Archive for the Category »قارئین «
ہمیں وقتا فوقتا مختلف تحاریر پر آراء کے ذریعے ورڈپریس پر آپکو درپیش مسائل کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ وقتی طور پر ہم بھی آراء ہی کے ذریعے اسکا حل بتا دیتے ہیں، لیکن طویل المدتی پالیسی میں یہ کچھ مددگار چیز نہیں۔ چونکہ آراء تحریروں کے مقابلے میں کم نمایاں ہوتی ہیں، اسلئے عین ممکن ہے کہ کل کوئی اور قاری عین وہی یا ملتا جلتا سوال کسی اور تحریر کے آراء میں پوچھتا رہے۔ دوسرے سرچ انجز بھی آراء کی بجائے تحاریر کو زیادہ لفٹ کراتے ہیں۔ اس کا حل ہم نے یہ سوچا ہے(بلکہ شروع سی یہی خیال تھا) کہ ان منتشر سوالات جوابات کو اکٹھا کر کے “مسائل کے حل” نامی زمرہ کے تحت شائع کیا جائے۔ اسی سلسلے کی پہلی کڑی آج حاضر ہے۔ تحریر کا فارمیٹ آراء سے ہی لیا گیا ہے اس لئے ہم سوال پوچھنے والے قاری کو نام اور سوال چھاپیں گے، اور ساتھ میں تحریر سے مطابقت کیلیے تھوڑی بہت تدوین کرینگے۔ ہمیں امید ہے قارئین اس معاملے پر ہمیں جسٹس ڈوگر کورٹ نہیں لے جائینگے۔
سوالات کے معاملے میں ڈفر میاں کافی فعال رہے۔ علوی نستعلیق جب ریلیز ہوا تو مختلف بلاگز پر علوی نستعلیق کی خوبصورتی دیکھ کر انکا دل بقول انکے بہار بہار ہوگیا اور اپنے بلاگ پر لگانے کی سوجھی(آخر اطلاعات تک عمل نہیں کیا)۔ علوی نستعلیق یا کسی بھی فانٹ کا لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنافانٹ کا نام جاننا۔ فانٹ کا نام معلوم کریں اور میری بتائی گئی ان ہدایات پر عمل کریں:
اگر آپ اپنی تھیم کی سی ایس ایس دیکھیں تو وہاںکسی بھی font-family کے ٹیگ میں ترتیب سے فانٹس لکھے ہوتے ہیں۔ کچھ اس شکل میں:
font-family: “Alvi Nastaleeq v1.0.0″,”Urdu Naskh Asiatype”,Nafees Web Naskh,Tahoma,Sans-serif;
اسی ترتیب کے مطابق ہر براؤزر دیکھتا ہے کہ کونسا فونٹصارف کے سسٹم پر موجود ہے۔ یعنی اگر فونٹ نمبر1(علوی نستعلیق) اگر ہے تو اسی میں سائٹ دکھا دیگا، اگر وہ نہ ہو تو اردو نسخ، وہ نہ ہو تو نفیس ویب نسخ۔۔۔۔اسیطرح سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ فونٹ ٹیگ کے آخری فونٹس Serif یا Sans-serif رکھے جاتے ہیںجو کوئی بذات خود فونٹس نہیں بلکہ فونٹ کے خاندان ہیں، یعنی اگر آپ کی مقرر کردہ کوئی بھی فونٹ صارف کے سسٹم پر نہیں تو اس فیملی کے کسی فانٹ میں سے جو بھی صارف کے سسٹم پر جو ہو اسمیں سائٹ کو دکھا دو۔
یاد رہے کہ پہلی ریلیز کے بعد علوی نستعلیق کا پکا نام صرف Alvi Nastaleeq ہے یعنی ہر نئے نسخے کے اجراء کے بعد آپکو اپنی سٹائل شیٹ میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
ڈفر ہی ایک اور سوال پوچھتے ہیں:
جب بھی کوئی دوسرا ہماری کسی پوسٹ کا لنک اپنی پوسٹ میں دیتا ہے تو ہماری پوسٹ پر اس نئی پوسٹ کا ذکر ایک کمنٹ کی شکل میں آ جاتا ہے۔ اسکو کیا کہتے ہیں؟ کیا اسکے لئے مجھے کچھ کرنا ہو گا؟ اگر ہاں تو میں اسکو کیسے این ایبل کروں؟
میرا جواب ملاحظہ فرمائیے:
ڈفر، مذکورہ لنک کے زمرے میں ابھی کوئی تحریر نہیں اس وجہ سے نظر نہیں آرہی۔
ایسے “تبصرے” کو پنگ بیک کہا جاتا ہے۔ اسے ان ایبل اور ڈس ایبل کرنے کیلیے ڈیش بورڈ کے آپشنز میں جائیے اور پھر ڈسکشن والے سب مینو میں وہاں Allow link notifications from other blogs (pingbacks and trackbacks.)
