Archive for the Category »سیدہ شگفتہ جی «
السلام علیکم
اگر آپ انٹرنیٹ اردو دنیا سے واقف ہیں تو یقیناً اردو ویب ، اردو محفل اور اردو لائبریری کے ناموں سے بھی واقفیت ہو گی ۔ اردو لائبریری ایک ہمہ جہت پراجیکٹ ہے اور گذشتہ چند سالوں سے اس پر کام ہو رہا ہے ۔ اس پراجیکٹ کو اب باقاعدہ طور پر متعارف کروانے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے ۔ اس کار و سعی کو ایک تحریر یا ایک نشست میں احاطہ کرنا ممکن نہیں لہذا مختلف مراحل میں اسے متعارف کروایا جائے گا اور سال رواں کے اختتام تک لائبریری کو آن ایئر کر دیا جائے گا ۔ فی الحال اس حوالے سے چند نکات و اعلانات :
لائبریری ٹیم :
لائبریری پراجیکٹ کو آغاز سے اب تک چند بہت مخلص اور محنتی نام میسر رہے ہیں جنہوں نے اس پراجیکٹ کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے تاہم اردو لائبریری پراجیکٹ کو بطور ادارہ متشکل کرنے کے سبب اس امر کی گنجائش ہے کہ لائبریری ٹیم کو باقاعدہ و رسمی طور پر وسعت دی جائے ، اس نسبت سے اردو لائبریری کو مختلف مراحل میں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ یہ اہتمام بھی کیا جائے گا کہ انٹرنیٹ دنیا سے جو نام اس پراجیکٹ میں شامل ہونا چاہیں وہ اس میں شامل ہوسکیں ۔
اردو لائبریری بلاگ :
آئندہ مرحلے میں لائبریری بلاگ کا تعارف پیش کیا جائے گا ۔
گوشہ اردو بلاگرز:
گزشتہ سال بلاگستان میں ہفتہ بلاگستان منایا گیا تھا ۔ یہ سلسلہ بلاگ دنیا میں پسند کیا گیا اور کم و بیش بلاگ دنیا نے اس میں اپنی دلچسپی کے لحاظ سے شرکت کی تھی ۔ اس موقع پر پیش کی گئی تمام تحاریر کو اکٹھا کر کے ہفتہ بلاگستان ای بک پیش کی جا چکی ہے ۔ جیسا کہ ہفتہ بلاگستان ای بک دیباچہ میں ذکر کیا تھا اردو لائبریری میں گوشہ اردو بلاگرز قائم و متعارف کروانے کا ۔ لہذا اب اس وعدہ کو وفا کیا جا رہا ہے ۔
اردو لائبریری میں اس گوشہ کے قیام کا بنیادی مقصد اردو بلاگ دنیا میں پیش کی جانے والی تحاریر کو محفوظ کرنا ہے تاکہ وہ تمام نام جو کسی نہ کسی سطح پر اردو کی ترویج کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ان کی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کو محفوظ کیا جا سکے ۔
ہفتہ بلاگستان میں متعدد بلاگرز نے ایک سے زائد عنوانات پر اپنی تحاریر پیش کیں ۔ وہ تمام بلاگرز جنہوں نے کم از کم پانچ یا زائد تحاریر پیش کیں ان کی تمام انفرادی تحریروں کو مجتمع کر کے انفرادی ای بکس تشکیل دی گئی ہیں ۔ ذیل میں یہ ای بکس پیش کی جا رہی ہیں ۔ یہ ای بکس ایک جانب بلاگ دنیا میں ہفتہ بلاگستان کو کامیابی سے ہمکنار کروانے کا اعتراف ہے اور ساتھ ہی لائبریری میں گوشہ اردو بلاگرز کے قیام کی جانب قدم بھی ۔
گذشتہ دنوں بلاگستان میں ہفتہ کتاب و کتب خانہ کا آغاز ہوا ہے اور اس سلسلے میں مفید و دلچسپ تحاریر بلاگستان میں پیش کی گئی ہیں (اس حوالے سے اپڈیٹ الگ سے پیش کی جائے گی)۔ ہفتہ کتب خانہ کو چونکہ دو حصوں میں تشکیل دیا گیا ہے لہذا پہلے حصہ کے اختتام پر یہ ای بکس پیش کی جا رہی ہیں اور ماہ رمضان المبارک کے بعد دوسرے حصہ کے اختتام پر اردو لائبریری میں بلاگ دنیا سے مکمل ای بکس پیش کر کے باقاعدہ طور پر اردو لائبریری میں گوشہ اردو بلاگرز کا افتتاح کیا جائے گا ۔
