Archive for the Category »طب و صحت «
گنّا سستا اور میٹھا علاج
گنّا کھانے کو ہضم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کوطاقت دیتا ہے ۔ یہ جسم کوطاقت اور خون دینے کے ساتھ ساتھ موٹا بھی کرتا ہے ، خشکی دور کرتا ہے ، پیٹ کی گرمی اور جلن کودور کرتا ہے ،پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے، اس کا بیلنے سے نکلا ہوا رس دیر سے ہضم ہوتا ہے چناچہ اسے دانتوں سے چوسنا زیادہ مفید ہے ۔ اس طرح اس میں لعاب دہن شامل ہوجاتا ہے جو ہاضم ہے ۔
پوری دنیا میں شکر، گلوگوز،فروٹوز،گنّے سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کی گنڈیریاں بنا کر چوسنے سے گرمی دور کرنے، بدن سے زہریلی کثافتیں باہر نکالنے، بدنی مشنری چلانےکے لئے گرمی پیدا کرنے والی شکر بنانے اور دانتوں کی میل کچیل صاف کر کے مسوڑوں کو حرکت دے کرمضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے ۔
2 گلاس گنّے کے رس میں 2 ہلکی چپاتیوں کے برابرغذائیت ہوتی ہے ۔
جوان اور گرم مزاج رکھنے والے اگر کھانے بعد چند گنڈیریاں چوس لیں تومعدہ ہلکا، دانت صاف، اور طبعت چست اور ہشاش بشاش ہوجاتی ہے ۔
گنے کے رس کا ایک گلاس پینے سے قبض ختم اور معدے کی تیزابیت میں کمی ہوجاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ بدنی تناؤکم اورخون کا دباؤ گھٹ کر کم ہوجاتا ہے ۔
اطباء کا کہنا ہے کہ دل کی گرمی اوردھڑکن کی زیادتی کو دورکرنے لئے آدھا پاؤسے آدھا سیرتک گنڈیریاں رات کو شبنم میں رکھ کرصبح کو بطورناشتہ چوس لی جائیں تو چند ایام میں گرمی دوراور دل مضبوط ہوجاتا ہے ۔
بعض لوگ نیند کی کمی ، طبعت کے بھاری پن اور چڑچڑے مزاج کا شکار رہتے ہیں ۔ ایسے افراد بھی اگر صبح کے وقت گنڈیریاں چوسیں تو نیند کی کمی دورطبعت ہلکی پھلکی اور چڑچڑاپن جاتا رہتا ہے ۔
گلابیٹھ جائے اورآواز بھاری ہوجائے تو گنے کو پانچ ساتھ منٹ بھوبل میں دبا کر چوسنے سے آواز صاف ہوجاتی ہے ۔
گنّے کا رس بادی طبعت رکھنے والوں کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس سے قبض دور ہوجاتی ہے۔
ہرے پیلے رنگ کے قے ہوتو گنّےکا ٹھنڈا میٹھا رس بہت فائدہ دیتا ہے ۔
اس کے سنگھانے سے نکسیر بھی بند ہوجاتی ہے۔
خشک کھانسی دور ہوجاتی ہے بلغم صاف ہوتا ہے ۔
یرقان کی بیماری میں آنکھیں اور پیشاب کا رنگ ذرد ہوجاتا ہے ، بعض کا سارا بدن پیلا اور بدن میں خارش بھی ہوجاتی ہے ۔ اس کے لئے اگر تین تین گھنٹے کے بعد گنڈیریاں چوسیں اور علاج کے ساتھ ساتھ گنّے کا رس بھی پۂیں تو چند روز میں پیلاہٹ ختم اورصحت اچھی ہوجاتی ہے ۔
بدن میں جابجا گلٹیاں اورگانٹھیں نمودار ہوں تو عمر اور جسمانی طاقت کے مطابق چند روزتک صبح ہرڑ کے ساتھ گنّے کا رس پیا جائے تو بڑھے ہوئے غدودوں اورگلٹیوں کا نام ونشان مٹ جاتا ہے ۔
شہلا ہاشمی۔ مدینہ منورہ
بشکریہ: اردو ویب
نکسیرEpistaxis
اسباب و علامات:
گرمی کے موسم میں ناک سے خون آنے لگتا ہے. کئی دوسرے اسباب جیسے ناک میں چوٹ لگنا، برائٹ ڈیسیز، جگر کے امراض سے بھی یہ بیماری ہوجاتی ہے. ناک سے خون بہنے سے پہلے سر میں درد، چکر آنا، سر بھاری رہنا وغیرہ اس کی خاص علامات ہیں۔
علاج:
(١) مریض کی گردن اور سر پر ٹھنڈا پانی ڈالیں یا برف کی تھیلی رکھیں، خاصکر گردن پر برف رکھیں۔
(٢) کیلشیم لیکٹیٹ دن میں تین بار٩٠٠ ملی گرام پانی کے ساتھ کھلائیں۔
