Archive for the Category »طنز و مزاح «
اجی سنئے اگر میں مر گئی تو؟
شوہر:
میں پاگل ہو جاوں گا۔
بیوی:
آپ دوسری شادی تو نہیں کرو گے نا؟
شوہر:
پاگل کچھ بھی کر سکتا ہے۔
کیچڑ کا چولہا اور وزیر کا منہ
میں آج گھر پہنچا تو دیکھا کہ بیگم کیچڑ سے کھیل رہی ہے‘ میں ڈر گیا‘ میں نے کہا ہو نہ ہو کچھ نہ کچھ ہو گیا ہے۔ میں نے کہا یہ کیا کر رہی ہو گھر کے پچھلے برآمدے میں؟ اس نے کہا دیکھتے نہیں مٹی کا چولہا بنا رہی ہوں‘ کھانا تو کھانا اور پکانا ہے۔ میں نے کہا بیگم! خدا خدا کرو‘ اس اکیسویں صدی میں تم بجلی‘ گیس چھوڑ کر مٹی کے چولہے بنا کر کھیل رہی ہو۔
اس نے کہا بجلی‘ گیس تم لا دو‘ میں یہ سب چھوڑ دوں گی۔ میں نے کہا گیس ناپید و گم ہو چکی ہے‘ تم بجلی کا ہیٹر ہی جلا کر کام چلاؤ‘ بلا سے بل ہزاروں میں آئے‘ ہم اکیسویں صدی میں پھر سے پتھر کے زمانے Stone age میں تو داخل نہیں ہوں گے۔ اس پر اس نے ترنت جواب دیا‘ پھر ہیٹر کے لئے بجلی بھی تم ہی لا دو۔
اس نے کہا یہ فلسفہ بگھارنا چھوڑو اور چپ چاپ جا کر ٹال سے لکڑیاں خرید کر لاؤ‘ میں نے کہا لکڑیاں تو میں خریدنا بھول گیا ہوں پھر لکڑی تو بجلی اور گیس دونوں سے مہنگی ہے‘ پھر اسے کاٹنا اور چولہے کے برابر کرنا‘ یہ کس کے بس کی بات ہے‘ اب تو شہر میں لکڑی کے ٹال بھی ختم ہو گئے ہیں۔
اس نے کہا کہیں سے کوئلے ہی لا دو‘ میں نے کہا کوئلے حد درجہ گراں ہیں پھر ان کو جلانے کے لئے بھی لاکھ پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں‘ پہلے کھلی جگہ میں کوئلے منقل یا ہُلّے میں رکھو‘ اوپر مٹی کا تیل ڈالو پھر کوئلے بھڑک اٹھیں تو انتظار کرو کہ اس میں سے گیس ختم ہو تو پھر اس پر سبزی ترکاری رکھو‘ اس دوران آنکھیں پونچھتے رہو‘ کوئلوں کا دھواں بڑا خراب ہوتا ہے آنکھیں جلنے لگتی ہیں۔ اس نے کہا تو پھر تم بتاؤ کہ میں کیا کروں؟ میں نے کہا چلو چل کر KFC سے کھانا کھاتے ہیں۔ خیر ہم چلے گئے جب بل آیا تو ہوش اڑ گئے‘ چار آدمیوں کا کھانا دو ہزار روپے کا بل‘ میں نے کہا بیگم یہ بھی نہیں چلے گا دہی کھا کر اوپر سے پانی پی لیا کریں گے یا کچی سبزیاں مولیاں گاجریں کھائیں گے اور اپنے آپ کو گھاس کھانے پر آمادہ کریں گے اور پوری طرح سٹون ایج میں داخل ہو جائیں گے۔
ہم خرما ہم ثواب ملے اور خرمے پر یاد آیا ہم بہت سا خرما بھی کھا سکتے ہیں دودھ کے ساتھ مگر پھر وہی سوال کہ دودھ گرم کیسے کریں گے؟ اس نے زچ ہو کر کہا تم جانو اور تمہارا کام‘ پلاٹ بیچو‘ سونا بیچو اور کھانا باہر جا کر کھایا کرو۔ میں نے کہا ناممکن‘ تم مٹی کا چولہا بناؤ میں جا کر لکڑیاں لاتا ہوں اور بجلی و گیس کا وزیر ملے تو اس کا منہ نوچ کر واپس آتا ہوں۔