ذیل میں ہفتہ بلاگستان سے چودہ مختصر ای بکس پیش کی جا رہی ہیں ان میں بیشتر تعداد ان بلاگرز کی ہے جنہوں نے کم از کم پانچ یا زائد تحاریر پیش کی تھیں ۔ علاوہ ازیں جن بلاگرز کی تحاریر ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے لیے بذریعہ ووٹ منتخب ہوئی تھیں ، ان بلاگرز کی تحاریر پر مشتمل ای بکس بھی تشکیل دی گئی ہیں ۔ یہ فہرست درج ذیل ہے :
جعفر
حجاب
خاور کھوکھر
ڈفر
راشد کامران
زیک
سیدہ شگفتہ
شاہدہ اکرم
عمر بنگش
عنیقہ ناز
ماوراء
محمد خرم بشیر بھٹی
میرا پاکستان
یاسر عمران مرزا
امید ہے یہ ای بکس آپ کو پسند آئیں گی ۔ آپ ان ای بکس پر اپنی تنقیدی نظر پیش کرنا چاہیں ، علاوہ ازیں گوشہ اردو بلاگرز کے حوالے سے مفید تجاویز شیئر کرنا چاہیں تو خوش آمدید ۔
ان ای بکس کو پیش کرنے کے موقع پر ارادہ تھا کہ ایک چھوٹی سی تقریب رکھی جائے اور اردو بلاگ دنیا میں اب تک مختلف ایوارڈز یافتگان (منظرنامہ ایوارڈز ، ہفتہ بلاگستان ایوارڈز و دیگر ایوارڈز) کے اعزاز میں ، اور مسائل ہائے تلخ و شیریں سے نبٹنے کے لیے تازہ دم ہوا جائے آپس میں ہلکی پھلکی گفتگو کر کے یا ایک دوسرے کا ریکارڈ لگا کر ۔ اسی ذیل میں ایک خیال یہاں پیش کیا تھا بلاگ دنیا میں بلاگرز کے تعارف کے لیے اور ارادہ تھا کہ تمام بلاگ دنیا کو دعوت دی جائے ایک دوسرے کا تعارف پیش کرنے کی
۔ اس سلسلے میں چند بلاگرز سے ڈسکشن بھی ہوئی تھی اور کچھ کام بھی کیا گیا تھا ۔ اس تجویز پر عمل کیا جائے یا نہیں اس حوالے سے آپ سب کی آراء درکار ہیں ۔
شکریہ
السلام علیکم
آج آٹھ اگست ۲۰۱۰ ہے اور آج سے ہفتہ کتب و کتب خانہ کا آغاز ہو رہا ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ اپڈیٹ میں ذکر کیا تھا ہفتہ کتب کے دورانیہ کو دو حصوں میں منقسم کر دیا گیا ہے ۔ پہلا حصہ آٹھ اگست سے گیارہ اگست ۲۰۱۰ تک ہے اور دوسرا حصہ ماہ رمضان المبارک کے بعد انعقاد ہو گا ۔
آپ سب کتاب اور کتب خانہ سے دلچسپی رکھنے کی صورت میں اس سلسلہ میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں شریک ہونے کے لیے مختلف عنوانات کے تحت اپنی پسند کے کسی بھی ایک یا زائد عنوانات پر اپنے خیالات اپنے بلاگ پر تحریر کر سکتے ہیں ۔ یہ عنوانات درج ذیل ہیں :
تعارف
- ذاتی بک شیلف
- ذاتی کتب خانہ
- نجی کتب خانہ
- پبلک لائبریری
- گلی یا محلہ میں موجود کتب خانہ
- شہر میں موجود کوئی ایک یا چند کتب خانے
- کسی بھی ادارے سے منسلک کتب خانہ
- اسکول لائبریری
- کالج لائبریری
- یونیورسٹی لائبریری
- دنیا میں قدیم ترین کتب خانہ
- دنیا میں سب سے بڑا کتب خانہ
- دنیا میں سب سے چھوٹا کتب خانہ
- کوئی بھی موضوعاتی کتب خانہ
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
- کوئی ایسا کتب خانہ جو آپ کو بہت زیادہ پسند ہو ۔