(٣) اسٹپٹوکروم Adrinochrome(Styptochrome) ١یا ٢ ملی لیٹر کا انجکشن ١۔٢ گھنٹے کے وقفے سے عضلاتی لگائیں. شدید حالت میں ٢ ملی لیٹر کو ٥٠ ملی لیٹر ڈکسٹروز میں ملاکر آہستہ آہستہ وریدی انجکشن لگائیں۔
(0) وے نس مین Diosmin(Venusmin) ٢ ٹکیہ(٦٠٠ ملی گرام) سے ٦ ٹکیہ (١٨٠٠ ملی گرام) روزانہ دیں. مقدار مریض کی عمر، بیماری کی حالت اور ضرورت کے تقاضے کی بنیاد پر دیں۔
موتیابندCataract
اس بیماری میں آنکھ کے لینس یا اس کے کیپسول یا دونوں ہی دھندلے ہوجاتے ہیں اور اس پر ایک پردہ سا آجاتا ہے۔
اسباب:٦٠ سال کی عمر کے بعد اکثر لوگوں کو یہ مرض ہوجاتا ہے. کمزور کرنے والے ایسے امراض جن سے آنکھوں کے لینس میں خون کے ذریعے پوری مقدار میں غذائی مادے نہیں پہنچتے جیسے ذیابیطس(Diabetes)، آتشک یا الٹراوائی لیٹ علاج کے زیادہ استعمال سے اس عمر سے بھی پہلے موتیابند شروع ہوجاتا ہے۔
علامات:بینائی دھیرے دھیرے گھٹتی چلی جاتی ہے، ہر چیز بڑی دکھائی دیتی ہے، بجلی کے بلب کے نور کو دیکھنے پر فرق محسوس ہوتا اور نور کے چاروں طرف ہری نیلی شعاعیں دکھائی دیتی ہیں، تاروں اور چاند کو دیکھنے پر ایک کے بجائے کئی دکھائی دیتے ہیں۔
تفریقی تشخیص: اس مرض کو سبز موتیا (گلوکوما) سے تفریق دینا ضروری ہے، سبز موتیا میں آنکھوں کی پتلی سبز ہوجاتی ہے، آنکھ کا ڈھیلا پتھر کی طرح سخت ہوجاتا ہے، روشنی سے پتلی نہیں سکڑتی ہے، مریض قریب کی چیزوں کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا ہے، آنکھوں اور کنپٹیوں میں اتنا سخت درد ہوتا ہے کہ مریض تڑپنے لگتا ہے۔
علاج: (١) بیماری کے شروع میںہلکا ایٹروپین لوشن مریض کی آنکھ میں ڈالنے سے پتلی پھیل کر کسی حد تک بینائی صاف رہتی ہے، لیکن مرض بڑھ جانے پرآپریشن کے علاوہ کوئی دوا مفید نہیں ہوتی ہے۔
(٢) کیٹے لین(Catalin) یہ ٧٥ئ٠ ملی گرام کی ٹکیوں کی صورت میں، ہر ٹکیہ ١٥ ملی لیٹر دائیلونٹ کے ساتھ ملتی ہے. نئے موتیابند میں ایک ٹکیہ کوڈائیلونٹ میں اچھی طرح گھول کر متاثرہ آنکھ میں١۔٢ بوند ٤۔٥ گھنٹے بعد ڈالیں، ابتدائی موتیابند میں مفید ہے۔
سبز موتیا، گلوکوماGlaucoma
اس مرض میں آنکھ کی پتلی سبز ہوجاتی ہے. آنکھوں کے ڈھیلے کے اندر سیال زیادہ بنتا ہے لیکن اس کا مصرف کم ہوتا ہے. اس طرح ڈھیلے میں سیال زیادہ اکٹھا ہوجانے سے ڈھیلا سخت ہوجاتا ہے. مرض کے شروع ہونے میں کبھی کبھی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آجاتا ہے. بجلی کے بلب یا موم بتی کے نور کے چاروں طرف رنگین دائرے دکھائی دیتے ہیں، بینائی دن بدن گھٹتی چلی جاتی ہے. پرانے قبض، گٹھیا (جوڑوں کا درد اور ورم) اور قلبی کمزوری کے مریض اس بیماری میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں . بعض کو آنکھوں کے دوسرے امراض ہونے کے بعد یہ مرض ہوجاتا ہے۔
اس بیماری کی دو قسمیں ہیں(١) اکیوٹ گلوکوما: اس حالت میں لالی، پانی بہنا، آنکھ کے ڈھیلے کا سخت ہوجانا، پتلی کا پھیل جانا وغیرہ علامات ظاہر ہوتی ہیں، پتلی دھندلی دکھائی دیتی ہے، مریض کو سر اور آنکھ میں پھاڑنے والا سخت درد ہوتا ہے جو کبھی دور ہوجاتا ہے تو کبھی ہونے لگتا ہے، بعض مریضوں کی آنکھوں میںاتنے زور سے آنکھوں اور کنپٹیوں میں درد ہوتا ہے کہ ان کی بینائی بالکل ختم ہوجاتی ہے، درد کے ساتھ مریض کو قی، سر میں سخت درد اور تپ ہوکر بینائی ختم ہوجاتی ہے. اکثر ایک آنکھ میں یہ مرض ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات دونوں آنکھوں میں بھی یہ مرض ہوجاتا ہے. ایسی مثالیں بھی ہیں کہ رات کو مریض بھلا چنگا سویا، رات کو کنپٹی اور آنکھ میں درد سے آنکھ کھل گئی اور صبح تک وہ اندھا ہوگیا۔