افتخار اجمل بھوپال نے سوال پوچھا کہ:
جناب کوئی ایسا گر بتائیے کہ اوتار ہر بلاگ پر ظاہر ہو؟
عمار کا جواب کچھ یوں تھا:
افتخار اجمل صاحب! ہر بلاگ پر تو اسی صورت میں نظر آئے گا جب ہر بلاگر اپنی تھیم میں گریویٹر کا کوڈ شامل کرے گا۔ جس جس بلاگ تھیمز میں یہ کوڈ شامل ہے، ایسے ہر بلاگ میں آپ کا اوتار ظاہر ہوگا۔
مکی اور ابوشامل کا مشترکہ سوال یہ تھا کہ گریواٹر کی نمائندہ تصویر اپنے لئے کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے؟
میرا جواب کچھ یوں تھا:
مکی اور فہد بھائی یہ اوتار ہر اس سائٹ پر جہاں اس کی سہولت ہو دکھانے کیلیے ایک سائت Gravatar.com پر آپکو اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ وہاں جس ای میل کیساتھ جو تصویر نتھی کی جائیگی، وہ ای میل کسی بھی بلاگ پر دینے سے آپکا اوتار ظاہر ہو جائیگا بشرطیکہ کہ اس بلاگ پر یہ سہولت دی گئی ہو۔
API key کیا ہوتی ہے اور کس طرح حاصل کی جاتی ہے؟
اس سوال کا جواب میرے الفاظ میں:
فرحان API یعنی Application Programming Interface پروگرامنگ کی اصطلاح میں ایسے فنکشنز، کلاسز، میتھڈز یا پروٹوکولز کا مجموعہ ہوتا ہے، جن کو ہم کسی ایک پروگرام میں رہتے ہوئے اصل پروگرام سے حاصل کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں ہم دوسرے پروگرام کے فیچر اپنے پروگرام میں بروئے کار لا سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اصل پروگرام کا مالک ان فیچرز تک آپکو رسائی دے۔ ان فیچرز تک محفوظ رسائی کیلیے API Key درکار ہوتی ہے تاکہ ہر ایرا غیرا دخل انداز نہ ہو۔ API Key پاس ورڈ کیطرح کام کرتی ہے تاکہ آپ اور اصل پروگرام کا مالک دونوں محفوظ رہیں۔ جہانتک API Key حاصل کرنے کا تعلق ہے، یہ آپکو مذکورہ پروگرام کے مالک یا کمپنی کی ویب سائٹ یا ای میل یا سیکیور لاگ ان غرض جو بھی طریقہ انہوں نے رکھا ہو، سے حاصل کر سکتے ہیں۔
گمان ہے کہ آپ ورڈپریس API Key کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے لیے آپ ورڈپریس ڈاٹ کام پر اکاؤنٹ بنائیں اور اپنے پروفائل کے صفحہ پر جا کر حاصل کر لیں۔ شکریہ
ان تمام سوالات و جوابات کے باوجود کچھ سوالات کے جوابات تشنہ ہیں، جس میں ہماری کاہلی اور کچھ لاعلمی شامل ہے۔ ساتھ ساتھ کچھ سوالات قارئین کے جانب سے وضاحت کے منتظر ہیں۔ ہم ان شاء اللہ اپنی محنت جاری رکھیں گے اور کوشش کرینگے کے ورڈپریس کے حوالے سے آپکے سوالات و مسائل سے نبٹنے میں آپکی مدد کریں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔





تازہ ترین تبصرہ جات