- کوئی ایسا کتب خانہ جس میں آپ نے صرف ایک دن یا کچھ وقت گذارا ہو۔
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
تحریر از مہمان لکھاری ، کتاب دوستی
اگر آپ خود بلاگر نہیں ہیں تاہم اردو دنیا اور بلاگ دنیا کے قاری ہیں یا بلاگ دنیا میں تبصرہ نگار کی حیثیت شریک ہوتے ہیں تو آپ بھی اس سلسلہ میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ اور اپنی تحریر “مہمان لکھاری” کی حیثیت سے پیش کر سکتے ہیں ۔ اس کے لیے آپ کو متعلقہ بلاگ (جسے آپ اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے منتخب کریں) کے بلاگر سے رابطہ کر کے ان بلاگر سے اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں یا اجازت لے سکتے ہیں ، اس حوالے سے درج ذیل بلاگرز سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔
خرم ابن شبیر
عمیر ملک (عین لام میم)
محب علوی
اگر مہمان لکھاری کی تحریر بلاگ پر پیش نہ کی جا رہی ہو تو “کتاب دوستی” کے حوالے سے تحریر کیا جا سکتا ہے ۔ کتاب دوستی کی بات کریں تو آپ کی کتاب سے دوستی کس طرح سے اور کب ہوئی اور اس میں نمایاں کردار کس یا کس کس کا رہا ؟
زندگی میں کتب / کتب خانوں کا کردار
- اگر آپ اپنی تحریر میں تصاویر یا وڈیو شامل کرنا چاہیں توکر سکتے ہیں چاہے ایک کتاب ہی کی تصویر شیئر کرنا چاہیں ۔ اگر کوئی بلاگر تحریری تعارف پیش نہ کرنا چاہیں تو صرف تصویری تعارف بھی پیش کر سکتے ہیں۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کی تصاویر شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کے حوالے سے آڈیوز شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کے حوالے سے وڈیوز شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
- اگر آپ نے اپنے لیے لائبریری تشکیل دی ہے تو اسے کس طرح ڈیزائن کیا ہے یا اگر تشکیل دینا چاہیں تو آپ کے ذہن میں اپنی لائبریری کے لیے کیا خاکہ ہے اسے کس طرح ڈیزائن کرنا چاہیں گے ؟
- آپ اپنے کتب خانے میں کتب کے علاوہ دیگر کونسی مفید ڈیوائسز (اسکینر ، فوٹو کاپیئر، فیکس ، وغیرہ) یا سہولیات شامل کرنا چاہیں گے یا ضروری خیال کرتے ہیں ؟
- اگر آپ نے خود یا آپ کے کسی دوست نے بچوں کے لیے لائبریری تشکیل دی ہے یا اگر بچوں کے لیے لائبریری ڈیزائن کرنا ہو تو اس کا خاکہ شیئر کیا جا سکتا ہے ۔
- اگر آپ کسی موضوعاتی لائبریری کو تشکیل دیں تو اسے کیا شکل دینا چاہیں گے ؟
- اگر آپ کوئی مختلف و منفرد لائبریری متشکل کرنا چاہیں تو اسے بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں ۔
ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی میں کتب بینی کو کیا حیثیت حاصل ہے ؟ زندگی اور معاشرے کی تعمیر میں کتاب اور کتب خانہ کا کردار کس طرح سے موجود اور اہم ہے ۔
تصویر ، آڈیو ، وڈیو روابط
سیر کتب خانہ ، (وزٹ ڈے)
کسی بھی ایک یا زائد کتب خانوں کا وزٹ کیجیے اور اس سیر کی تفصیل اپنے اپنے بلاگ پر شیئر کیجیے ۔