(٢) کرانک گلوکوما: اس میں درد کم ہوتا ہے یا نہیں بھی ہوتا، لیکن بینائی دھیرے دھیرے گھٹتی چلی جاتی ہے،مریض کو تیز روشنی میں بالکل ٹھیک دکھائی دیتا ہے، لیکن شام اور صبح کے وقت کم دکھائی دیتا ہے، پتلی سکڑتی چلی جاتی ہے اور دھندلاپن بڑھتا جاتا ہے، مریض نزدیک کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتا ہے۔
ان علامات کے ظاہر ہونے پرآنکھوں کے کسی سرکاری اسپتال یا آنکھوں کے کسی متخصص کو دکھائیں۔
علاج: (١) پیلوکارپین (Pilocarpin) ایک یا دو فیصدی لوشن کی ١۔٢ بوند ٹپکائیں۔
(٢) گلوکومولTimolol maleate(Glucomol)ڈراپ ٢٥ئ٠ اور ٥ئ٠ فیصدی میں دستیاب ہے. ان میں سے کسی ایک کی ایک بونددن میں ٢بار ضرورت کے مطابق متاثر آنکھ میں ڈالیں۔
آنکھ کا دکھنا، کنجکٹیوا کا ورم
Conjuctivitis
آنکھ دکھنے کی بیماری بہت پھیل سکتی ہے. اگر اس کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو آنکھوں میں روہے پیدا ہوجاتے ہیں. کبھی پتلی یا قرنیہ پر گھاؤ ہوجاتے ہیں . یہ مرض گرمی کے موسم میں زیادہ ہوتا ہے. مریض سے سالم افراد کو الگ رکھا جائے اور مریض کا رومال، تولیہ اور کپڑے سالم افراد استعمال نہ کریں نہ ہی سالم افراد مریض کے پاس بیٹھیں. مریض کی آنکھ میں دوا ڈالنے کے بعدہاتھوں کو صابون سے دھو ڈالیں، مریض کو مکمل آرام کرائیں اور گرمی سے بچائیں، قبض نہ ہونے دیں، غذا ہلکی اور زود ہضم دیں۔
اوپر بیماری سے بچنے کی تدابیر تو بتائی جا چکی ہیں، اب بیماری کے اسباب و علامات اور علاج لکھا جارہا ہے۔
اسباب: آنکھ میں کیڑا، دھول پڑجانا، چوٹ لگنا، ٹھنڈک لگ جانا، جلدی امراض اور آنکھ انفکٹڈ ہونا، آنکھ آنے کی بیماری متعدی طور پہ پھیلنا، دھوپ اور ٹھنڈی ہوا، دھوئیں وغیرہ کا آنکھ میں لگنا، خسرہ چیچک اور سوزاک کی بیماریوں کے جراثیم سے آنکھ میں انفکشن، آنکھ کی بیماری میں مبتلا شخص کے چشمی سیال کی سالم مریض کی آنکھ میں چھوت لگنا وغیرہ اس کے اسباب ہیں۔
علامات: آنکھ سرخ اور متورم، آنکھ کی اوپری غشائے مخاطی میں ورم، اس میں سوزش، جلن اور درد ہوکر آنسو کی ریزش ہونا، آنکھ کھولنے میں تکلیف، دیکھنے اور آنکھ سے کام کرنے پر زیادہ پانی کا ریزش کرنا، درد بڑھنا، کبھی پانی جیسی اور کبھی گاڑھی ریزش کا ہونا جو خاص کر رات میں جمع ہوکر صبح میں دونوں پلکوں کو چپکا دیتی ہے۔
علاج: (١) وان مائی سے ٹین Tobramycin(Vanmycetin)متاثرہ آنکھ میں ١۔٢ بونددن میں ٢۔٤ بار ڈالیں اس کا مرہم بھی آتا ہے جو آپٹی کیپ کی صورت میں پیک ملتا ہے. ایک آپٹی کیپ کے چھور کو کاٹ کر اسے دبا کر مرہم کودونوں آنکھوں میں لگائیں۔
توجہ! اس دوا سے حساس مریضوں میں اس کا استعمال نہ کریں۔
(٢) بٹنی سال آئی ڈراپ ٢۔٣ بوند دن میں تین بار ڈالیں۔
آنکھ کے امراض
آنکھ میں کچھ پڑ جانا
Foreign body in eye
کبھی کبھی آنکھ میں کوئی تنکا، مچھر ، کیڑا، یا ریل کا کوئلہ یا لوہاروں اور پتھر کی چکی کوٹنے والے وغیرہ کا کام کرنے والوں کی آنکھ کے اندر لوہے یا پتھر کے ذرات چلے جاتے ہیں جن کی وجہ سے آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ، چبھن اور درد ہوتا، اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، اگر آنکھ کو رگڑ دیا جائے تو کبھی آنکھ کی پتلیوں میں یا اوپر کی پلکوں میں ان اسباب سے گھاؤ ہوجاتے ہیں۔
