Archive for the Category »تعلیم «
پیدائشی معذور ہونا کیسا احساس ہوتا ہو گا نہیں معلوم لیکن اگراچانک سے معذوری پر مبعوث ہو جائیں توسمجھ میں ہی نہیں آتا کہ یہ کیا ہو گیا ۔ آپ ایک نارمل زندگی گذار رہے ہوتے ہیں ایک جوش و جذبہ اور آگے بڑھنے کی لگن کے ساتھ آگےمزید آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں اور اچانک سب کچھ بکھر جاتا ہے صرف خواب باقی رہ جاتے ہیں بکھری کرچیوں کی صورت ، جنہیں بکھرا ہوا دیکھنا تکلیف دہ ہوتا ہے اوراکٹھا کرنا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ۔ بظاہرمیں سکون سے سنی تھی آئندہ زندگی میں وہیل چیئر کی نوید اورشکر کیا کہ صرف امی تھیں میرے ساتھ اورامی کو انگریزی نہیں سمجھ آتی لیکن امی نےجب ایک سوال کیا ڈاکٹر سے تو لگا کہ امی کو بھی معلوم ہو گیا ہے کہ مجھے آئندہ کس طرح رہنا ہے امی کے ذہن میں صرف ایک سوال تھا جبکہ میرے ذہن میں سوالات کا ہجوم ۔ ۔ ۔ اس دن پہلی بار سمجھ میں آیا کہ بچپن میں پڑھی کہانیوں میں ایکدم زور دار آندھی طوفان کیسے آ جاتا تھا ، خوفزدہ کر دینے والے دھماکے، اچانک ہر طرف تاریکی چھا جانا اورسب کچھ تھم جانے پرشہزادی کا محل ایک وحشتناک جنگل میں بدل جانا اور سب دوست ساتھی غائب ہو چکے ہوتے تھےہمیشہ کے لیے۔ ۔ ۔ میں بھی خود کو تاریکی میں پایا جب میرے آس پاس سب کچھ تھم گیا تومیں بھی جنگل میں تھی لیکن وہ ڈاکٹر وہاں بھی موجود تھا میری کہانی میں رولا ڈالنے کو ابھی ڈاکٹر کی تفصیل باقی تھی ، ڈاکٹر کی شکل اب ایک خوفناک دیو میں تبدیل ہو چکی تھی میں اس کا نام “ڈاکٹر دیو” رکھ دیا۔ ۔ ۔ تفصیل سنتےہوئے میں ڈاکٹر دیو کو بالکل اگنور کر دیا جیسے میری نہیں بلکہ کسی دوسرے کی بات ہو رہی ہو۔ ڈاکٹرسے پوچھا کہ کتنا وقت باقی ہے میرے پاس تو ڈاکٹر دیو نے بتایا کہ دو سال بعد بھی وہیل چیئر پر بیٹھنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے اور اگر ول پاور سے کام لیا تو بیس سال سے زیادہ تک بھی بڑھا سکتے ہیں اس عرصہ کو۔ میں امی کے ساتھ واپسی کے لیے روانہ ہوئی توگھر پہنچنے سے پہلےپہلے اپنی سوچ کو سنبھالنا تھا میں اچانک سب سے الگ ہو گئی تھی۔ گھر آ جانے کا مجھے پتہ نہیں چلا پھر جب امی نے مجھے آواز دی تو معلوم ہوا کہ گھر آ چکا ہے۔
سب ٹوٹےخوابوں میں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ میری پڑھائی ادھوری رہ جائے گی کیونکہ ہمارے تعلیمی ادارے معذور لوگوں کے لیے قابل رسائی نہیں ہوتے ہرجگہ سیڑھیاں ہوتی ہیں اور ناہموار رستے۔ اسٹوڈنٹس کو اسکول کالج ، یونیورسٹی جاتا دیکھ کر میرا دکھ بڑھ جاتا ، ان دنوں لمحہ ، گھنٹہ ، دن ، ہفتہ کی تفریق ختم ہو گئی تھی ، میں اپنے بیڈ کے بالکل سامنے کی دیواردیکھتی رہتی ۔ یہ مشکل دن تھے اور میرے سامنے ایسی کوئی مثال کہیں بھی موجود نہ تھی کہ چلتے پھرتے اچانک معذور ہو جائیں تو روزمرہ زندگی میں خود کو کس طرح مینیج کریں پھر بہت سی باتیں خودبخود معلوم ہونا شروع ہوگئیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اکیلے رہ جانے کا خوف حقیقت میں بھی اکیلا کر دیتا ہے ۔ زندگی میں پہلی بار خودکشی کا سوچا لیکن تب مجھے یہ آپشن پسند نہ آیا تھا۔ میں اپنا پہلا افسانہ بھی خودکشی پر لکھا تھا۔ انہی دنوں ع میرے سامنے آ گیا نانی اسے لے کر آئی تھیں کہ یہ اسکول نہیں جاتا اسے پڑھا دیا کرے کوئی۔ امی نے فورا کہہ دیا کہ ہاں ٹھیک ہے شگفتہ پڑھا دے گی ۔ میں اس وقت بھی دیوارتک رہی تھی مجھے یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں لگی میں فورا خدا سے لڑنے کو تیاراورکہا کہ ایک تو تو نے میری پڑھائی کا رستہ بند کر دیا ہے اوپر سے اس بچے کو بھی بھیج دیا کہ میں اسے پڑھاؤں ۔ ۔ ۔ میں کوئی نہیں پڑھا رہی ، بے شک سارا دن بیٹھا رہے ۔ ۔ ۔ لیکن پھرمجھے لگا کہ وہ بچہ بھی شاید میری طرح ہے۔ ۔ ۔ میری پڑھائی میں عمارتیں اور ناہموار رستے حائل ہوگئے تھے جو معذور افراد کی مدد نہیں کرتے کہ وہ آمد و رفت کر سکیں سو میری پڑھائی ادھوری رہ جانا تھی اور ع کے والدین اسے اسکول بھیجنے کی سکت نہیں رکھتے تھے سو وہ بھی علم حاصل کیے بغیر زندگی گذارتا ۔ ع تو میری مدد نہیں کر سکتا لیکن میں اتنا تو کر سکتی تھی کہ اسے تھوڑا سا لکھنا پڑھنا ہی آجائے پھر اگر اسے شوق ہو تو وہ اپنے لیے خود ہی کوئی رستہ ڈھونڈ لے گا ۔ ۔ میں اپنی نوٹ بک اٹھائی ، پنسل سے لائنیں لگا کر اسے “الف” لکھ دیا اور بتایا کہ کیسے لکھنا ہے، جلد ہی اس نے الف لکھنا سیکھ لیا اور میں یہ سیکھ لیا کہ اسے کیسے پڑھانا ہے کچھ عرصہ میں ع اس حد تک سیکھ گیا کہ اسے اسکول میں داخل کروایا جا سکے اسکول یونیفارم ، کتب ، فیس ، اسٹیشنری وغیرہ کا اب بند و بست کرنا تھا میں فمزا سے بات کی کہ کچھ کرتے ہیں پھر ع کے والدین سے بات کی کہ اگر وہ اس کے لیے کچھ تھوڑا بہت انتظام کرسکیں تو باقی خرچ کا کچھ بند و بست کر کے اس کی پڑھائی کا سلسلہ جاری ہوسکتا ہے فمزا نے ساتھ دیا یوں ع اسکول جانا شروع ہوا اوراب آئندہ چند ایک سال میں وہ اپنی اسکولنگ مکمل کر لے گا اوراس کی بہت خوشی ہوگی مجھے۔ ع کوپڑھانا شروع کیا تواپنی پڑھائی مکمل کرنے کی خواہش شدید ہو گئی لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ ہر جگہ بغیر سہارے کے کیسے آ جا سکوں گی۔ مجھے معلوم ہوا کہ کسی کو سہارا دینا بہت آسان ہےزندگی میں لیکن اپنے لیے دوسروں سے سہارا لینا بہت مشکل کام ہے، زندگی کے بہت زیادہ مشکل کاموں میں سے ہے۔ لیکن پڑھائی ادھوری چھوڑنا بھی مشکل تھا۔ ۔ ۔ سارے ہی کام مشکل ہوگئے تھے، میں پھرایک مشکل کا انتخاب کر لیا ، جن دنوں میں ع کو پڑھا رہی تھی انھی دنوں میں دیوارتکنا چھوڑکردوبارہ سے کلاسز میں جانا شروع کیا