اس نے کہا پھر تم واپس آنے سے رہے‘ وزیر آج کل بنکروں Bunkers میں رہتے ہیں اور ان کا منہ نوچنے سے روکنے کے لئے زبردست سیکیورٹی کا اہتمام ہوتا ہے‘ سو اس وقت ہمارے ملک میں یہی حال چل رہا ہے۔ گھر میں مہمان آتا ہے تو زبردست سردی میں اس کی تواضع ٹھنڈے کوکاکولا سے کرتے ہیں یا آنکھوں پر ٹھیکری رکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ بجلی ہے نہ گیس اس لئے چائے سے معذرت۔ وہ پہلے ہی ان حالات کا ستایا ہوا ہوتا ہے اس لئے فورا سمجھ جاتا ہے اور بے تکلف ہو تو کہہ دیتا ہے کہ ہمارے گھر آؤ گے تو اسی قسم کی تواضع کی جائے گی۔
مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد آ رہا ہے‘ والدہ مجھے ایک روپے کی لکڑی لانے کے لئے جب کہتی تو مجھے بخار چڑھ جاتا کیونکہ یہ لکڑیاں محلے کے دکاندار سے چار پھیروں میں گھر پہنچانی پڑتی تھیں اور ایک ہفتے سے زیادہ کام آتی تھیں‘ اب لکڑی لینے گیا تو دو سو روپے من‘ جسے سن کر ہوش اڑ گئے‘ میں اسی طرح ناکام صرف گاجروں اور ٹھپروں کا لفافہ لئے اور دوسرے تھیلے میں دہی اور دودھ ڈالے گھر آ گیا‘ دہی میں نمک اور کالی مرچ ڈالی‘ دو چار گاجریں چبائیں اوپر سے دہی کے دو چار چمچ لئے۔ پھر حکم ہوا کہ پھل فروٹ لے آیا کرو‘ مالٹے لینے بازار گیا تو باقی کے ہوش اڑ گئے‘ سو روپے درجن مالٹے‘ میں نے کہا لنڈورے ہی بھلے۔
اب کھانا دوسروں کے گھر میں دعوت و ضیافت‘ سو آج کل ایک طرح سے ہم نے کھانا پینا بند کر رکھا ہے‘ جی چاہتا ہے کہ کم از کم پانی تو گرما گرم پیوں مگر وہ بھی میسر نہیں۔ میں نے اس ساری دلیل بازی کے بعد بیوی کے ساتھ مل کر اینٹوں کے اوپر کیچڑ تھوپنا شروع کر دیا کہ جب بھوک سے دم نکلنے لگے تو ایک آدھ وقت دو سو روپے من کی لکڑی لے کر دال پکا لیا کریں گے۔ مٹی کا چولہا تھوپتے ہوئے اپنا بچپن یاد آیا پھر خیال آیا کہ کیوں نہ مٹی کے ایک پیڑے سے اپنا منہ تھوپ لوں اور جا کر وزیر بجلی و گیس کا منہ اور مونچھیں چوم لوں۔
Dated : 2010-01-25 00:00:00
افتی نامہ۔۔۔۔از افتخار نسیم۔۔بشکریہ روزنامہ آج پشاور
احمد فراز کی پہلی برسی آئی اور چلی گئی‘ چند لوگوں نے اسے یاد کیا ،کشور ناہید ٹی وی پر اس کی بیوہ بن کر واویلا کرتی رہی، شبلی اور ان کا بیٹا ٹی وی پر اپنی پندرہ منٹ کی شہرت لے کر غائب ہو گئے۔ اشفاق احمد (کینیڈا) نے ایک انتہائی واہیات آرٹیکل لکھا۔اشفاق احمد کا کوئی قصور نہیں، وہ پچھلے تیس سال سے فیض صاحب اور جو بھی اس کے پاس کبھی ٹھہرا، اس نے یہی کچھ کیا ہے پھر اس پر کتاب لکھ کر اردو ادب میں شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
