Pak Galaxy | Information and Telecom News

↑ Grab this Headline Animator

Archive for the Category »تحقیقاتی رپورٹیں «

امداد کا مذہب نہیں

امداد کا مذہب نہیں

سہیل حلیم

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

کرشنا، قریشی

دونوں ملکوں کے درمیان تلخی ہر مسئلے کا رخنہ ہے

جب کسی بڑی قدرتی آفت کے بعد لاکھوں کروڑوں لوگ بے سروسامانی کی حالت میں مارے مارے پھر رہے ہوں تو ایسا کیا ہے جس پر حکومتوں کو سیاست نہیں کرنی چاہیے؟

آپ شاید کہیں گے کہ امداد کہیں سے بھی اور کسی بھی شکل میں مل رہی ہو، ایسی مشکل کی گھڑی میں لے لینی چاہیے۔

تو پھر کیوں پاکستان نے ابھی تک ہندوستان کی جانب سے پانچ ملین ڈالر کی امداد کی پیش کش قبول نہیں کی ہے؟ اور ہندوستان جیسے بڑے ملک کی طرف سے صرف پانچ ملین ڈالر کی پیش کش کیوں کی گئی ہے؟

فوری طور پر ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور ان کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے درمیان حالیہ تلخی شاید آڑے آرہی ہے۔

لیکن پانچ سال پہلے جب پاکستان کے کوہستانی علاقوں میں زلزلے سے تباہی ہوئی تھی، تب کیا ہوا تھا؟ تب بھی حکومت پاکستان نے ہندوستان سے امداد لینے کے معاملے کو ’انتہائی حساس‘ بتایا تھا۔
فائل فوٹو

بھارت سے سیلاب متاثرین کی مدد بآسانی کی جا سکتی ہے

اس وقت دور دراز علاقوں میں امداد کا سامان پہنچانے کے لیے پاکستان کو ہیلی کاپٹروں کی سخت ضرورت تھی، کچھ ٹال مٹول کے بعد اس نے ہیلی کاپٹروں کی پیش کش تو منظور کر لی تھی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پائیلٹ اس کے اپنے ہوں گے! اس رسہ کشی کے نتیجےمیں نہ ہندوستانی فوج امداد کے کام میں مدد کے لیے پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں داخل ہوسکی اور نہ ہی ہیلی کاپٹروں کے استعمال کی نوبت آئی۔

اس وقت پاکستان میں حزب اختلاف کےایک رہنما نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہیلی کاپٹروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔‘

لیکن بالآخر کافی بڑی مقدار میں امداد بھیجی گئی تھی اور اس وقت دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے دلی کے ایک بینک میں کھاتہ بھی کھولا تھا اور ہندوستان کے ٹی وی چینلوں نے اس رلیف فنڈ کی خوب تشریح بھی کی تھی۔ اور دلی سے اسلام آباد بھیجے جانے والے سامان پر لکھا تھا : ’ہندوستانی عوام کی طرف سے پاکستانی عوام کے لیے۔‘

لیکن امداد قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم نے یہ بھی یاد دلایا تھا کہ سن دو ہزار ایک میں جب گجرات زلزلے کی زد میں آیا تھا، تو پاکستان نے بھی متاثرین کی مدد کی تھی!
فائل فوٹو

بھارتی میڈیا میں پاکستان میں آئے سیلاب کی خاطر خواہ کوریج بھی نہیں ہے

اس مرتبہ دو نئی باتیں ہوئی ہیں۔ ہندوستانی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر پاکستان کے سیلاب کی خبریں مشکل سے ہی نظر آتی ہیں اور اس پیمانے پر کوریج نہیں ہے، جس پیمانے کا یہ سانحہ ہے۔ اور حکومت کی جانب سے امداد کی پیش کش میں وہ گرم جوشی نظر نہیں آتی جو زلزلے کے وقت تھی۔

اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہےکہ تب شہر کےشہر تباہ ہوگئے تھےاور مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یا شاید اس سانحے پر دنیا کی توجہ مرکوز تھی۔

بہرحال، ہندوستانی اخبارات میں منگل کو وزارت خارجہ کے عہدیداران کے حوالے سے کئی تقریباً ایک سی خبریں شائع ہوئی ہیں، نام کسی کا نہیں ہے لیکن لگتا ہے کہ کوشش اس تاثر کو زائل کرنے کی ہے کہ امداد کے نام پر ہندوستان ’پولیٹکل پوائنٹ سکورنگ‘ کی کوشش کر رہا ہے یا صرف ایک رسم ادا کی گئی ہے۔

