Archive for the Category »زبان «
(۱) اُبلا سُبلا ،اُبالا سُبالا۔
اگر ہم اس محاورہ کی لفظی ترکیب پر غور کریں تو اس سے ایک بات پہلی نظر میں سمجھ میںآجاتی ہے کہ ہمارے ہاں الفاظ کے ساتھ ایسے الفاظ بھی لائے جاتے ہیں جن کا اپنا اس خاص اس موقع پر کوئی خاص مفہوم نہیں ہوتا لیکن صوتی اعتبار سے وہ اس لفظی ترکیب کا ایک ضروری جُز ہوتے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں اور بھی بہت سی مل سکتی ہیں، جیسے “الاَبُلَّا”، “اٹکل پچو”، “اَبے تبے”، “ٹال مٹول”، “کانچ کچُور” وغیرہ۔
“اُبلا سُبلا” ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کسی عورت کو اچھا سالن بنانا نہیں آتا۔ ہمارے ہاں کھانا بنانے کا آرٹ گھی، تیل، بگھار، گرم مصالحہ، گوشت وغیرہ ڈال کر اس کو خوش ذائقہ اور لذیذبنایا جاتا ہے۔ سالن میں جتنی ورائٹی ) variety (ہو سکتی ہے، اُن سب میں ان کو دخل ہے کہ وہ بھُنے چُنے ہوں، شوربہ، مصالحہ، اس میں ڈالی ہوئی دوسری اشیاء اگر خاص تناسب کے ساتھ نہیںہیں تو پھر وہ سالن دوسروں کے لیے “اُبلا سُبلا” ہے، یعنی بے ذائقہ ہے اور اسی لیے بے نمک سالن کا محاورہ بھی آیا ہے، یعنی بے ذائقہ چیز۔اس سے ہم اس گھریلو ماحول کا پتہ چلا سکتے ہیں جس میں ایک عورت کی کھانا پکانے کی صلاحیت کا گھر کے حالات کا ایک عکس موجود ہوتا ہے کہ اس کے ہاں تو ۔” اُبالا سُبالا”پکتا ہے۔
(۲) آبخورے بھرنا۔
“آب خورہ” ایک طرح کی مٹی کے” فنجان نما” برتن کو کہتے ہیں جو کمہار کے چاک پر بنتا ہے اور پھر اُسے مٹی کے دوسرے برتنوں کی طرح پکایا جاتا ہے۔ یہ گویا غریب آدمی کا پانی پینے کا پیالہ اور ایسا برتن ہوتا ہے جسے پانی، دُودھ یا شربت پی کر پھینک بھی دیتے ہیں۔ عام طور سے ہندؤوںمیں اس کا استعمال اس لیے بھی رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے استعمال کردہ برتن میں کھاتے پیتے نہیں ہیں۔ آبخورے میں دُودھ پیا اور پھر اُسے پھینک دیا اور پھر یہی صورت شربت کے ساتھ ہوتی ہے مگر آبخورے بھرنا عورتوں کے نذرونیاز کے سلسلہ کاایک اہم رسمی آداب کا حصّہ ہے۔ عورتیں منّتیں مانتی ہیں اپنے بچّوں کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، میاں کی کمائی کے لیے اور ایسی ہی دوسری کچھ باتوں کے لیے، اور کہتی ہیں کہ اے خدا، اگر میری یہ دعا قبول ہو گئی اور میری منّت پوری ہوئی تو میں تیری اور تیرے نیک بندوں کی نیاز کروں گی۔دُودھ یا شربت سے آبخورے بھر کر،انہیں دعا درود کے ساتھ تین بّچوں ، فقیروں، درویشوں یا مسافروں کو پلاؤں گی۔ نیاز کی چیزیں عام طور پر غریبوں ہی کے لیے ہوتی ہیں مگر اس میں اپنے بھی شریک ہو سکتے ہیں۔
(۳) آبرو ریزی کرنا۔
۔ “آبرو” چہرے کی آب و تاب کو کہتے ہیں، اس لیے کہ آب کے معنی چمک دمک کے بھی ہیں،پانی کے بھی۔لیکن محاورہ کی سطح پر آبرو کے معنی ہیں عزت، سماجی احترام اور اگر کوئی شخص اپنے کسی عمل سے دوسرے کو معاشرتی سطح پر بے عزت یا Dishonhur کرتا ہے تو وہ گویا اس کی “آبرو ریزی “کرتا ہے، اِسے مٹی میں مِلاتا ہے۔فارسی میں “ریختن،ریزیدن”کے معنی ہیں”گرانا، گرنا”۔اسی لیے موسمِ خزاں میں جو پت جھڑ کا موسم ہوتا ہے، اُسے برگ ریز یعنی پتّے گرانے والا موسم کہتے ہیں۔
