Archive for the Category »سی ایس ایس «
30 جون 2009ء کو فائرفاکس کا نسخہ 3.5 کا اجراء ہوا۔ دیگر خوبیوں کو چھوڑ کر اسمیں سی ایس ایس 3 کے ایک فیچر ”ویب فونٹس“ کیلیے درکار سپورٹ شامل کی گئی۔تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ویب فونٹس ہیں کیا؟ جیسے کہ آپ جانتے ہیں ہونگے کہ کسی ویب سائٹ یا کسی ڈاکیومنٹ میں استعمال شدہ فونٹ صرف اسوقت ہی آپکو دکھائی دیگا جب متعلقہ فونٹ آپکے پی سی پر آپریٹنگ سسٹم کے فونٹ فولڈر میں فعال ہو۔مختلف آپریٹنگ سسٹمز پر فونٹس کی تعداد انتہائی محدود ہوتی ہے اور ان میں بھی ویب یا ڈاکیومنٹ لکھنے کیلیے مناسب فونٹس آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ ویب پر موجود کروڑوں ویب سائٹس خود کو منفرد دکھانے کیلیے منفرد فونٹس استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
فی الحال ان کے پاس یہی حل ہے کہ اپنے مطلوبہ فانٹس کے امیج لگائیں یا sIFR جیسی چیزوں کا سہارا لیں۔ اس جیسی چیزوں میں بڑا مسئلہ یونیکوڈ زبانوں کیلیے درکار سپورٹ نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔اس مسئلے کے حل کیلیے ویب سٹینڈرڈز کے ادارے W3C نے سی ایس ایس کے اگلے نسخے یعنی سی ایس ایس 3 میں ویب ٍفونٹس شامل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ گو سی ایس ایس 3 کے اجراء کیلیے کوئی مقررہ تاریخ ابھی نہیں دی گئی تاہم کئی ساری کمپنیوں نے اپنے براؤزرز میں سی ایس ایس3 کی کافی سارے خصوصیات کی سپورٹ شروع کر دی ہے۔ انہی میں سے ایک خصوصیت ”ویب فونٹس“ کی ہے۔ ویب فونٹس استعمال کرتے ہوئے آپ صارف کو اپنی ویب سائٹ کا مواد اپنی پسند کے فونٹ میں پیش کر سکتے ہیں، چاہے مذکورہ فونٹ اسکے ہاں انسٹال ہی نہ ہو۔ صارف کو صرف ایسے براؤزر کا استعمال کرتے ہوئے آپکی سائٹ دیکھنی ہوگئی جسمیں ویب فونٹس دکھانے کی خصوصیت ہو۔ سردست ان براؤزز میں فائرفاکس3.5، اوپرا10، کروم3.0 اور سفاری3.5 شامل ہیں۔ یعنی انٹرنیٹ ایکسپلورر کو چھوڑ کر بقیہ 50 فیصد مارکیٹ کا حصہ رکھنے والے برواؤزر اس فیچر کو سپورٹ کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے زوال کو دیکھتے ہوئے ایسے فیچر آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔
ویب فونٹس کیسے استعمال کریں؟
ویب فونٹس کا استعمال انتہائی آسان ہے۔ اپنی سٹائل شیٹ کھولیں اور ان سطروں کا اضافہ کریں:
@font-face { font-family: MyHelvetica; src: local("Helvetica Neue Bold"), local("HelveticaNeue-Bold"), url(MgOpenModernaBold۔ttf); font-weight: bold; }
- پہلے سطرمیں ہم فونٹ فیس کا سلیکٹر لگاتے ہیں یعنی ہم ایک فونٹ ڈکلئیر کرنے جارہے ہیں۔
- دوسری سطر میں ہم فونٹ فیملی کو ایک نام دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ویب فونٹ میں استعمال ہونے والے فونٹ کو کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہے۔
- تیسری سطر میں ہم منبع یا سورس بتائیں گے۔ اس لائن اور نچلی لائن میں لوکل اور بریکٹ میں فونٹ کا نام دینے کا مقصد یہ ہے کہ یہ فونٹ صارف کے پی سی پر ان دونوں میں سے کسی نام سے موجود ہو سکتا ہے۔ چونکہ ویب فونٹس عارضی انٹرنیٹ فائلز میں ڈاؤنلوڈ ہو کر دکھائی دیتے ہیں، اسلئے پہلے صارف کے پی سی پر تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ صارف خوامخواہ ایسے ویب فونٹ کو ڈاؤنلوڈ نہ کرے جو پہلے ہی اسکے پی سی پر انسٹال ہے۔
- صارف کے پاس(local) موجود نہ پا کر براؤزر یو آر ایل چیک کرتا ہے جہاں یہ ویب فونٹ اپلوڈ کیا گیا ہے، اور وہاں سے صارف کو ڈاؤنلوڈ(جسکا صارف کو علم نہیں ہوتا) کرکے ٹیکسٹ مطلوبہ فونٹ میں دکھا دیتا ہے۔
ایک دفعہ فونٹ ڈکلئیر کرنے کے بعد آپ اس فونٹ فیملی کو کہیں بھی اپنی سی ایس ایس فائل میں استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسے کہ اگر ہمارے پاس دوسرے درجے کے عنوان(h2) کی فونٹ فیملی کچھ ایسی ہے:
h2 {font-family: Arial, Tahoma, sans-serif; }
تو ہم اوپر ڈکلئیر کیا گیا فونٹ ایسے شامل کرینگے:
h2 {font-family: MyHelvetica, Arial, Tahoma, sans-serif; }
میرے ساتھ ایک مسئلہ اسوقت پیش آیا جب میں نے کوئی ایسا فونٹ اپلوڈ کیا جیسے کے نام میں سپیس شامل تھی۔ اس کا آسان حل یہ کہ سپیس ختم کر دیں۔ جیسے Mg Open Moderna Bold.ttf کو MgOpenModernaBold.ttf کے نام دیکر اپلوڈ کیا گیا ہے۔ اسیطرح آپ بھی فونٹ کی فائل(ttf یا otf) کا نام بدل کر سپیس والے مسئلے سے بچ سکتے ہیں۔
ویب فونٹس کا استعمال آپ ہمارے بلاگ پر ہیڈنگز میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ کہ آپ کے پاس اسے سپورٹ کرنے والا بروازر موجود ہو۔
احتیاط: بڑے سائز کے فونٹس شامل کرنے سے گریز کریں۔ یہ نہ ہو اردو دکھانے کے جوش میں آپ 10 ایم بی سے اوپر کے نستعلیق فونٹس ویب فونٹس کی مدد سے شامل کر لیں اور صارف صفحہ لوڈ ہونے کا انتظار ہی کرتا رہے۔
کسی بھی مسئلے کی صورت میں تبصرے کے ذریعے مطلع کیجیے۔






تازہ ترین تبصرہ جات