علاج: (١) روئی کی پھریری بنا کر ڈسٹلڈ واٹر میں جذب کر کے آنکھ میں گھمائیں. پیرافین لکوڈ (Paraffin liq.)یا کیسٹر آئل آنکھ میں ڈالیں. اگر آنکھ سرخ ہو اور زخم بن جانے کا خدشہ ہو توجنٹا مائی سین آئی ڈراپ کا استعمال کریں۔
(٢) کوکین ہائیڈروکلورائیڈ ٦٠ گرام
آپ مقطر ١٠ ملی لیٹر
دونوں کو ملا لیں، ڈراپر سے ١۔٢ بوند آنکھوں میں ڈالیں، اس سے درد کو فوراً آرام ہوگا. جب درد کم ہوجائے تو آنکھ کو کھول کر یا پلک کو الٹ کر فوراً چمٹی سے یا پروب سے اس چیز سے کو احتیاط سے نکال دیں. تھوڑی دیر میں ساری تکلیف دور ہو جائے گی۔
(٣) ان بجھا چونا یا تیزاب پڑجانے پر فوراً آنکھ کو نیم گرم پانی سے اچھی طرح دھو لیں اور بعد میں کیسٹر آئل١۔٢ بوند ڈال دیں. اس سے چونے یا تیزاب کا اثر جاتا رہتا ہے۔
(٤) جس آنکھ میں کوئی چیز پڑ گئی ہو اس آنکھ کے اوپر نیچے کی پلکوں کو الٹ کراسٹر لائزڈ کپڑے کے کونے سے اس چیز کو چپکا کر نکال دیں، اس کے بعد آنکھوں میں کلوروکارٹ ایپلی کیپ (Chlorocortaplicap) کو کاٹ کر دبا کر مرہم کو آنکھ میں لگا دیں، دن میں ٢۔٣ بار لگائیں۔
(٥)بٹنی سال آئی ڈراپBetamethasone(Betnisol eye drop) آنکھ میں ڈالیں۔
آنکھوں پر چوٹ لگ جانا
آنکھوں پر چوٹ لگ جانے سے آنکھیں سوج جاتی ہیں اور ان میں درد ہوتا ہے. اس تکلیف میں مندرجہ ذیل دوائیں دیں۔
علاج: (١) البوسڈSulphacetamide (Albucid) سولیوشن ١٠ فیصدی کا ہلکے چوٹ اور ٢٠ فیصدی کا متوسط اور ٣٠ فیصدی کا شدید انفکشنوں میں متاثرہ آنکھ میں استعمال کریں. متاثرہ آنکھ کو سب سے پہلے بورک کمپریس کر کے اسٹرلائزڈ روئی سے پونچھ لیں. اس کے بعد اس دوا کی حسب ضرورت فیصدی کا سولیوشن٢۔٣ بار متاثرہ آنکھ میں دن میں ٤ بار ڈالیں۔
توجہ! سلفاسیٹامائیڈ (Sulphacetamide)سے حساس لوگوں میں اس کا استعمال نہ کریں۔
(٢)بٹامیتھاسون (Betamethasone) آئی ڈراپ کو متاثرہ آنکھ میں دن میں٢۔٣ بار ڈالیں۔
نیچے مختلف الرجک (حساسیت والی) علامات کا بیان کیا جا رہا ہے. ساتھ ہی ری ایکشن کے اسباب کا بیان بھی پیش خدمت ہے۔
١۔پتی اچھلنا(Urticaria):پینی سیلین، ایمپی سیلین، اسٹرپٹومائی سین، کینا مائی سین، سیفا لکسین مونو ہائیڈریٹ، سیفے لوریڈین، کلوکسا سیلین، اموکسی سیلین، ارتھرو مائی سین وغیرہ اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے پتی اچھلنے کا عمل ان مریضوں میں ہوجاتا ہے جن کو ان دواؤں سے حساسیت ہوتی ہے۔
پتی اچھلنے کی تکلیف ظاہر ہوتے ہی مزید دوا استعمال کرنا بند کردیں، جانچنے پرجو مریض مذکورہ اینٹی بایوٹک دواؤں سے حساس ہوں انھیں یہ دوا بالکل نہ دیں. اگر ان دواؤں کے استعمال کرنے میں معمولی یا شدید صورت میں پتی اچھلنے کی تکالیف ہوجائیں تو ان کو Embramin25mg(Mebryl) ایک سے دو ٹکیہ پانی سے دیں۔
اگر پیچیدگی ہو توPheniramin maleate(Alergex, Benadryl) ایک سے دو ملی لیٹر دن میں دو بار عضلاتی انجکشن لگائیں، دوسرا انجکشن خاص ضرورت پڑنے ہی پر لگائیں. خارجی استعمال میں Crotomiton+Hydrocortisoneکا مرکب کروٹوریکس ایچ سی(Crorax-HC) متاثرہ علاقے میں دن میں ٢۔٣ بار لگائیں. اس کے علاوہ Loratadinکا مرکب Loridinٹکیہ بڑوں کے لئے اور سسپنشن بچوں کے لئے دن میں ایک بار استعمال کرنا بھی مفید ہے۔