مثال کے طور پر دی ہندو نے ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے: ’امداد کی پیش کش کا سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہمیں جس طرح بھی ممکن ہو مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘

اخبار کے مطابق اس نامعلوم عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پاکستان چاہے تو امداد اقوام متحدہ کی نگرانی میں بھی بھیجی جاسکتی ہے۔

پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت دوائیوں اور کھانے پینے کے سامان کی ہے۔ اور لاکھوں ہیکڑئر کاشت کی زمین زیر آب آجانے کی وجہ سے اجناس کی ضرورت لمبے عرصے تک رہے گی۔

ووسرے مرحلےمیں اسے تعمیر میں کام آنے والے ساز وسامان کی ضرورت پڑے گی۔ جیسا زلزلے کے بعد ہوا تھا۔

دنیا میں سب سے سستی دوائیاں ہندوستان میں بنتی ہیں اور یہاں لاکھوں ٹن اناج بارشوں میں کھلے آسمان کے نیچے پڑا سڑ رہا ہے۔ صورتحال اتنی خراب ہےکہ سپریم کورٹ نے چند روز قبل ہی یہ سوال کیا تھا کہ اگر اس اناج کا محفوظ انداز میں ذخیرہ نہیں کیاجاسکتا تو اسے غریبوں میں مفت تقسیم کیوں نہیں کردیا جاتا؟

پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ زیادہ تر علاقے، چاہے خیبر پختونخواہ میں ہوں، پنجاب میں یا سندھ میں، ہندوستان کی سرحد سے چند گھنٹے سے زیادہ کی مسافت پر نہیں ہیں۔

یہاں سے اناج، دوائیاں اور دوسرا ساز وسامان بہت کم وقت میں، بہت کم لاگت پر اور بہت بڑی مقدار میں سرحد پار بھیجا جاسکتا ہے۔ اگر ہندوسان امداد کی شکل میں دینا اور پاکستان لینا چاہے تب بھی، اور اگر بین الاقوامی امدادی ادارے یہاں سے خرید کر لیجانا چاہیں تب بھی۔

بس دو باتیں یاد رکھنے کی ضروت ہے: ہیلی کاپٹروں کی طرح اناج اور دوائیوں کا بھی کوئی مذہب نہیں ہوتا اور کشمیر کا مسئلہ تریسٹھ سال سے حل نہیں ہوا ہے، اگر دو چار مہینے اور لگ جائیں گے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔

لیکن اگر مشکل کی اس گھڑی میں کچھ دیر کے لیے سیاست نہ کی جائے تو ہوسکتا ہے کہ مستقبل کے لیے کوئی نئی راہ نکل آئے۔ یہ امید دونوں ملکوں میں زلزلے کی تباہی کے بعد بھی ظاہر کی گئی تھی، اس وقت تو کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا، لیکن بڑی تباہیاں بڑے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں، ضروری نہیں کہ جو پہلے نہیں ہوا وہ کبھی نہیں ہوسکتا۔

بھارتی وزیر اعظم کی وینب سائیٹ ہیک

سوئس منی لانڈرنگ کیس ریکارڈ غائب کرنے کی کوشش جیو کا چھاپہ

Swiss Case
Swiss Case Asif Ali Zardari

یوروگوئےمیں ’انقلاب‘

بی بی سی۔۔۔۔۔۔۔یوروگوئےمیں ’انقلاب‘

پروگرام کا سالانہ خرچہ اکیس ڈالر فی طالب علم ہے

یوروگوئے کو دنیا کا پہلا ایسا ملک بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے جہاں پرائمری سکول میں ہر بچے کے پاس لیپ ٹاپ ہے۔

یوروگوئے میں گزشتہ دو سال میں بچوں کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کے منصوبے میں تین لاکھ باسٹھ ہزار طالب علم اور اٹھارہ ہزار اساتذہ شامل رہے ہیں۔

اس منصوبے سے بہت سے ایسے خاندانوں کو کمپیوٹر حاصل ہوا ہے جنہوں نے انٹرنیٹ پہلی بار استعمال کیا ہے۔

یوروگوئے ’ایک لیپ ٹاپ فی بچہ‘ سکیم میں شامل ہے جو انٹرنیٹ کے ایک بانی نکولس نیگرپونٹے نے شروع کی ہے۔ نیگروپونٹے کا شروع میں خیال تھا کہ ہر بچے کو ایک سو ڈالر فی مشین میں لیپ ٹاپ فرام کیا جا سکے گا لیکن اس سے زیادہ پیسے خرچ ہو گئے۔