کتب خانے کی سیر کے دوران کسی ایک یا چند کتب کے نام شیئر کر سکتے ہیں جو آپ کو پسند آئی ہوں ۔
اگر آپ حالیہ کسی کتب خانے کو وزٹ نہیں کر سکیں تاہم پہلے کسی کتب خانے کو وزٹ کیا ہوا ہو تو اس کی تفصیل شیئر کر سکتے ہیں ۔
اپنی زندگی میں کون سی پہلی لائبریری تھی جسے آپ نے وزٹ کیا ۔
تشکیل لائبریری
بین الاقوامی کتب خانے
دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود کسی بھی قدیم یا جدید کتب خانے کے بارے میں مختصر یا تفصیلی تحریر ۔
دنیا کے مختلف ممالک میں کتاب دوستی یا مطالعہ کے ضمن میں حکومتی ، عوامی ، تعلیمی سطح پر اگر کوششیں کی جاتی ہیں تو انہیں بھی موضوع سخن بنایا جا سکتا ہے ۔
جو بلاگر اپنے بلاگ پر ایک سے زائد تحریریں پیش کرنا چاہیں تو ان تمام تحریروں کو “ہفتہ کتب خانہ” کے عنوان سے مخصوص کٹیگری میں پیش کریں ۔
شکریہ
السلام علیکم
آپ سب نے یوم کتب خانہ اور ہفتہ کتب خانہ کے حوالے سے بلاگ پر اور مسنجر پر مفید آراء دیں آپ سب کا بہت شکریہ ۔ ایک دلچسپ تبصرہ کے مطابق یہ ایک ٹف اسائنمنٹ ہے ، یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ اس کی تیاری کے لیے زیادہ وقت دیا جانا چاہیے ۔ کچھ بلاگرز مصروفیت یا کسی دوسرے سبب سے ابھی اس دورانیہ میں شریک نہیں ہو سکتے لہذا تمام آراء کے لحاظ سے ہفتہ کتب کے انعقاد میں کچھ تبدیلی کی ہے اور اس دورانیہ کو دو حصوں یا مراحل میں تقسیم کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے ایک اپڈیٹ ذیل میں درج ہے:
• ہفتہ کتب کا پہلا مرحلہ آٹھ اگست ۲۰۱۰ سے گیارہ اگست ۲۰۱۰ تک اور دوسرا مرحلہ ماہ رمضان المبارک کے فورا بعد ۔ اس لحاظ سے جن عنوانات پر تحریر پیش کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہو ان ڈرافٹس کی تیاری کے لیے ایک مناسب دورانیہ مل جائے گا ۔
• اس ربط پر ہفتہ کتب خانہ کی ترتیب موجود ہے تاہم اب اس دورانیہ کے دو حصوں میں منقسم ہونے کی وجہ سے مذکورہ ترتیب کو فالو کرنا ضروری نہیں بلکہ آپ اپنی سہولت کے لحاظ سے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ کس عنوان کے تحت اپنی تحریر پہلے مرحلہ میں پیش کریں گے اور کون سی دوسرے مرحلہ میں پیش کرنا چاہیں گے۔ علاوہ ازیں ترتیب میں شامل عنوانات میں محب علوی نے ایک مفید عنوان شامل کیا ہے ، آپ اس عنوان پر اپنی تحریر شیئر کر سکتے ہیں ، یہ عنوان ہے ،
زندگی میں کتب / کتب خانوں کا کردار
• اگر کوئی بلاگر مصروفیت یا کسی دیگر وجہ سے پہلے مرحلہ میں اپنی تحریر پیش نہ کر سکیں وہ دوسرے مرحلہ میں شریک ہوسکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کسی سبب سے دوسرے مرحلہ میں شرکت ممکن نہ ہو سکتی ہو تو آپ صرف پہلے حصہ میں بھی اپنی تحریریں پیش کر سکتے ہیں ۔