کراچی کے اہل ادب نے جو شکاگو میں یا اطراف میں رہتے تھے ،انہوں نے فراز صاحب کی خیریت پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بقول سعید خان( آسٹریلیا کے) ایم کیو ایم کا ایجنڈا تھا کہ فراز صاحب کو بالکل نہ پوچھا جائے کیونکہ انہوں نے جنرل مشرف کے خلاف بہت کچھ کہا ہے اور ایک شاعر نما شخص جو کیلیفورنیا میں شاعری کی این جی او چلاتا ہے ،اس کے مطابق کیونکہ فراز صاحب کراچی والوں کو شاعر ہی نہیں مانتے تھے، اس لئے ہم ان کیلئے کچھ نہیں کریں گے ۔پشاور کے ایک ڈاکٹر جو ہر وقت پشاور پشاور کرتے رہتے ہیں
انہوں نے ہسپتال میں ان کی خیریت تک پوچھنا گوارا نہیں کی، میں ہر روز فراز ہیلتھ بلیٹن ای میل کے ذریعے بھیجتا تھا مگر’’ زاویہ‘‘ رسالے کے ایڈیٹر ارشاد صدیقی نے’’ زاویہ‘‘ میں اپنے ایڈیٹوریل میں میرا نام تک نہیں لکھا ،ہر کوئی اپنے آپ کو فراز صاحب کے نام پر کیش کرتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ فراز صاحب کسی کو شاعر ہی نہیں سمجھتے تھے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ فراز صاحب کے مقابلے میں اس دور میں ایسا کوئی شاعر نہیں ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے، آپ سیریس ادب میں حاسد ہو کر بھلے ان کا نام نہ لیں لیکن بات پھر وہیں آجاتی ہے
فراز جیسا شاعر اردو ادب کے اس دور میں کوئی نہیں، اگر آپ عوامی شہرت اور معاشروں کی داد کو بھی پیمانہ بنا لیں، فراز اس میں بھی سب شاعروں سے آگے تھے۔ کسی کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ فراز صاحب میں حس مزاح بہت زیادہ تھی، فقرے بازی میں وہ باکمال تھے ۔ کشور ناہید سے ان کا محبت /نفرت کا رشتہ تھا ،ایک دن ’’شام کے بعد مجھے کہنے لگے کشور ناہید کو کال کرو، میں نے کہا کشور ناہید تو اُردو ادب کی مدرٹریسا‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا ،اس میں ذرا تبدیلی کر لو، وہ ’’مدر ٹریسا ‘‘نہیں’ ’مدر حریصہ‘‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’’افتی مجھے دو پچھتاوے ہیں
ایک یہ کہ ایک دوست کی بیوی لندن کی ایک محفل میں میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی، میں نے دوست کی بیوی سمجھ کر اسے چھوڑ دیا۔ دوسرا پچھتاوا یہ ہے کہ میں نے کشور ناہید کے ساتھ۔۔۔۔۔! احمد فراز نے افتخار عارف کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کی تھی ،حقیقت یہ ہے فراز صاحب کی بیماری کی اطلاع اور میرا فون نمبر اور ای میل سب کو افتخار عارف نے ہی دیا۔ شرافت کے یہ نمونے اور ایسے لوگ کہاں ملتے ہیں۔ فراز صاحب واشنگٹن میں ڈاکٹروں کی ایک فنڈ ریزنگ میں بیٹھے ہوئے تھے ،عابدہ پروین گا رہی تھی، ایک بیہودہ سا ڈاکٹر کہتا ہے۔