٢۔الرجک جلدی سوزش(Allergic dermatitis):اس طرح کی علامات بھی اکثر اینٹی بایوٹک دواؤں کے اندھا دھند استعمال سے ہوتی ہیں،جلدی سوزش جیسا کہ الرجک ری ایکشن کچھ اینٹی بایوٹک دواؤں کے انجکشن لگانے کے فوراً بعد ہی ہوجاتا ہے، اس لئے رد عمل کے علائم ظاہر ہوتے ہی مزید دوا کا استعمال بند کر دیں اور مریضوں کو مکمل آرام کا حکم دیں. معمولی جلدی سوزش میںPheniramin maleateیعنی ایول(Avil)٢٥ یا ٥٠ ملی گرام والی ایک ٹکیہ دن میں دو تین بار کھلائیں بچوں کو جن کی عمر ٤ ماہ سے١ سال تک کی ہے٥ئ٢ ملی لیٹر ایول سیرپ، ١سے ٥سال والے کو ٥ ملی لیٹر، ٦سے ١٤ سال والے کو٥ سے ٥ئ٧ ملی لیٹر، سبھی کو دن میں ٢۔٣ بار پلائیں. شدید حالت میں ایول کا ١ سے ٢ ملی لیٹر کا عضلاتی یا آہستہ آہستہ وریدی انجکشن لگائیں۔
توجہ! اس کا مصرف کرتے ہی جھپکی آسکتی ہے. اس لئے کار، ٹرک ، بس وغیرہ چلانے کا کام بالکل نہیں کرنا چاہیے. دوا کے دوران استعمال مرکزی نظام عصبی(CNS) کو مضمحل کرنے والے جیسے الکحل اور افیمی مسکن کا استعمال نہ کریں۔
Dimethindene maleateسے بنی نوارٹس کمپنی کی دوافارسٹال(Foristal) بڑوں اور ٦ سال سے زیادہ کے بچوں کوایک ٹکیہ دن میں تین باریا ٥ئ٢ ملی گرام کی ایس آر(SR) ٹکیہ دن میں دو بار، ٦ سال سے کم عمر کے بچوں کو آدھی ٹکیہ دن میں تین بار کھلائیں۔
٣۔ الرجک خارش(Allergic pruritis): پینی سیلین، اسٹرپٹومائی سین، ایمپی سیلین، سلفاڈرگس وغیرہ کے انجکشن یا براہ دہن ادویہ کا استعمال یا حساسیت پیدا کرنے والی خارجی اشیاء جب انسانی جسم میں داخل ہوتی ہیں یا داخل کی جاتی ہیں تو جسم کی دفاعی قوت اس کا مقابلہ کرتی ہے جس سے برابر ٹکراؤ سے جسم کو نقصان پہنچ کر الرجک خارش کے علائم کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں. ایسی حالت میں مذکورہ سبھی دوائیںمناسب مقدار میں مفید ہیں۔
فورسٹالDimethindene maleate(Foristal) ایک ٹکیہ بڑوں کو اور بچوں کو آدھی ٹکیہ دن میں تین بار دیں۔
٤۔ہے فیور(Hay fever):بعض مریضوں میں جب اس کے جسم میں کوئی حساسیت پیدا کرنے والی دوا داخل کی جاتی ہے تو ناک کی اندرونی جھلی ورم کر جاتی ہے. آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں، ناک سے پانی آنے لگتا ہے، چھینکیں آتی ہیں، انفی راستے بند ہوجاتے ہیں، آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور تپ ہوجاتا ہے، اس طرح ”ہے فیور” کے مذکورہ علائم ظاہر ہوتے ہی مزید دوا کا استعمال بند کردیں اور فوراً ہی Astemizol(Stemiz)بڑوں کو روزانہ ایک ٹکیہ،٦ سے ١٢ سال تک کے بچوں کے لئے سسپنشن ایک ملی لیٹر سے ایک چمچہ تک دیا جائے یا پریڈنی سولون(Undirol) ١سے ٢ ملی لیٹر کا انجکشن عضلاتی لگائیں. ایکٹی فیڈ(Actifed) بڑوں اور ١٢ سال سے زیادہ عمر والوں کو ایک ٹکیہ، ٢ سے ١٢ سال کے بچوں کو آدھی ٹکیہ دن میں دو بار دیکر آہستہ آہستہ بڑھاتے ہوئے ضرورت پڑنے پر دن میں تین بار کھلائیں۔
توجہ! قلبی عروقی بیماریوں میں اس کا استعمال نہ کریں. ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس شکری اور شدید ہائپر تھائیرائیڈزم میں اس کا استعمال بڑے احتیاط سے کریں۔
٥۔برانکیل دمہ(Bronchial asthma):بہت سی دوائیں جن کے انجکش لگانے کے بعد یا براہ دہن استعمال سے مریض کا بار بار سانس پھولنے لگتا ہے، دل بیٹھتا ہوا اور مریض جسمانی محنت نہیں کر سکتا ہے. ایسی حالت میں علائم کے ظاہر ہوتے ہیKetotifen(Stafen) ایک ٹکیہ روزانہ دو بار کھانے کے ساتھ، ٦ ماہ سے ٢ سال کے بچوں کو آدھا چمچہ دن میں دو بار کھانے کے ساتھ دیا جائے. معمولی حالت میںMaraxجو کہ ہائیڈروکسی زائن، تھیوفائیلین اور ایفیڈرین کا مرکب ہے ،ایک کیپسول دن میں ٢۔٤ بار دیں۔
توجہ! قلبی عروقی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور ایام حمل میں اس کا استعمال نہ کریں. شدید حالتوں میں ڈکسامیتھاسون کا عضلاتی یا آہستہ آہستہ وریدی انجکشن لگائیں۔
