پر گئے بغیر سرعت سے تحریر لکھ اور شائع کر سکتے ہیں۔
مواجے کے بعد آتے ہیں کچھ اور اندرونی فیچرز کیطرف۔ ورڈپریس استعمال کنندگان کیلیے ایک بڑی جھنجھٹ ہر تھوڑے عرصے بعد نئے نسخے یا بگ فکس کی ریلیز کے ساتھ اپنے ہاں نصب شدہ نسخے کو اپ ڈیٹ کرنا تھا۔ گو ورڈپریس آٹو میٹک اپگریڈ پلگ ان کے ذریعے یہ کام ایف ٹی پی کی جھنجھٹ کے بغیر بھی کیا جا سکتا تھا لیکن مذکورہ پلگ ان کے آفیشل نہ ہونے کیوجہ سے ہر نئے نسخے کیساتھ اسکے پنگے چلتے رہتے تھے۔ ورڈپریس کے اس نئے نسخے میں اپگریڈ کی جھنجھٹ کا بھی بغیر ایف ٹی وغیرہ کے علاج کیا گیا ہے۔ اب ہر نئے نسخے کی ریلیز کے ساتھ آپکو اپنے ڈیش بورڈ میں اس کی دستیابی کی اطلاع ملے گی اور اگر آپکو اعتراض نہ ہو تو ایک کلک سے اسے اپگریڈ کر سکتے ہیں۔
پلگ انز کی تنصیب مزید آسان کر دی گئی ہے، آپ ڈیش بورڈ کے اندر رہتے ہوئے نئے پلگ ان تلاش اور نصب کر سکتے ہیں۔ اب اس کام کیلیے بھی آپکو ایف ٹی پی اور نہ ہی اضافی پلگ انز کی ضرورت ہے۔ ہاں اگر کوئی پلگ ان ورڈپریس پلگ ان ڈائریکٹری میں نہیں موجود تو اسے آپ اپنے پاس ڈاؤنلوڈ کرکے بغیر ایف ٹی پی کے صرف براؤز اور منتخب کرے نصب کر سکتے ہیں۔

اس نئے ورڈپریس کی آخری خوبی جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا، کمنٹس تھریڈنگ ہے(دیکھیے نمبر5)۔ کمنٹس تھریڈنگ کے ذریعے آپکے بلاگ پر ہونے والے تبصروں کو مزید دلچسپ بنایا گیا ہے۔ یاد کریں کہ اگر آپکو کسی مخصوص تبصرہ ناگار کو جواب دینا ہوتا تو باقاعدہ مخاطب کا نام لیکر اسے جواب دینا ہوتا تھا۔ کمنٹس تھریڈنگ تبصروں کے نظام کو کسی فورم کے تبصرے کیطرح دھاگے(thread) کی شکل دیتا ہے۔ واضح رہے کہ کمنٹس تھریڈ ورڈپریس صارفین پہلے بھی ایک پلگ ان کے ذریعے استعمال میں لا سکتے تھے۔
یہ تھا ورڈپریس 2.7 کا ایک تعارف۔ ہمیں بتائیے کہ آپ نے نئے نسخے کو کیسے پایا؟ اور ہاں اگر آپ نے ابھی تک پرانا نسخہ اپگریڈ نہیں گیا تو فوراً سے پیشتر کر لیں۔





تازہ ترین تبصرہ جات