اِس سے ہم”آبرو ریزی ” کے لفظی مفہوم اور معاشرتی معنی تک پہنچ سکتے ہیں جو ایک تہذیبی اندازِ نظر ہے۔ آبرو کے ساتھ کئی محاورے آتے ہیں اور سب کے مفہوم میں چہرہ کی آب و تاب اور عزت شامل ہے۔ مثلاً”آبرو بگاڑنا ” آبرو ریزی ہی کے معنی میں آتا ہے۔ “آبرو رکھنا ” عزت رکھنے ہی کا مفہوم بناتا ہے۔”آبرودار” عزت دار آدمی کو کہتے ہیں۔ “رو دار” بھی آبرو دار ہی کے معنی میںآتا ہے۔ اس سے ہم آبرو کے معاشرتی تعلق کو سمجھ سکتے ہیں ، اس لیے کہ بے عزتی بہت بڑی سماجی سزا ہے۔۔
(۴) اَبلا پری، اَبلاّ رانی ہونا۔
بہت خوب صورت ہونا۔ اصل میں رانی اور راجہ کا لفظ مرد اور عورت کے شخصی امتیاز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھولوں میں بھی ایک پھول دن کا راجہ ہوتا ہے اور ایک رات کی رانی ۔ اس سے بھی پھولوں میں اُن کا ممتاز ہونا ظاہر ہے۔”ابلا” لڑکی کو کہتے ہیں اور جسے بہت خوب صورت لڑکی ظاہر کرنا ہوتا ہے یا پھر سمجھا جاتا ہے، اِسے “اَبلا پری” کہا جاتا ہے۔
قدیم ہندوستان میں پریوں کا تصوّر نہیں تھا۔ اسی لیے “ابلاّ رانی” کہا جاتاتھا۔ جب فارسی کے ذریعہ “پری” کا تصوّر آیا تو “ابلاّ پری” کہا جانے لگا۔ بہر حال، “ابلاّ پری” ہو یا “ابلاّ رانی”،حُسن کا ایک آئیڈیل تصوّر ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لفظی طور پر ہم نے فارسی سے جو الفاظ لیے ہیں، ان کا ہماری تہذیب سے بھی ایک رشتہ ہے۔حسین عورت کو ہم “پری چہرہ” بھی کہتے ہیں، چاہے دیووں، جن، بھوتوں اور پریوں کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں۔ حضرت امیر خسرو کا مشہور فارسی شعر ہے
پری پیکر ، نگارِ سرو قدے، لالہ رُخسارے
سراپہ آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم
یعنی وہ جو پری پیکر ہے، حسین اور خوب صورت ہے، سُرو قد ہے ، لالہ رُخسار ہے اور سر تا پا آفتِ دل ہے اور میں نے رات اسے اس کی تمام جلوہ آرائیوں کے ساتھ دیکھا ہے۔اس شعر کو اگر دیکھا جائے تو اس میں “ابلاّ رانی” یا “ابلاّ پری” کی وہ خوبیاں نظر آتی ہیں جو ایرانی تصوّرِحسن کو پیش کرتی ہیں اور ہندوستان کی ایک حسین عورت کی خوب صورتیاں اس میں جھلکتی ہیں۔”اَبلا رانی” سے “اَبلاّ پرَی” تک محاورہ کا یہ شعر ہماری تہذیبی تاریخ کی روشن پرچھائیوںکی ایک متحرک صورت ہے۔
(۵) آبِ حیات ہونا۔
آبِ حیات کا تصور قوموں میں بہت قدیم ہے۔ یعنی ایک ایسے چشمہ کا پانی جس کو پینے سے پھر آدمی زندہ رہتا ہے۔ اُردو واور فارسی ادب میں حضرتِ خضر کا تصور بھی موجود ہے۔ یہ چشمہّ آبِ حیات کے نگراں ہیں۔ اسی لیے وہ ہمیشہ زندہ رہیںگے۔حضرتِ خضر کا لباس ۔ ۔”سبز” ہے اور وہ دریاؤں کے کنارے ملتے ہیں اور بھولے بھٹکوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیںکہ قدیم زمانہ میں جب باقاعدہ سڑکیں نہیں تھیں، دریاؤں کے کنارے کنارے سفر کیا جاتا تھا۔ اور اس طرح گویا دریا ہماری رہنمائی کرتے تھے۔یہیں سے خضر کی رہنمائی کا تصور بھی پیدا ہوا ہے۔