• وہ افراد جن کا ذاتی بلاگ موجود نہیں تاہم کتاب اور کتب خانہ کے حوالے سے لکھ کر اس سلسلہ میں شریک ہونا چاہیں اور ایک یا زائد تحاریر پیش کرنا چاہتے ہوں ان کے لیے دو محترم بلاگرز خرم ابن شبیر اور عمیر ملک (عین لام میم) ، آپ دونوں بلاگرز نےمہمان لکھاریوں کو اپنے بلاگز پر لکھنے کی دعوت دی ہے پس اگر اردو دنیا سے کوئی بھی صاحب یا صاحبہ اپنی تحریر یا تحاریر خرم ابن شبیر اور عین لام میم کے بلاگز پر پیش کرنا چاہیں مہمان لکھاری کی حیثیت سے تو ان سے رابطہ کر لیں ۔ رابطہ کرنے کے لیے ان کے بلاگ پر تبصرہ کے خانے میں پیغام لکھ دیں ۔ دونوں بلاگز کے روابط درج ذیل ہیں :
خرم ابن شبیر
عمیر ملک (عین لام میم)
آپ سب بلاگرز جو اپنے بلاگ پر ایک یا زائد مہمان لکھاریوں کو دعوت تحریر دینا چاہیں آپ یہاں بھی مطلع کر سکتے ہیں اور اگر اپنے اپنے بلاگ پر بھی اس دعوت کو مشتہر کرنا چاہیں تو آپ کی پیشکش نمایاں طور پر ہائیلائٹ ہو جائے گی اور جو افراد لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ براہ راست آپ سے رابطہ کر سکیں گے۔
• اگر آپ انٹرنیٹ دنیا کا حصہ ہیں یا بالعموم اردو بلاگ دنیا کا حصہ ہیں ، بحیثیت بلاگر یا بحیثیت قاری اور ہفتہ کتب کے سلسلہ میں اپڈیٹ حاصل کرنا چاہیں بذریعیہ ایمیل تو اس بارے میں یہاں مطلع کر دیں ۔
شکریہ
یوم کتب خانہ/ بک شیلف کی تجویز کو آپ سب نے پسند کیا ، متشکرم ۔ اس تجویز پر دی گئی آرا میں اس کا دورانیہ ایک دن کی بجائے ایک ہفتہ تک بڑھانے کا مفید خیال سامنے آیا ہے ۔ اگر ہم اس دورانیہ کو ایک ہفتہ پر مشتمل کرنا چاہیں تو اس ہفتہ کو کس طرح ترتیب دیا جا سکتا ہے اس حوالے سے ایک کوشش کی ہے ، یہ ترتیب درج ذیل ہے:
(ہر عنوان کے تحت مختلف آپشنز شامل ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی ایک یا زائد آپشنز کو منتخب کر کے تحریریں بلاگ پر پیش کی جا سکتی ہیں۔)
دورانیہ : ۵ اگست تا ۱۱ اگست
- ۵ اگست : یوم آغاز ۔ ۔ ۔ یوم تعارف
- ۶ اگست : یوم مہمان لکھاری ، کتاب دوستی
- ۷ اگست : یوم تصویر ، آڈیو ، وڈیو روابط
- ۸ اگست : سیر کتب خانہ ، (وزٹ ڈے)
- ۹ اگست : یوم تشکیل لائبریری
- ۱۰ اگست : یوم برائے بین الاقوامی کتب خانے
- ۱۱ اگست : یوم اختتام ۔ ۔ ۔ یوم افتتاح
یوم تعارف
- ذاتی بک شیلف
- ذاتی کتب خانہ
- نجی کتب خانہ
- پبلک لائبریری
- گلی یا محلہ میں موجود کتب خانہ
- شہر میں موجود کوئی ایک یا چند کتب خانے
- کسی بھی ادارے سے منسلک کتب خانہ
- اسکول لائبریری
- کالج لائبریری
- یونیورسٹی لائبریری
- دنیا میں قدیم ترین کتب خانہ
- دنیا میں سب سے بڑا کتب خانہ
- دنیا میں سب سے چھوٹا کتب خانہ
- کوئی بھی موضوعاتی کتب خانہ
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
- کوئی ایسا کتب خانہ جو آپ کو بہت زیادہ پسند ہو ۔
- کوئی ایسا کتب خانہ جس میں آپ نے صرف ایک دن یا کچھ وقت گذارا ہو۔
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
یوم مہمان لکھاری ، کتاب دوستی