یار گانے کیلئے بلانا تھا تو کسی خوبصورت عورت کو بلاتے، فراز صاحب نے ایسا پرمزاح جواب دے دیا کہ اس کی سٹی گم کردی۔ بات یہ ہے کہ فراز صاحب نے خود بھی کبھی پشاور کے شاعروں کو پروموٹ نہیں کیا بلکہ وہ انہیں کمتر سمجھتے تھے۔ پشاور تو کیا وہ تو تمام شعراء کو کمتر سمجھتے تھے، پشاور میں غلام محمد قاصر جیسا شاعر تھا ،جس کو خود پشاور نے بُری طرح اگنور کئے رکھا ،خاطر غزنوی کے مشہور مطلع کو تو انہوں نے ہمیشہ اپنا مطلع کہا،ایک دن میں نے کہا فراز صاحب آپ نے اتنے خوبصورت شہرت یافتہ شعر کہے ہیں ،ایک مطلع ہے ،کیا ہو جاتا ہے، جس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پنجابی کے مشہور مزاحیہ شاعر عبیر ابوذری شاعری سنا رہے تھے، جس کا ایک شعر کچھ یوں تھا کہ پولیس کو چور کہیں تو کیا فائدہ، بعد میں بدن پر ٹکورکریں تو کیا فائدہ، فہمیدہ ریاض نے فراز صاحب سے پوچھا ،اس کا ترجمہ کیا ہے۔ فراز صاحب نے کہا ،اس کا ترجمہ نہیں، تجربہ ہو سکتا ہے۔ نیویارک کے مشہور شاعر مامون ایمن سفید اچکن شلوار اور ٹوپی پہن کر مشاعرے میں داخل ہوئے تو فراز صاحب نے کہا ،بچوں کے قائداعظم کو کس نے مشاعرے میں بلایا ہے۔ فراز صاحب کے ساتھ سات بجے کے بعد کی دوستی خطرناک ثابت نہیں ہو سکتی تھی۔
فراز صاحب جب شکاگو میں شدید بیمار ہو گئے، ان کے دوست ڈاکٹر نسیم خواجہ، ڈاکٹر مرتضیٰ آرائیں نے ان کی بہت خدمت کی۔ نیویارک میں ان کے میزبان ڈاکٹر شفیق خاص طور پر تشریف لائے اور میرے پاس ٹھہرے ،واشنگٹن سے ڈاکٹر عطیہ خان آئیں کیونکہ شکاگو میں ان کا فیملی نمائندہ اس وقت میں ہی تھا، شبلی کے آنے تک۔ مگر شبلی نے بھی کہا کہ میں ہی پریس اور سب سے بات کروں، ہسپتال میں ،میں نے شبلی سے کہا کہ وہ کوئی دیسی کھانا کھانا چاہتا ہے تو بتا دے۔
اس نے کہا کہ وہ ویجیٹرین ہے، میں نے حیران ہو کر اس سے کہا کہ شکل سے تو تم آدم خور لگتے ہو، فراز نہ تو بات کر سکتے تھے اور نہ ہی ہل سکتے تھے، بھارت اور پاکستان یورپ سے بے تحاشا ای میلیں اور فون آتے ہیں، کیلیفورنیا سے عینی اختر اور نیویارک سے صبیحہ صبا روز کالیں کرتی تھیں اور بہت محبت سے ان کے بارے میں پوچھتی تھیں ۔بقول حسن عباس رضا کے فراز ان کے بہت اچھے دوست تھے، میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ نیویارک میں دونوں سے کافی ملاقاتیں رہتی تھیں، اس نے بتایا کہ فراز صاحب نے ایک شعر لکھا۔’’کل رات ہم نے فضل تعالیٰ شراب پی‘‘۔بعد میں اس کو تبدیل کر دیا۔
کل رات ہم نے حد سے زیادہ شراب پی
ایک دن فراز صاحب اپنے ایک دوست کے گھر گئے، اس کے ملازم نے کہا، صاحب سیر سور کرنے گئے ہیں۔ فراز نے کہا ،اس کو درست کر لو۔’’ سور سیر کرنے گئے ہیں‘‘۔ میڈم نورجہاں سے فراز نے پوچھا ،میڈم آپ نے کتنے عشق کئے ہیں۔ میڈم نہ نہ کرتی رہیں، فراز نے کہا، میڈم نہ نہ کرتے ہوئے بھی آپ کے تیرہ عشق ہو گئے ہیں۔ فراز صاحب ایک انسان تھے، بشری کمزوریاں بھی تھیں، ان کے دوست بہت کم تھے