علم کو پانی سے مُشابہت دی جاتی ہے۔ اسی لیے ہم علم کا سمندر یعنی بحرالعلم کہتے ہیںجسے ہندی میں “ودیا ساگر”کہا جاتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ علم پانی ہے ، پانی زندگی ہے اور پانی نہ ہو توپھر زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ اِن باتوں کو آبِ حیات کی صُورت میں ایک علامت کے طور پر مانا گیا ہے۔ حضرتِ خضر کا علم بھی بہت بڑا ہے جس کے لیے اقبالؔ نے کہا ہے:
علمِ موسیٰ بھی ہے جس کے سامنے حیرت فروش
قرآن میں بھی حضرتِخضر اور حضرتِ موسیٰ سے متعلق روایت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ لیکن خضر کا نام نہیں ہے۔اردو ادب میں اور مغلوں کی تاریخ میں بادشاہ جو پانی پیتے تھے اُس کو بھی آبِ حیات کہا جاتا تھا۔ ان سب باتوںکے پیشِ نظر جب اردو میں بطورِ محاورہ آبِ حیات ہونا کہا جاتا ہے تو اس سے مُراد ہوتی ہے کہ یہ بے حد مفید ہے، زندگی بڑھاتا ہے اور صحت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہاں ہم کہ سکتے ہیں کہ محاوروں نے ہماری تہذیبی روایت کو محفوظ کیا ہے اور عوام تک پہنچایا ہے۔۔
(۶) آبنوس کا کُندا ہونا۔
یہ ایک عجیب محاور ہ ہے۔ لکڑیوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں ، مثلاًتُون کی لکڑی کا رنگ گلابی ہوتا ہے۔ صندل (چندن) کی لکڑی کا رنگ زرد ہوتا ہے اور آبنوس کا سیاہ۔سیاہ ہمارے ہاںخوبصورت اور پُر کشش رنگ خیال نہیں کیا جاتا۔ اس لیے دیووں اور بھوتوں کو یہ رنگ دیا جاتا ہے اور سیاہ کہہ کر بھی جِن بھوت مُراد لیا جاتا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ بالوں کا رنگ بھی سیاہ ہوتا ہے۔ بھَوں کا بھی اورآنکھوں کی پُتلیوں کا اور تِل کا بھی رنگ کالا ہوتا ہے۔ اور یہ سب حسن و کشش کی علامت ہیں۔ کم از کم ہند ایرانی تہذیب میں ایسا ہی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر سیاہ رنگ سے نفرت کے اظہار کی وجہ کیا ہے۔ جب کہ شیعہ عقیدہ رکھنے والوں کے ہاں سیاہ رنگ مقدّس رنگ ہوتا ہے اور عبّاسیوں کی سلطنت (خلفائے بنو عبّاس) میں سیاہ رنگ اُن کی اپنی سلطنت کا رنگ تھا۔
اُن حقائق کی روشنی میں سیاہ رنگ سے نفرت دراصل آریائی تہذیب کی دین ہے کہ وہ درا وِڑوں سے نفرت کرتے تھے۔ اُن کی تہذیب اور علمی کارگزاریوںکو بالکل نظر انداز کرتے رہے۔ بہت سے لوگوں کو بھنگی، چمار اور دوسرے پیشوں سے وابستہ کردیا۔ یہاں تک کہ ان کے رنگ سے نفرت شروع کردی۔اور اُس کا اثر یہ ہے کہ آبنوس کا کُندا کالا کلوٹا کلموہا ہمارے ہاں بُرے الفاظ ہوگئے۔ آبنوس وہ لکڑی ہے جو صرف دراوِڑوںکے علاقوں میں پیدا ہوتی ہے، کہیں ۔ اُس میں ہندوستانی تہذیب ، ہندوستانی فکر اور اُن فکری تعصبات کی جھلک بھی ہے جو ہماری تہذیب و ثقافت کا رشتہ رہے ہیں۔
(۷) اَبجد خواں ہونا۔
حروف کو لکھنے کی دو ترکیبیں ہیں۔ ایک وہ جس کو ہم حروفِ تہجّی کی ترکیب کہتے ہیں یا اُردو والے “الف‘‘ ، ’’ب‘‘ ، ’’ت‘‘ کے سلسلے سے وابستہ کرتے ہیں۔ دوسرا وہ سلسلہ یا ترتیب ہے جن کو حروفِ ’’اَبجد‘‘ سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ابجد، ھوز،حُطّی، کلمن،سعُفص، قرشت، شنخز،۔ یہی وہ حروف کی ترتیب ہے جس میں اِن حروف کے اعداد مقرر کیے جاتے ہیں۔
ابجدی ترتیب مندرجہ ذیل ہے۔
۱(۱) ب(۲) ج (۳) د(۴) ہ(۵) و (۶) ز(۷)