اگر آپ خود بلاگر نہیں ہیں تاہم اردو دنیا اور بلاگ دنیا کے قاری ہیں یا بلاگ دنیا میں تبصرہ نگار کی حیثیت شریک ہوتے ہیں تو آپ بھی اس سلسلہ میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے آپ کے پاس دو آپشنز ہیں : ایک یہ کہ اپنا ذاتی بلاگ تشکیل دیں اور اپنی تحریر پیش کیجیے ۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اپنی تحریر بلاگ دنیا میں پہلے سے موجود کسی بھی بلاگ پر پیش کر سکتے ہیں “مہمان لکھاری” کی حیثیت سے ۔ اس کے لیے آپ کو متعلقہ بلاگ (جسے آپ اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے منتخب کریں) کے بلاگر سے رابطہ کر کے ان بلاگر سے اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں یا اجازت لے سکتے ہیں ۔
اگر کوئی بلاگر اپنے بلاگ پر مہمان لکھاریوں کو خوش آمدید کہنا چاہیں تو وہ اپنےاپنے بلاگ پر اور یہاں اطلاع کر سکتے ہیں تاکہ جو قارئین دلچسپی رکھتے ہوں وہ متعلقہ بلاگر سے رابطہ کر سکیں ۔
اگر مہمان لکھاری کی تحریر بلاگ پر پیش نہ کی جا رہی ہو تو “کتاب دوستی” کے حوالے سے تحریر کیا جا سکتا ہے ۔ کتاب دوستی کی بات کریں تو آپ کی کتاب سے دوستی کس طرح سے اور کب ہوئی اور اس میں نمایاں کردار کس یا کس کس کا رہا ؟
یوم تصویر ، آڈیو ، وڈیو روابط
- اگر آپ اپنی تحریر میں تصاویر یا وڈیو شامل کرنا چاہیں توکر سکتے ہیں چاہے ایک کتاب ہی کی تصویر شیئر کرنا چاہیں ۔ اگر کوئی بلاگر تحریری تعارف پیش نہ کرنا چاہیں تو صرف تصویری تعارف بھی پیش کر سکتے ہیں۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کی تصاویر شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کے حوالے سے آڈیوز شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کے حوالے سے وڈیوز شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
یوم سیر کتب خانہ ، (وزٹ ڈے)
کسی بھی ایک یا زائد کتب خانوں کا وزٹ کیجیے اور اس سیر کی تفصیل اپنے اپنے بلاگ پر شیئر کیجیے ۔
کتب خانے کی سیر کے دوران کسی ایک یا چند کتب کے نام شیئر کر سکتے ہیں جو آپ کو پسند آئی ہوں ۔
اگر آپ حالیہ کسی کتب خانے کو وزٹ نہیں کر سکیں تاہم پہلے کسی کتب خانے کو وزٹ کیا ہوا ہو تو اس کی تفصیل شیئر کر سکتے ہیں ۔
اپنی زندگی میں کون سی پہلی لائبریری تھی جسے آپ نے وزٹ کیا ۔
یوم تشکیل لائبریری
- اگر آپ نے اپنے لیے لائبریری تشکیل دی ہے تو اسے کس طرح ڈیزائن کیا ہے یا اگر تشکیل دینا چاہیں تو آپ کے ذہن میں اپنی لائبریری کے لیے کیا خاکہ ہے اسے کس طرح ڈیزائن کرنا چاہیں گے ؟
- آپ اپنے کتب خانے میں کتب کے علاوہ دیگر کونسی مفید ڈیوائسز (اسکینر ، فوٹو کاپیئر، فیکس ، وغیرہ) یا سہولیات شامل کرنا چاہیں گے یا ضروری خیال کرتے ہیں ؟
- اگر آپ نے خود یا آپ کے کسی دوست نے بچوں کے لیے لائبریری تشکیل دی ہے یا اگر بچوں کے لیے لائبریری ڈیزائن کرنا ہو تو اس کا خاکہ شیئر کیا جا سکتا ہے ۔
- اگر آپ کسی موضوعاتی لائبریری کو تشکیل دیں تو اسے کیا شکل دینا چاہیں گے ؟
- اگر آپ کوئی مختلف و منفرد لائبریری متشکل کرنا چاہیں تو اسے بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں ۔
یوم برائے بین الاقوامی کتب خانے
دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود کسی بھی قدیم یا جدید کتب خانے کے بارے میں مختصر یا تفصیلی تحریر ۔