٦۔اکزیما(Eczema): کلوکساسیلین، ایمپی سیلین، سیفالکسین وغیرہ اینٹی بایوٹک کے استعمال سے بعض کو اکزیما ہوجاتا ہے. ہاتھ پیر یا دوسری جگہوں پہ چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نکل آتی ہیںجن میں تیز درد، سوزش اور کھجلی ہوتی ہے. ٤۔٥ دن کے بعد ان سے نکلنے والی رطوبت پیپ میں بدل جاتی ہے،تب پھنسیوں کے پھٹنے سے گاڑھی پیپ جم کر کھرنڈ بن جاتے ہیں۔
اکزیما کے علامات ظاہر ہوتے ہیChlorpheniramin maleate(Cadistin)١٢ سال سے زیادہ عمر والوں کو ایک ٹکیہ،١٢ سال سے کم عمر کے بچوں کو آدھی ٹکیہ، سبھی کو دن میں ٣۔٤بار کھلائیں، چھوٹے بچوں کو چوتھائی ٹکیہ ضرورت کے مطابق دیں یا اس کا پیڈی ایٹرک سیرپ٦ سے ١٢ سال کے بچوں کو١٠ ملی لیٹر، ٢ سے ٦ سال کے بچوں کو٥ ملی لیٹر، سبھی کو دن میں ٣۔ ٤ بار پلائیں. شدید حالت میں اسی کی ہائی پاور کی ١ ریپی ٹیبس (ٹکیہ) صبح اور ١ رات میں سوتے وقت بڑوں کو کھلائیں. متاثرہ جلد پر لیڈر کارٹ (Ledercort) مرہم دن میں ٣۔٤ بار لگائیں. شدید حالت میں بیٹامیتھاسون کا انجکشن لگائیں اور ساتھ میں جلد پر کواڈری ڈرم(Quadriderm) کریم دن میں ٢۔٣ بار لگائیں۔
٧۔معمولی جلدی ورم:بہت سی دوائیں بعض افراد کے لئے حساسیت رکھتی ہیں اور ان کے استعمال کے بعد معمولی جلدی ورم ہوجاتا ہے. اس لئے دوا کا استعمال کرنے سے پہلے اس کے الرجن رد عمل پر اچھی طرح غور و فکر ضرور کر لینا چاہیے. اگر اس سے جلد کا ورم ہونے کا امکان ہو تو دوا استعمال میں نہ لائیں. لیکن اگر پہلے سے اس کی جانکاری نہ ہو اوردوا استعمال کرنے کے بعد جلدی ورم ہوجائے تو Prednisolone(Wysolone)١ سے ١٢ ٹکیے (٥ سے ٦٠ ملی گرام)روزانہ ضرورت کے مطابق دیں. لیکن شدید حالت میں اسی کا عضلے میں روزانہ انجکشن لگائیں . متاثرہ جلد پر کواڈری ڈرم (Quadriderm) مرہم دن میں ٢۔٣ بار لگائیں. براہ دہنCyproheptadin(Ciplactin)١ سے ٢ ٹکیہ دن میں ٢ بار کھلائیں۔
٨۔ورم غار الانف(Sinusitis): بے شمار دوائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے استعمال سے ناک کے سوراخوں کی دیواروں میں ورم ہوجاتا ہے، ناک سے ریزش ہوتی ہے، اس لئے ان علائم کے ظاہر ہوتے ہیChymotrypsin(Alfapsin)٢ ٹکیہ دن میں ٤ بار کھانے سے ٣٠ منٹ پہلے کھلائیں یا Clemastin(Tavegyl) ایک ٹکیہ صبح اور ایک شام کو کھلائیں اور Ephedrine(Endrine) ہر نتھنے میں ٢۔٣ قطرہ دن میں ٢۔٣ بار ڈالیں۔
٩۔انفی ریزش(Rhinorrhoea): اس سمی علامت کے ظاہر ہوتے ہیDyphenhydramine (Benadryl)٢٥ یا ٥٠ ملی گرام کا ایک کیپسول دن میں ٢۔٣ باراور ایک کیپسول رات کو سوتے وقت دیں. شدید حالت میںAzatadin(Zadin)بڑوں کو ١سے ٢ ٹکیہ دن میں تین بار، ٦ سے ١٢ سال کے بچوں کو آدھی سے ایک ٹکیہ صبح اور شام اور ١سے ٦ سال کے بچوں کوچوتھائی سے آدھی ٹکیہ دن میں ٢ بار کھلائیں۔
١٠۔ سانس کا مشکل سے آنا(Dyspnoea): بہت سی دواؤں کے استعمال سے الرجی کے سبب سانس مشکل سے آتی ہے جس کودور کرنے کے لئے سلبوٹامول اور تھیوفائی لین کا مرکب(Theoasthalin)١۔٢ ٹکیہ بڑوں کواور ٢ سے ٦ سال کے بچوں کو آدھی ٹکیہ دن میں تین بار کھلائیں۔
توجہ! تھائی رائیڈ سمیت میں اس کا استعمال نہ کریں۔
١١۔سردی زکام(Common cold): بہت سی دوائیں ایسی ہیں جن کے جسم میں داخل ہوتے ہیں زکام ہوجاتا ہے. زکام ہوتے ہی کلور فینی رامین، پیراسیٹامول، اور فینائل پروپانولامین کے مرکب(Febrex plus) کی ایک ٹکیہ دن میں ٣۔٤ بار دیں. بچوں کے لئے اس کا سیرپ اور ڈراپ بھی آتا ہے۔