ح (۸) ط (۹) ی (۱۰) ک (۲۰) ل(۳۰) م (۴۰) ن (۵۰) س (۶۰) ع( ۷۰ف(۸۰) ص(۹۰) ق(۱۰۰) ر(۲۰۰) ش(۳۰۰) ت (۴۰۰) ث(۵۰۰) خ(۶۰۰) ذ(۷۰۰)
ض(۸۰۰) ظ(۹۰۰) غ(۱۰۰۰)
نام یا تاریخ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ اُس نام یا اُس تاریخ سے متعلق حروف کے اعداد لے لیتے ہیں۔ اور اُن کو جمع کرتے ہیں۔ حاصل جمع جو بھی عدد ہوتا ہے اس سے تاریخ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں دو ہی سنین جاری رہے ہیں، ایک ہجری ، دوسرا عیسوی۔ عیسوی سن بھی کم نکالا جاتا ہے۔ ہندو سمبت استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاں تاریخ نکالنے کا کوئی دستور نہیں ہے۔ اس لیے ان کے ہاں ث، خ، ذ، ض، ظ اور غ استعمال ہی نہیں ہوتے۔ جب یہ حروف ہی ان کی زبان میں شامل نہیں تو ان کے اعداد وہ کیسے مقرر کریں۔
غرض کہ اُن حروف سے جو ترتیب قائم ہوتی ہے، اُسے اَبجدی ترتیب کہتے ہیں۔ اس کے برعکس ا ، ب، ت، ث، سے جو ترتیب قائم ہوتی ہے، اُسے ترتیبِ حروفِ ’’ہجا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں محاورہ میں ’’ابجد خواں‘‘ کہا گیا ہے۔ اِس سے مراد صرف ا ، ب، ت ، ث لی گئی ہے
۔حروفِ ’’اَبجد‘‘ نہیں۔یعنی میرا معاملہ تو صرف حروف شناسی کی ’’حد ‘‘سے آگے نہیں بڑھتا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ اُن لوگوں کے نزدیک علم کا معیار کافی اونچا تھا اور از راہِ کسر نفسی ایک پڑھا لکھا آدمی بھی خود کو ’’ابجد خواں‘‘ کہتا تھا اور دوسروں کی کم علمی کا اظہار بھی اسی انداز سے کیا جاتا تھا۔
(۸) آب و دانہ اُٹھ جانا۔
آب، پانی۔ دانہ، کوئی بھی ایسی شے جو خوراک کے طور پر لی جائے۔اور پرندے تو عام طور پر دانہ ہی لیتے ہیں۔ چونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آدمی کا رزق اوپر سے اترتا ہے اور اوپر والے کے ہاتھ میں ہے کہ وہ جس کو جہاںسے چاہے رزق دے۔ اور یہ سب کچھ تقدیر کے تحت ہوتا ہے اور تقدیر کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کیا خبر ہے کس کا آب و دانہ کب اٹھ جائے اور جب تک آب و دانہ ہے، اسی وقت تک قیام بھی ہے۔جب آب و دانہ اٹھ جائے گا تو قیام بھی ختم ہو جائے گا۔
یہ محاورہ ہمارے تہذیبی تصورات اور زندہ رہنے کے فطری تقاضوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ’آب و دانہ ‘ ، ’آب و خور‘ اور ’آب و خورش‘ بھی اسی ذیل میں آتے ہیں۔ یہ ایک ہی محاورہ کی مختلف صورتیں ہیں۔ خُورش، خُور اور خُوراک فارسی الفاظ ہیں اور اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
(۹) آب و رنگ۔
آب و رنگ کے معنی دوسرے ہیں، یعنی رونق، خوب صورتی، رنگینی اور رعنائی۔آب دار اسی لیے چمک دار کو کہتے ہیں۔ آب داری کے معنی روشن اور چمک دار ہونے کی صِفت تھی اور بے آب ہونے کے معنی اپنی خوب صورتی سے محروم ہونا ہوتا ہے اور اس کے معنی عزت کھونے کے بھی آتے ہیں۔ لڑکی بے آب ہو گئی، یعنی بے عزت ہوگئی، اس کا کنوار پن ختم ہوا۔ ’’موتی کی سی آب‘‘ محاورہ ہے اور چمک دار موتی کو ’’درِ خوش آب‘‘ کہتے ہیں۔ اس معنی میں ’’آب‘‘ بمعنی عزت، توقیر، آن بان وغیرہ کے معنی میں آتا ہے۔ جو استعاراتی معنی ہیں۔ یہاں بھی آب و رنگ اسی معنوں میں آیا ہے۔ رنگ خوب صورتی پیدا کرتا ہے اور ’’آب‘‘ تازگی، طراوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