امی ابو نے ہمارے چھوٹے ہوتے سب فیصلے خود کیے اور جیسے جیسے ہم سب بہن بھیا لوگ بڑے ہوتے گئے تو فیصلوں کے اختیارات آہستہ آہستہ ہماری طرف منتقل ہوتے چلے گئے ۔ ابو کا کہنا ہے کہ ہمارا کام تھا کہ بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت میں بحیثیت والدین جو بھی ذمہ داری انجام دے سکتے ہوں وہ انجام دیں۔ جس وقت والدین اپنی زندگی کا ایک بیشتر حصہ گذار چکے ہوتے ہیں اس وقت بچوں کے سامنے ایک طویل سفر موجود ومنتظر ہوتا ہے سو بچوں کو بھی اپنے فیصلے خود کرنے آنا چاہیں تاکہ انہیں مشکل حالات میں اپنے لیے راستہ ڈھونڈنا آ جائے بڑوں کا مشورہ ضرور لیں لیکن خود بھی فیصلہ کرنا سیکھیں ۔ میں بھی اپنا فیصلہ خود کیا میں ایک سنڈے اسکول جوائن کیا جہاں ہر اتوار چند گھنٹے پڑھانے کے لیے جانا ہوتا تھا ایسے بچوں کو جن کے والدین انہیں اسکول نہیں بھیج سکتے تھے۔ اس سے مجھے دو فائدے ہوئے ایک یہ کہ مجھے یہ سیکھنے کا موقع ملا کہ تمام عمارتیں جو معذور افراد کے لیے قابل رسائی نہیں ہوتیں وہاں کس طرح جانا ہے دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے سنڈے اسکول میں پڑھانے کے عوض چھ سو روپے ماہ کے اختتام پر آفر ہوئے۔ یہ چھ سو روپے بظاہر کچھ نہیں تھے لیکن مجھے دل میں یہ احساس اجاگر ہوا کہ معذوری تو اپنے اختیار میں نہیں ہوتی لیکن بے بس رہنا یا نہ رہنا بہت حد تک ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ ۔ ۔ کچھ باتوں میں اگر دوسروں پر انحصار کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں میرے پاس تو جہاں میں خودانحصاری کر سکتی ہوں وہاں مجھے خود انحصاری اپنانا ہے، بےبس نہیں بننا ، دوسروں کی طرف نہیں دیکھنا، اسطرح میری خود اعتمادی بڑھی ۔ پہلے میں ابو اور بھیا لوگ سے لڑ جھگڑ کر پاکٹ منی بڑھوایا کرتی تھی اپنا حق سمجھ کر اوراب مجھے شرمندگی ہونے لگی تھی کوئی بھی چیز کسی سے بھی ملنا یا خود لینا پھرمیں ایک اور فیصلہ کیا کہ اپنی پڑھائی کے تمام اخراجات انہی چھ سو میں مکمل کروں اور یہ ایک نا ممکن سی بات تھی بلکہ دیوانے کا خواب چھ سو روپے میں تو کوئی ایک کتاب بھی خریدنا مشکل اور میرا یہ حال کہ مجھےاگرکسی ایک عنوان کو دیکھنا ہو تو مجھے دس پندرہ مخلتف مصنفین کی کتب دیکھنے کی عادت جنہوں نے اسی ایک موضوع پر اپنے اپنے الگ انداز میں لکھا ہو، مجھے ایک ہی موضوع پر بہت سی تحریریں پڑھنے کو دل ہوتا ہے اور مجھے فوٹو اسٹیٹ سے پڑھنے کی عادت نہین تھی کیونکہ ابو نے شروع سے ہی اصل کتاب سے پڑھنے کی عادت ڈلوائی تھی پڑھائی کے معاملے میں امی ابو ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتے تھے جس بھی چیز کی ضرورت ہوتی وہ درجنوں کے حساب سے ہمیں ملتی اگرصرف ایک پنسل کی ضرورت ہوتی تھی تو پورا بارہ پنسلوں کا باکس مل جاتا تھا ایک ڈکشنری چاہیے ہوتی تو ابو کئی کئی ڈکشنریاں دلا دیتے تھے۔ مین اپنی سب نزاکتوں کی ایک فہرست بنائی اور انہیں عدم رسید کیا، فوٹواسٹیٹ پیپرز پڑھنے کی عادت ڈالی اور ذاتی ضروریات کومحدود کرنا شروع کیا کیٹین جانا بھی چھوڑ دیا اتنی بھوک بھی لگ رہی ہوتی تھی اورمیں سوچتی کہ آج گھر پہنچتے ہی فلاں فلاں کتابوں کے لیے ابو یا بھیا لوگ سے کہنا ہے۔ لیکن گھر آ کر میں اپنا ارادہ پھر سے مضبوط بناتی کہ نہیں اگر ابھی نہیں سیکھا تو پھر کبھی نہیں سیکھ سکوں گی اور نہ ہی مجھے زمین پررہنا آئے گا۔ لائبریری یا سیمنارلائبریری سے کتابیں ملنا اکثر ناممکنات میں سے ہوتا تھا کیونکہ ایک تو میں ڈپارٹمنٹ اور لائبریری کی سیڑھیاں اتر چڑھ نہیں سکتی تھی جب تک کوئی ہیلپ کرنے کے لیے نہ ہو میرے ساتھ اوراگر کوئی ہپلپ کرتا بھی تولائبریری سے کلاس فیلوز پہلے ہی سب اہم کتابیں لے چکے ہوتے تھے اور پھر قبضہ کر کے بیٹھ جاتے ہفتوں ہفتوں مہینوں ۔ میری یہ تحریر اگر کسی اسٹوڈنٹ کی نظر سے گذرے تو اس بات کا خیال رکھیں کہ اپنے لیے کتاب لائبریری سے ضرور لیں لیکن اس پر قبضہ کر کے نہ بیٹھ جائیں بلکہ فوری کام کر کے واپس کریں تاکہ دوسرے اسٹوڈنٹس بھی اس کتاب کو حاصل کر سکیں ۔ زندگی میں ایمانداررہنا بہت ضروری ہے ۔
ایک دن لائبریری میں اپنی مطلوبہ کتب نظر نہ آئیں تو میں دوسرے غیرمتعلقہ شیلف میں رکھی کتابیں وقت گذاری کے لیے دیکھنا شروع کر دیں دو کتابوں کے عنوانات اچھے لگے تو دونوں کو شیلف سے باہر نکالا یہ دونوں کتابیں ایک ساتھ رکھی ہوئی تھیں جب انہیں نکالا تو ان کے پیچھے بھی کچھ کتابیں رکھی نظر آئیں جب ان کتب کو دیکھا تو یہ وہ کتب تھیں جن کو میں ایشو کروانا چاہتی تھی لیکن یہ ایک بالکل ہی غیر متعلقہ شیلف میں رکھی ہوئی تھیں لائبریرین سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ کچھ دیر پہلے تمہاری کلاس فیلوزیہ کتب ایشو کروانے آئی تھیں میں نے نہیں کیں اور کہا کہ پہلے دوسری کتب واپس کریں تو پھر یہ کتب ایشو ہوں گی ، لگتا ہے وہ لوگ دوسرے شیلف میں چھپا گئی ہیں۔ تب معلوم ہوا کہ کلاس فیلوز کتب کو چھپا بھی دیتے ہیں اور جو کتاب ہم ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں وہ کسی دوسرے غیر متعلقہ شیلف میں چھپی ہوتی ہیں۔ لائبریرین کو انفارم تو کر دیا میں لیکن اس مسئلہ کا حل نہیں تھا اور مجھے کوئی نیا رستہ ڈھونڈنا تھا اپنے لیے ۔ میں لائبریرین سے معلوم کیا کہ کیا لائبریری میں ایسی کتب یا میگزینز ہیں جنہیں کوئی نہ دیکھتا پڑھتا ہو لائبریرین نے بتایا کہ ایسے تو کوئی نہیں ہاں ایسی کتب ہیں جو بالکل ناکارہ ہو گئی ہیں وہ ہم نے الگ کر دی ہیں وہاں دیکھ لو۔ میں جب وہاں گئی تو ایک ڈھیر سب پھٹی پرانی کتابوں کا پڑا ہوا تھا یہ ہر مضمون کی کتب تھیں اور ان میں اپنے مطلوبہ موضوعات کی کتب ڈھونڈنا مشکل کام تھا میں اسی پر شکر کیا اور ڈھونڈنا شروع کر دیا ایک دو سو کتب دیکھنے کے نتیجہ میں تین چار کتب یا میگزینزاپنے موضوع سے متعلق مل جاتے لیکن گرد سے اٹے ہوئے سب اور کئی صفحات پھٹے ہوئے۔ لیکن پھر بھی خوشی ہوتی کہ تلاش بے کار نہیں گئی ۔ ان کتب پر گرد کی موٹی تہہ کے ساتھ ان کے صفحات پر کیڑے مار ادویات بھی چھڑکی ہوئی تھیں جن کی وجہ سے ہتھیلیوں اور انگلیوں میں بہت جلن ہو جاتی تھی اور بہت سی کتب اور میگزین کے صفحات تو اتنے بوسیدہ تھے کہ پلٹنے میں پھٹ جاتے اکثر تو ایسی کتب مکمل فوٹواسٹیٹ کروالیتی ۔ کوئی کوئی دن آسان ہوتا اورمحض بیس چالیس کتب کی گنتی سے پہلے ہی تلاش کرتے اپنے کام کی کتاب مل جاتی اس دن ہاتھوں اور انگلیوں میں کم تکلیف ہوتی ۔