مداح بہت تھے اور مداح جیسا کوئی Fickle شخص نہیں ہوتا ۔فراز صاحب کو حاسد لگتا ہے ورثے میں ملے تھے ،کچھ انہوں نے خود بنا لئے تھے ،فراز نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی تھی ،میں ان کا برخوردار تھا، خادم تھا لیکن میرے ساتھ ان کا سلوک دوستانہ تھا بلکہ کبھی کبھی بہت ہی دوستانہ ہو جانے کی حد تک ہو جاتا تھا مگر مجھے اپنی حدود کا علم تھا، وہ میرے ابا مرحوم کے دوست تھے، میں ان کی شاعری کا تو مداح تھا اور ان کی حسِ مزاح کا بہت مداح تھا ،وہ بھی شاید یہی خوبصورت رشتہ میرے ساتھ رکھتے تھے ،انہوں نے کئی بار پبلک میں میری شاعری کے مداح ہونے کا اعتراف کیا مگر میں نے ہمیشہ اسے ان کی عظمت جانا کیونکہ ’’کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا‘‘۔
احمد فراز جیسے شاعر اور انسان بہت کم پیدا ہوتے ہیں ،بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ شاید اس قابل نہیں رہا کہ ہم ان کی عظمت کا اعتراف کر سکیں۔
اِسٹوڈنٹ اور پھرہ (بہ اندازِ بلبل اور جگنو)
ڈیسک پر کسی کلاس کی تنہا
اسٹودنٹ تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا ایگزایم سر پر آئے
کھیلنے کودنے میں سر گزارا
پہنچوں گا کیسے اگلی کلاس تک
ذہن پہ ہے چھا گیا اندھیرا
سُن کے اسٹوڈنٹ کی کہانی
پھرہ کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
پھرہ ہوں اگرچہ میں ذرا سا
مشکل ساری دور ہو گی تیری
ہر پیپر میں ہیلپ میں کروں گا
اِسٹوڈنٹ ہیں وہی جہاں میں اچھے
ہوتے ہیں جو پاس، پھروں سے
I – Original:
‘Pussy cat Pussy cat, where have you been?’
‘I have been to London to see the Queen’
‘Pussy cat Pussy cat what did you there?’
‘I frightened a little mouse under the chair!’
Punjabi Translation:
‘مانو بلی ، مانو بلی ، کتھے گئی سی’
‘رانی جی نوں ملن ولائت گئی سی’
‘کی چن چڑھایا تو اوتھے جا کے’
‘گھر واپس آگئی میں چوہے کھا کے’
II – Original
‘Baa Baa Black sheep have you any wool?’
‘Yes sir, yes sir, three bags full
One for the master, one for the dame, And one for the
little boy who lives
down the lane.’
Punjabi Translation:
‘کالی بھیڑ ، کالی بھیڑ ہے کچھ اون؟’
‘ہاں بھئی ، ہاں بھئی ، تین پنڈاں گن، اک تیرے واسطے,
اک تیری ووہٹی لئی، اک اس منڈے لئے جیہڑا کھلوتا راستے
III – Original
Humphty Dumphty sat on a wall,
Humphty Dumphty had a great fall,
All the kings’ horses, all the kings’ men Couldn’t put
Humphty Dumphty
together again
Punjabi Translation:
Baba Karnail Singh baitha si Dukaan te’
Baba Karnail Singh diggya dhadam se, Pind de log phir
aa ke kehan lagge,
Baba Karnail Singh te gaya hun kaam se.