(۱۰) آپ بیتی۔ اَپ بیتی۔
انسان کی تاریخ عجیب ہے۔ یہ اس کی اپنی تاریخ بھی ہے، اس کے ماحول کی تاریخ بھی ہے، اُس کی اپنی نسلوں کی تاریخ اور خود اس ملک یا اس نسل کی تاریخ بھی جس سے اِس کا تعلق ہوتا ہے۔ اب کوئی انسان ،اپنے حالات کے تحت، یہ بھی ممکن ہے اپنی تاریخ بھول جائے اور کسی انسان کو اپنے ماحول، اپنی قوم اور اپنے شہر یا اپنے علاقہ کی تاریخ یاد رہے۔ اپنی تاریخ کو آپ بیتی کہتے ہیں اور دوسروں کی تاریخ کو جگ بیتی۔ جب انسان اپنے حالات لکھتا ہے یا بیان کرتا ہے تو اُسے وہ آپ بیتی کہتا ہے۔ ہم اسے خود نوشت سوانح عمری بھی کہتے ہیں۔گفتگو میں جب آدمی اپنے حالات بیان کرتا ہے اور اگر اس میں اس کا اپنا غم شامل ہوتا ہے تو وہ اُس کی رام کہانی کہلاتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں جگ بیتی نہیں آپ بیتی کہہ رہا ہوں۔ہم نے خود نوشت سوانح کو آپ بیتی کہا ہے اور جب کسی کی خود نوشت سوانح کو اُردو یا ہندی میں ترجمہ کرتے ہیں تو اسے آپ بیتی کہتے ہیں، جیسے میرؔ کی آپ بیتی، غالبؔ کی آپ بیتی، خسروؔ کی آپ بیتی وغیرہ۔ کہانیاں، افسانہ، قصہّ، داستانیں بھی آپ بیتیاں ہوتی ہیں جن میں جگ بیتیوں کا زیادہ عنصر ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم ان میں تاریخ، تہذیب و ثقافت کو تلاش کرتے ہیں کہ وہ بھی شعوری، نیم شعوری یا لا شعوری طور پر ہمارے ماحول کی گزاری ہوئی زندگی یا گزارے جانے والے ذہنی ماحول کا حصہ ہوتا ہے۔ اس طرح ’’آپ بیتی‘‘ اور جگ بیتی کا ہمارے تہذیبی ماحول سے گہرا رشتہ ہے۔
(۱۱) اپنے تئیں شاخِ زعفران سمجھنا۔۔
آدمی میں اس کی اپنی نفسیات یا ماحول کی نفسیات کے تحت طرح طرح کے ذہنی رویّے develop ہوجاتے ہیں۔ اِن میں بدلاؤ بھی آتا ہے لیکن ایک وقت میں یہ انسان کے فکروکردار کا بہت نمایاں حصّہ ہوتے ہیں اور اگر ان میں نمودونمائش کا پہلو زیادہ ہوتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے تکلیف یا مذاق کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایسے کسی شخص کو وہ عورت ہو یا مرد بڑا ہو یا چھوٹا، یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تو اپنے آپ کو شاخِ زعفران سمجھتے ہیں یعنی بہت بڑی چیز خیال کرتے ہیں۔ زعفران جڑی بوٹیوں میں بہت قیمت کی چیز ہے۔ اسی لیے شاخِ زعفران ہونا گویا بڑی قدروقیمت رکھنے والا شخص ہے۔
محاورے ہمارے معاشرتی رویوںپر جو روشنی ڈالتے ہیںاور سماج کے مزاج و معیار کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اُن میں یہ محاورہ بھی شامل ہے۔ اپنے آپ کو دُور کھینچنا بھی کم و بیش اسی امتیاز پسندی اور مغروریت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
(۱۲) اپنا اُلّو سیدھا کرنا۔
عجیب و غریب محاورہ ہے جس میں اُلّو کے حوالہ سے بات کی گئی اور معاشرے کے ایک تکلیف دہ رویّہ کو سامنے لایا گیا یا اس پر طنز کیا گیا ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب آدمی وہ کوئی بھی ہو، اپنا بیگانہ، امیر غریب، دوسرے سے اپنا مطلب نکالنا چاہتا ہے اور مطلب برآری کے لیے دوسرے سے چاپلوسی اور خوشامد کی باتیں کرتا ہے اور مقصد اپنا مطلب نکالنے سے ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ایک اور محاورہ بھی ہے یعنی دوسرے کو’’ الّو بنانا‘‘ یعنی بیوقوف بنانا۔