یوروگوئے میں ہر بچے کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے میں دو سو ساٹھ ڈالر فی مشین لاگت آئی ہے۔ اس میں مرمت، اساتذہ کی تربیت اور انٹرنیٹ کے کنیکشن کا خرچہ بھی شامل ہے۔

کے جی بی (KGB)

کے جی بی (KGB) دراصل Комите́т Госуда́рственной Безопа́сности (یعنی: کومیتیت گوسودارستوینوی بیزوپاسنوستی) کا مخفف ہے، یہ سابقہ سوویت یونین کی انٹیلی جینس ایجنسی یا جاسوسی کا ادارہ ہے جسے 20 دسمبر 1917ء کو فلیکس ڈزرزہینسکی (Felix Dzerzhinsky) کی قیادت اور صدر ولادیمیر لینن کی سرپرستی میں قائم کیا گیا تھا، اپنے قیام سے ہی اسے بلشفی انقلاب (Bolshevik Revolution) یا انقلابِ اکتوبر اور کمیونسٹ پارٹی کی تلوار سمجھا جاتا رہا ہے، اپنے ابتدائی دور میں ہی کے جی بی نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں، جب مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ اور امریکہ نسبتاً سکون کی حالت کے مزے لوٹ رہے تھے، کے جی بی نے اس کا فائدہ اٹھایا اور نہ صرف ان ممالک کے حکومتی اداروں میں بلکہ عسکری اداروں میں بھی اپنے ایجنٹ شامل کردئے، کے جی بی نے مین ہٹن پراجیکٹ جس سے امریکہ کو ایٹم بم حاصل ہوا، سے ایٹم بم کے راز چوری کر لئے تھے جو شاید کے جی بی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے، سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کو ”ایک پارٹی ملک” کے طور پر قائم رکھنے میں کے جی بی نے بڑا اہم کردار ادا کیا اور کمیونسٹ پارٹی کی ہر مخالف سیاسی فکر کی قلع قمع کی، یورپ اور امریکہ میں کے جی بی کا نیٹ ورک اتنا بڑا اور اس قدر فعال تھا کہ وہ ہر جدید ٹیکنالوجی کو فوراً ہی سوویت یونین منتقل کردیتے تھے.

اہم کامیابیاں

سرد جنگ سے پہلے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی نسبت امریکہ کے جی بی کے لئے اتنا زیادہ اہم ہدف نہیں تھا چنانچہ امریکہ میں کے جی بی کا نیٹ ورک بڑی سست روی سے بڑھا، مگر سرد جنگ کے شروع ہونے کے بعد یہ سب تبدیل ہوگیا اور کے جی بی نے امریکہ میں اپنا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کر لیا، اور جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ کے جی بی کی سب سے بڑی کامیابی امریکہ کے ایٹم بم کا فارمولا حاصل کرنا تھا جس نے ایٹم بم کے بل پر ساری دنیا کو ڈرایا ہوا تھا چنانچہ سوویت یونین بھی ایٹم بم بنا کر امریکہ کے برابر آکھڑا ہوا اور مہاہدوں کے ذریعہ امریکہ کو اس کے استعمال سے باز رکھا، ایٹم بم کے علاوہ کے جی بی کے ایجنٹوں نے کئی اہم ایجادات کے راز اور فارمولے سوویت یونین منتقل کئے جیسے جیٹ انجن، ریڈار، انکرپشن کے طریقے اور دیگر، کے جی بی کی ان پے در پے کامیابیوں کی وجہ سے پورے امریکہ میں سوویت ایجنٹوں سے ڈر کی ایک لہر دوڑ گئی جسے اس وقت ”سرخ ڈر” (Red Scare) کا نام دیا گیا، سینیٹر جوزف مکیرتھی (Joseph McCarthy) کی سربراہی میں کے جی بی کے خلاف کئی مہمیں بھی چلائی گئیں (جو بعد میں مکیرتھزم McCarthyism کے نام سے جانی گئیں) اور ہر اس شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جو کمیونزم کے لیے ذرا سا بھی نرم گوشہ رکھتا ہو، یہ مہمیں شمولی (totalitarian) ممالک کی غسل دماغی یا برین واش مہموں سے مشابہ تھیں چنانچہ امریکی اس سے کافی خوفزدہ ہوگئے کیونکہ وہ اس کے عادی نہیں تھے، ان مہموں سے کے جی بی امریکہ میں کافی حد تک متزلزل ہوا، برطانیہ میں کے جی بی خود برطانوی انٹیلی جینس میں اپنے جاسوس شامل کرنے میں کامیاب رہا حتی کہ برطانوی انٹیلی جینس میں کے جی بی کی روک تھام کے شعبے کا سربراہ بھی کے جی بی کا ایجنٹ تھا !! اس طرح کے جی بی کے ایجنٹ برطانیہ کے عسکری، سیاسی اور علمی راز سوویت منتقل کرتے رہے، کے جی بی کا کام دوسرے ممالک کی جاسوسی کرنا ہی نہیں تھا بلکہ اس کے ایجنٹ سوویت یونین کی عمومی زندگی پر بھی نظر رکھتے تھے اور حکومت مخالف ہر آواز کو کچلنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل تھا.