دنیا کے مختلف ممالک میں کتاب دوستی یا مطالعہ کے ضمن میں حکومتی ، عوامی ، تعلیمی سطح پر اگر کوششیں کی جاتی ہیں تو انہیں بھی موضوع سخن بنایا جا سکتا ہے ۔
۱۱ اگست : یوم اختتام
اس کی تفصیل بعد میں لکھنا ہے ۔
درج بالا ترتیب ، اور مذکورہ تاریخ حتمی نہیں ہیں اور آرا کی روشنی میں تبدیلی کی جا سکتی ہے تاہم اگر ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل اس ہفتہ کو انعقاد کرنا چاہیں تو پھر اسی تایخ کو حتمی قرار دے دیں گے ۔
عدنان بھائی نے تحریر کو شایع کرنے کے حوالے سے سوال کیا ہے کہ اسے کہاں پیش کیا جائے گا۔ اس حوالے سے یہی کرنا ہو گا کہ ہر بلاگر اپنے اپنے بلاگ پر ہی اپنی تحریروں کو پیش کریں گے تاہم اپنا ذاتی بلاگ موجود نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی بلاگر سے رابطہ کر کے اپنی تحریر یا ایک سے زائد تحریروں کو ان کے بلاگ پر بطور مہمان لکھاری شایع کروا سکتے ہیں ۔
جو بلاگر اپنے بلاگ پر ایک سے زائد تحریریں پیش کرنا چاہیں تو ان تمام تحریروں کو “ہفتہ کتب خانہ” کے عنوان سے مخصوص کٹیگری میں پیش کریں ۔
درج بالا ترتیب اور انعقاد کی تاریخ کو حتمی قرار دینے یا اس میں کسی تبدیلی کے لیے تجاویز دینا چاہیں تو خوش آمدید ۔
کیا دنیا بھر میں کبھی معذور افراد کی زندگیوں پر مبنی فلمیں بنائی گئی ہیں اردو ، انگریزی یا کسی بھی زبان میں فکشن ہو چاہے اصل دستاویزی فلمیں ؟
بہت دن سے ٹی وی کے آگے بیٹھنا نصیب نہیں ہو رہا تھا کل امی ٹی وی پرکوئی پروگرام دیکھ رہی تھیں ، میں بھی وہیں بیٹھ گئی ۔ اس پروگرام کی میزبان کسی فیملی کے پاس اسی فیملی کے گھر میں بیٹھی ہوئی تھیں اور گفتگو ہو رہی تھی ۔ اس فیملی کے جو افراد اس پروگرام میں شریک تھے ان میں ایک بزرگ خاتون ، ایک ان خاتون کے بیٹا صاحب ، دوسری ان کی بہو اور بیٹا اور بہو کے تین عدد بچے (دو بیٹے اور ایک بیٹی) ۔ یہ تینوں بچے بھی عمر کے لحاظ سے بہت چھوٹے نہیں تھے بلکہ لڑکی ٹین ایجر ہو گی ۔ گفتگو کے دوران ان بزرگ خاتون نے فخریہ تربیت کا ذکر کیا جسے مختصر الفاظ میں بچوں کی سادگی اور معصومیت کے ساتھ نتھی کر کے اپنی کوششوں کو بیان کیا ۔ بزرگ خاتون کے پوتوں اور پوتی تک تو ذکر معصومیت ٹھیک تھا تاہم حیرت اس وقت ہوئی جب بزرگ خاتون نے اپنی تربیتی کوششوں کا رخ پوتوں سے ہٹا کر اپنے بیٹے کی جانب موڑا ان کی گفتگو کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ
“میرا بیٹا بہت سیدھا ہے یہ اتنا سیدھا ہے کہ یہ ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں تھا لیکن میں نے اپنے بیٹے کی شادی اپنی پسند سے کی ۔ میں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ بیٹا کسی دن کسی ماڈل کو لے کر گھر آ جائے اس کا بندوبست کر دیا چاہیے ، ہم نے جلد ہی اس کا نکاح کر دیا اور چھ ماہ بعد شادی بھی کر دی ۔ اور بعد میں اسے اجازت دی کہ اگر اشتہارات میں کام کرنا چاہے تو کر لے ۔ ۔ ۔ ۔