(۱۳) اَپرادھ ہرنا (ہڑنا)
’’ہڑنا‘‘ دیہات میں عام بولا جاتا ہے، جیسے پیسے ہڑنا، عقل ہڑنا۔ یہ ہڑنا ہڑپ کرنے کے معنی میں آتا ہے یعنی سُوجھ بُوجھ کو سلب کرلینا، عقل کو چھین لینا۔اَپرادھ ہندی میں گناہ، قصور اور خطا کو کہتے ہیں۔ آدمی خداکا قصور بھی کرتا ہے، سماج کے نقطۂ نظر سے بھی اس سے خطائیں سرزد ہوتی ہیں۔ وہ جُرم کا مرتکب بھی ہوتا ہے۔ بے حد نقصان پہنچانے والے معاشرتی یا دینی جرم کو مذہب کی اِصطلاح میں پاپ، اَپرادھ یا گناہ کہتے ہیں۔انسان کو اس طرح کے گناہوں کا احساس رہا ہے۔ اسی لیے اس نے معافی مانگنے کا اخلاقی رویہ بھی اختیار کیا اور گناہ بخشوانے کا تصور بھی اس کی زندگی میں داخل رہا۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن انسان نے گناہ بخشوانے یا بخشے جانے کا خیال ذہن میں رکھتے ہوئے طرح طرح کی باتیں سوچیں۔ مذہبی عبادات میں اس کے وسیلے تلاش کیے۔مسلمانوں میں تو یہ بات یہاں تک آگئی کہ فلاں وقت کی نماز پڑھنے یا حج کرنے سے ساری زندگی کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ہندؤوںنے بھی تیرتھ یاترا اور اشنان میں ان وسائل کو ڈھونڈا اور آخر کار اس پر مطمئن ہوگئے۔
(۱۴) آپ سُوارتھی۔
’’سوار‘‘ ہندی میں خود غرضی کو کہتے ہیں، یعنی اپنا مطلب جسے آدمی ہر طرح حل کرنا چاہے۔ اُسے مطلب نکالنا بھی کہتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی عام کمزوری ہے اور پچھلی صدیوں کے حالات کا نتیجہ ہے کہ آدمی دوسروں کے لیے نہیں سوچتا یا سوچتا ہے تو بُراہی سوچتا ہے۔اس کو جانتا بھی ہے۔ اسی لیے جب دوسرے کی طرف سے غلط سوچ سامنے آتی ہے تو اُس پر اعتراض بھی کرتا ہے۔ لیکن اس غلط روش یا خودغرضانہ رویے سے بچنا نہیں چاہتا۔ اس بات کو لوگ سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہے ہیں۔ اس کا ثبوت ہمارا ردِعمل بھی ہے اور یہ محاورے بھی جن میں انہیں رویوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
ہم اپنی معاشرتی زندگی میں اِس کا مشاہدہ بھی روز روز کرتے ہیں مگر حالات کے دباؤ اور قدیمانہ روایت کے تحت اس کے خلاف کُھلم کھلا کچھ نہیں کہتے۔اور کہتے ہیں تو صرف اس وقت جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔ ورنہ عام رویہ یہ ہے کہ صبر کرو، برداشت کرو جب کہ سامنے کی بات بالکل یہ ہے۔ کہ ان روشوں کو کیوں نہ ترک کیا جائے، صرف برداشت ہی کیوں کرایا جائے۔ مگر انسان نے کچھ روایتیں تو اختیار کرلیں لیکن اپنے اوپر خود تنقیدکرنا جسے خود احتسابی کہتے ہیں، وہ منظور نہیں کیا اور بد قسمتی یہ ہے کہ مذہب کے روایتی تصور نے بھی انسان کو اس میں مدد دینی شروع کی کہ وہ من مانی کرتا رہے۔ جب کہ مذہب کا اصل مقصد یہ نہ تھا۔۔
پیش حرف
(مقدمہ)