کے جی بی کا خاتمہ

1991ء میں کے جی بی کا سربراہ ولادیمیر کریوچکوو (Vladimir Aleksandrovich Kryuchkov) صدر میخائیل گورباچوو کی قتل کی سازش میں ملوث پایا گیا چنانچہ 23 اگست 1991ء میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس کی جگہ جنرل ویڈم بکٹین (Vadim Viktorovich Bakatin) کو کے جی بی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا اور اسے کے جی بی کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس طرح کے جی بی کے کردار کی ایک ایسی دنیا میں ضرورت باقی نہ رہی جس میں کوئی سوویت اتحاد باقی نہیں رہا تھا، چنانچہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد 11 اکتوبر 1991ء میں کے جی بی کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا.

بشکریہ: مکی بلاگ

بھارت میں زندہ انسانوں کی قربانی

لاہور کی مشہور زمزمہ توپ کی دل چسپ کہانی

لاہور عجائب گھر کے سامنے انارکلی بازار کے رخ پر سنگِ مرمر کے چبوترے پر ایک ڈھائی سو سال پرانی گراں ڈیل توپ رکھی ہوئی ہے، جسے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، زمزمہ، بھنگیوں کی توپ اور کبھی کبھار، کمز گن (Kim’s Gun)۔

اس توپ کو آخر الذکر نام مشہور برطانوی مصنف رڈیارڈ کپلنگ کے ناول ’کِم‘ کی مناسبت سے دیا گیا ہے۔ یہ ناول کچھ یوں شروع ہوتا ہے:

’ کِم بلدیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانے عجائب گھر سامنے رکھی توپ زمزمہ پر بیٹھا تھا۔‘
Zama Toop
بعد میں بھی ناول میں جس پلیٹ فارم پر یہ توپ رکھی ہوتی ہے وہاں کِم آتا جاتا رہتا ہے اور اسی رعایت سے اس توپ کو کِمز گن بھی کہا جانے لگا حالاں کہ مقامی لوگ اس کو اب بھی زیادہ تر بھنگیوں کی توپ ہی کہتے ہیں۔

کپلنگ کے کردار نے جس مقام پر اس توپ کو دیکھا تھا آج کل یہ توپ اُس جگہ سے تھوڑی دُور لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس کے سامنے مال روڈ پر اس کے لیے خصوصی طور پر بنائے گئے چبوترے پر رکھی ہے۔ آج بھی سیاحت کو آنے والے اکثرلوگ بھنگیوں کی اس توپ کو بھی دیکھنے آتے ہیں جس کا اصلی نام ’زمزمہ‘ ہے جواس توپ پر بھی تحریر ہے۔

محکمہٴ سیاحت کے چبوترے پر اس توپ کی جوتاریخ کندہ کی ہوئی ہے اس کے مطابق یہ 1757ء صدی میں ڈھالی گئی تھی اور اس کا شمار برصغیر میں اُس وقت تک بننے والی سب سے بڑی توپوں میں ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ توپ ڈھالنے کی خاطر لاہور کے شہریوں نے ہر گھر سے تانبے یا پیتل کا ایک ایک برتن فراہم کیا تھا۔

یہ توپ ساڑھے نو انچ دھانے کی ہے اور کوئی سوا چودہ فٹ لمبی ہے۔ اسے احمد شاہ ابدالی نے 1761ء میں اس توپ کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں استعمال کیا اور کابل واپس جاتے ہوئے وہ اسے لاہور چھوڑ گیا تھا۔ بعد میں یہ سکھ سردار ہری سنگھ بھنگی کے قبضے میں آگئی جس وجہ سے آج تک بھنگیوں کی توپ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1802ء میں بھنگیوں کو شکست دے کر یہ توپ اپنی تحویل میں لے لی اور پھر اس کو کئی لڑائیوں میں استعمال کیا۔ جب یہ توپ استعمال کے قابل نہ رہی تو اس کو لا کر لاہور کے شاہی قلعے میں رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ توپ لاہور ہی میں رہی۔ برطانوی دور میں اس توپ کو عجائب گھر لاہور کے سامنے رکھ دیا گیا۔