١٢۔خشک کھانسی(Non-productive cough): ایسی دوائیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے رد عمل کے علائم ظاہر ہوکر سوکھی کھانسی آنے لگتی ہے. ایسا رد عمل پیدا ہوتے ہی Benadryl exp.بڑوں کو ٢ چمچہ دن میں٣۔٤ بار اوربچوں کوآدھا سے ایک چمچہ دن میں ٢۔٣ بار یا ضرورت کے مطابق دن میں ٣۔٤ بار پلائیں۔
توجہ! اس کے استعمال سے جھپکی آنے لگتی ہے اس لئے ٹرک، بس، ٹریکٹر، کار، جیپ اور موٹر سائیکل وغیرہ چلانے اور کسی مشین کو اس کے استعمال کے دوران چلانے سے پر ہیرز کیا جائے۔
بناڈرل کف فارمولا(Benadryl cough farmula)٥۔١٠ ملی لیٹر ہر ٢۔٣ گھنٹے پر بڑے استعمال کریں اور بچوں کو٥ئ٢ سے ٥ ملی لیٹر ہر تین گھنٹے پر استعمال کرائیں۔
١٣۔شدید تپ(Hyperpyrexia): بہت سی دواؤں کے استعمال سے شدید تپ ہوجاتا ہے. ایسی حالت میںAmpicillin٥٠٠ ملی گرام کا ایک کیپسول، وٹامن بی کمپلکس اور وٹامن سی کا مرکب جیسے بیکوسول (Becosule) ایک کیپسول اور پریڈنی سولون(ہوسٹاکورٹن ایچ(Hostacortin-H)) ایک ٹکیہ ایسی ایک مقدار دن میں ١۔٢ بار پانی سے دیں. بچوں کو پیراکسین سسپنشن٢٥ئ١ ملی لیٹر اور وٹازائم ڈراپس(Vitazyme Drops) ١٠ ۔١٥ قطرہ دن میں ١۔٢ بار ایک ساتھ پلائیں۔
١٤۔منہ سرخ ہوجانا:بعض دواؤں کے استعمال اور انجکشن لگانے سے مریضوں کے منہ کی فضا الرجی سے سرخ ہوجاتی ہے ایسی حالت میں ایول(Avil) ١۔٢ ملی لیٹر کا عضلاتی انجکشن لگائیں. معمولی حالت میں اس کی ایک ٹکیہ یا سیرپ٥ئ٢ سے ٥ ملی لیٹر دن میں ٢۔٣ بار دیں۔
توجہ! دوا کے استعمال سے مریض کو سستی یا جھپکی آ سکتی ہے. اس لئے ڈرائیونگ نہ کریں اور نہ ہی کوئی مشین چلائیں۔
١٥۔ انجکشن کے مقام پر درد اور ورم: ایسی حالت میں بورک کمپریشر کریں۔
طریقہ:۔٢٥ ملی لیٹر پانی میں ١٠ گرام بورک ایسڈ اچھی طرح گھول کر ابالیں. اب صاف کپڑا یا گاز ڈبوکر پانی نچوڑ لیں اور اس کی بھاپ سے انجکشن کے مقام پر دن میں ٣۔٤ بار سینک کریں. محلول ٹھنڈا ہونے پر اسے پھر ابالیں. شدید حالت میں جلد پر تھرمبوفوب(Thrombophob) مرہم دن میں ٣۔٤ بار لگائیں. لیڈر مائی سینDemeclocycline(Ledermycin)٣٠٠ ملی گرام کا ایک کیپسول اور ابوجے سک پلس(Ibugesic plus) ایک ٹکیہ دونوں کو ملا کر ایسی ایک خوراک دن میں ٢۔٣ بار پانی سے دیں۔
بچوں کی مقدار خوراک
اس کتاب میں کسی حد تک دواؤں کی مقدار خوراک بچوں کے لئے بھی بیان ہوئی ہے، لیکن دوا کی خوراک لکھتے وقت غالباً بڑوں کو مد نظر رکھا گیا ہے. اس لئے بچوں کی خوراک معلوم کرنے کے لئے دوا کی پیکنگ میں موجود لیٹریچر دیکھیں یا ”ڈرگ ٹوڈے”، ”سمس” اور دیگر کتابوں کی طرف رجوع کریں. علم ادویہ کے بیان میں ہماری کتاب”اردو معالجاتی اشاریہ” ابھی زیر طباعت ہے. انشاء اللہ عنقریب پیش خدمت ہوگی، دواؤں کی خوراک مذکورہ کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھ دی گئی ہے۔
البتہ ایک اجمالی قاعدہ یہ ہے کہ ایک سال کے بچوں کو بڑوں کی خوراک کا دسواں حصہ دیں، اس خوراک کا آدھا حصہ ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو دیں، ٣ سال کے بچوں کو بڑوں کی خوراک کا پانچواں حصہ دیں٦ سے ١٠ سال کے بچوں کو بڑوں کی خوراک کا تہائی سے آدھا حصہ تک دیں۔
استعمال کی جانے والی سبھی دواؤں کو خوب سوچ سمجھ کر مناسب مقدار میں قاعدے کے مطابق استعمال کرنا چاہیے. مریض یا مریض کی دیکھ بھال کرنے والے کودوا دیتے وقت طریقہ استعمال اچھی طرح سمجھا دیں۔