سب سے زیادہ آزمائش میری سیمینار روم میں ہوتی تھی ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ گھر واپسی کے لیے مجھے بھیا کے آنے کا انتظار کرنا پڑتا تو میں سمینار روم میں بیٹھ جاتی تھی اکیلی۔ وہاں پر الماریوں میں سے ایک الماری کا تالا خراب تھا اور اسے ایک ڈوری سے باندھا ہوا تھا اور اس الماری میں بہت سی کتب ایسی تھیں جو مجھے درکار ہوتی تھیں نئی ، صاف ستھری جنہیں دیکھتے ہی دل للچا جائے اور اس وقت تو موقع بھی بہت اچھا ہوتا تھا عام طور پر سب جا چکے ہوتے تھے اورمیں آسانی سے وہاں سے کتابیں غائب کر سکتی تھی اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلنا تھا لیکن پھر خدا وہاں پہنچ جاتا اورمیں لیتے لیتے رہ جاتی۔ علم مجھ سے صرف ایک ڈوری کے فاصلے پر ہوتا تھا لیکن میری پہنچ سے پھر بھی باہر۔ میں اکیلے بیٹھی خدا سے جھگڑتی رہتی کہ ہر جگہ میرا رستہ بند کر دیتا ہے ابھی یہ جھگڑا چل رہا ہوتا تھا کہ بھیا مجھے لینے پہنچ جاتے ۔ خدا نے ان سب دنوں میں کبھی میرے کسی جھگڑے کا جواب نہیں دیا سوائے دوجگہوں کے ایک اس وقت جب سمسٹر امتحان شروع ہوتے بمشکل ایک ہفتہ یا چند دن امتحان کی تیاری کرنے کو ملتے میں اپنا سب فوٹو اسٹیٹ ذخیرہ اور کلاس لیکچرز اٹھا کے بیٹھ جاتی صفحہ صفحہ صرف پڑھنےکا موقع ملتا ۔ نوٹس بنانے اوریاد کرنے کا وقت نہیں بچتا تھا، پھر پیپر کا وقت شروع ہوتے ہی میرا قلم چلنا شروع ہوتا تھا تو مجھے خبر نہیں ہوتی تھی کہ کیسے چل رہا ہے ایک ہی موضوع پر جو کچھ پڑھا ہوتا وہ سب خودبخود ایکسٹریکٹ ہو کر امتحانی کاپی پر منتقل ہوتا جاتا ۔ دوسری بار جواب خدا نے مجھے کانووکیشن ڈے پر دیا جب تعلیمی سند کے ساتھ مجھے گولڈ میڈل ملا ۔
زندگی ایک پزل گیم ہے اس میں ہر ایک انسان کے لیے خوشی بھی ہے اور غم بھی اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز انسان کے پاس نہ ہو تو زندگی کو صحیح سے نہیں سمجھا جا سکتا خدا نے خوشی اور غم ہماری زندگی میں اس لیے رکھے ہوتے ہیں کہ ہمیں ان دونوں سے قوت ملنا ہوتی ہے مضبوط بننے کے لیے۔ اصل کام زندگی میں ان دونوں قوتوں کو مناسب امتزاج میں لا کراپنی اپنی آزمائش میں پورا اترنا ہے تبھی زندگی کی تعمیر ممکن ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی اور ایسا کرنے میں دیر نہیں لگانا چاہیے کہ زندگی بہت مختصر دورانیہ ہے آخری سانس سے پہلے تک۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بہت سی کمزوریاں ہیں جن پر صرف کڑھنا یا کیڑے نکالنا مجھے محض وقت ضایع کرنا لگا لیکن مجھے اسی تعلیمی نظام پر تنقید بھی کرنا تھی ، میں اپنی تنقید کا عنوان عمل رکھا مسلسل عمل اور کوشش میں لگے رہنا۔ اس تعلیمی نظام میں بظاہر ان لوگوں کے لیے بھی کوئی رستہ نہیں جو معذور نہ ہوں میں تو پھرمعذور تھی۔ اسی تعلیمی نظام میں جب میں نے اپنی پڑھائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تو مجھے ایک استاد نے کہا کہ تمہیں یہاں آنے کس نے دیا ہے یہاں تو صحت مند کچھ نہیں کر پاتے اورمیں تمہیں لکھ کے دے دوں کہ تم کبھی پاس ہی نہیں ہو سکتیں ۔ ۔ ۔ اسی تعلیمی نظام میں وہ سب کلاس فیلوز پیچھے رہ گئے جو کتابوں کو چھپا کر یا ان پرہفتوں مہینوں قبضہ کر کے خالی پیریڈز میں انڈین ایکٹرز اور فلموں اور اسٹار پلس ڈراموں پرتبصرے اور ایک دوسرے کی غیبت میں مشغول رہتے۔ اسی تعلیمی نظام میں ایسے استاد بھی ملے جن کی کلاس میں دل چاہتا تھا کہ انہیں اپنی سیٹ پر بٹھا کے خود پڑھانا شروع کر دوں تو شاید اسٹوڈنٹس کو کچھ سمجھ میں آجائے اور اسی تعلیمی نظام میں ایسے استاد بھی ملے جنہوں نے ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھایا، شعور کی منازل طے کروائیں ، حقائق کو درست تناظر میں دیکھنا وپرکھنا سکھایا۔ فرد اور قوموں کی ترقی و کامیابی میں کوئی بھی بہترو منظم نظام مددگار ضرور ہوسکتا ہے لیکن انفرادی و اجتماعی کامیابی کا اصل راز عمل و جہد مسلسل سے عبارت ہے اور جس فرد اور قوم کو بہتر نظام کی خواہش ہو تو انہیں اس کے حصول کی جانب عملی کوشش کرنا چاہیے ہر بڑا عمل ایک چھوٹے سے قدم سے شروع ہوتا ہے ۔ اپنے اپنے حصے کی عملی شمع روشن کیے بغیر انقلاب لانا ممکن نہیں ۔ مجھے تنقید پسند ہے اور عملی کوشش کرنا انفرادی ہو چاہے اجتماعی تنقید کی سب سے بہترین شکل ہے اور سعی مسلسل تمام زندگی جاری رہنی چاہیے اور میرا یقین ہے کہ انقلاب کے لیے بینادی اکائی فرد ہی ہے ۔
میں اسی نظام تعلیم میں اپنی معذوری کے ساتھ رستہ ڈھونڈا اور کامیابی حاصل کی ۔ گولڈ میڈل میری زندگی کا ایک سنگ میل ضرور تھا لیکن آخری منزل نہیں اور میری کامیابی صرف مجھ تک محدود نہیں ہے میں اس وقت پڑھائی اور جاب کے علاوہ بیک وقت ایک سے زائد پراجیکٹس پر کام کر رہی ہوں اور کچھ شمعیں اپنے حصے کی روشن کرنا ہیں ، وہ دن ابھی آنا باقی ہے جب مجھے وہیل چیئر پر بیٹھنا ہو گا تب میں کیا کروں گی مجھے نہیں معلوم ۔ ۔ فی الحال تو کراچی اور اس کے مضافات میں خدا سے جھگڑنے کا وقت ہوا چاہتا ہے کہ آج پھر بارش بھیج دی ہے اور اب دوبارہ انٹرنیٹ غائب ہو جائے گا ہفتہ بلاگستان میں یوم تعلیم کے حوالے سے کچھ لکھنا تھا لیکن رضوان بھائی کی اس پوسٹ نے یہ سب یاد دلا دیا تو اس طویل داستان کے وجود میں آنے کا سب قصور رضوان بھائی کا ہے میرا بالکل بھی نہیں ۔ چونکہ انٹرنیٹ کا کوئی بھروسہ نہیں لہذا اگلے ایک ماہ کے لیے یہی بلاگ پوسٹ ہوگی ۔





تازہ ترین تبصرہ جات