نیشنل کالج آف آرٹس کی آرٹ گیلری کے سابق نگران ڈاکٹر اعجاز انور نےاس توپ پر کئی تحقیقی مضامین لکھے ہیں۔ اُنہوں نے ایک ملاقات میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جب ملتان فتح کیا تو وہ آخری مہم تھی جس میں یہ توپ استعمال ہوئی کیونکہ اس لڑائی میں یہ ٹوٹ پھوٹ گئی تھی اور پھراس کے بیرل کو لا کر شاہی قلعہ لاہور میں رکھ دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اعجاز انور کا کہنا تھا کہ برطانوی دور میں اس کو موجودہ شکل میں لاکر پہلے دہلی دروازے کے باہر رکھا گیا اور 1870ء میں لاہور کے عجائب گھر کے باہر ایک چبوترے پر نصب کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اعجاز انور نے کہا 1970ء کے عشرے میں نیشنل کالج آف آرٹس کےسامنے ایک پلیٹ فارم بنایاگیا اور ساتھ ایک فوارہ بھی تعمیر کیا گیا اور یہاں یہ توپ رکھ دی گئی۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس توپ کا اصلی نام زمزمہ ہی ہے جس کا مطلب شیر کی دھاڑ ہوتا ہے۔ اُن کے بقول جو لوگ موسیقی کی اصطلاح زمزمہ سے اس توپ کے نام کو جوڑتے ہیں وہ شاید احمد شاہ ابدالی کے کردار سے واقف نہیں ہیں۔ ڈاکٹر اعجاز انور کا کہنا تھا جس دور میں یہ توپ ڈھالی گئی اس زمانے میں لاہور میں غیر ملکوں سے آئے ہوئے بہت سے ماہر کاریگر رہتے تھےاور ایک روایت ہے کہ وہ آرمینیا سے آئے ہوئے کاریگر تھے جنہوں نے یہ توپ ڈھالی تھی۔

ڈاکٹر اعجاز انور نے کہا کہ زمزمہ کی تاریخ کچھ بھی ہو اور اس کو کسی نے بھی ڈھالا ہو یہ بہرحال جنگوں کی نشانی ہے اور پلیٹ فارم پر رکھنے والوں نے اتفاق سے اس کے دہانے کارُخ آج بھی پانی پت ہی طرف رکھا ہوا ہے۔

ایرانی ندا اور شہیدۃ الحجاب مروا

پچھلے دنوں ایران کے صدر احمدی نژاد نے اقوام متحدہ میں بسلسلہ اپنے خطاب، امریکا کا دورہ کیا۔ اس دورے کی ایک‌ خاص بات یہ تھی کہ ایک بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورک CBS نے انکا انٹرویو بھی لیا۔ یہ انٹرویو سی بی ایس کی معروف اینکر کیٹی کورک نے لیا ۔ اس انٹرویو میں کئی مواقعوں پر ایرانی صدر نے کیٹی کورک کی طبیعت صاف کردی خصوصا وہ لمحہ تو بڑا شاندار تھا جب کیٹی کورک نے ندا سلطان (ایک خاتون جو حالیہ ایرانی الیکشن کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں ماری گئی تھی) کی تصویر ان کے سامنے رکھی اور کہا کہ مجھ یقین ہے کہ یہ منظر آپ نے دیکھا ہو گا اس پر ایرانی صدر نے کچھ وضاحت کے بعد ایک تصویر کیٹی کورک کے سامنے رکھی یہ تصویر بھی ایک خاتون کی تھی اور ایرانی صدر نے کیٹی سے کہا کہ کیا آپ اس تصویر میں موجود خاتون کو جانتی ہیں حیرت انگیز طور پر کیٹی کور نے اس خاتون کو پہچانے سے انکار کردیا واضح رہے کیٹی نیوز کی دنیا کا ایک بڑا نام ہے اور محترمہ کے شب و روز اسی دنیا میں بسر ہوتے ہیں لیکن دنیا کے اس باخبر امریکی نیٹ ورک کی اس باخبر اینکر نے جس خاتون کی تصویر پہچانے سے انکار کیا وہ ہو سکتا ہے کہ کبھی گمنام رہی ہو لیکن گزشتہ دنوں اس خاتون کا بہت چرچا ہوا اور یہ خاتون تھیں ، شہدۃ الحجاب مروا۔
اس سے ان امریکی چینلز اور ان کے اہداف کا تعین بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔
یہ پورا انٹر ویو یو ٹیوب پر موجود ہے اس کے دوسرے حصہ کا لنک یہ ہے اور اسی میں مذکورہ مکالمہ آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں

بشکریہ: ابن حسن


click tracking
Web Stat