ٹوٹ بٹوٹ کے مرغے
ٹوٹ بٹوٹ کے دو مُرغے تھے
دونوں تھے ہُشیار
اِک مُرغے کا نام تھا گیٹو
اِک کا نام گِٹار
اِک مُرغے کی دُم تھی کالی
اِک مُرغے کی لال
اِک مُرغے کی چونچ نرالی
اِک مُرغے کی چال
اِک پہنے پتلُون اور نیکر
اِک پہنے شلوار
اِک پہنے انگریزی ٹوپی
اِک پہنے دستار
اِک کھاتا تھا کیک اور بِسکٹ
اِک کھاتا تھا نان
اِک چباتا لونگ سپاری
ایک چباتا پان
دونوں اِک دن شہر کو نِکلے
لے کر آنے چار
پہلے سبزی منڈی پہنچے
پھر لنڈے بازار
اِک ہوٹل میں انڈے کھائے
اِک ہوٹل میں پائے
اِک ہوٹل میں سوڈا واٹر
اِک ہوٹل میں چائے
پیٹ میں جُوں ہی روٹی اُتری
مُرغے ہوش میں آئے
دونوں اُچھلے، ناچے، کُودے
دونوں جوش میں آئے
اِک بولا میں باز بہادُر
تُو ہے نِرا بٹیر
اِک بولا میں لگڑ بگھیلا
اِک بولا میں شیر
دونوں میں پھر ہُوئی لڑائی
ٹھی ٹھی ٹُھوں ٹُھوں ٹھاہ
دونوں نے کی ہاتھا پائی
ہی ہی ہُوں ہُوں ہاہ
اِک مُرغے نے سِیخ اُٹھائی
اِک مُرغے نے ڈانگ
اِک کے دونوں پنجے ٹُوٹے
اِک کی ٹُوٹی ٹانگ
تھانے دار نے ہنٹر مارا
چِیخے چُوں چُوں چُوں
ٹوٹ بٹوٹ نے گلے لگایا
بولے کُکڑوں کُوں
بیوی:
آپ کو میری خوب صورتی اچھی لگتی ہے یا عقل مندی
میاں:
تمہاری یہ مذاق کرنے کی عادت اچھی لگتی ہے۔
————————————————————
شوہر:
ملنگ بابا میں اپنی بیوی سے بہت تنگ ہوں کوئی حل بتاو
ملنگ:
کوئی حل ہوتا تو میں کیوں ملنگ ہوتا
———————————————————
ایک صاحب دوسرے صاحب سے یہ خوشیاں کیا ہوتی ہیں۔
دوسرا صاحب مجھے کیا معلوم میری تو کم عمر میں ہی شادی ہو گئی تھی۔
———————————————————————-
اگر شادی سے پہلے مرد نے عورت کے ہاتھ تھامے ہوں تو وہ ہوتا ہے
پیار
اگر شادی کے بعد مرد نے عورت کے ہاتھ تھامے ہوں تو وہ ہوتا ہے
حفاظتی انتظام
1. Law of queue
قطار تبدیل کی جائے تو چھوڑی گئ قطار تیزی سے آگے بڑھنے لگتی ہے۔
2.Law of the Telephone
جب بھی رانگ نمبر ڈائل کیا جائے گا، وہ کبھی انگیج نہیں ملے گا۔
3.Law of Mechanical Repair
جب آپکے ہاتھ گریز سے بھر جائینگے تو آپکی ناک میں کھجلی شروع ہوجائیگی۔
4.Law of the Workshop
کوئ ٹول اگر گر یگا تو لڑھکتا ہوا آپکی پہنچ سے دور چلا جائیگا۔
5. Bath THEOREM
باتھ ٹب میں لیٹتے ہی فون کی گھنٹی بجے گی۔
6.LAW OF ENCOUNTERS
کسی جاننے والے سے ملنے کی پروبیبلٹی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب آپ کسی سے خفیہ ملاقات کر رھے ہوں۔
7. LAW of the RESULT
جب آپ کسی مشین کیلئے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ یہ نہیں چلیگی۔۔۔۔وہ چلنے لگتی ھے۔
8.LAW OF BIOMECHANICS
کھجلی کی شدت، اسکے مقام سے انورسلی پرپورشنل ہوتی ہے۔
9.THEATRE RULE
تھیٹر میں اسٹیج کے سامنے کی نشستوں کے تماشائ ھمیشہ دیر سے پہنچتے ہیں۔
10.LAW OF COFFEE
جیسے ہی آپ ایک گرما گرم کافی کا کپ پینے بیٹحیں گے، آپکا باس آپکو ضرور ایسا کوئ کام بتائیں گے جسے کرتے کرتے آپکی کافی ٹھنڈی ہوجائیگی۔





تازہ ترین تبصرہ جات