تربیت پر گفتگو مزید بھی جاری تھی کہ اٹھنا پڑ گیا اور یوں معلومات بس یہیں تک محدود رہیں ۔ والدین اولاد کی تربیت کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ان بزرگ خاتون نے بھی یقینا اپنا کردار ادا کیا لیکن انھوں نے جس انداز میں اسے بیان کیا وہ تربیت پر ایک سوالیہ نشان ضرور چھوڑ گیا ۔ سوال یہ ہے کہ انہیں اپنے بیٹے پر اعتماد نہیں تھا ، انہیں ڈر تھا کہ ان کا بیٹا کسی ماڈل کو گھر لے آئے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ در واقع انہیں اپنی تربیت پر اعتماد نہیں تھا ۔ اگر ان کا بیٹا سیدھا تھا اور انہیں اپنی تربیت پر اعتماد ہوتا تو انہیں یہ ڈر سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے تھا بلکہ ان کا بیٹا جہاں جائے کہیں بھی رہے اس میں اتنی سمجھ اور شعور ہو کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی روزمرہ میں بھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھائے گا بلکہ اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کرنے کے بھی قابل ہو ۔ شادی انسان کی زندگی کا اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں والدین اپنے بچوں کی تربیت میں یہ جزو شامل نہیں کرتے کہ ان کی اولاد لڑکی ہو چاہے لڑکا ، وہ اس اہم فیصلہ کرنے کے قابل رہے اور پر اعتماد ہو کر یہ فیصلہ لے سکے کہ صنف مخالف سے کون سا ایسا نام ہے جو شادی کے بعد اس کی آئندہ زندگی کو ممکن حد تک پُرسکون بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس مقام پر ہمارے والدین کرپشن کے قائل نظر آتے ہیں کہ ہمارے بچے اپنی شادی کا فیصلہ خود کیوں کریں ۔
تربیت مختلف عناصر سے وجود و تشکیل پاتی ہے اور وہ تمام والدین جو تربیت کا حق ادا کرتے ہیں وہ اپنے بچوں کو پروان چڑھانے میں فیصلہ کن صلاحیت اجاگر کرنے پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں اور گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ انہیں یہ حق اور اعتماد بھی دیتے جاتے ہیں کہ وہ جزوقتی طور پر اور کل وقتی ہر دو لحاط سے خود بھی فیصلے کر سکیں ۔
ہم سب کی یہ پہچان
سب کی اس سے ہے شان
اپنی زمیں ، اپنے وطن پہ جان قربان
آؤ سارے مل کے بولیں
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
آؤ سارے مل کے بولیں
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہاتھوں میں ڈالے ہاتھ چلیں
راہ جیسی بھی ہو ہم نہ رُکیں
باطل کے آگے سر نہ جھکے
محنت اور خدمت کرتے رہیں
آؤ سارے مل کے بولیں
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہے خواب یہاں ، منزل بھی یہیں
تعبیر یہاں ، ساحل بھی یہیں
اے پاک وطن اے پاک زمیں
تیری عظمت پہ ہم سب کو یقیں
آؤ سارے مل کے بولیں
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہے آنے والا دور حسیں
محبت ، علم اور حرمت دیں
تو اپنا مکاں ، ہم تیرے مکیں
مل جُل کر ہم کو رہنا یہیں
آؤ سارے مل کے بولیں
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہم پاکستان ، ہم پاکستان
ہم پاکستاں ، ہم پاکستان





تازہ ترین تبصرہ جات