محاورہ عربی زبان کا لفظ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں ’’محور‘‘ شامل ہے جس کے معنی ہیں مرکزی نقطہ فکروعمل جس کے گرد دائرے بنائے جاتے ہیں یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محاورہ زبان کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے یعنی وہ دائرہ جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے گردپھیلی ہوئی بہت ساری حقیقتوں کویہ کہیے کہ اپنے اندرسمیٹ لیتا ہے ۔ہمارے محاورات ہمارے مُشاہدوں اورطرح طرح کے تجربوں کو پیش کرتے ہیں اورانہیں کہیںعام معاشرتی انداز فلسفیانہ اورکہیں شاعرانہ انداز سے سامنے لایا جاتاہے۔ اس میں گاہ گاہ پیشہ وارانہ انداز بھی شامل رہتا ہے۔ اورطبقہ وارانہ بھی اس میں ہمارے قدیم الفاظ بھی محفوظ ہیں اورقدیم روز مرّہ بھی یہ عمومی زبان اورعام لب ولہجہ سے قریب ہوتا ہے اورایک حدتک اِس میں تخیل اورتجربہ کا اورتجزیہ کا آمیزہ بھی پایا جاتاہے ۔
’’زبان ‘‘ کے آگے بڑھنے میں سماج کے ذہنی ارتقاء کو دخل ہوتاہے ذہن پہلے کچھ باتیں سوچتا ہے اُن پر عمل درآمد ہوتا ہے اوروہیں سے اُس سوچ یا اُس عمل کے لئے الفاظ تراشے جاتے ہیں۔ اورپھراُن میں سے کچھ فقرہ اورجملے محاورات کے سانچے میں ڈھلتے ہیں۔ اورایک طرح سے محاورہ کی اِس حیثیت پرہم نے کوئی کام نہیں کیا۔ اب تک یہ توہوتا رہا کہ محاورہ کی صحتِ استعمال پرزور دیاگیا۔ اُس کی نوکِ پلک دُرست رکھی گئی۔ اوراِس طرح کی کتابیں بھی بعد کے زمانے میں تحریر ہوئیں کہ محاورے کے معنی یہ ہیں اوراِس کا استعمال یہ ہے ۔ یہ کام تدریسی نقطہ نظر کی سطح پر ہوا۔ یا پھرزبان کے ایک بڑے حصّے کومحفوظ کرنے کی غرض سے اسے انجام دیاگیا۔ چرنجی لال کی لغت مخزالمحاورات اسی کا ایک اہم نمونہ ہے اورقابلِ تعریف کام ہے۔ جس کو اب ایک طویل عرصہ گزرنے پرایک یادگار عملی کام قرار دیا جاسکتا ہے۔
مگراِس ضمن میں محاورے پراس پہلو سے غوروفکر نہیں کیا گیا کہ ُاس نے ہماری زبان وبیان تہذیبی رویوں اورمعاشرتی تقاضوں سے کس طرح کے رشتہ پیدا کئے اُن کو زبان وادب اورمعاشرت کاآئینہ دار بنایا۔ جب کہ محاورات کے سلسلہ میں راقمہ کی محدود نظر کے مطابق یہی سب سے اہم پہلو تھا اس لئے کہ زبان اورادب کا ایک ’’اٹوٹ‘‘ اور’’گہرارشتہ‘‘ تہذیب سے ہوتاہے۔ اورتہذیبی رشتہ وہ ہوتا ہے جوہمارے معاشرتی رویوں کوسمجھنے اورسمجھانے میں مدددیتا ہے بلکہ اُن کے لئے روشنی اوررہنمائی کے طورپر کام آتا ہے۔
راقمہ الحروف نے اِس کام کو اسی نقطہ نظر سے کیا ہے اوراس سلسلہ میں بطورِ خاص مخزالمحاورات کوسامنے رکھا ہے تاکہ محاورات کی ایک بڑی تعداد تک رسائی ہوجائے ۔ اُن کے معنی اوراُن کی بنیادی معنویت کوسمجھ لیاجائے۔
تہذیبی مطالعہ ایک الگ سلسلہ فکر ونظر ہے اور اخذِنتائج کے لئے ایک جُداگانہ زاویہ نگاہ ہے۔ کیونکہ اس پہلو (Angle)سے محاورے پرہنوز کوئی کام نہیں ہوا۔ اس لیے مجھ ایسے اُردو زبان وادب کی ایک طالبِ علم کے لئے یہ سوچنا مشکل ہے کہ مجھے اس میں کیا کامیابی ہوئی اورکس حدتک اس موضوع پرادبی مطالعہ کی حدود آگے بڑھی ہیں ۔ اس کا فیصلہ تواصحابِ دیدودریافت اورزبان ومحاورات کے ماہرین ہی کچھ زیادہ بہتر طورپر کرسکتے ہیں۔ اوریہ توقع ہے کہ آیندہ یہ کام آگے بڑھے گا اوراس کے خطوط فِکر اور زیادہ روشن اورواضح ہوںگے۔