جن دواؤں کی مدت تمام ہو گئی ہو انھیں ہرگز استعمال نہ کریں۔
دواؤں کو صاف جگہوں، الماریوں اور شیشے کی پٹی لگی ہوئی ریکوں میں رکھیں جہاں نور پوری طرح سے جاسکے۔
زہریلی دوا ہمیشہ الگ اور اندر الماری میں رکھیں. اس الماری اور ہر دوا کی شیشی ، بوتل ، بکس پر سرخ روشنائی سے لفظ زہر (Poison) کا لیبل لگا دیں. اس کی کنجی ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔
مالش کرنے، لگانے اور آنکھوں کی بیماریوں کے لوشن نیلی شیشیوں میں کارک سے بند کر کے رکھیں۔
امونیا دار دوا کھلی رہنے سے اپنی طاقت کھو دیتی ہے، اس لئے انھیں ربر کی مضبوط کارک والی بوتلوں میں رکھیں۔
اسپرٹ ایتھر نائٹروسی کو رنگین بوتل میں کم مقدار میں الکلی ملا کر اور روشنی سے بچا کر رکھا جائے. جہاں تک ہو سکے سیرم، الکزر، لنکٹس، ڈراپس، لکوڈ، سسپنشن، لکر وغیرہ دوائیں عنبر یا ڈارک براؤن رنگ کی شیشیوں یا بوتلوں میں رکھیں. انھیں تیز روشنی یا آفتاب کی شعاعوں سے بچائیں۔
سبھی اینٹی بایوٹک دوائیں چاہے وہ بروڈ اسپکٹرم(Broad spectrum) کی ہوں یا نیرو اسپکٹرم (Narrow spectrum) کی ہوں، کو ریفریجریٹر یا کولڈ اسٹوریج میں کے اندر رکھیں۔
سوڈا سلف، سوڈا سیلی سیلاس، پوٹاشیم برومائیڈ، فیرٹ کونین سائٹریت وغیرہ دوائیں جو نمی کو کھینچ لیتی ہیں، رطوبت سے بچا کر مضبوط کارک کی شیشیوں میں رکھیں۔
طیار (Volatile)دوائیں جیسے کلوروفارم، ایتھر، الکحل یا ہائیڈروجن پروکسائیڈ، لائیکر امونیا فورٹ(Liquor amonia fort) وغیرہ کے کارک پر تھوڑا ساپگھلا ہوا موم ڈالکر شیشی کا کارک اس طرح بند کرنا چاہیے کہ کارک بند ہونے کے بعد موم انھیں اچھی طرح سیل کردے جس سے دوا کے زور سے کارک نہ اڑ سکے۔
دوا کی پڑیا ایسے کاغذوں میں باندھیں جن پر باہری نمی کا اثر نہ ہوسکے. مکسچر بناتے وقت سب سے پہلے ٹنکچر، اسپرٹ اور لکر ڈالیں. اس کے بعد سیرپ اور آخر میں زہریلی دوائیں جیسے آرسینک، اسٹرکنین، اکونائٹ وغیرہ ملانی چاہیے. کوئینین سلف دار مکسچر بناتے وقت سب سے پہلے کوئینین اور ایسڈ کو ملا کر سولیوشن بنا لیں. اس کے بعد دوسری دواؤں کو پانی میں ملا کر اس محلول کے ساتھ ملا دیں. روغنی دوا کو مکسچر میں ملانے پر گوند کا محلول، الکلی اور روغنی دوا کا ایملشن بنا کر ملا سکتے ہیں۔
مکسچر کو نئی شیشی میں ڈالکر مقدار کا نشان لگا کر شیشی کو پونچھ لیں۔
کچھ مخصوص دواؤں کی شدید اور معمولی الرجی اور ری ایکشن کا علاج
کئی حساس مریض ایسے ہوتے ہیںجن کو کوئی خاص دوا جیسے پینی سیلین، ایمپی سیلین، ٹٹراسائیکلین، ارتھرومائی سین، کلوکساسیلین، سیفالکسین وغیرہ اینٹی بایوٹک دواؤں کا انجکشن لگانے سے یا براہ دہن استعمال کرنے سے یا پاؤڈر اور مرہم کے خارجی استعمال سے ان میں ایک قسم کی چڑھ پیدا ہوجاتی ہے جو بہت تکلیف دہ ہوتی ہے. کوئینین وغیرہ کو کھا لینے پر، بعض کو زیادہ مقدار میں کھا لینے پر کان بجنا، بہرا پن، نیند نہ آنا، وغیرہ جیسی تکلیفیں اکثر ہوجاتی ہیں اور پوٹاشیم آیوڈائیڈ کی تھوڑی مقدار جیسے ٦٠ ملی گرام کھا لینے پر بعض حساس لوگوں کو نزلہ ہوجاتا ہے، پتی اچھلنا، جلدی سوزش، سرخ بادہ، ورم غار الانف، انفی بہاؤ، ضیق النفس، سردی زکام، سوکھی کھانسی وغیرہ جیسی علامات، خارش اور جلن وغیرہ ہوجاتی ہیں۔
علامات کے ظاہر ہوتے ہی سابقہ دوا روک دیں۔
لیز چپس میں سور کے اجزا کی ملاوٹ اور فتوے کا غلط استعمال






تازہ ترین تبصرہ جات