حقیقت یہ ہے کہ الفاظ وصویتات ہوں یا پھر لغت وقواعد کے دائرہ میں آنے والی کچھ خاص اور اہم باتیں ہوں اُن کو کلیتًا عصری تہذیب واوردواری دائرہ ہائے فکر وعمل سے آزاد نہیں کرسکتے ۔ ایک زمانہ میں کچھ الفاظ رائج ہوتے ہیں اوردوسرے زمانہ میں اُن کا استعمال پھر بحیثیت مجموعی اُن پر توجہ وہی کم ہوجاتی ہے۔ اِس کی وجہ بھی بہت کچھ سماجی اورمعاشرتی ہوتی ہے اس کے لئے ہم دہلی اوراُس کے قرب وجوار کی زبان
اُردو محا ورات
اور
زبان وبیان میں اُس کی اہمیت
سید ضمیر حسن دہلوی
آب حیات میں مولانا محمد حسن آزاد نے میر سوزؔکا ذکر کرتے ہو ئے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک دن سوداؔکے ہاں میرسوزؔ تشریف لا ئے ۔ان دنوں شیخ حزیںؔ کی غزل کا چرچا تھا جس کا مطلع ہے ۔
می گر فتیم بجا تا سرِ راہے گا ہے
اُد ہم از لطفِ نہا ں داشت نگا ہے گا ہے
میرؔ سوز مر حوم نے اپنا مطلع پڑ ھا ۔
نہیں نکے ہے مرے دل کی اَپا ہے گا ہے
اے مُلک بہرِ خُدا رخصتِ آہے گا ہے
مرزا سن کر بو لے کہ میر صا حب بچپن میں ہما رے ہا ں پشور کی ڈو نیا ں آیا کرتی تھیں یا جب یہ لفظ سنا تھا یاآج سنا ۔ میر سوز بچا رے ہنس کر چپ ہو رہے ۔
پشا ور کی ڈومنیاں جو کہ نکسے اور اَیا ہے بو لتی تھیں فا رسی غزلوں کے بجا ئے ہندی چیز یں سنا تی ہونگی جو ان دنوں قریب الفہم اور مقبولِ عا م تھیں ۔
خلا صہ اس گفتگو کا یہ ہے کہ اردو جو کھڑی بو لی کا ایک مخصوص روپ ہے عوام کی بولی چال کی زبان بنی اور ا س نے پہلی بار ان کے جذبہ اظہا ر کو زبان دی ادبی زبان اور بول چا ل کے فرق کو مٹا یا چنانچہ اٹھا رویں صدی پر دہلوی شعر اء کاکلام با لعموم اسی لسانی اصول کا پا بنداور آئینہ دار ہے ۔
آ گے چل کر جب مرزا مظہر جا نجاناں ‘ حا تم سودا نا سخ شا ہ نصیراور ذوقؔ نے اپنے اپنے نقطہ ہا ئے نظر کے مطا بق اصلا ح زبان کا کام کیا تو دہلی میںگاہ گا ہ متروک الفا ظ ومحا ورات کے سا تھ ساتھ جو قدیم لب ولہجے کی گونج سنا ئی دیتی رہی اس کا سہرا مردوں سے زیادہ عورتوںکے سر ہے عورتیں زبان کے معا ملے میں قدا مت پسند ہو تی ہیں مردوں کے مقا بلے میں ان کا ملنا جُلنابا ہر والوںسے کم ہوتا ہے نیز مختلف النوع اقوام اور بھانت بھانت کی زبان بولنے والوں سے بعد کی وجہ سے ان کی زبان بگڑ نے سے محفوظ رہتی ہے عورتوں کی نما یاں خصوصیت انتخابِالفا ظ کے سلسلے میں یہ ہے کہ وہ کریہہ الفا ظ کی جگہ لطیف الفا ظ استعمال کر تی ہیں ان جزوی اختلافاتِ زبان کے علا وہ انتہا ئی نما یا ں خصوصیت مردوں اور عورتوں کی زبان کے اختلاف کی یہ ہے کہ عورتیں جنسیات سے متعلق باتیں واضح الفا ظ میں کہنے کے بجا ئے اشارے اور کنا ئے میں بیان کر تی ہیں بیگمات کی زبان میں ہر قسم کاجنسی افعال کے لئے پر دہ پو ش اصطلا حا ت ومحا ورات مو جود ہیں مثلاً میلے سر سے ہو نا، گو د میںپھول جھڑنا، دو جیاںہونا بات کر نا جیسے متعدد محا ورے عورتوں نے مختلف کیفیات کو ظا ہر کر نے کے لئے بنائے اور اُن کا چلن عا م کیا ۔
جو ہو نی تھی وہ بات ہو ئی کہا روں
چلو لے چلو میری ڈولی کہا ر وں
مُر دُواکہتاہے آؤ چلو آرام کریں
جس کو اَرام یہ سمجھے ہے وہ آرام ہو نوج ۔
* * *





تازہ ترین تبصرہ جات